18/08/2023
آج صبح میں عجیب کشمکش میں تھا۔ سرد ہوا میرے بدن سے ٹکراتی تو عجیب طرح کی سنسناہٹ پیدا کرتی آج چھٹی حس بیدار تھی ، وہ کسی حادثے کے ہونے کا پتا دے رہی تھی ، فون کی گھنٹی بجی۔ وہ فون نہیں موت کا پیغام تھا۔آج میرے والد کو گزرے ایک برس بیت چکا ہے ، ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ دن قیامت سا تھا ، ایسا لگا میرے پاؤں کے نیچے جیسے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔ میں آج بھی نہیں بھولا ، وہ 18 اگست2022 کا دن جب میرے والد سعودی عرب میں اس دنیا فانی سے الوداع کہہ کر اور مجھ کو یتیمی خطاب سے نوازہ ۔۔۔
۱۸ اگست ۲۰۲۲ بروز جمعرات بوقت دن کے ۲ بجے جب میں اس حوصلے،اس ساے، اور اس عظیم ترین نعمت سے محروم ہو گیا۔جب مجھ بدنصیب کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، پاؤں تلے زمین نکل گئی،یہ وہ سیاہ شام تھی میرے لئے جب میرے والد محترم اس دنیا سے رخصت فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے۔
وہ زندگی جہاں بہاریں ہی بہاریں تھیں، وہاں ایک ایسی خزاں نے ڈھیرا لایا کہ خوشیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روٹھ گیں۔
یوں میری خوشیوں اور مسرتوں کی کھلکھلاتی رنگینیوں میں مست معصوم سی زندگی پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
زندگی میں وہ کبھی نہیں بھولا جاے گا جب کوئی محبت کرنے والا جدا ہو۔۔
اگر چہ دنیا عارضی ہے اور اس کو سب نے ایک نہ ایک دن چھوڑنا ہی ہے۔لیکن بعض کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن میں والد خاص طور پر شامل ہوتے ہیں ان کی اچانک جدائی کا سوچ کر سب اندر سے ٹوٹ جاتا ہے ۔۔
اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں ۔کہ اللہ تعالیٰ میرے والد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے۔خضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن جگہ نصیب عطا فرمائے۔
آج تک دل کو ہے اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
لاکھ چاہا کہ اس کو بھول جائوں قتیلؔ
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ۔
مراد علی