Sarfaraz Bazmi

Sarfaraz Bazmi famous poet and generalist, social activist.

ایک زمینحفیظؔ میرٹھیسرفراز بزمیؔ۔۔۔۔۔حفیظؔہر سُکُوں کی تہ میں سَو آتِش فِشاں رَکھتا ہُوں مَیںضَبط کا اِک رُخ نُمایاں، اِ...
14/06/2026

ایک زمین
حفیظؔ میرٹھی
سرفراز بزمیؔ
۔۔۔۔۔
حفیظؔ

ہر سُکُوں کی تہ میں سَو آتِش فِشاں رَکھتا ہُوں مَیں
ضَبط کا اِک رُخ نُمایاں، اِک نہاں رَکھتا ہُوں مَیں

اَے پرستارانِ نَغمَہ! چھوڑ کَر تارِ رُباب
آج کُچھ دُکھتی رَگوں پر اُنگلِیاں رَکھتا ہُوں مَیں

ہائے رے نَیرَنگیاں، ہُوں تَو چراغ اَب بھی مَگَر
روشنی رَکھتا تھا پہلے اَب دُھواں رَکھتا ہُوں مَیں

آج تَک گُزری اَجل کی آرزُو میں زِندَگی
زِندَگی سے آج بھی دِلچَسپِیاں رَکھتا ہُوں مَیں

مُجھ سے کَب ہوتی بَھلا پابندئ رَسمِ وُجُود
اُنکی دِلداری کی خاطِر جِسم و جاں رَکھتا ہُوں یں

ہیچ ہیں میری نَظَر میں آشِیاں و گُلستاں
آدمی ہُوں عَزمِ تَعمِیرِ جہاں رَکھتا ہُوں مَیں

اَب بھی وہ اَپنا سَمَجھ کَر مُجھ کو اَپنا لیں حفیظؔ
کون جانے وَرنہ پِھر یہ سَر کہاں رَکھتا ہُوں مَیں۔۔۔!

۔۔۔۔۔
بزمیؔ

پَیکَرِ گِل ہُوں شعُورِ کُن فَکاں رَکھتا ہُوں مَیں
"آدمی ہُوں عَزمِ تَعمِیرِ جہاں رَکھتا ہُوں مَیں"

باندھ کر اَپنے پروں کو شَہپَرِ جِبرِیل سے
کَیا زَمِیں، پَیروں تَلے ہر آسماں رَکھتا ہُوں مَیں

کَیا کِسی آزَر کی آنکھوں میں کَھٹَکتا خار ہُوں
ہر قَدم آتِشکَدوں کے اِمتِحاں رَکھتا ہُوں مَیں

ظُلمَت شب سے کلیم طور گھبراتا نہیں
نُورِ سِینا اَپنے سِینے میں نِہاں رَکھتا ہُوں مَیں

رات آئی، مَشعَلِ مِہرِ دَرخشاں بُجھ گئی
اَنجُمِ کَم ضَو کو، اَپنا رازداں رَکھتا ہُوں مَیں

ساغَرِ شعر و سُخَن میں بھر کے صَہبائے حِجاز
بادَہ گَردانِ عَجَم کے دَرمیاں رَکھتا ہُوں مَیں

ہیں خَفا اِس بات پر مُجھ سے اَندھیروں کے اِمام
ہاتھ پر اِک شمع، کیوں ہردَم جواں رَکھتا ہُوں مَیں

گھر سے نِکلا ہُوں، کرینگی مَنزِلیں میرا طواف
راستو! ماں کی دُعا کا سائباں رَکھتا ہُوں مَیں

ہُوں شَرِیکِ بَزم لیکِن گَرمئ مَحفِل سے دُور
بُتکَدوں میں ہُوں مَگَر لَب پر اَذاں رَکھتا ہُوں مَیں

ہائے! اُس عیسیٰ نَفَس کی چَشمِ حیراں کا خُمار
واسطہ بزمیؔ کِسی سے اَب کہاں رَکھتا ہُوں مَیں۔۔۔!

Sarfaraz Bazmi

12/06/2026

حجاج کے قافلے اب لوٹ چکے ہیں
چند سال پہلے بیت الله سے واپسی پر لکھی یہ منظوم روداد آپکی بصارتوں کے حوالے از سرفراز بزمی
-----------------------------------------

بلندی پر بہت اپنا مقدر دیکھ آیا ہوں
صفا سے خانئہ کعبہ کا منظر دیکھ آیا ہوں

حطیم و سنگ اسود ، ملتزم ، میزاب رحمت پر
لرزتے ہونٹ ، آنکھوں میں سمندر دیکھ آیا ہوں

سر جمرات دنیائے بدی پر وار کرنے کو
جنوں کے ہاتھ میں تیار پتھر دیکھ آیا ہوں

تڑپنا پھول سے معصوم کا تپتی چٹانوں پر
تصور میں صفا مروہ کو رکھ کر دیکھ آیا ہوں

کسی کی ایڑیوں سے وہ سمندر کا ابل پڑنا
کسی کےصبر کی عظمت کا پیکر دیکھ آیا ہوں

غلاف خانئہ کعبہ پہ دونوں ہاتھ پھیلائے
میں اپنے ہاتھ میں بخت سکندر دیکھ آیا ہوں

وہ پیدل قافلے سوئے منی ، عرفات ، مزدلفہ
کہ دھرتی پر ابابیلوں کا لشکر دیکھ آیا ہوں

ہزاروں سال کی تاریخ آنکھوں میں سمٹ آئی
خلیل الله کے پیروں کا پتھر دیکھ آیا ہوں

لہو میں تر بتر نعلین ، طائف ، وادئ نخلہ
جہاں زخمی ہوا رحمت کا پیکر دیکھ آیا ہوں

حرا، بدر و احد، خندق قبا، صفہ کی نظروں میں
بکھرتے ٹوٹتے خوابوں کے منظر دیکھ آیا ہوں

وہ دامن میں احد کے سید الشہداء فی الجنة
نبی کی فاطمہ کی قبر اطہر دیکھ آیا ہوں

خوشا ! اے اشتیاق دید غار ثور پر چڑھ کر
تصور میں وہ مکڑی وہ کبوتر دیکھ آیا ہوں

حرم سے دور طائف سے پرے چھوٹی پہاڑی پر
حلیمہ کے جہاں ہوتے تھے چھپر دیکھ آیا ہوں

کبھی چلنا کبھی مڑ مڑ کےرکنا، رک کے روپڑنا
وداعی کی گھڑی جزبوں کا محشر دیکھ آیا ہوں

جہاں پر ختم ہیں سیل جنوں کے سلسلے بزمی
نبی کا روضہء و محراب و منبر دیکھ آیا ہوں

سرفراز بزمی
سوائی مادھوپور راجستھان
بھارت

12/06/2026
11/06/2026

طرحی غزل
دیکھ کر طور پہ جلوہ کوئی زیبائی کا
دم نکلتا ہے کف خاک کی بینائی کا

توڑ اے نالہء شب دام سکوت صحرا
"رنگ بدلےکسی صورت شب تنہائی کا"

شام گہرائی کہیں قتل ہوا پھر سورج
رخ لہو رنگ ہوا گنبد مینائی کا

قہقہوں میں دبی آہوں کو دبائے رکھا
تاکہ ٹوٹے نہ بھرم ان کی مسیحائی کا

اب اجالےترےخورشید سےمانوس نہیں
شب گزیدہ ہے سویرا تری دانائی کا

ایک نادیدہ سی مخلوق سےسب ہارگئے
جنکو غرا تھابہت شوکت و دارائی کا

دشت کنعاں سےکہ قابیل سےپوچھا جائے
کتنا حق ہوتا ہے بھائی پہ کسی بھائی کا

کیسےکیسےتری محفل سےقدح خوارگئے
کیا بھروسہ ہے ترے بزمی صحرائی کا

سرفراز بزمی
سوائی مادھوپور راجستھان
انڈیا

17/05/2026

لوٹ کر ہارا تھکا مظلوم گھر پر آگیا
اے عدالت اب یقیں تیرے ہنر پر آگیا

مل گئی سورج کو سایہ دار ہونےکی سند
دھوپ کا الزام بھی سارا شجر پر آگیا
سرفراز بزمی

غزلحنا     کا    رنگ     لہو    سا   لباس     یا اللہ عجیب     وہم    ،    عجب    التباس     یا اللہوفا    کا     اور   ...
07/04/2026

غزل

حنا کا رنگ لہو سا لباس یا اللہ
عجیب وہم ، عجب التباس یا اللہ

وفا کا اور بتا میں ثبوت کیا دیتا
بجھا کے خون سے دھرتی کی پیاس یاالله

ترے خیال سے ہجرت ترے وصال کی آس
کتاب دل کا کٹھن اقتباس یا الله

مجھے دیا تو ہے تاریک راستوں کا سفر
عطا ہو دل بھی قیافہ شناس یا اللہ

نہ کوئ جھیل نہ ندی نہ اوس کی بوندیں
جلا نہ دے کہیں صحرا کی پیاس یا اللہ

وہ پہلی پہلی سی بارش وہ اپنا کچا گھر
وہ سوندھی سوندھی سی مٹی کی باس یااللہ

اسے بھی کاش ! محبت کی بد دعا دے جائے
فقیر کوئی دریدہ لباس یا اللہ

جنوں کے ہاتھ میں ہے ایٹمی بموں کی کلید
فلک اداس ، زمیں بد حواس یا اللہ

گناہ گار ہے بزمی کا بے لباس بدن
مگر رہے تری رحمت کا پاس یا اللہ

سرفراز بزمی
سوائ مادھوپور
راجستھان انڈیا

Address

Sawai Madhopur
Sawai Madhopur
322028

Telephone

+919772296970

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarfaraz Bazmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Sarfaraz Bazmi:

Share

Category