Aakhripaigham

Directions Website

Aakhripaigham Passionate about preserving the legacy of Allama Iqbal through his poetry and philosophy.

24/03/2026

2025 Collection - Aakhri Paigham

What begins as inspiration
must end as transformation,
for Ishq knows no end.
"عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود"

#2025

Poetry (Used in Video):

اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتارکا یہ غازی تو بنا،کردار کا غازی بن نہ سکا

شکوہِ عید کا منکر نہیں ہوں مَیں، لیکن
قبولِ حق ہیں فقط مردِ حُر کی تکبیریں

یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے
نظّارۂ دیرینہ زمانے کو دِکھا دے
اے مصطفَوی خاک میں اس بُت کو ملا دے!

خدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!

نِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

تھا جو ’ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بِینا

لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تُو نے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!

وہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود
وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟
مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فِلِزّات
یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات
رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں
گِرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات
ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے
سُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات
یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
بے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات
وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دُنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات!

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)

08/09/2025

(Zarb-e-Kaleem-167) Jamiat-e-Aqwam-e-Mashriq

Pani Bhi Musakhar Hai, Hawa Bhi Ai Musakhar
Kya Ho Jo Nigah-e-Falak-e-Peer Baal Jaye

Dekha Hai Mulookiat-e-Afrang Ne Jo Khawab
Mumkin Hai Ke Uss Khawab Ki Tabeer Badal Jaye

Tehran Ho Gar Alam-e-Mashriq Ka Jeneeva
Shaid Kurra-e-Arz Ki Taqdeer Badal Jaye!

ضربِ کلیم: جمعیتِ اقوامِ مشرق

پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّ
کیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائے

اقبال اس شعر میں انسانی ترقی اور مغربی اقوام کی سائنسی برتری کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ مغرب نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوا اور پانی جیسے قدرتی عناصر کو مسخر کر لیا ہے، یعنی اب فضاؤں میں اس کے طیارے ہیں، سمندروں پر اس کے بحری بیڑے حکومت کرتے ہیں۔ لیکن اقبال اس ظاہری تسلط کے پیچھے ایک گہرا سوال اٹھاتے ہیں: اگر دنیا میں طاقت اور قیادت کا موجودہ مرکز تبدیل ہو جائے؟ اگر وہ "فلکِ پیر" ۔ یعنی وہ قدیم تاریخی توازن جو صدیوں سے مغرب کو برتر اور مشرق کو محکوم سمجھتا رہا ہے ۔ اچانک بدل جائے؟ اگر تقدیر کی نگاہ مشرق کی طرف مڑ جائے؟ اس شعر میں اقبال نہ صرف مغرب کی بالادستی کو چیلنج کرتے ہیں، بلکہ مشرق کے بیدار ہونے، اتحاد و شعور حاصل کرنے کی صورت میں ایک ممکنہ عالمی انقلاب کا اشارہ بھی دیتے ہیں

دیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائے

یہاں اقبال براہِ راست مغربی استعماری قوتوں کی سیاسی سوچ اور عالمی تسلط کے خوابوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یورپی طاقتیں خصوصاً برطانیہ، فرانس، امریکہ اور دیگر قوتیں ، طویل عرصے سے ایشیا اور افریقہ پر حکومت کے خواب دیکھتی رہی ہیں، اور بہت حد تک انہوں نے ان خوابوں کو حقیقت میں بدل بھی دیا۔ لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اگر مشرق کی قومیں اپنے دینی و تہذیبی وقار کو پہچان لیں، متحد ہو کر ایک امت ہو جائیں اور فکری غلامی کو توڑ دیں، تو یہ سامراجی خواب محض ایک ادھورے تصور میں بدل سکتے ہیں۔ وہ خواب جن میں مغرب نے خود کو دائمی حکمران اور مشرق کو غلام سمجھا، ممکن ہے کہ وقت کی کروٹ سے ٹوٹ جائیں اور نئی تعبیر سامنے آئے۔

طہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جنیوا
شاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!

طہران اقبال کے نزدیک مشرق کا وہ روحانی، تہذیبی اور فکری مرکز بن سکتا ہے جہاں امتِ مسلمہ متحد ہو کر دنیا کے فیصلے کرے۔ جیسے مغرب نے جینوا کو عالمی سیاست کا محور بنایا، ویسے ہی اگر مسلمان طہران کو اپنی اجتماعی دانش، قیادت اور اتحاد کا مرکز بنائیں، تو دنیا کی تقدیر بدل سکتی ہے۔اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان فرقہ واریت اور قوم پرستی سے بلند ہو کر ایک امت ہو۔

Address

Srinagar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aakhripaigham posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category