20/08/2026
یہ غزل استاد کلیم عاجز کی شاہکار تخلیقوں میں سے ایک ہے، جس میں شاعر کے درد، انا اور عشق کی سچائی جھلکتی ہے۔
یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا
کوئی نہ درد جہاں کو غزل بنائے گا
یہ بوجھ اسی پہ پڑا ہے وہی اٹھائے گا
زمانہ لاکھ اسے تڑپائے گا رلائے گا
وہ مرثیہ نہ کہے گا غزل نہ گائے گا