KhanZaadi

KhanZaadi Free Crochet Tutorials 🧶

11/09/2026

آپ کہاں سے ہیں اور کیا کرتے ہیں

11/09/2026

10/09/2026

بہنوئی نے دوسری شادی کر لی تو گھر میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ بہن روتی پیٹتی، چیختی چلاتی اپنے بھائیوں کے پاس آگئی۔ بھائی بھی جذباتی ہوگئے۔

ایک نے کہا:
’’چلو، بہن کا سامان اٹھا کر لے آتے ہیں۔‘‘
دوسرا بولا:
’’اب بہن کا اس گھر میں واپس جانا ممکن نہیں۔‘‘
تیسرے نے کہا:
’’اب تو طلاق ہی لیں گے۔ بہنوئی دوسری بیوی کے ساتھ رہے، ہماری بہن کوئی لاچار اور لاوارث نہیں ہے۔‘‘

بھائیوں میں ایک ہمارے پروفیسر دوست تھے۔ پڑھے لکھے سمجھدار آدمی تھے۔۔ اس نے سب کی باتیں سنیں اور کہا:

’’ایک منٹ ٹھہرو۔ سامان اٹھانے چلتے ہیں لیکن اس سے پہلے مجھے ایک ضمانت دو۔ پھر جو فیصلہ تمہیں منظور ہوگا، مجھے بھی وہی منظور ہوگا۔‘‘

سب نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ بولا:
’’ہماری بہن کے تین چار بڑے بڑے بچے ہیں، گھبرو جوان ہیں۔ ان کے ماہانہ اخراجات ہیں۔۔ پہلے یہ طے کرلو کہ ہر مہینے بہن اور اس کے بچوں کے خرچے کے لیے کون کتنے ہزار روپے دے گا؟۔۔ جب یہ طے ہوجائے تو پھر چلتے ہیں، بہن کا سامان اٹھا کر لے آتے ہیں اور بہنوئی کے پاس جاکر اس سے طلاق لے لیتے ہیں۔‘‘

یہ بات سنتے ہی سب پر جیسے مرگ جیسی خاموشی طاری ہوگئی۔ جوش میں جو بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے ان کی آوازیں بند ہوگئیں۔ غبار چھٹ گیا اور جھاگ یکدم بیٹھ گئی۔

پروفیسر صاحب بولے:
’’دیکھو! ابھی تم جذبات میں بڑی بڑی باتیں کر رہے ہو۔ تم میں سے ہر ایک کا اپنا گھر ہے، اپنے بچے ہیں، اپنے اخراجات ہیں جو مشکل سے پورے ہو رہے ہیں۔ کیا تم اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ بہن اور اس کے بچوں کی ذمہ داری بھی اٹھا سکتے ہو؟.. اگر اٹھا سکتے ہو تو پھر ہی کوئی قدم اٹھاؤ لیکن پہلے یہ طے کرلو کہ طلاق کے بعد کی زندگی کیسے چلے گی۔ گزران کیسے ہوگا ؟..

پھر اس نے کہا: ’’میری نظر میں سمجھداری کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم جاکر بہن کا گھر اجاڑ دیں۔۔ مطالبہ یہ ہونا چاہئے کہ ٹھیک ہے، آپ نے دوسری شادی کرلی ہے، آپ کا حق ہے، لیکن ہماری بہن کے بھی حقوق ہیں، اس کے حقوق میں کوئی کمی نہیں آنی چاہئے۔ آپ اس کو اور اس کے بچوں کو پورا خرچہ دیں، ان کی ضروریات کی پوری کریں۔۔ اگر آپ یہ ذمہ داری پوری کرتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔‘‘

آخرکار بھائیوں کو بات سمجھ آگئی۔ انہوں نے بہن کو اس کے گھر بھیج دیا، بہنوئی سے بات کی اور اس سے یقین دہانی لی کہ دوسری شادی کے باوجود وہ پہلی بیوی کے حقوق میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ بہنوئی تو پہلے ہی اسی بات پر آمادہ تھا، چنانچہ اس نے ہر طرح سے یقین دہانی کروائی کہ پہلی بیوی اور بچوں کے حقوق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔۔

وقت گزرتا گیا۔ آج وہ بہن اپنے گھر میں، اپنے بچوں اور اپنے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی ہے۔۔ اس کے بچے بڑے ہوگئے، کمانے لگ گئے ہیں، جو کماتے ہیں ماں کے ہاتھ پر رکھتے ہیں۔ شوہر بھی خرچہ دیتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آج اس کے حالات پہلے کی نسبت کہیں بہتر ہیں۔۔
سوچیے، اگر اس دن بھائی صرف جذبات میں آکر بہن کو گھر لے آتے اور طلاق کروا دیتے تو کیا ہوتا؟۔۔ چند مہینے خرچہ اٹھاتے پھر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ جاتے اور بہن بھانجوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتے۔۔ بہن اور اس کے بچے کہیں کی نہ رہتے نہ باپ کا پیار نہ ماموں کا تعاون ۔۔
اس دن ایک آدمی نے جذباتی ماحول میں جذبات کے بجائے سمجھداری کی بات کی۔ اس نے نہ بہن کے حق سے دستبرداری اختیار کی، نہ دوسری شادی کو بنیاد بنا کر فوراً گھر توڑنے کا مشورہ دیا؛ بلکہ اصل مسئلہ یعنی حقوق، خرچ، وقت اور ذمہ داری کو سامنے رکھا۔ اور اس ایک سمجھدار فیصلے نے ایک گھر اجڑنے سے بچا لیا، ایک عورت اور بچوں کو بے سہارا ہونے در بدر ہونے سے بچا لیا۔۔😊

04/09/2026

جمعہ مبارک 🌸

03/09/2026

بس اللّٰہ راضی رہے ❤️

02/09/2026

بعد میں 💔

01/09/2026

انسان کا بہترین دوست اللّٰہ ہے 🌷

31/08/2026

💔🔥🍁

31/08/2026

🌷

Indirizzo

Via Mazzini 12
Vergato
40046

Sito Web

Notifiche

Lasciando la tua email puoi essere il primo a sapere quando KhanZaadi pubblica notizie e promozioni. Il tuo indirizzo email non verrà utilizzato per nessun altro scopo e potrai annullare l'iscrizione in qualsiasi momento.

Contatta L'azienda

Invia un messaggio a KhanZaadi:

Scelte rapide

Condividi

Digitare