Basharat Khan’s poetry

Basharat Khan’s poetry Basharat Khan Official

میری آنکھوں میں جام ہے ساقی اب تو میرا بھی نام ہے ساقی اُس کی ہستی پہ ہو نظر تھوڑیمیکدے میں غلام ہے ساقی تیری نظروں کی ...
16/10/2025

میری آنکھوں میں جام ہے ساقی
اب تو میرا بھی نام ہے ساقی

اُس کی ہستی پہ ہو نظر تھوڑی
میکدے میں غلام ہے ساقی

تیری نظروں کی ہے تو جائز ہے
ویسے پینی حرام ہے ساقی

میری ہستی میں اور کیا ہوگا
صرف تیرا قیام ہے ساقی

دیکھ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر
نام تیرے پیام ہے ساقی

میں زمانے کو مانتا ہی نہیں
بس تجھی کو سلام ہے ساقی

ساتھ تیرے کٹے بشارت جو
زندگی وہ دوام ہے ساقی

بشارت خان

13/10/2025
12/10/2025

غزل

پریس ریلیزجاری کردہ: پریس سیکرٹری، دریچہ ادبی تنظیمبشارت احمد خانتاریخ: 11 اکتوبر 2025فیض احمد فیض کی یاد میں اوسلو میں ...
12/10/2025

پریس ریلیز
جاری کردہ: پریس سیکرٹری، دریچہ ادبی تنظیم
بشارت احمد خان
تاریخ: 11 اکتوبر 2025

فیض احمد فیض کی یاد میں اوسلو میں شاندار ادبی سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد

اوسلو (ناروے):
ادبی تنظیم دریچہ اور ریسورس سینٹر فار نارویجن پاکستانی وومن کے اشتراک سے اردو ادب کے عظیم شاعر فیض احمد فیض کی یاد میں ایک شاندار ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروقار تقریب 11 اکتوبر 2025 کی شام ساڑھے چار بجے اوسلو میں منعقد ہوئی، جس میں اہلِ ادب، فنونِ لطیفہ اور سماجی شعبے کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب دو حصوں پر مشتمل رہی۔

پروگرام کے پہلے حصے میں فیض احمد فیض کو بطور شاعر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس نشست کی صدارت اُن کی صاحبزادی، معروف دانشور اور براڈکاسٹر محترمہ منیزہ ہاشمی نے کی، جو بطور مہمانِ خصوصی اس تقریب میں شریک ہوئیں۔ اُن کی موجودگی نے محفل کو تاریخی رنگ دے دیا۔

اسی موقع پر محترمہ منیزہ ہاشمی کی کتاب
“Conversations with My Father”
کی بھی باقاعدہ رونمائی کی گئی، جس نے حاضرین کی گہری توجہ حاصل کی۔

صدر دریچہ ادبی تنظیم، جناب سید ڈاکٹر ندیم حسین شاہ نے نہایت خوش اسلوبی سے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے فیض احمد فیض کی شاعری اور فکر پر ایک جامع تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ ان کے مقالے میں فیض کی شاعری میں پوشیدہ انقلابی جذبہ، انسان دوستی، اور فکری گہرائی کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا۔

جمشید مسرور صاحب نے فیض احمد فیض کی ذاتی زندگی سے متعلق چند یادگار اور نایاب واقعات سنا کر محفل کو جذب و احساس سے بھر دیا۔
اس موقع پر ڈنمارک سے تشریف لانے والی مہمانِ خصوصی محترمہ صدف مرزا نے فیض احمد فیض کی شخصیت اور شاعری پر ایک شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔ اُنہوں نے فیض کے پیغامِ انسانیت، مساوات اور عدل کو نہایت پراثر انداز میں بیان کیا، جس پر سامعین نے بھرپور داد دی۔

فیض احمد فیض – مختصر سوانح عمری

فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور بعد ازاں فوج میں ملازمت اختیار کی۔
1940 کی دہائی میں وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور اپنی شاعری کے ذریعے ظلم، جبر اور نابرابری کے خلاف آواز بلند کی۔
1951 میں اُنہیں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا اور چار برس قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر ان کا قلم خاموش نہ ہوا۔

فیض کے مجموعے “نقش فریادی”, “دستِ صبا”, “زنداں نامہ”, “دستِ تہِ سنگ”, اور “سرِ وادیِ سینا” اردو شاعری میں انقلاب، انسان دوستی اور رومان کے حسین امتزاج کی علامت ہیں۔
1976 میں انہیں لینن امن انعام سے نوازا گیا۔
فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو لاہور میں انتقال کر گئے، مگر ان کا کلام آج بھی آزادی، محبت اور عدل کی صدا بن کر زندہ ہے۔

شام سات بجے کے بعد پروگرام کے دوسرے حصے میں ایک خوبصورت مشاعرہ منعقد کیا گیا۔
اس حصے کی نظامت کے فرائض ریسورس سینٹر فار نارویجن پاکستانی وومن کی صدر محترمہ مینا جی نے نہایت عمدگی سے سرانجام دیے،
جبکہ صدرِ مشاعرہ کے فرائض جناب جمشید مسرور صاحب نے انجام دیے۔

مشاعرے میں ممتاز شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا، جن میں
اسلم میر، صدیق راجہ، نعیم تھتال، جان دیتہ، فواد شاہ صارم، آصف ملک، نرمل بھرم چاری، مینب اقبال، شبانہ جی، رابعہ سیماب روحی، ڈاکٹر ندیم حسین، خان بشارت خان، سونیا خان، فرح تبسم، طلعت بٹ، سلیم زہدی، صدف مرزا اور فیصل ہاشمی شامل تھے۔
اس کے علاوہ قدسیہ نور اور میری میر نے کلامِ فیض کو ترنم سے پڑھا، جس سے محفل کو چار چاند لگ گئے۔

مشاعرے کا ماحول ادب و فن کی خوشبو سے معطر رہا، اور سامعین نے دل کھول کر داد دی۔
یہ یادگار ادبی تقریب رات نو بجے کے قریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
وقفے کے دوران مہمانوں کی چائے، کافی اور لوازمات سے تواضع کی گئی، اور محفل میں ادب و فیض شناسی کا جذبہ نمایاں رہا۔

تنظیمِ دریچہ اور ریسورس سینٹر فار نارویجن پاکستانی وومن نے تمام معزز مہمانوں، شعرا، سامعین اور خاص طور پر محترمہ منیزہ ہاشمی، محترمہ صدف مرزا اور محترمہ مینا جی کا دلی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی شرکت سے اس تقریب کو وقار اور معنویت عطا کی۔

اس موقع پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دریچہ کے روحِ رواں اور جنرل سیکرٹری، محمد ادریس لاہوری صاحب اپنی ایک غیر ملکی مصروفیت کے باعث پروگرام میں شریک نہ ہو سکے، جس کا دریچہ کے تمام اراکین کو گہرا ملال رہا.

دونوں نظمیں میڈیا کوریج کے لیے ارشد وحید چوہدری، فوٹوگرافی کے لیے قاضی شہباز اور تکنیکی معاون کے لیے عابد راجپوت کے شکرگزار ہیں.

دونوں تنظیموں کے منتظمین نے اعلان کیا کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ اردو زبان و ادب کو ناروے میں مزید فروغ دیا جا سکے۔

جاری کردہ:
بشارت احمد خان
پریس سیکرٹری، دریچہ اوسلو

صدا سید
پریس سیکریٹری، ریسورس سینٹر فار نارویجن پاکستانی وومن

Adresse

Oslo

Varslinger

Vær den første som vet og la oss sende deg en e-post når Basharat Khan’s poetry legger inn nyheter og kampanjer. Din e-postadresse vil ikke bli brukt til noe annet formål, og du kan når som helst melde deg av.

Del

Type