Mansoor Afaq

Mansoor Afaq Poet, writer, director, Analyst
(1)

24/06/2026

Inside a High-Tech Manufacturing Mega Factory | Futuristic Production Line Tour

Step inside a cutting-edge high-tech manufacturing mega factory where precision engineering meets advanced automation. This video takes you on an exclusive tour of a futuristic production facility showcasing robotics, AI-powered systems, and next-generation industrial processes.

Watch how modern technology transforms raw materials into high-quality products with incredible speed, accuracy, and efficiency. From automated assembly lines to smart quality control systems, this mega factory represents the future of manufacturing.

Whether you are interested in engineering, industrial technology, robotics, or modern factory systems, this behind-the-scenes look will give you valuable insight into how advanced manufacturing works today.

👍 Don’t forget to like, share, and subscribe for more tech and industrial tours!

23/06/2026

How to Grow Tons of Mint (Fast & Easy) | Never Let It Take Over Your Garden!

Want to grow an endless supply of fresh mint at home? 🌿 In this video, you’ll learn how to grow tons of mint quickly while also controlling its aggressive spread so it doesn’t take over your garden.

We cover the best growing conditions, soil tips, watering schedule, sunlight needs, and simple container tricks to keep mint healthy and productive. Whether you’re growing mint for tea, cooking, or home remedies, this guide will help you get a lush, endless harvest.

Perfect for beginners and home gardeners who want easy, low-maintenance herbs!

👉 Like, comment, and subscribe for more gardening tips and home growing hacks.

شوہر سے اس وقت شادی کی جب اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا...کنول فاروق اپنی طلاق کا ذکر کرکے رو پڑیںکنول فاروق کو اے آر...
23/06/2026

شوہر سے اس وقت شادی کی جب اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا...کنول فاروق اپنی طلاق کا ذکر کرکے رو پڑیں

کنول فاروق کو اے آر وائی ڈیجیٹل کے رئیلٹی شو ’تماشہ سیزن 4‘ سے شہرت ملی لیکن وہ نجی زندگی میں جذبات اور تکلیف سے گزری ہیں جس کا اظہار انہوں نے حالیہ پوڈ کاسٹ میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے شادی کی لیکن یہ میرے لیے اچھا تجربہ ثابت نہیں ہوا۔

کنول فاروق پوڈ کاسٹ میں ہمیشہ کی طرح پر اعتماد تھیں لیکن جب انہوں نے شادی کے بارے میں بات کی تو وہ رو پڑی اور کہا کہ شوہر سے اس وقت شادی کی جب اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، میرے دوست ایک انگوٹھی لے کر آئے تاکہ میں اسے اپنے گھر والوں کو دکھا سکوں۔

سوشل میڈیا انفلوئنسر نے کہا کہ مجھے صرف اس کی محبت اور وعدوں پر بھروسہ تھا لیکن اس نے تکلیف دی اور شادی بالآخر طلاق پر ختم ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ میں جب اس وقت کو یاد کرتی ہوں تو جذباتی ہوجاتی ہوں اسی وجہ سے دوسرے رشتے میں بھی نہیں پڑسکتی ہوں۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کی تعریف کی جارہی ہے، ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ بہت مضبوط ہیں ہم آپ کا درد سمجھ سکتے ہیں۔‘ دوسرے صارف نے کہا کہ ’کنول آپ بہادر لڑکی ہو آپ کو کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

دکان سے چیز لینے گئی اور واپس نہ آئی! 7 سالہ بچی کے ساتھ کیا ہوا؟ سرگودھا میں لرزہ خیز واقعہپنجاب کے سرگودھا شہر سے ایک ...
23/06/2026

دکان سے چیز لینے گئی اور واپس نہ آئی! 7 سالہ بچی کے ساتھ کیا ہوا؟ سرگودھا میں لرزہ خیز واقعہ

پنجاب کے سرگودھا شہر سے ایک ایسا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف سرگودھا بلکہ پورے ملک کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ سات سالہ ننھی منتہا زہرا جو دوسری جماعت کی طالبہ تھی بس چند لمحوں کے لیے گھر سے چیز لینے نکلی لیکن پھر کبھی واپس نہ لوٹی۔

مقتولہ بچی کے غمزدہ اہل خانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ بچی کی تلاش کے لیے بہت کوششیں کی گئیں مگر جب اس کی لاش ملی تو پورا خاندان اور محلہ غم کی حالت میں ڈوب گیا۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچی کو قریبی دکان پر کام کرنے والے دو افراد نے بہکایا اور وہاں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا۔

پولیس نے موقع پر موجود دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ فرانزک ٹیم بھی شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے تاکہ حقیقت کا پردہ فاش کیا جا سکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد معاملے کی نوعیت اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی واضح کر دی جائے گی۔

دوسری جانب ننھی پری منتہا زہرا کا نماز جنازہ ادا کر دیا گیا ہے جس میں اہل محمہ سمیت عوام کی بڑی تعداد میں شریک ہوئی۔ اس موقع پر ہر انکھ اشک بار تھی جبکہ شہر میں سوگ کا عالم چھایا رہا۔

سرگودھا میں پیش آنے والا یہ المناک واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی صدمہ ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ایک 7 سالہ معصوم بچی کا اس طرح مبینہ تشدد کے بعد قتل ہونا ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔

ایسے واقعات پر موثر اور شفاف تفتیش ناگزیر ہے تاکہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ معاشرے میں بچوں کے تحفظ کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ہالی ووڈ ایکٹر کے بعد بھارتی نژاد برطانوی اداکار سائرس پٹیل نے بھی اسلام قبول کرلیاہالی ووڈ اداکار کے بعد بھارت میں جنم ...
23/06/2026

ہالی ووڈ ایکٹر کے بعد بھارتی نژاد برطانوی اداکار سائرس پٹیل نے بھی اسلام قبول کرلیا

ہالی ووڈ اداکار کے بعد بھارت میں جنم لینے والے اور برطانیہ میں مقیم معروف فلم ساز سائرس پٹیل کے اسلام قبول کرنے کی اطلاعات سوشل میڈیا پر تیزی سے توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

حالیہ دنوں ہالی ووڈ سے وابستہ شخصیات کے مذہب تبدیل کرنے کی خبروں کے بعد فلمی دنیا کی ایک اور نمایاں شخصیت کے حوالے سے سامنے آنے والی یہ خبر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک دستاویز وائرل ہو رہی ہے، جسے اسلام قبول کرنے کا سرکاری سرٹیفکیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ لندن کی سینٹرل مسجد اور اسلامی ثقافتی مرکز کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جبکہ اسے آن لائن شیئر کرنے والوں میں سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ترکی آل الشیخ بھی شامل ہیں۔

ترکی آل الشیخ کے مطابق سائرس پٹیل نے سعودی عرب میں ایک فلمی منصوبے پر کام کے دوران وہاں کچھ عرصہ گزارا، جس کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے اس دعوے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر خاصی دلچسپی کا باعث بن گیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس سے قبل بھی سعودی عرب میں قیام کے دوران ہالی ووڈ اداکار جیانکارلو اسپوزیٹو کے اسلام قبول کرنے سے متعلق رپورٹس سامنے آ چکی تھیں۔

سائرس پٹیل ممبئی میں پیدا ہوئے اور 1999 سے لندن میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی فلمی صنعت میں بطور لائن پروڈیوسر اور ایونٹ پروڈکشن مینیجر اپنی شناخت بنائی اور متعدد بڑے فلمی منصوبوں کا حصہ رہے ہیں۔

ان کے نمایاں پراجیکٹس میں ’دی منسٹری آف اَن جینٹلمینلی وارفیئر‘‘ اور ’’قندھار‘‘ شامل ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے عالمی فلمی صنعت میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ سائرس پٹیل کے اسلام قبول کرنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں نے اب فلمی اور سوشل میڈیا حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حوالے سے ان کی جانب سے کوئی باضابطہ عوامی بیان سامنے نہیں آیا۔

10 سال میں 7 وزرائے اعظم تبدیل، برطانیہ میں پے در پے استعفوں کی اصل کہانی کیا ہے؟برطانیہ کی سیاست میں ان دنوں ایک ایسا ط...
23/06/2026

10 سال میں 7 وزرائے اعظم تبدیل، برطانیہ میں پے در پے استعفوں کی اصل کہانی کیا ہے؟

برطانیہ کی سیاست میں ان دنوں ایک ایسا طوفان آیا ہوا ہے جس کی مثال پچھلی دو صدیوں میں نہیں ملتی۔ پیر کے روز جب برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے انتہائی اداس ماحول میں اپنی اہلیہ وکٹوریہ کو گلے لگایا اور روانیِ جذبات سے بھری آواز میں صرف دو سال حکومت کرنے کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کیا، تو انہوں نے دنیا کو ایک بار پھر حیران کر دیا۔ کیئر اسٹارمر کا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب برطانیہ میں وزرائے اعظم کی مدتِ ملازمت بہت چھوٹی ہو چکی ہے۔

جولائی 2016 سے لے کر اب تک، یعنی محض دس سال کے عرصے میں برطانیہ اپنا ساتواں وزیراعظم دیکھنے جا رہا ہے۔ یہ وہی برطانیہ ہے جو کبھی اپنی سیاسی اور معاشی مضبوطی کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھا اور جہاں مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر جیسے لیڈروں نے کئی کئی سال حکومت کی تھی۔
اب حالات یہ ہیں کہ برطانیہ کے لوگ دوسرے ملکوں کی سیاسی تبدیلیوں پر حیران ہونے کے بجائے خود اپنے ملک کے وزرائے اعظم کے آنے جانے کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔

اسی لیے ہر عام شہری کے ذہن میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ آخر اس ترقی یافتہ ملک میں اتنی جلدی جلدی حکومتیں اور وزرائے اعظم کیوں بدل رہے ہیں؟

اس پورے گورکھ دھندے کو سمجھنے کے لیے چند گہرے اور بنیادی اسباب کو سیدھی اور سادہ زبان میں سمجھنا ضروری ہے۔

سب سے پہلا اور بڑا سبب معاشی بدحالی اور عام آدمی کی پریشانی ہے۔ برطانیہ 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے اب تک معاشی طور پر پوری طرح سنبھل نہیں پایا ہے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ وہ ملک کی جی ڈی پی یونی کُل کمائی کے برابر پہنچنے والا ہے۔

پبلک فنانس کے ماہر پال جانسن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کو بالکل سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا کہ “پچھلے چند وزرائے اعظم اس معاملے میں بدقسمت رہے، کیونکہ انہیں ایک ایسا ملک ملا جہاں پچھلے بیس سال سے لوگوں کی مالی حالت بہتر نہیں ہوئی اور وہ شدید تنگ آ چکے ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”میرا تو بالکل سیدھا ماننا ہے معیشت ہی سیاست کو چلاتی ہے اور جب عوام ہی خوش نہیں ہوں گے تو حکمران کیسے ٹکیں گے۔“

حکومت کے پاس عوامی کاموں کے لیے پیسے نہیں ہیں، ٹیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور پیٹرول، بجلی اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ 2022 کے بعد سے مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔

پچھلی برطانوی حکومتوں نے اصل بیماری کا علاج کرنے کے بجائے صرف عارضی پٹیاں رکھنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اپنے حالاتِ زندگی سے شدید مایوس ہو گئے اور جو بھی وزیراعظم بنتا ہے، لوگ اس سے بہت جلدی اکتا جاتے ہیں۔

دوسرا بڑا جھٹکا برطانیہ کو ’بریگزٹ‘ یعنی یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے سے لگا۔ آج سے ٹھیک دس سال پہلے برطانیہ نے ایک عوامی ووٹ کے ذریعے یورپی یونین سے ناطہ توڑنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے اب بہت سے ماہرین ملک کی تاریخ کا سب سے غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر رابرٹ پیٹمین اس بارے میں کہتے ہیں کہ “یہ فیصلہ معاشی طور پر ایک بڑی تباہی ثابت ہوا ہے، اور بہت سے لوگوں نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی کردی تھی۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ شاید 1930 کی دہائی کے بعد برطانیہ کا سب سے برا پالیسی فیصلہ تھا۔“

بریگزٹ کے اس فیصلے نے برطانیہ کا پورا سیاسی نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ سابق وزیرِ خزانہ جیرمی ہنٹ کے مطابق اس فیصلے نے ڈیوڈ کیمرون اور تھریسا مے جیسے وزرائے اعظم کی چھٹی تو کرائی ہی، ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے پکے ووٹرز کو بھی ان سے دور کر دیا۔

اس سیاسی کھنچاؤ کی وجہ سے ملک میں دائیں بازو کی جماعتیں مقبول ہو کر ابھریں، جن کے دباؤ کے سامنے روایتی لیڈر ٹک نہیں پاتے اور پارلیمنٹ کے اندر ارکانِ اسمبلی اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں۔

تیسرا سبب رہنماؤں کی ذاتی غلطیاں، سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا دباؤ اور ناممکن وعدے ہیں۔

برطانیہ کا پارلیمانی نظام ایسا ہے کہ اگر کسی پارٹی کو اپنے ہی لیڈر پر بھروسہ نہ رہے تو نیا الیکشن کرائے بغیر بھی وزیراعظم کو بدلا جا سکتا ہے۔ پچھلے دس سال میں ایسا پانچ بار ہوا ہے۔

برطانوی مصنف اینڈرے اسپائسر کہتے ہیں کہ ”لیڈر عوام سے اتنے زیادہ وعدے کر لیتے ہیں جنہیں پورا کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ وزیراعظم بنتے ہی بڑے سرکاری افسران انہیں بتاتے ہیں کہ آپ ہزاروں وعدوں میں سے صرف ایک یا دو ہی پورے کر سکتے ہیں۔ یوں امیدیں ٹوٹنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔“

اس کے علاوہ وزرائے اعظم کی اپنی حماقتیں بھی ان کے زوال کا سبب بنیں۔ بورس جانسن کرونا لاک ڈاؤن کے دوران وزیراعظم ہاؤس میں پارٹیاں کرنے کے اسکینڈل میں پھنسے، لیز ٹرس نے ایسی معاشی پالیسی بنائی کہ صرف 49 دنوں میں ملک کا دیوالیہ نکلنے لگا اور وہ برطانوی تاریخ میں سب سے کم وقت تک عہدے پر رہنے والیوزیراعظم بنیں۔

کیئر اسٹارمر نے بھی الیکشن میں بڑے بڑے دعوے کیے لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ کوئی پکا اور مضبوط فیصلہ نہ کر سکے اور میڈیا نے انہیں ایک کمزور اور بے اثر لیڈر کے طور پر پیش کیا۔

سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز کے اس دور میں اب سیاست نیٹ فلکس کے کسی شو کی طرح تیز ہو گئی ہے جہاں لوگوں کو فوراً نتیجہ چاہیے ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف آکلینڈ میں گلوبل اسٹڈیز کے پروفیسر کرس اوگڈن نے نیوزی لینڈ کے نیوز آؤٹ لیٹ ’آر این زی“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اسٹارمر کو ایک ایسا ملک ملا جو گہرے معاشی اور سماجی مسائل میں گھرا ہوا تھا، اور دوسری طرف بے صبر ہو چکی عوام تھی جو سوشل میڈیا کی وجہ سے راتوں رات جادوئی تبدیلی چاہتی تھی۔ ذاتی کشش اور جاندار نظریے کی کمی نے ان کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا۔“

اب حالت یہ ہے کہ گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم کا نام نئے وزیراعظم کے لیے سب سے آگے ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل اتنے سنگین ہیں کہ اگر انہوں نے جرات نہ دکھائی تو ان کا انجام بھی پرانے وزرائے اعظم جیسا ہی ہوگا۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے رپورٹر روب واٹسن نے اس بگڑتے ہوئے سیاسی موسم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”عوام ان روز روز کی تبدیلیوں اور پارٹیوں کی آپسی لڑائیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ 2008 کے بحران کے بعد سے برطانیہ پر مایوسی اور ناامیدی کا ایک گہرا بادل چھایا ہوا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوئی نیا لیڈر اس موسم کو بدل پاتا ہے یا نہیں۔“

ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی، موبائل فونز کتنے سستے ہونے والے ہیں؟وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی موبائل فونز...
23/06/2026

ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی، موبائل فونز کتنے سستے ہونے والے ہیں؟

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ملک میں درآمد ہونے والے مہنگے اور ہائی اینڈ موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے اس فیصلے سے درآمدی موبائل فونز کی قیمتوں میں تقریباً 10 ہزار سے 14 ہزار روپے تک کمی متوقع ہے، جس سے صارفین کو براہ راست مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

موبائل فون مارکیٹ سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے باعث درآمدی فونز کی لاگت کم ہوگی، جس کا اثر بالآخر مارکیٹ قیمتوں پر بھی پڑے گا۔

اس حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے مہنگے درآمدی موبائل فونز کی قیمت میں فی ڈیوائس تقریباً 14 ہزار روپے تک کمی کا امکان ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے فنانس بل 2026 کے حوالے سے سفارشات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر موجودہ ٹیکس ڈھانچہ متوازن، منصفانہ اور حکومتی آمدن کے لیے مؤثر ثابت ہورہا ہے، اس لیے شرحوں کے موجودہ نظام میں مزید تبدیلی کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مہنگے یا پریمیئم درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی میں وسیع پیمانے پر کمی سے زیادہ فائدہ معاشرے کے خوشحال طبقے کو ہوگا جبکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اضافی ریلیف پر غور کیا جائے تو اسے صرف 31 سے 200 ڈالر مالیت کے ابتدائی درجے کے موبائل فونز تک محدود رکھا جانا چاہیے تاکہ کم آمدنی والے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والے صارفین مستفید ہوسکیں۔

سعودی اخبار عرب نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن قاسم گیلانی نے بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ اقدامات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں، تاہم یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔

قاسم گیلانی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موبائل فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام رابطے بڑھانے کے لیے مثبت ہے اور یہ عوام کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کے لیے بھی اچھا اقدام ہے۔

پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، ریگولیٹری ڈیوٹی، موبائل ڈیوائس لیوی اور ودہولڈنگ ٹیکس سمیت مختلف محصولات عائد ہیں، جن کے باعث قانونی طور پر درآمد ہونے والے فونز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ قاسم گیلانی کے مطابق ترامیم سے پہلے ایک موبائل فون کی بنیادی قیمت پر مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 63 فیصد تک پہنچ جاتا تھا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی فون کی قیمت دو لاکھ روپے ہو تو اس پر ٹیکس کی رقم تقریباً ایک لاکھ چھ ہزار روپے بنتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی فنانس کمیٹی نے مارچ میں سفارش کی تھی کہ موبائل فون کو تعیشات کے بجائے ایک بنیادی ضرورت سمجھا جائے، کیونکہ جدید دور میں تعلیم، کاروبار اور روزمرہ رابطوں کے لیے موبائل فون ناگزیر ہو چکا ہے۔

جب رواں ماہ پیش کیے گئے بجٹ میں ان سفارشات کو شامل نہیں کیا گیا تو قانون سازوں نے فنانس بل میں ترامیم کے ذریعے 25 فیصد لگژری جی ایس ٹی اور دیگر درآمدی رکاوٹوں کو چیلنج کیا۔ طویل بحث کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے متعدد تجاویز قبول کر لیں۔

قاسم گیلانی کے مطابق حکومت نے تمام درآمدی اسمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام سے مختلف قیمتوں کے موبائل فونز پر ٹیکس کا بوجھ کسی حد تک کم ہوگا۔

علاوہ ازیں، ایف بی آر نے درمیانی قیمت والے موبائل فونز کے لیے بھی ایک ترمیم منظور کی ہے۔ یہ رعایت خاص طور پر 200 سے 300 امریکی ڈالر مالیت کے فونز پر لاگو ہوگی، جو پاکستانی مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے فونز کے زمرے میں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس رعایت کے نتیجے میں حکومتی آمدنی پر تقریباً ایک ارب روپے تک کا اثر پڑ سکتا ہے۔

تاہم 500 ڈالر سے زائد مالیت کے مہنگے اسمارٹ فونز اب بھی 25 فیصد لگژری جی ایس ٹی کے دائرے میں رہیں گے اور انہیں صرف ریگولیٹری ڈیوٹی میں دی گئی 20 فیصد کمی کا فائدہ حاصل ہوگا۔

سرگودھا: 7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکدوسری جماعت میں پڑھنے والی ننھی منتہا چند ...
23/06/2026

سرگودھا: 7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

دوسری جماعت میں پڑھنے والی ننھی منتہا چند روز قبل اپنے گھر سے قریبی دکان پر کھانے پینے کی کوئی چیز لینے کے لیے نکلی تھی لیکن پھر واپس نہیں آئی۔

اہل خانہ کے مطابق جب بچی دکان سے لاپتا ہوئی تو انہوں نے اس کی تلاش شروع کی، جس کے بعد دکان کے اوپر بنے کمرے سے اس کی بے جان لاش ملی۔

اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے میں کہرام مچا دیا اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بچی کو دکان پر کام کرنے والے ملازم ورغلا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی پی او صہیب اشرف کی خصوصی ہدایت پر ایک چھ رکنی تفتیشی ٹیم بنائی گئی تھی جس نے ملزم کی تلاش کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مارنے شروع کیے۔

پولیس حکام نے اس وقت عزم ظاہر کیا تھا کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرکے متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔

اسی دوران پولیس نے دکان کے مالک حنیف، اس کے بیٹے اور دیگر مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کا عمل شروع کیا اور ملزم ارسلان کے پرانے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی شروع کر دی گئی۔

تاہم اب پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ایک مقابلے کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

دوسری طرف مقتولہ منتہا کے والدین اپنی لاڈلی بیٹی کی ناگہانی موت پر غم سے نڈھال ہیں اور ان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے، جبکہ پورے علاقے کی فضا سوگوار ہے۔

رات گئے معصوم منتہا کو نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد سرگودھا کے مرکزی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا، جس میں شہریوں اور رشتہ داروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

منتہا کی آخری رسومات اور تدفین کے وقت وہاں موجود ہر آنکھ نم تھی اور ہر شخص اس معصوم کلی کے بے رحمانہ قتل پر انتہائی افسردہ دکھائی دے رہا تھا۔

ایک دن تم میری ماں کا کردار ادا کرو گی, سلمان خان کی 24 سال قبل 19 سالہ دیا مرزا سے متعلق  انوکھی پیشگوئی: اداکارہ کا ان...
23/06/2026

ایک دن تم میری ماں کا کردار ادا کرو گی, سلمان خان کی 24 سال قبل 19 سالہ دیا مرزا سے متعلق انوکھی پیشگوئی: اداکارہ کا انکشاف

دیا مرزا نے حال ہی میں ہدایتکارہ فرح خان کے شو میں شرکت کی جس میں انہوں نے کئی دلچسپ موضوعات پر گفتگو کی۔

شو کے دوران جب فرح خان نے دیا مرزا کو سلمان خان کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کی تجویز دی تو انہوں نے جواب دیا کہ 'اب سلمان کم عمر اداکاراؤں کے ساتھ کام کر رہے ہیں'۔

یہ جواب سن کر فرح خان نے کہا کہ 'سلمان خان ابھی چترانگدا سنگھ کے ساتھ بھی تو کام کررہے ہیں'۔

اس پر دیا مرزا نے ہنستے ہوئے بتایا کہ 'دراصل سلمان نے مجھے 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم تم کو نہ بھول پائیں گے کے سیٹ پر شوٹنگ کے دوران کہا تھا کہ دیکھنا ایک دن تم میری ماں کا کردار ادا کرو گی اور اس وقت میری عمر صرف 19 سال تھی'۔

انہوں نے بتایا کہ 'میں سلمان خان کی یہ پیشگوئی سن کر بہت خوفزدہ ہوگئی تھی'۔

اداکارہ نے بتایا کہ 'میں، راجپال یادو اور سلمان خان بیٹھے اپنے سین کی شوٹنگ کا انتظار کررہے تھے، اس فلم میں سلمان کی ماں کا کردار ایک ایسی خاتون ادا کر رہی تھیں جن کا ایک نومولود بچہ تھا اور وہ بہت زیادہ عمر کی بھی نہیں تھیں'۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 'میں نے سلمان خان سے کہا کہ یہ آپ کی ماں کا کردار ادا کر رہی ہے اور ان کے ہاں ابھی ایک بچے کی پیدائش ہوئی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ عمر میں کافی چھوٹی ہیں، میری یہ بات سن کر سلمان نے کہا کہ آپ پریشان مت ہوں، یہ آپ کے ساتھ بھی ہوگا'۔

23/06/2026

How Tea is Made | From Fresh Leaves to Your Cup | Tea Production Process

Have you ever wondered how tea is made? In this video, we explore the complete journey of tea—from fresh green leaves picked on lush tea plantations to the final dried and processed tea you enjoy in your cup.

Watch how tea leaves are carefully plucked, withered, rolled, fermented, dried, and packaged using modern processing techniques. Learn the fascinating science and craftsmanship behind one of the world’s most popular beverages.

Perfect for food lovers, tea enthusiasts, and anyone curious about how everyday products are made!

👉 Like, share, and subscribe for more amazing “How It’s Made” videos.

Address

Srinagar

Telephone

+918899841552

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mansoor Afaq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Mansoor Afaq:

Share