This is the page of allama M iqbal (R)
Here we post daily poetry of allama iqbal. If you find any wrong information please Dm us. Thanks
(3)
ایک صدی بیت گئی مگر آج بھی اس مردِ درویش کی آواز ہمارے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ کاش ہم نے اقبال کے خوابوں کو سمجھا ہوتا!
ہم اقبال کے لفظوں میں وہ روشنی ڈھونڈتے ہیں
جو آج بھی دلوں کو جگا دے۔ Please share this page and like.
06/03/2026
تیری دنیا میں میں محکوم و مجبور | اقبال کا گہرا پیغام”
یہ شعر انسان اور خدا کے تعلق کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
اقبالؒ اس شعر میں کہتے ہیں کہ دنیا کی ظاہری زندگی میں انسان کمزور، مجبور اور محکوم نظر آتا ہے، مگر جب وہ اپنی روحانی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو وہاں صرف اللہ کی بادشاہی ہوتی ہے۔
✨ آسان مفہوم:
دنیا کی طاقتیں انسان کو کمزور بنا سکتی ہیں، مگر دل اور روح کی دنیا میں اصل حکمرانی صرف اللہ کی ہے۔
یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت ایمان اور اللہ پر یقین میں ہے۔
05/03/2026
Allama Iqbal commented on today's Muslim situations.
05/03/2026
حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کردیتا ہے گاز
یہ شعر مسلمانوں کی موجودہ حالت کو بیان کرتا ہے کہ مغرب کی حکمت و طاقت نے امتِ مسلمہ کو اس طرح منتشر کردیا ہے جیسے آگ میں سونا ٹکڑوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔
✨ آسان مفہوم:
مغرب کی دنیاوی دانش و اثر نے ایسی صورتِ حال پیدا کردی ہے کہ ہماری قوم پہلے جیسی یکجائی اور طاقت نہیں رکھتی — بالکل ایسے جیسے سونا آگ میں ٹکڑے ہو جاتا ہے۔�
Urdu Notes
یہ پیغام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ظاہری حکمت کا اثر اس وقت تک فائدہ نہیں دیتا جب تک ہماری روح، ایمان اور یکجہتی مضبوط نہ ہو۔
03/03/2026
ہوا حریفِ مہ و آفتاب تو جس سے
رہی نہ تیرے ستاروں میں وہ درخشانی
کیا گیا اے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
علامہ اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ کی زوال پذیری کا ذکر کرتے ہیں۔
وہ یاد دلاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب مسلمان سورج اور چاند کے مقابل کھڑے تھے، لیکن آج اپنی کمزوری اور غلامی کی وجہ سے وہی چمک باقی نہ رہی۔
✨ آسان مفہوم:
تم کبھی دنیا کی قیادت کرتے تھے،
لیکن آج غلامی اور کمزوری نے تمہاری روحانی طاقت چھین لی۔
یہ کلام ہمیں جگانے کے لیے ہے — اپنی خودی، ایمان اور کردار کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے۔
01/03/2026
می شناسی معنی کرار چیست؟
این مقامی از مقامات علی است
امتان را در جہان بی ثبات
نیست ممکن جز بکراری حیات
علامہ اقبال
کیا تو سمجھتا ہے کہ کرار کے معنی کیا ہیںِ؟ یہ حضرت علی کے مقامات میں سے ایک مرتبہ ہے۔
اس ناپائیدار اور بدلتی ہوئی دنیا میں کراری کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں۔
26/02/2026
حضورِ دَیر میں آسودگی نہیں ملتی
یہاں مقام ہے اہلِ جنوں کے گزرنے کا
علامہ اقبال اس شعر میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ دنیا کی محفلیں اور ظاہری عبادت گاہیں انسان کو مکمل سکون نہیں دے سکتیں۔
یہ راستہ اُن لوگوں کا ہے جو سچے جذبے، تڑپ اور جنونِ عشقِ الٰہی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔
✨ آسان مفہوم:
اصل سکون صرف رسم و رواج میں نہیں بلکہ سچی طلب اور اللہ کی قربت میں ہے۔
یہ راستہ کمزور دل لوگوں کے لیے نہیں بلکہ اُن کے لیے ہے جو سچ کی تلاش میں بے چین رہتے ہیں۔
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ روحانی بلندی آسانی سے نہیں ملتی، اس کے لیے دل میں سچا شوق اور قربانی کا جذبہ ضروری ہے۔
24/02/2026
خموش اے دل! بھری محفل میں چلّانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ محبت صرف جذبات کا نام نہیں، بلکہ اس میں ادب اور خاموشی کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔
چیخنے اور شور مچانے سے عزت کم ہو جاتی ہے، جبکہ خاموشی اور مہذب انداز انسان کی شخصیت کو بلند کرتا ہے۔
✨ آسان مفہوم:
محبت میں سب سے پہلی خوبی ادب ہے۔
جو شخص باادب ہوتا ہے، وہی دلوں میں جگہ بناتا ہے۔
#ادب
20/02/2026
دنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
علامہ اقبال اس شعر میں انسان کے اُس باطنی درد کو بیان کرتے ہیں جب دنیا کی رنگینیاں، محفلیں اور شور بھی دل کو سکون نہیں دے پاتے۔
یہ کیفیت اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کی روح اللہ کی قربت چاہتی ہے اور دنیاوی چیزیں بے معنی لگنے لگتی ہیں۔
✨ آسان مفہوم:
جب دل کے اندر روشنی نہ رہے تو بڑی سے بڑی محفل بھی بے لطف لگتی ہے۔ اصل سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے۔
یہ کلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل خوشی دنیا میں نہیں بلکہ رب کی رضا میں ہے۔
Balanced)
#علامہاقبال
#بالجبریل
#اردوشاعری
15/02/2026
گر کبھی غفلت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
یہ اشعار انسان کو اپنی حقیقت پہ غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
جب انسان غفلت، کمزوری یا بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو اسے لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ سے رجوع کرنا چاہیے۔
✨ آسان مفہوم:
اگر کبھی تم پر غفلت طاری ہو جائے تو اللہ سے رہنمائی مانگو۔
اور یہ سوچو کہ انسان کی عظمت اور تاریخ کو کس قربانی نے رنگین بنایا — یہ لہو دراصل جدوجہد، امتحان اور قربانی کی علامت ہے۔
یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کا ایمان، شعور اور قربانی ہے۔
📌 نوٹ: یہ اشعار سوشل میڈیا پر اقبال سے منسوب کیے جاتے ہیں، مگر مکمل تصدیق ضروری ہے۔
Be the first to know and let us send you an email when Allama iqbal poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.