22/09/2026
عصرِ نو کا ایک نباض شاعِر - - - - - - - - مدہوش بلگرامی(کچھ اشعار کے حوالے سے)
اسلم چشتی پونے (انڈیا)
علم و اَدَب اور اُردو تہذیب کی زرخیز زمین اترپردیش کے سپوتوں کے کارنامے تاریخ کے پنّوں میں رقم ہیں - گو کہ آج وہ آب و تاب نہیں ہے اس کے باوجود اس دھرتی میں نمو ابھی باقی ہے - شعر و اَدَب کا سلسلہ جاری ہے گویا ایک نئی روایت قائم ہو رہی ہے اسی روایت کی پاسداری کرنے والوں میں ایک نام مدہوش بلگرامی کا بھی ہے - اس سے پہلے کہ گفتگو آگے بڑھے مَیں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک اور مدہوش بلگرامی بھی رسائل و جرائد میں چھپتے رہے ہیں - ان کے دو مجموعہء کلام بھی شائع ہو چُکے ہیں (آبلے 1971 اور سلسلے 1997) اس مدہوش بلگرامی کا تعلق حیدرآباد دکن کے نوابین خاندان سے تھا - ان کے والدِ محترم عالم و فاضل بھی تھے اور شاعر بھی - ان کا نام ہوش بلگرامی تھا ہوش صاحب کی نثر اور شاعری کی کتابیں بھی شائع ہوئی تھیں - ہوش صاحب نظام دکن عثمان علی خان کے مشیروں میں تھے - مدہوش بلگرامی ان کے بڑے صاحب زادے تھے ترقّی پسند تحریک کے حامی تھے دبنگ لہجے میں شاعری کرتے تھے عمر کے آخری حصّے میں وہ پونے میں آ کر بس گئے اور 6 مارچ 2017.ء کو یہیں ان کا انتقال ہُوا - یہ بات اس لیے رقم کی گئی ہے کہ شائقینِ شعر و اَدَب کو کنفیوژن نہ ہو - بلگرام کا نام ہوش بلگرامی کے حوالے سے علمی و اَدَبی حلقے میں اُجاگر ہُوا ان سے پہلے کوئی ایسی مثال نہیں ملتی -
اترپردیش کے مدہوش بلگرامی تقریباً تین دہائیوں سے اَدَبی رسائل میں خوب شائع ہوتے رہے ہیں اُردو اکیڈمی دہلی کے معیاری اَدَبی رسالے ایوانِ اُردو جون 2026. ء کے شمارے میں ان کی ایک غزل (ص 38) پر نمایاں طور پر شائع ہوئی ہے - جس کا مطلع ہے -
ان کے جلوے ہم کہاں دیکھا کیے
اک حجابِ درمیاں دیکھا کیے
اس مطلع سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غزل کی روایت کو برقرار رکھ کر مدہوش بلگرامی نے اپنی بات اپنے اُسلوب میں کہی ہے اسی غزل کا مقطع دیکھیے کس قدر فن کاری سے زبان کا استعمال کیا ہے -
عمر بھر مدہوش راہِ عشق میں
کس قدر سر گرمیاں دیکھا کیے
مدہوش بلگرامی کے کلام میں ویسے تو ہمہ رنگ ملتے ہیں لیکن ان کا نعت رنگ اسلامک اعتبار کے پیرائے میں عقیدتوں کے پھول برساتا ہے مثال کے طور پر تین نعتیہ قطعات ملاحظہ فرمائیں -
(1)
ہوتی ہے شب و روز جہاں نور کی بارش
ملتی ہے جہاں روح کو تسکینِ دوامی
واپس نہ وہاں سے کبھی مَیں آؤں گا مدہوش
قسمت سے اگر مل گئی اس در کی غلامی
(2)
وہ عرش کے سائے میں جگہ پا گئے مدہوش
دل جن کے مئے عشق سے سرشار ملیں گے
محشر کی تمازت کا انھیں خوف نہ ہوگا
عیدین کی راتوں میں جو بیدار رہیں گے
(3)
رکھنا محشر میں مری لاج رسولِ عربی
آپ ہیں صاحبِ معراج رسولِ عربی
کیجیے چشمِ کرم ہم سے گنہگاروں پر
آپ نبیوں کے ہیں سرتاج رسولِ عربی
پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مدہوش بلگرامی کا کلام نظر سے گزرتا رہا ہے یہ میرے فیس بُک فرینڈ بھی ہیں - ایک دن انہوں نے مُجھے واٹس ایپ پر اپنا کلام اور باؤ ڈیٹا بھیجا اور لکھنے کی خواہش ظاہر کی مدہوش بلگرامی سے میری ملاقات کبھی نہیں ہوئی اپنے صوبے اپنے علاقے کے اس شاعر پر لکھنے کے لیے مواد مل گیا جو قارئین کے لیے پیش کر رہا ہوں - ان کا نام محمد راشد خان ہے اور مدہوش تخلص ہے قصبہ بلگرام ضلع ہردوئی وطن ہونے کی مناسبت سے مدہوش بلگرامی کے نام سے مشہور ہیں - ان کے والدِ محترم عزیز احمد خان کیفی بلگرامی (مرحوم) بھی شاعر تھے - اس وراثت کو قائم رکھنے کے لیے انہوں نے اختر شاہجہاں پوری کی سرپرستی حاصل کی مشقِ سُخن میں تیزی آئی شہرت کے در کھُل گئے تجارت کے پیشے سے وابستہ اس شاعر کا سن پیدائش 1969. ء ہے اور انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز 1989.ء میں کیا گویا کہ کم عمری میں ہی مشقِ سُخن شروع کر دی - رسائل اور اخبارات میں مسلسل چھپتے رہے ہیں 1990.ء سے اشاعت کا سلسلہ جاری ہے نثر میں بھی ان کا کام اَدَبی مضامین اور تبصروں کی صورت میں منظرِ عام پر آیا ہے - ٹی وی چینلوں اور آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ سے ان کا کلام نشر ہو چکا ہے - 2004.ء سے کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہُوا اب تک 9 کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں کچھ کتابیں زیرِ ترتیب بھی ہیں سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے انعام و ایوارڈ سے بھی نوازے گئے ہیں -
زود گو اور کثیر الاشاعت شاعر و مُصنّف مدہوش بلگرامی کا قلم ماشاء اللہ اب بھی رواں ہے ان کی نثر کے تعلق سے مَیں اظہارِ خیال سے اس لیے قاصر ہوں کیوں کہ ان کی نثر میرے مطالعے میں نہیں رہی ہے ہاں مَیں ان کی شاعری پڑھتا رہا ہوں اور مطمئن ہوں کہ یہ صحیح راہ پر گامزن ہیں یہ صحیح راہ کیا ہے عرض کیے دیتا ہوں زبان پر عبور، موضوع پر گرفت اور حشو کے بغیر چُست مصرعے اس پیمانے پر ان کے اشعار قریب قریب پورے اترتے ہیں - چند اشعار نمونتاً پیش ہیں -
تمہاری بات کیسے مان لوں مَیں
زیادہ چاہنا اچھّا نہیں ہے
دہکتی آگ میں گلشن ہے کیا کیا جائے
یہ حادثہ بڑا پُر فن ہے کیا کیا جائے
آئے ہیں جو لوگ نقابیں ڈال کے اپنے چہروں پر
میرا پتہ کیوں پوچھ رہے ہیں رات کے پہرے داروں سے
مسئلہ یہ ہے ترے فن پہ کیوں معمار گری
جس کی بنیاد تھی مضبوط وہ مینار گری
پڑھیے چاہے کسی بھی عنواں سے
زندگی کی کتاب اپنی جگہ
جب ہمارے صبر کے لبریز پیمانے ہوئے
واقعاتِ عہدِ ماضی پھر سے ویرانے ہوئے
میری تخلیقات میں ہے عکس میرے عہد کا
آنے والی نسل خود پہچان جائے گی مجھے
اے مصوّرتونے کیوں تصویرجھوٹی پیش کی
انگلیاں اُٹھنے لگی ہیں اب مرے کردار پر
موت مجھ کو ساتھ لے کر جائے گی
دیکھنے سارا زمانہ آئے گا
مجموعی طور پر مدہوش بلگرامی کی شاعری کے بارے میں یہ کہنا حق ہے کہ یہ عصرِ حاضر کے ایک ایسے نباض شاعر ہیں جن کی گرفت میں آج کے انسان کا درد بھی ہے ، آج کی سیاست کی حکمت بھی، سماجی بے راہ روی بھی اور حسن و عشق کی چمک بھی ان کی زود گوئی پر مَیں بس اتنا کہوں گا کہ اب یہ ایک ایسے مقام پر براجمان ہیں کہ انہیں پڑھتے ہیں لیکن اتنا ہی کافی نہیں ان کے کلام اور غزل کی طرف رغبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ زودگوئی میں پُرگوئی کے اوصاف پر توجہ دیں - تاکہ عصری شاعری میں خاص مقام ملے اللہ کرے ایسا ہی ہو - آمین