01/06/2026
👈 تاجر بھی ولی بن سکتا ہے __!!
حضرت امام غزالی رحمہ اللہ نے ’’ إحیاء العلوم ‘‘ میں ایک قصہ لکھا ہے کہ بغداد کے علاقے میں ایک شخص رہتے تھے ، جن کا نام تھا ’’ شیخ منکدر ‘‘ اور ان کی ایک دکان تھی ، تجارت پیشہ آدمی تھے ، انھوں نے اپنے خادموں سے ایک دفعہ کہہ دیا کہ بھائی دیکھو! یہ کپڑا اتنے کاہے اور وہ کپڑا اتنے کاہے ، یہ لبادہ اتنے کاہے ، فلاں لبادہ اتنے کا ہے ۔ اس سے زیادہ قیمت میں فروخت نہ کرنا اور ایک کپڑے کے بارے میں بتایا کہ یہ دو دینار کا ہے اور ایک کے بارے میں کہا کہ یہ تین دینار کا ہے ، اس طرح تاکید کردی ۔
ایک مرتبہ اپنے کسی کام سے جا رہے تھے ، راستے میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی ، جو اعرابی و دیہاتی تھا ، دیکھا تو اس کے پاس ایک لبادہ ہے ، انھوں نے پوچھا کہ بھائی ! یہ لبادہ کہاں سے خریدا ؟ تو اس نے کہا کہ ادھر ایک دکان ہے ، وہاں سے خریدا ہے ۔ پھر پوچھا کہ کتنے میں خریدا ؟ تو اس نے کہا کہ میں نے تین دینار میں خریدا ہے ۔
تو انھوں نے اسے لے کر الٹ پلٹ کرکے دیکھا اور اس کے بعد میں کہا کہ یہ تو دو دینار کا ہے ، تم نے تین دے دئیے ، ایک دینار تم نے زائد دے دیا ہے ، اس لیے چلو ، اس کو واپس کردو ، یا تو اپنی قیمت واپس لے لو ، یا نہیں تو اپنا ایک دینار واپس لے لو ۔
تواس نے کہا کہ آپ کون ہے ؟ انھوں نے کہا کہ میں اسی دکان کا مالک ہوں ، تو شیخ منکدر اس دیہاتی کو لے کر واپس پہنچے اور اپنے خادم سے کہا کہ تم نے یہ غلط حرکت کیوں کی ؟ اس کا ایک دینار واپس کرو ، یا نہیں تو اسے تین دینار والا لبادہ دے دو ۔ خادم نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا چاہتے ہیں ؟ اس دیہاتی نے کہا کہ ایک دینار واپس کردو ۔ چناںچہ ایک دینار واپس کردیا گیا اور وہ دیہاتی واپس جانے لگا ، چلتے چلتے کچھ آس پاس کے لوگوں سے پوچھا کہ بھائی یہ کون صاحب ہیں ؟ بڑے امانت دار معلوم ہوتے ہیں کہ ایسا ایسا واقعہ میرے ساتھ پیش آیا ہے ۔ تو لوگوں نے کہا کہ آپ نہیں جانتے ان کو ؟ یہ شیخ منکدر ہیں ۔
تو اب اس دیہاتی نے کہا کہ اچھا یہ ہیں شیخ منکدر ! ہم لوگ اپنے علاقے میں جب کبھی بارش بند ہوجاتی ہے ، تو شیخ منکدر کا واسطہ دے کر دعائیں مانگا کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہم کوبارش دے دیتاہے ، اس نے کہا یہ تو وہ آدمی ہیں ، مجھے پتہ نہیں تھا اور کہنے لگا کہ میں توسمجھ رہا تھا کہ شیخ منکدر کوئی صاحب جبہ ودستار شخصیت ہوگی ، جو کسی خانقاہ میں بیٹھ کر تسبیح گھماتے ہوں گے ؛ لیکن یہاں آکر پتہ چلا کہ یہ تو تاجر آدمی ہیں ، تجارت کررہے ہیں ؛ لیکن مقام ایساہے اللہ کے نزدیک ، کہ اللہ ان کے نام کی بہ دولت ، ان کے واسطے کی وجہ سے بارشیں نازل کررہا ہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر راستے سے اللہ رب العزت کو پایا جاسکتا ہے ۔