Khabar Shabar

Khabar Shabar Information,News

پمز اسپتال میں قیامتِ صغریٰ، آتشزدگی سے 14 نومولود بچے جاں بحقنرسری میں ایئرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے آگ بھڑکنے کا ابت...
27/08/2026

پمز اسپتال میں قیامتِ صغریٰ، آتشزدگی سے 14 نومولود بچے جاں بحق

نرسری میں ایئرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے آگ بھڑکنے کا ابتدائی خدشہ، وزیراعظم نے تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا

اسلام آباد (وائس آف اٹلی): پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر قائم نرسری میں بدھ کی صبح خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک بچے کو زندہ بچا لیا گیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق آگ صبح تقریباً سات بجے ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں مبینہ دھماکے کے بعد بھڑکی۔ نرسری میں آکسیجن کی زیادہ مقدار موجود ہونے کے باعث آگ انتہائی تیزی سے پھیل گئی۔ تاہم واقعے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

پمز انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے۔ ڈیوٹی پر موجود ایک لیڈی ڈاکٹر نے ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکالا، جبکہ ملحقہ کمروں سے چار بچوں اور تین ماؤں سمیت گائنی وارڈ کے متعدد مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسوں نے حصہ لیا۔

متاثرہ خاندانوں نے اسپتال کے حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایمرجنسی راستے فعال تھے، تاہم تمام دعوؤں کی جانچ تحقیقاتی کمیٹی کرے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات، ذمہ دار افراد کے تعین اور سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی بچوں کی اموات کو ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔

واضح رہے کہ ابتدائی خبروں میں ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی گئی تھی، تاہم پمز کی ابتدائی رپورٹ اور متعدد معتبر ذرائع نے 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پمز کی ابتدائی رپورٹ—ایکسپریس نیوز⁠، ڈان⁠، رائٹرز⁠

#آتشزدگی

جی، خبر درست ہے۔ واقعہ بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر میں پیش آیا۔پولیس کے مطابق 19 سالہ کنال نے مب...
23/08/2026

جی، خبر درست ہے۔ واقعہ بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق 19 سالہ کنال نے مبینہ طور پر نیا آئی فون خریدنے یا اس کی قسطوں کے معاملے پر والدین سے جھگڑے کے بعد پہاڑی سے چھلانگ لگانے کی دھمکی دی۔ والدین اسے بچانے وہاں پہنچے، مگر کوشش کے دوران بیٹا اور والد پہاڑی سے گر گئے جبکہ والدہ بھی حادثے کا شکار ہوگئیں۔ تینوں—کنال، اس کے 48 سالہ والد مرلی دھر اور والدہ سنگیتا—کی موت ہوگئی۔

ابتدائی رپورٹس میں واقعے کی جزئیات کچھ مختلف بیان ہوئی ہیں، مگر پولیس کے حوالے سے تینوں اموات اور موبائل فون کے تنازع کی تصدیق کی گئی ہے۔ The Tribune India⁠، Hindustan Times⁠

یہ واقعہ والدین کے لیے ایک انتہائی اہم سبق ہے کہ بچوں کی تربیت صرف ان کی ہر خواہش پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ انہیں صبر، برداشت، شکرگزاری اور انکار قبول کرنا بھی سکھانا ضروری ہے۔

والدین کو چاہیے کہ:

* بچوں کو ابتدا ہی سے خواہش اور ضرورت کا فرق سمجھائیں۔
* موبائل فون اور مہنگی چیزوں کو عزت یا کامیابی کا معیار نہ بننے دیں۔
* غصے یا ضد کے وقت بچے کو تنہا چھوڑنے کے بجائے سکون سے اس کی بات سنیں۔
* بچوں کی دھمکیوں، شدید غصے یا خود کو نقصان پہنچانے کی بات کو مذاق یا محض ضد نہ سمجھیں۔
* ایسی صورتحال میں بحث، ڈانٹ یا طاقت استعمال کرنے کے بجائے فوراً کسی ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر یا ہنگامی ادارے سے مدد لیں۔
* گھر میں ایسا ماحول بنائیں جہاں بچہ بغیر خوف کے اپنی پریشانی بیان کرسکے۔
* اپنی مالی حیثیت بچوں کو مناسب انداز میں سمجھائیں اور ہر مطالبہ فوراً پورا نہ کریں۔
* بچوں کے موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں، مگر اعتماد اور گفتگو کا رشتہ بھی برقرار رکھیں۔

یہ سانحہ صرف آئی فون کا نہیں بلکہ ضد، جذباتی دباؤ اور بروقت نفسیاتی مدد نہ ملنے کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر کوئی بچہ خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کی بات کرے تو اسے اکیلا نہ چھوڑیں اور فوراً مقامی ایمرجنسی سروس سے رابطہ کریں۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے 11 سالہ صاحبزادے اورنگزیب احمد کو ابوظہبی میں منعقدہ 2026 IMMAF یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ...
22/08/2026

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے 11 سالہ صاحبزادے اورنگزیب احمد کو ابوظہبی میں منعقدہ 2026 IMMAF یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ کے ایم ایم اے مقابلے میں آخری لمحات میں معمولی فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اورنگزیب احمد نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مقابلے کے ابتدائی مراحل کامیابی سے طے کیے۔ اس سے قبل انہوں نے جنوبی افریقہ کے فائٹر روبن پریٹوریئس کو تقریباً دو منٹ میں شکست دی تھی، تاہم تازہ مقابلے کے آخری چند سیکنڈز میں وہ انتہائی قریبی فرق سے ہار گئے۔

شکست کے باوجود کم عمری میں بین الاقوامی چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی اور بہترین کارکردگی ان کی ایک نمایاں کامیابی ہے۔

وضاحت: یہ خبر عوامی طور پر دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر صرف معلوماتی مقصد کے لیے شیئر کی گئی ہے۔ استعمال کی گئی تصویر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اور محض نمائشی ہے۔

#پاکستان #ابوظہبی

راولپنڈی میں 6 ماہ کے لیے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوریراولپنڈی (وائس آف اٹلی): وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں امن و امان ب...
22/08/2026

راولپنڈی میں 6 ماہ کے لیے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری

راولپنڈی (وائس آف اٹلی): وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج کی تین کمپنیاں چھ ماہ کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت محکمہ داخلہ پنجاب کی درخواست پر کی گئی ہے اور اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

تعینات فوجی اہلکار ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حساس مقامات اور اہم شاہراہوں کی سیکیورٹی مضبوط بنائیں گے۔ کسی بھی ناخوشگوار یا ہنگامی صورتِ حال میں پاک فوج سول انتظامیہ کو مؤثر کارروائی کے لیے معاونت فراہم کرے گی۔

رپورٹس کے مطابق تینوں کمپنیوں میں مجموعی طور پر 400 سے زائد فوجی اہلکار شامل ہوں گے، جو آئندہ چھ ماہ تک راولپنڈی میں حساس سیکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ دنیا نیوز⁠

#راولپنڈی #پاکستان

21/08/2026

Imran khan ko Shifa international nhi le jaya gya

اٹلی میں تربیت یافتہ غیر ملکیوں کے لیے روزگار کا نیا راستہمنظور شدہ پروگرام مکمل کرنے والے ورکرز کے پروفائل SIISL پر درج...
20/08/2026

اٹلی میں تربیت یافتہ غیر ملکیوں کے لیے روزگار کا نیا راستہ

منظور شدہ پروگرام مکمل کرنے والے ورکرز کے پروفائل SIISL پر درج ہوں گے، اطالوی کمپنیاں CV اور پیشہ ورانہ مہارتیں دیکھ سکیں گی

اٹلی نے بیرونِ ملک باقاعدہ تربیت مکمل کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کو اطالوی لیبر مارکیٹ سے جوڑنے کے لیے نیا طریقۂ کار متعارف کرا دیا ہے۔ وزارتِ محنت و سماجی پالیسی کے جاری کردہ حکم نامے کے تحت اہل غیر ملکی کارکنوں کو SIISL یعنی Sistema Informativo per l’Inclusione Sociale e Lavorativa میں رجسٹر کیا جائے گا۔

یہ سہولت ہر بیرونِ ملک مقیم شخص کے لیے عام یا اوپن جاب رجسٹریشن نہیں ہے۔ اس سے صرف وہ غیر ملکی شہری فائدہ اٹھا سکیں گے جنہوں نے اٹلی کے امیگریشن قانون کے آرٹیکل 23 کے تحت اپنے ملک میں وزارت سے منظور شدہ پیشہ ورانہ، شہری اور اطالوی زبان کے تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کیے ہوں۔ اطالوی وزارتِ محنت⁠

تربیت مکمل کرنے والے اہل افراد کی فہرست وزارتِ محنت کے PIF—Piattaforma Ingressi Formati all’Estero نظام سے SIISL کو منتقل کی جائے گی۔ تربیتی پروگرام چلانے والا منظور شدہ ادارہ SPID یا CIE کے ذریعے SIISL پر ورکر کی ضروری معلومات اور پروفائل مکمل کرے گا۔ بعدازاں SIISL متعلقہ ورکر کو پروفائل فعال کرنے کے لیے خودکار اطلاع بھیجے گا۔

پروفائل فعال ہونے کے بعد اطالوی آجر اور متعلقہ ادارے ورکر کا CV، تربیت، مہارتیں اور پیشہ ورانہ پروفائل دیکھ سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد اطالوی کمپنیوں کو مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت اور بیرونِ ملک موجود تربیت یافتہ کارکنوں کے درمیان رابطہ آسان بنانا ہے۔ سرکاری امیگریشن پورٹل⁠

آرٹیکل 23 کے منظور شدہ پروگرام مکمل کرنے والے کارکنوں کو اٹلی میں ملازمت کے لیے Decreto Flussi کی مقررہ کوٹہ حدود سے باہر بھی بلایا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اطالوی آجر کی جانب سے باقاعدہ ملازمت کی پیشکش، nulla osta، ویزا اور دیگر قانونی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔ صرف SIISL پر پروفائل بننے سے ملازمت یا اٹلی کا ویزا خودکار طور پر نہیں ملتا۔ وزارتِ محنت—بیرونِ ملک تربیت⁠

لہٰذا سوشل میڈیا پر اسے ’’ہر غیر ملکی کے لیے اٹلی میں براہِ راست نوکری کی رجسٹریشن‘‘ قرار دینا درست نہیں۔ درخواست گزار کے لیے پہلے آرٹیکل 23 کے تحت منظور شدہ تربیتی پروگرام کا کامیاب شرکا ہونا لازمی ہے۔

اٹلی کے شہر بولونیا میں سڑک کنارے پھینکے گئے فرنیچر سے 86 ہزار یورو نقد برآمد، دو خواتین کی ایمانداری رنگ لے آئیبولونیا ...
17/08/2026

اٹلی کے شہر بولونیا میں سڑک کنارے پھینکے گئے فرنیچر سے 86 ہزار یورو نقد برآمد، دو خواتین کی ایمانداری رنگ لے آئی

بولونیا میں دو خواتین کو سڑک کنارے لاوارث حالت میں پڑے ایک پرانے فرنیچر کے اندر سے 86 ہزار یورو نقد ملے۔ یہ واقعہ یکم اپریل 2025 کو پیش آیا، لیکن حیران کن طور پر یہ کوئی اپریل فول نہیں بلکہ حقیقت تھی۔ خواتین نے رقم اپنے پاس رکھنے کے بجائے فوری طور پر بلدیہ کے گم شدہ اشیاء کے دفتر کے حوالے کردی، جبکہ 10 اپریل کو کارابینیری پولیس کے پاس بھی باقاعدہ رپورٹ درج کرائی گئی۔

بولونیا بلدیہ نے قانونی طریقۂ کار کے مطابق رقم اپنی تحویل میں لے کر اس کی اطلاع سرکاری نوٹس بورڈ پر شائع کردی۔ بعدازاں فرنیچر کے وارث نے بھی رقم پر ملکیت کا دعویٰ پیش کردیا، جس کے باعث بلدیہ نے یہ طے کرنے کے لیے تحقیقات شروع کیں کہ رقم اصل میں کس کو دی جائے۔

تقریباً ایک سال بعد، 30 جولائی 2026 کو فرنیچر کے وارث اور رقم تلاش کرنے والی دونوں خواتین کے درمیان باہمی سمجھوتا ہوگیا۔ معاہدے کے تحت 86 ہزار یورو تینوں فریقوں میں تقسیم کردیے گئے، جن میں سے ایک خاتون کو 33 ہزار یورو ملے۔ اس واقعے کو خواتین کی ایمانداری کی ایک شاندار مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

نوٹ: ابتدائی دعوے کے برعکس رقم 80 ہزار نہیں بلکہ 86 ہزار یورو تھی اور پوری رقم صرف دونوں خواتین میں تقسیم نہیں ہوئی؛ فرنیچر کے وارث کو بھی اس میں حصہ ملا۔ Corriere di Bologna⁠، La Repubblica Bologna⁠

اٹلی میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے، تعداد 27 لاکھ کے قریب ہونے کا تخمینہروم — خصوصی رپورٹ، وائس آف اٹلیاٹلی میں مسلما...
15/08/2026

اٹلی میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے، تعداد 27 لاکھ کے قریب ہونے کا تخمینہ

روم — خصوصی رپورٹ، وائس آف اٹلی

اٹلی میں مسلمانوں کی آبادی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق ملک میں مقیم مسلمانوں کی مجموعی تعداد، اطالوی شہریت رکھنے والے مسلمانوں سمیت، تقریباً 27 لاکھ بتائی جاتی ہے، جو اٹلی کی تقریباً پانچ کروڑ 90 لاکھ آبادی کا لگ بھگ 4.5 سے 4.9 فیصد بنتی ہے۔ تاہم یہ سرکاری مردم شماری کا حتمی عدد نہیں، کیونکہ اٹلی کا قومی ادارۂ شماریات ISTAT شہریوں کا مذہب ریکارڈ نہیں کرتا۔

تارکینِ وطن اور کثیرالثقافتی معاشرے پر تحقیق کرنے والے ادارے Fondazione ISMU کے مطابق یکم جنوری 2025 کو اٹلی میں مقیم غیر ملکی مسلمانوں کی تعداد تقریباً 17 لاکھ ہوگئی تھی۔ یوں مسلمانوں نے پہلی مرتبہ غیر ملکی آبادی کا 30 فیصد عبور کیا اور وہ غیر ملکیوں میں سب سے بڑا واحد مذہبی گروہ بن گئے۔ تاہم تمام مسیحی فرقوں کو ملا کر مسیحی اب بھی غیر ملکی آبادی میں اکثریت رکھتے ہیں۔ Fondazione ISMU⁠

مسلم آبادی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مسلم اکثریتی ممالک سے روزگار اور تحفظ کی خاطر ہجرت، خاندانی ملاپ، اٹلی میں پیدا ہونے والی نئی نسل اور طویل عرصے سے مقیم افراد کا اطالوی شہریت حاصل کرنا شامل ہیں۔ مراکش، البانیہ، بنگلہ دیش، پاکستان، مصر، تیونس اور سینیگال سے تعلق رکھنے والی نمایاں مسلم برادریاں اٹلی میں آباد ہیں۔

دوسری جانب اٹلی کی مجموعی آبادی 2014 سے مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ISTAT کے مطابق یکم جنوری 2025 کو ملک کی آبادی تقریباً 5 کروڑ 89 لاکھ 34 ہزار تھی۔ سال 2024 میں صرف تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار بچے پیدا ہوئے اور شرحِ پیدائش فی خاتون 1.18 بچے کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں بیرونِ ملک سے آنے والے افراد نے آبادی میں قدرتی کمی کے اثرات کو کسی حد تک متوازن کیا۔ ISTAT—2024 کے آبادیاتی اعدادوشمار⁠

لہٰذا 27 لاکھ اور 4.9 فیصد کو ایک معتبر تخمینہ سمجھا جا سکتا ہے، مگر اسے اٹلی کا باقاعدہ سرکاری مذہبی مردم شماری کا عدد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

سوشل میڈیا کی محبت، AI تصاویر اور ویڈیو کال پر شادی؛ حقیقت سامنے آنے پر سابق رکن اسمبلی عدالت پہنچ گئےپاکستان میں سوشل م...
13/08/2026

سوشل میڈیا کی محبت، AI تصاویر اور ویڈیو کال پر شادی؛ حقیقت سامنے آنے پر سابق رکن اسمبلی عدالت پہنچ گئے

پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی ایک شادی کا غیر معمولی معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں درخواست گزار غلام رسول اُنڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون نے شادی سے قبل اپنی اصل تصاویر کے بجائے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر انہیں بھیجیں۔ یہ دعویٰ دی ٹائمز کی شائع کردہ رپورٹ میں بھی سامنے آیا ہے۔ (Facebook⁠)

درخواست گزار کے مطابق ان کی خاتون سے سوشل میڈیا پر جان پہچان ہوئی۔ جب بھی وہ خاتون سے چہرہ دکھانے یا تصویر بھیجنے کا کہتے تو مبینہ طور پر انہیں AI سے تیار کردہ تصاویر بھیجی جاتی تھیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ دونوں نے 23 فروری کو ویڈیو کال کے ذریعے شادی کی اور شادی کے موقع پر بھی خاتون نے اپنا چہرہ نقاب سے ڈھانپ رکھا تھا۔

غلام رسول اُنڑ کا مؤقف ہے کہ شادی کے بعد جب انہوں نے خاتون کو حقیقت میں دیکھا تو وہ سوشل میڈیا پر بھیجی گئی تصاویر سے بالکل مختلف نظر آئیں۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے اور درخواست گزار کے مطابق انہوں نے 9 اگست کو خاتون کو طلاق دے دی۔

درخواست گزار نے عدالت میں مزید الزام لگایا ہے کہ طلاق کے بعد خاتون انہیں بلیک میل کر رہی ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ یہ تمام الزامات فی الحال درخواست گزار کا مؤقف ہیں اور ان کا عدالتی طور پر ثابت ہونا باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 اگست تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تعلقات قائم کرتے وقت شناخت کی تصدیق اور AI سے تیار ہونے والی جعلی تصاویر کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے ایک اہم سوال بھی اٹھاتا ہے۔

رپورٹ: وائس آف اٹلی

Indirizzo

Morrovalle
62010

Orario di apertura

Lunedì 09:00 - 17:00
Martedì 17:00 - 20:30
Mercoledì 17:00 - 20:30
Giovedì 17:00 - 20:30
Venerdì 17:00 - 20:30
Sabato 09:00 - 20:30

Telefono

+393275304044

Notifiche

Lasciando la tua email puoi essere il primo a sapere quando Khabar Shabar pubblica notizie e promozioni. Il tuo indirizzo email non verrà utilizzato per nessun altro scopo e potrai annullare l'iscrizione in qualsiasi momento.

Scelte rapide

Condividi