ACFC - Aslam Chishti Friend Circle, Pune

Directions Contact the establishment

ACFC - Aslam Chishti Friend Circle, Pune ACFC, a well-known social organization working for promotion of Urdu and National Integration.

عصرِ نو کا ایک نباض شاعِر - - - - - - - - مدہوش بلگرامی(کچھ اشعار کے حوالے سے) اسلم چشتی پونے (انڈیا)     علم و اَدَب او...
22/09/2026

عصرِ نو کا ایک نباض شاعِر - - - - - - - - مدہوش بلگرامی(کچھ اشعار کے حوالے سے)

اسلم چشتی پونے (انڈیا)

علم و اَدَب اور اُردو تہذیب کی زرخیز زمین اترپردیش کے سپوتوں کے کارنامے تاریخ کے پنّوں میں رقم ہیں - گو کہ آج وہ آب و تاب نہیں ہے اس کے باوجود اس دھرتی میں نمو ابھی باقی ہے - شعر و اَدَب کا سلسلہ جاری ہے گویا ایک نئی روایت قائم ہو رہی ہے اسی روایت کی پاسداری کرنے والوں میں ایک نام مدہوش بلگرامی کا بھی ہے - اس سے پہلے کہ گفتگو آگے بڑھے مَیں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک اور مدہوش بلگرامی بھی رسائل و جرائد میں چھپتے رہے ہیں - ان کے دو مجموعہء کلام بھی شائع ہو چُکے ہیں (آبلے 1971 اور سلسلے 1997) اس مدہوش بلگرامی کا تعلق حیدرآباد دکن کے نوابین خاندان سے تھا - ان کے والدِ محترم عالم و فاضل بھی تھے اور شاعر بھی - ان کا نام ہوش بلگرامی تھا ہوش صاحب کی نثر اور شاعری کی کتابیں بھی شائع ہوئی تھیں - ہوش صاحب نظام دکن عثمان علی خان کے مشیروں میں تھے - مدہوش بلگرامی ان کے بڑے صاحب زادے تھے ترقّی پسند تحریک کے حامی تھے دبنگ لہجے میں شاعری کرتے تھے عمر کے آخری حصّے میں وہ پونے میں آ کر بس گئے اور 6 مارچ 2017.ء کو یہیں ان کا انتقال ہُوا - یہ بات اس لیے رقم کی گئی ہے کہ شائقینِ شعر و اَدَب کو کنفیوژن نہ ہو - بلگرام کا نام ہوش بلگرامی کے حوالے سے علمی و اَدَبی حلقے میں اُجاگر ہُوا ان سے پہلے کوئی ایسی مثال نہیں ملتی -

اترپردیش کے مدہوش بلگرامی تقریباً تین دہائیوں سے اَدَبی رسائل میں خوب شائع ہوتے رہے ہیں اُردو اکیڈمی دہلی کے معیاری اَدَبی رسالے ایوانِ اُردو جون 2026. ء کے شمارے میں ان کی ایک غزل (ص 38) پر نمایاں طور پر شائع ہوئی ہے - جس کا مطلع ہے -

ان کے جلوے ہم کہاں دیکھا کیے
اک حجابِ درمیاں دیکھا کیے

اس مطلع سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غزل کی روایت کو برقرار رکھ کر مدہوش بلگرامی نے اپنی بات اپنے اُسلوب میں کہی ہے اسی غزل کا مقطع دیکھیے کس قدر فن کاری سے زبان کا استعمال کیا ہے -

عمر بھر مدہوش راہِ عشق میں
کس قدر سر گرمیاں دیکھا کیے

مدہوش بلگرامی کے کلام میں ویسے تو ہمہ رنگ ملتے ہیں لیکن ان کا نعت رنگ اسلامک اعتبار کے پیرائے میں عقیدتوں کے پھول برساتا ہے مثال کے طور پر تین نعتیہ قطعات ملاحظہ فرمائیں -

(1)

ہوتی ہے شب و روز جہاں نور کی بارش
ملتی ہے جہاں روح کو تسکینِ دوامی
واپس نہ وہاں سے کبھی مَیں آؤں گا مدہوش
قسمت سے اگر مل گئی اس در کی غلامی

(2)

وہ عرش کے سائے میں جگہ پا گئے مدہوش
دل جن کے مئے عشق سے سرشار ملیں گے
محشر کی تمازت کا انھیں خوف نہ ہوگا
عیدین کی راتوں میں جو بیدار رہیں گے

(3)

رکھنا محشر میں مری لاج رسولِ عربی
آپ ہیں صاحبِ معراج رسولِ عربی
کیجیے چشمِ کرم ہم سے گنہگاروں پر
آپ نبیوں کے ہیں سرتاج رسولِ عربی

پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مدہوش بلگرامی کا کلام نظر سے گزرتا رہا ہے یہ میرے فیس بُک فرینڈ بھی ہیں - ایک دن انہوں نے مُجھے واٹس ایپ پر اپنا کلام اور باؤ ڈیٹا بھیجا اور لکھنے کی خواہش ظاہر کی مدہوش بلگرامی سے میری ملاقات کبھی نہیں ہوئی اپنے صوبے اپنے علاقے کے اس شاعر پر لکھنے کے لیے مواد مل گیا جو قارئین کے لیے پیش کر رہا ہوں - ان کا نام محمد راشد خان ہے اور مدہوش تخلص ہے قصبہ بلگرام ضلع ہردوئی وطن ہونے کی مناسبت سے مدہوش بلگرامی کے نام سے مشہور ہیں - ان کے والدِ محترم عزیز احمد خان کیفی بلگرامی (مرحوم) بھی شاعر تھے - اس وراثت کو قائم رکھنے کے لیے انہوں نے اختر شاہجہاں پوری کی سرپرستی حاصل کی مشقِ سُخن میں تیزی آئی شہرت کے در کھُل گئے تجارت کے پیشے سے وابستہ اس شاعر کا سن پیدائش 1969. ء ہے اور انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز 1989.ء میں کیا گویا کہ کم عمری میں ہی مشقِ سُخن شروع کر دی - رسائل اور اخبارات میں مسلسل چھپتے رہے ہیں 1990.ء سے اشاعت کا سلسلہ جاری ہے نثر میں بھی ان کا کام اَدَبی مضامین اور تبصروں کی صورت میں منظرِ عام پر آیا ہے - ٹی وی چینلوں اور آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ سے ان کا کلام نشر ہو چکا ہے - 2004.ء سے کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہُوا اب تک 9 کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں کچھ کتابیں زیرِ ترتیب بھی ہیں سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے انعام و ایوارڈ سے بھی نوازے گئے ہیں -

زود گو اور کثیر الاشاعت شاعر و مُصنّف مدہوش بلگرامی کا قلم ماشاء اللہ اب بھی رواں ہے ان کی نثر کے تعلق سے مَیں اظہارِ خیال سے اس لیے قاصر ہوں کیوں کہ ان کی نثر میرے مطالعے میں نہیں رہی ہے ہاں مَیں ان کی شاعری پڑھتا رہا ہوں اور مطمئن ہوں کہ یہ صحیح راہ پر گامزن ہیں یہ صحیح راہ کیا ہے عرض کیے دیتا ہوں زبان پر عبور، موضوع پر گرفت اور حشو کے بغیر چُست مصرعے اس پیمانے پر ان کے اشعار قریب قریب پورے اترتے ہیں - چند اشعار نمونتاً پیش ہیں -

تمہاری بات کیسے مان لوں مَیں
زیادہ چاہنا اچھّا نہیں ہے

دہکتی آگ میں گلشن ہے کیا کیا جائے
یہ حادثہ بڑا پُر فن ہے کیا کیا جائے

آئے ہیں جو لوگ نقابیں ڈال کے اپنے چہروں پر
میرا پتہ کیوں پوچھ رہے ہیں رات کے پہرے داروں سے

مسئلہ یہ ہے ترے فن پہ کیوں معمار گری
جس کی بنیاد تھی مضبوط وہ مینار گری

پڑھیے چاہے کسی بھی عنواں سے
زندگی کی کتاب اپنی جگہ

جب ہمارے صبر کے لبریز پیمانے ہوئے
واقعاتِ عہدِ ماضی پھر سے ویرانے ہوئے

میری تخلیقات میں ہے عکس میرے عہد کا
آنے والی نسل خود پہچان جائے گی مجھے

اے مصوّرتونے کیوں تصویرجھوٹی پیش کی
انگلیاں اُٹھنے لگی ہیں اب مرے کردار پر

موت مجھ کو ساتھ لے کر جائے گی
دیکھنے سارا زمانہ آئے گا

مجموعی طور پر مدہوش بلگرامی کی شاعری کے بارے میں یہ کہنا حق ہے کہ یہ عصرِ حاضر کے ایک ایسے نباض شاعر ہیں جن کی گرفت میں آج کے انسان کا درد بھی ہے ، آج کی سیاست کی حکمت بھی، سماجی بے راہ روی بھی اور حسن و عشق کی چمک بھی ان کی زود گوئی پر مَیں بس اتنا کہوں گا کہ اب یہ ایک ایسے مقام پر براجمان ہیں کہ انہیں پڑھتے ہیں لیکن اتنا ہی کافی نہیں ان کے کلام اور غزل کی طرف رغبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ زودگوئی میں پُرگوئی کے اوصاف پر توجہ دیں - تاکہ عصری شاعری میں خاص مقام ملے اللہ کرے ایسا ہی ہو - آمین

آج 14 ستمبر 2026. ء بروز پیر لاہور " ثبات" میں شایع ہُوا - مَیں تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں -
14/09/2026

آج 14 ستمبر 2026. ء بروز پیر لاہور " ثبات" میں شایع ہُوا - مَیں تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں -

آج 14 ستمبر 2026. ء بروز پیر دہلی میں شایع ہُوا - مَیں " سائبان" کے تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں ...
14/09/2026

آج 14 ستمبر 2026. ء بروز پیر دہلی میں شایع ہُوا - مَیں " سائبان" کے تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں -

" قومی میزان" کے تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ بہت بہت شکریہ -
12/09/2026

" قومی میزان" کے تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ بہت بہت شکریہ -

" سائبان" دہلی کے تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ -وحشی سعید اور فنِ افسانہ نگاری ( مُصنّف شارق عدیل )  "...
08/09/2026

" سائبان" دہلی کے تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ -

وحشی سعید اور فنِ افسانہ نگاری ( مُصنّف شارق عدیل ) " تنقیدی جائزہ "

اسلم چشتی پونے (انڈیا )

اُردو ادب کے قارئین جانتے ہیں کہ شارق عدیل فکشن کے مبصر بھی ہیں اور ناقد بھی - کئی ناولوں اور افسانوی مجموعوں پر ان کی تحریریں رسائل اور جرائد میں شائع بھی ہوئی ہیں - وحشی سعید کے ایک دو افسانوں کے تجزیے پہلے بھی یہ کر چُکے ہیں - لیکن اب کی بار وحشی سعید کے کچھ افسانوں پر تجزیے کر کے اس کو کتابی صورت میں پیش کیا ہے - کسی افسانہ نگار کے افسانوں پر تجزیے کی یہ ان کی پہلی کتاب ہے -

زیرِ نظر کتاب " وحشی سعید اور فنِ افسانہ نگاری" کے مُصنّف مشہور شاعر و ادیب شارق عدیل ہیں اس کی اشاعت 2021.ء میں عمل میں آئی، جس کی تعداد 500 ہے، کتاب کی قیمت 300 روپے ہے اور ٹائپ سیٹنگ محمد فاروق بٹ نے کی جو شبّیر احمد کے زیرِ اہتمام سامنے آئی ہے پبلشرز میزان پبلشرز اینڈ ڈسٹریبیوٹرز بالمقابل فائر سروسز ہیڈ کوارٹرز، بٹہ مالو، سرینگر 190009( کشمیر) ہیں -

" وحشی سعید اور فنِ افسانہ نگاری " میں "عرضِ شارق " کے تحت مُصنّف نے ایک مضمون لکھا ہے جس کی آخری سطریں ملاحظہ فرمائیں -

" علامتی کہانی جب طوالت کی راہ گزر میں سفر کرتی ہے تو اپنے بیانیہ کو تجریدیت کی دھند سے محفوظ نہیں رکھ پاتی ہے اور وہ قاری کی فہم کی گرفت سے کہیں دور نکل جاتی ہے - وحشی سعید علامتی کہانی کی اس کمزوری سے اچھّی طرح واقف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وحشی سعید کی علامتی کہانیاں اپنے موضوع اور کرداروں میں فضول طوالت کے احساس سے بیگانہ رہتی ہیں اور قاری کو اپنی فہم کے مطابق نتیجہ اخذ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہیں - اس لیے مَیں پہلے ہی یہ اقرار کر چکا ہوں کہ مَیں کہانی کا ناقد نہیں ، قاری ہوں - مَیں نے وحشی سعید کے افسانوں اور ناولوں کو پڑھتے ہوئے جو کچھ بھی محسوس کیا ہے اس کو پورے خلوص کے ساتھ تحریر کر دیا ہے - اس لیے میرے خیال میں یہاں کچھ اور لکھنے کی ضرورت باقی نہیں "

( ص 6 ، کتاب ہذا )

کتاب کے شروع کے مضامین سے ایسا لگتا ہے کہ وقفے وقفے سے گاہے گاہے لکھے ہوئے مضامین ہیں جو چھپے بھی ہوں گے مگر میری نظر سے نہیں گذرے اب جب کہ اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں تو مَیں نے پڑھے اور شارق عدیل کی فکشن شناسی سے بھی متاثر ہُوا - ان 4 مضامین کے عنوانات ملاحظہ فرمائیں -

افسانوی مجموعہ " کنوارے الفاظ کا جزیرہ " - - - - - ایک مطالعہ

ناول " پتھّر پتھّر آئینہ " کا تجزیاتی مطالعہ

" قصّہ دراصل یہ ہے " کے عنوان سے لکھے گئے دس افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ

وحشی سعید ایک منفرد فکشن نگار - - - - ایک مطالعہ

اس کے علاوہ ایک اور مضمون ہے جو وحشی سعید کی ادبی ضمانت کے بارے میں ہے مُصنّف نے انٹرنیشنل میگزین نگینہ کے اداریوں پر قلمبند کیا ہے - وحشی سعید کے بیباک اور دانشورانہ اداریے اور ان پر مُصنّف کا اظہارِ خیال سونے پر سہاگہ کا کام کرتا ہے پھر بھی مَیں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ کیونکہ یہ مضمون وحشی سعید کی افسانہ نگاری پر نہیں ان کی صحافت پر ہے تو یہ اس کتاب میں زیب نہیں دیتا اور کتاب کے آخر میں " دوبدو " کے تحت انور آفاقی کا وحشی سعید کے فن اور شخصیت پر لیا گیا ایک انٹرویو چھپا ہے جو کافی معلومات فراہم کرتا ہے - لیکن یہ کتاب تو شارق عدیل کی لکھی ہوئی ہے - اس سلسلے میں ناچیز کچھ کہنا نہیں چاہتا بس اتنا ہی کہوں گا کاش یہ انٹرویو شارق عدیل کا لیا ہُوا ہوتا -

اس کتاب میں شارق عدیل کے تجزیے ہی تجزیے ہیں افسانہ نگاری وحشی سعید کے افسانے نہیں ہیں اگر تجزیے سے پہلے افسانے بھی شایع ہو جاتے تو قاری کا لطف دوبالا ہو جاتا اور شارق عدیل کی ہُنر مندی بھی سامنے آ جاتی - اس کے باوجود تجزیے ایسے دلچسپ ہیں کہ جنہیں پڑھتے ہوئے افسانے کا بھی مزہ آتا ہے اور تجزیے کا بھی - کسی کسی تجزیے میں اُسلوب ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ جس میں تجسّس برقرار رہتا ہے اور تجزیہ پڑھنے کے بعد قاری چونک پڑتا ہے -

اس کتاب سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شارق عدیل ایک ذہین فکشن نگار ہی نہیں بہترین تجزیہ نگار بھی ہیں - میرا خیال ہے کہ وحشی سعید جیسے مشہور افسانہ نگار کے افسانوں پر شائع شدہ یہ پہلی کتاب ہے -

قابلِ مبارکباد ہیں وحشی سعید اور شارق عدیل کہ فکشن کے اُفق پر اس کتاب کے حوالے سے دونوں کے نام روشن ہو گئے - اللہ کرے یہ روشنی جہانِ اُردو میں دور دور تک پہلے اور دیر تک قائم و دائم رہے - آمین ثم آمین یا رب العالمین -

صحافت کو عبادت اور طب کو خدمت سمجھنے والے - - - - عتیق مُظفّر پوری ( جاوید رحمانی کی مُرتّب کردہ کتاب کے حوالے سے) اسلم ...
08/09/2026

صحافت کو عبادت اور طب کو خدمت سمجھنے والے - - - - عتیق مُظفّر پوری

( جاوید رحمانی کی مُرتّب کردہ کتاب کے حوالے سے)

اسلم چشتی پونے ( انڈیا )

عتیق مُظفّر پوری ( پیدائش یکم دسمبر 1954.ء اور وَفات 18 اگست 2015.ء) اپنے کردار،اوصاف اور خدمات کی شفّافیت کی وجہ سے اپنے وقت میں اُردو حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے - آخر کاراکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے 400 صفحات پر مشتمل یہ کتاب " عتیق مُظفّر پوری حیات و خدمات" ان کے لائق فرزند جاوید رحمانی نے مُرتّب کی ہے - رنگین ٹائٹل عمدہ کاغذ بہترین طباعت سے مزین اس کتاب کو دیکھ کر مسرت ہوئی، کتاب چونکہ ضخیم ہے اس لیے مجھے قسط وار پڑھنا پڑا - مطالعہ کے بعد عتیق صاحب کی شخصیت کھُل کر سامنے آئی اور ان کی قلم کاری کے مقصد اور جنون نے مُجھے متاثر کیا - لکھنے کو جی چاہا عنوان ذہن میں آیا "صحافت کو عبادت اور طب کو خدمت سمجھے والے - - - عتیق مُظفّر پوری" مَیں شخصی طور پران سے واقف نہیں تھا اس کتاب نے ان کی حیات اور خدمات سے واقف کروایا جاوید رحمانی صاحب جو مُجھے بہت عزیز ہیں ان کا شکریہ کہ انہوں نے اس کتاب کو مجھ تک پہنچایا اور پڑھوایا - مُرتّب جاوید رحمانی نے انتساب والدین کے نام ایک صفحہ پرکیا ہے اور اظہارِ تشکر کے لیے ایک صفحہ مختص کیا ہے - ان دو صفحات کی اس تحریر میں مُرتّب کے جذبات و خیالات کا اظہار مُرتّب کے اعلیٰ کردار کا ثبوت پیش کرتا ہے - ان کی انکساری بزرگوں کی عزّت کا جذبہ متاثر کیے بناء نہیں رہتا -

اس کتاب کا پہلا باب عتیق صاحب کے ہم عصر ، ہم نشیں ہم خیال مشہور قلم کاروں کے زرّیں خیالات پر مشتمل ہے - جنہیں پڑھ کر عتیق صاحب کی حیات کے کئی گوشے وا ہوتے ہیں جن میں ان کی نجی زندگی کے واقعات بھی ہیں، بیوی بچّوں کا ذکر بھی ہے ، صحافتی کارنامے بھی ہیں ،صحافت سے کم آمدنی کی وجہ سے روز مرہ کی زندگی میں صعوبتیں بھی ہیں ،ہومیوپیتھک کی حکمت اور مریضوں کا ملا معاوضہ علاج کی باتیں بھی ہیں، بیٹے بیٹیوں سے پیار اور تربیت کی باتیں بھی
ہیں -

98 صفحات ڈاکٹر اطہر فاروقی، فاروق ارگلی، ڈاکٹر مشتاق احمد ، اسد رضا ، ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد ، ڈاکٹر سیّد احمد قادری، سراج نقوی ، پروفیسر اسلم جمشید پوری ، محمد عارف اقبال ، متین امروہوی ، جلال الدین اسلم، ڈاکٹر مُظفّر حُسین غزالی ، ظفر انور شکر پوری، اقبال خورشید، ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی، انصاری اطہر حُسین، مُظفّر حُسین سیّد ، جاوید رحمانی، وشوناتھ طاؤس اورپروفیسر شاہد کمال جیسے اہم قلمکاروں کی تحریریں ہیں جو قاری کو متاثر کرتی ہیں اسی باب کے آخر میں پاکستان کے مشہور قلم کار و شاعر شاہد کمال کی نظم عتیق صاحب کے انتقال پُرملال پر ہے جو پُر اثر ہے - اس باب کی تحریروں کے اقتباسات اس اجمالی جائزہ میں ضروری تو نہیں لیکن ممکن نہیں اور پھر مضامین کے ساتھ نا انصافی ہوگی - اس لیے عتیق صاحب کے فرزند جاوید رحمانی کے مفصّل اور اہم مضمون کا ایک چھوٹا سا اقتباس پر اکتفا کیا جا رہا ہے ملاحظہ فرمائیں -

" اور اگر مَیں کہوں کہ والد مرحوم عتیق مُظفّر پوری ایک ایسے انسان تھے جن کا قول و عمل اپنوں اور غیروں یعنی سبھی کے لیے قابلِ تقلید اور قابلِ عمل ہے تو شاید غلط نہ ہو - وہ بحیثیت صحافی ملک و ملّت کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنے شب و روز ایک کیے ہوئے تو تھے ہی بحیثیت شاعر سماج میں در آئی خرابیوں پر بھی ایسی نشتر زنی کرتے رہے جیسے کوئی ڈاکٹر پک جانے والے پھوڑے پر اپنا نشتر چلاتا ہے - چوں کہ وہ خود بھی ایک تجرِبہ کار ڈاکٹر تھے اس لیے انہوں نے جسمانی و روحانی دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا خوب خوب لوہا منوایا، اور اس دارِ فانی سے دارِ بقا کو رخصت ہو گئے لیکن ساتھ ہی ایسی نا قابلِ فراموش یادیں اور باتیں بھی اپنے پیچھے چھوڑ گئے جنہیں کوئی بھی چشم بینا بہ آسانی نظر انداز نہیں کر سکتا "

( ص 91-92، کتاب ہذا، جاوید رحمانی)

دوسرا باب عتیق صاحب کے مضامین کا انتخاب ہے - یہ 39 مضامین ایسے ہیں جن کے موضوعات وقتی ہو کر بھی ہمہ وقتی ہیں - ہمارے ملک عزیز کا ماضی بھی ان میں بولتا ہے اور حال بھی اور صحافی اپنی بیباکی ، صاف گوئی اور سچّائی کو سامنے لاتا ہے - یہ وہی مضامین ہیں جو عتیق صاحب نے " اخبارِ نو" اور دیگر مقامات کے اخباروں کے لیے لکھے تھے اور جن کی پذیرائی بھی ہوئی ہوگی اور بعض مضامین اس پر آواز بن کر گونجے بھی ہوں گے - اس بات کا اندازہ مضامین پڑھتے وقت مُجھے ہُوا - اس طویل باب پر پھیلی ہوئی تحریروں پر اظہار کرنا میرے بس کی بات نہیں - ہاں یہ ضرور کہوں گا ان میں سے کچھ مضامین کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا سکتا ہے اس نوٹ کے ساتھ کہ یہ برسوں پرانے ہیں مگر اب بھی تازہ بہ تازہ ہیں - ان میں کچھ موضوعات آج کے سیاسی، سماجی ،اَدَبی اور صحافتی میدانوں میں سرگرم حضرات کے لیے تازہ ثابت ہو سکتے ہیں - ایسے کچھ خیالات ان مضامین کو پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں اُبھرے - ہو سکتا ہے کچھ لوگ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں، عتیق صاحب کے مضامین کو out of date کہیں ان کی ایسی سوچ سے مجھ جیسا آدمی اتفاق نہیں کر سکتا -

تیسرا باب انٹرویوز کا ہے - اس باب میں اس وقت کے حالات اور مسائل پر سیاسی اصحاب سے بات کی گئی ہے - عتیق صاحب نے جو اہم سوالات قائم کیے ہیں اس کی اہمیت سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا لیکن بہرحال یہ انٹرویوز تاریخ کا حصّہ تو بنتے مگر وقت کے ساتھ معدوم ہو گئے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ایسے انٹرویوز موجودہ زمانے میں دور دور تک نظر نہیں آتے اُردو صحافت میں تو بالکل ہی نہیں -

عتیق صاحب ایک صحافی ہی نہیں شاعِر بھی تھے - ان پر لکھے ہوئے مضامین میں اس کی نشاندہی کی گئی ہے لکھا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کو اپنی آواز بنا کر پیش کیا ہے - یہ آواز اس وقت کے انسان کی آواز تھی - شاعری کا باب جب مطالعے میں آیا تو عقل دنگ رہ گئی کہ ایک فعّال صحافی اپنے اشعار میں اتنے گہرے سنجیدہ مضامین شاعری کے اُصولوں کو ملحوظ رکھ کر کیسے باندھ سکتا ہے نمونتاً کلامِ عتیق حاضر ہے -

(1)
تعبیر اُلٹی بہوتی ہے اُلفت میں خواب کی
عُشّاق کی ازل سے ہی تقدیر ہے یہی
مہنگی ہوئی ہر ایک ضرورت کی چیز جو
اچھّے دنوں کے خواب کی تعبیر ہے یہی

(2)
حُسن کے سارے اشارات بدل جائیں گے
عاشقی کے بھی مقامات بدل جائیں گے
کاش اس سمت کسی نے بھی تو سوچا ہوتا
فلسفے صدیوں کے لمحات بدل جائیں گے

دبایا جا رہا ہے خوبیوں کو
جہالت کی نمائش ہو رہی ہے

ایک ہی فقرے نے سارا جسم چھلنی کر دیا
دھار ایسی طنزیہ الفاظ کے خنجر میں تھی

وقت کی رفتار نے سب کا بدل ڈالا مزاج
شاعری بھی ہو رہی ہے اب نئے عنوان سے

ملت فروش کو کسی ملت سے کیا غرض
اس کو تو ہے غرض میاں اپنی دکان سے

خود کو دنیا سے ہُنر مند سمجھنے والو
گھر سے نکلو تو حقیقت کا پتہ لگتا ہے

میرے گھر کا دیا بجھانے میں
ہاتھ تیرا بھی جل نہ جائے کہیں

ہَوا کے مدِ مقابل چراغ رکھ دینا
مزاج عشق رہا ہے یہ ہر زمانے میں

کتاب کے آخری حصّے میں رنگین فوٹو اہم اہم موقعوں اور اہم شخصیات کے ساتھ عتیق صاحب کا وجود یادوں کو زندگی بخشتا ہے یہ بولتی ہوئی تصویریں عتیق صاحب کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں -

" عتیق مُظفّر پوری حیات و خدمات" ماضی قریب کے ایک سچّے صحافی اور اچھّے انسان کی رودادِ حیات بھی ہے اور نئی نسل کو متحرک رکھنے کا ذریعہ بھی - میرے مخلص دوست جاوید رحمانی قابلِ صد افتخار ہیں کہ ایک طرف وہ اپنی وراثت سنبھالے ہوئے ہیں اور دوسری طرف یہ کتاب شایع کر کے مرحوم والد کے زندہ خیالات کو عام کرنے کا عزم رکھتے ہیں - میری طرف سے عتیق مرحوم کو دعائے مغفرت اور جاوید رحمانی کو اچھّی صحت کے ساتھ طویل عمر کی دعائیں - اللہ تعالیٰ قبول فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین -

Address

NIBM
Pune
411048

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ACFC - Aslam Chishti Friend Circle, Pune posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to ACFC - Aslam Chishti Friend Circle, Pune:

Shortcuts

Share

Category