Sibghatullah

Sibghatullah Sibghatullah Nadvi official Page for gaming

📖 *اسلام اور سائنس کا رشتہ* ✍🏻 *Shadan Nadvi*Publisher:- Sibghatullah Nadwi  اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف روحانی ترقی...
05/07/2025

📖 *اسلام اور سائنس کا رشتہ*
✍🏻 *Shadan Nadvi*
Publisher:- Sibghatullah Nadwi

اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف روحانی ترقی کی دعوت دیتا ہے، بلکہ انسانی عقل، مشاہدہ اور تحقیق کو بھی روشن راستہ دکھاتا ہے۔ قرآنِ کریم کا جب مطالعہ کیا جائے تو جگہ جگہ علم، تدبر، تفکر، اور کائنات کی نشانیوں پر غور کرنے کی تلقین ملتی ہے۔
قرآن کہتا ہے:

"کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، اور جو کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے اُس میں؟"
(سورۃ الاعراف: 185)

اسلام نے سب سے پہلے یہ نظریہ دیا کہ علم صرف دین کی حد تک محدود نہیں، بلکہ کائنات کی ہر چیز میں اللہ کی نشانیاں تلاش کرنا، اسبابِ کائنات کو سمجھنا، اور انسانیت کے فائدے کے لیے تحقیق کرنا بھی عبادت ہے۔

✨ خلافتِ اسلامیہ میں سائنسی ترقی
تاریخ گواہ ہے کہ جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، تب مسلمان سائنسدانوں، فلسفیوں اور مفکرین نے علم و تحقیق کے وہ چراغ جلائے کہ پوری دنیا روشن ہو گئی۔
خلیفہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کے دور میں بیت الحکمت قائم کیا گیا، جہاں یونانی، رومی، ایرانی، ہندی، مصری اور دیگر علوم کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا اور اس پر تحقیق کی گئی۔

فلکیات، طب، ریاضی، کیمیا، فلسفہ، جغرافیہ — ہر میدان میں مسلمان محققین نے حیران کن ایجادات اور نظریات پیش کیے، جن کی بنیاد پر بعد کی دنیا کھڑی ہے۔

✨ اسلام کا سائنسی مزاج
اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ
"علم حاصل کرو، خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔"
علم کی یہ جستجو محض روایتی نہیں بلکہ کائنات کے نظام، انسان کی تخلیق، اور قدرت کے رازوں تک پہنچنے کا راستہ ہے۔
آج کی دنیا جن سائنسی ایجادات پر فخر کرتی ہے، اُن کی بنیادیں صدیوں پہلے مسلمانوں نے رکھ دی تھیں۔
کیمرا، سرجری، الجبرا، الجیبرا، گھڑی، آبزرویٹریز، طبی کتابیں، اور سائنسی تجربہ گاہیں — یہ سب مسلم تہذیب کی دین ہیں۔

✨ آج کا پیغام
اے نوجوانو!
اگر تم چاہتے ہو کہ دنیا پھر تمہارے علم کا لوہا مانے، اگر تم چاہتے ہو کہ کائنات کے راز تمہارے ہاتھوں منکشف ہوں — تو علم و تحقیق کو اپنا شعار بنا لو۔
اپنے اسلاف کی طرح کتاب، قلم، اور خرد کو اپنا ہتھیار بناؤ، کیونکہ یہی وہ راہ ہے جو قوموں کو جہالت سے نکال کر عزت و وقار کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔
آؤ! اپنے دین کے سائنسی ورثے کو پہچانو، اسے اپناؤ، اور دنیا کو ایک بار پھر علم کا تحفہ دو۔

اگر آپ اسلامی تعلیمات، سیاسیات اور سماجیات کے حوالے سے مزید جاننا چاہتے ہیں اور ایک باشعور معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تو ہمارے گروپ میں شامل ہوں۔ یہاں آپ کو مستند معلومات اور تعمیری گفتگو کا موقع ملے گا۔
https://chat.whatsapp.com/Gq2k2BxXQbqESvSSYBlMbt

*آئیے مل کر ایک بہتر مستقبل کی جانب قدم بڑھائیں۔*

16/06/2025

"ایران! خدارا رُک جاؤ ہم ہتھیار ڈال رہے ہیں!"
اسرائیلی افواج کے سپاہی، جو کل تک غزہ، لبنان، شام، اور ایران کو تباہ کرنے کے خواب سجائے بیٹھے تھے آج آنکھوں میں آنسو لیے،، ایرانی افواج سے رحم کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ برائے مہربانی! بس کریں۔ ہم ہار مانتے ہیں!"یہ جملہ کسی فلمی اسکرپٹ کا حصہ نہیں، بلکہ اس وقت ایک حقیقی ویڈیو میں موجود اسرائیلی افسران کی زبان پر کانپتا ہوا سچ ہے، جو کسی وقت دنیا کی "ناقابلِ شکست فوج" کہلاتے تھے۔
اگر آپ اسلامی تعلیمات، سیاسیات اور سماجیات کے حوالے سے مزید جاننا چاہتے ہیں اور ایک باشعور معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تو ہمارے گروپ میں شامل ہوں۔ یہاں آپ کو مستند معلومات اور تعمیری گفتگو کا موقع ملے گا۔
https://chat.whatsapp.com/Gq2k2BxXQbqESvSSYBlMbt

*آئیے مل کر ایک بہتر مستقبل کی جانب قدم بڑھائیں۔*

*بے ہوشی سے باغی تک کا سفر*Writer:- *Shadan_Nadvi*Publisher:- Sibghatullah Nadwi "ذرا غور کیجیے، کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟...
27/05/2025

*بے ہوشی سے باغی تک کا سفر*
Writer:- *Shadan_Nadvi*
Publisher:- Sibghatullah Nadwi

"ذرا غور کیجیے، کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟"
آج دنیا کے ہر گوشے میں:
* موسیقی کی صنعت میں شیطانی علامتیں ہیں۔
* ذرائع ابلاغ میں Islamophobia عام ہے۔
* بینکاری نظام سودی دھوکے پر مبنی ہے۔
* ہر دوسرے دن نئے فیشن اور نئے رجحانات سامنے آتے ہیں۔
* نوجوان نسل کو Rap songs، منشیات اور Netflix میں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے۔
* اپنی تہذیب کو بھلا کر مغربی ثقافت میں دھکیل دیا گیا ہے۔
کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟
نہیں میرے بھائی — یہ ایک منصوبہ بند نظام ہے۔
Illuminati، فری میسنری اور ان کے اشرافیہ کے نیٹ ورک دنیا کی سیاست، معیشت، ذرائع ابلاغ اور تفریح کو کنٹرول کرتے ہیں۔
اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے:
* عقلمند لوگوں کو دبایا جاتا ہے۔
* رہنماؤں کو قتل یا کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
* نوجوانوں کو حرام چیزوں میں الجھا کر دین اور سیاست سے دور کیا جاتا ہے۔
Michael Jackson، Bob Marley,MalcolmX, Gaddafi,
سب اس سسٹم کا شکار بنے۔ —
2008 کا مالیاتی بحران، کووڈ کا عالمی ری سیٹ — سب ایک ہی Elite کے ہاتھ میں ہے، جن کے منصوبے Klaus Schwab کی کتاب "The Great Reset" میں درج ہیں۔
دنیا کے 90 فیصد ذرائع ابلاغ، بینک اور سیاست چند مخصوص خاندانوں اور تنظیموں کے زیرِ اثر ہیں۔
ان کا اصل دشمن صرف اسلام ہے — لیکن وہ صرف مسجد کی حد تک اسلام چاہتے ہیں، سیاست اور نظام سے نہیں۔
اب فیصلہ آپ کا ہے —
کیا آخر تک بے خبر ہو کر جینا ہے؟
یا اپنی تہذیب، دین، سیاست اور حق کی پہچان کرنی ہے؟
ایک بات یاد رکھیے —
"جب آپ ظلم دیکھ کر بھی خاموش رہیں گے، تو ایک دن وہ ظلم آپ تک بھی پہنچے گا۔"
اٹھو، سمجھو، حق کی آواز بنو!
علم حاصل کرو، اپنی تاریخ پڑھو، نظام کو سمجھو — ورنہ تمہیں محض تماشا بنا کر رکھا جائے گا۔

*اگر آپ اسلامی تعلیمات، سیاسیات اور سماجیات کے حوالے سے مزید جاننا چاہتے ہیں اور ایک باشعور معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تو ہمارے گروپ میں شامل ہوں۔ یہاں آپ کو مستند معلومات اور تعمیری گفتگو کا موقع ملے گا۔*
https://chat.whatsapp.com/Gq2k2BxXQbqESvSSYBlMbt

*آئیے مل کر ایک بہتر مستقبل کی جانب قدم بڑھائیں۔*

WhatsApp Group Invite

اگر آپ گالیاں دیتے تو دوچار گالیاں یہ بنانے والے  کے خاطے میں بھی ضرور ڈالیں جس نے امام صاحب کو صدقات و خیرات پر زندگی ب...
29/11/2023

اگر آپ گالیاں دیتے تو دوچار گالیاں یہ بنانے والے کے خاطے میں بھی ضرور ڈالیں جس نے امام صاحب کو صدقات و خیرات پر زندگی بسر کرنے والا انسان سمجھ رکھا ہے۔

16/09/2022

سروے میں پوچھا جائے کہ آپ مدارس میں کیا پڑھاتے ہیں تو اس کا یہ جواب بھی دیا جاسکتا ہے۔ 😄😄
منکول

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یہ مختصر سی تحریر سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے. تمام مسلمان...
07/10/2020

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یہ مختصر سی تحریر سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے. تمام مسلمانوں کو خصوصاً مختلف تحریکوں و جماعتوں سے وابستہ افراد کو حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کی یہ مختصر سی تحریر زبانی یاد کرنی چاہیے بلکہ بطور سبق بار بار یاد دلانا چاہئے

----------------------------------------------------

کسی قوم کے لے سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ وہ صحیح شعور سے خالی ہو، ایک ایسی قوم جو ہر طرح کی صلاحیتیں رکھتی ہو اور دینی و دنیاوی دولتوں سے مالا مال ہو لیکن اس کو نیک و بد کی تمیز نہ ہو، وہ اپنے دوست و دشمن کو نہ پہچانتی ہو، پچھلے تجربوں سے فائدہ اٹھانے کی اس میں صلاحیت نہ ہو، اپنے رہنماؤں اور قائدین کا احتساب کرنے کی اور قومی مجرموں کو سزا دینے کی اس میں جرات نہ ہو، وہ خود غرض رہنماؤں کی چرب زبانی و شیریں کلامی سے مسحور ہو جاتی یو اور ہر مرتبہ نیا دھوکا کھانے کے لیے تیار رہتی ہو، وہ قوم اپنی تمام تر دینی ترقیات اور دنیاوی سرفرازیوں کے ساتھ قابل اعتماد نہیں، وہ پیشہ ور اور خود غرض رہنماؤں اور منافق قائدین کا کھلونا بن جاتی ہے، ان کو قوم کی سادہ لوحی اور بے شعوری کی بنا پر من مانی کارروائیاں کرنے کا موقع ملتا ہے، اور ان کو اس کا اطمینان ہوتا ہے کہ کبھی ان کا محاسبہ اور ان سے بازپرس نہیں کی جائے گی

ماخوذ : انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر

Support to our fb page nd follow this fb for more amazing post . https://www.facebook.com/sibghatullah.nadwi.786"سلطان غ...
02/07/2020

Support to our fb page nd follow this fb for more amazing post .

https://www.facebook.com/sibghatullah.nadwi.786

"سلطان غیاث الدین کے تیر" . . . . . . . . Copied

تمام وزیر میدان میں تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے ۔سلطان غیاث الدین بھی ان کے ساتھ شریک تھا ۔ اچانک سلطان کا نشانہ خطا ہو گیا اور وہ تیر ایک بیوہ عورت کے بچے کو جا لگا۔ اس سے وہ مر گیا۔ سلطان کو پتہ نہ چل سکا۔

وہ عورت قاضی سلطان کی عدالت میں پہنچ گئی۔ قاضی سراج الدین نے عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا:
'' کیا بات ہے ؟ تم کیوں رو رہی ہو؟ "
عورت نے روتے ہوئے سلطان کے خلاف شکایت لکھوائی،
''سلطان کے تیر سے میرا بچہ ہلاک ہو گیا ہے.''
قاضی سراج الدین نے عورت کی بات پوری توجہ سے سنی اور پھر اسی وقت سلطان کے نام خط لکھا:
''آپ کے خلاف شکایت آئی ہے۔ فوراً عدالت میں حاضر ہو جائیں اور اپنے خلاف آنے والی شکایت کا جواب دیں.''
پھر یہ حکم عدالت کے ایک پیادے کو دے کر ہدایت کی:
'' یہ حکم نامہ فوراً سلطان کے پاس لے جاؤ !"
پیادے کو یہ حکم دے کر قاضی سراج الدین نے ایک کَوڑا نکالا اور اپنی گدی کے نیچے چھپا دیا۔ پیادہ جب سلطان کے محل میں پہنچا تو اس دیکھا کہ سلطان کو درباریوں نے گھیر رکھا ہے اور قاضی کا حکم نامی سلطان تک پہنچانا مشکل ہے۔ یہ دیکھ کر پیادہ نے اونچی آواز میں اذان دینا شروع کر دی۔ بے وقت اذان سن کر سلطان نے حکم دیا:
''اذان دینے والے کو میرے سامنے پیش کرو."
پیادے کو سلطان کے سامنے پیش کیا گیا۔ سلطان نے گرج کر پوچھا:
''بے وقت اذان کیوں دے رہے تھے.''
'' قاضی سراج الدین نے آپ کو عدالت میں طلب کیا ہے آپ فوراً میرے ساتھ عدالت چلیں. ''
پیادے نے قاضی صاحب کا حکم نامہ سلطان کو دیتے ہوئے کہا۔ سلطان فوراً اُٹھا۔ ایک چھوٹی سی تلوار اپنی آستین میں چھپا لی ۔ پھر پیادے کے ساتھ عدالت پہنچا۔ قاضی صاحب نے بیٹھے بیٹھے مقتول کی ماں اور سلطان کے بیان باری باری سنے پھر فیصلہ سنایا:
'' غلطی سے ہو جانے والے قتل کی وجہ سے سلطان پر کفارہ اور اس کی برادری پر خون کی دیت آئے گی ۔ ہاں اگر مقتول کی ماں مال کی کچھ مقدار پر راضی ہو جائے تو اس مال کے بدلے سلطان کو چھوڑا جا سکتا ہے ''۔
سلطان نے لڑکے کی ماں کو بہت سے مال پر راضی کر لیا پھر قاضی سے کہا :
'' میں نے لڑکے کی ماں کو مال پر راضی کر لیا ہے ''
قاضی نے عورت سے پوچھا :
'' کیا آپ راضی ہو گئیں.''
'' جی ہاں میں راضی ہو گئی ہوں ''
عورت نے قاضی کو جواب دیا ۔

اب قاضی اپنی جگہ سے سلطان کی تعظیم کے لیے اٹھے اور انھیں اپنی جگہ پر بٹھایا۔ سلطان نے بغل سے تلوار نکال کر قاضی سراج الدین کو دکھاتے ہوئے کہا:
'' اگر آپ میری ذرا سی بھی رعایت کرتے تو میں اس تلوار سے آپ کی گردن اڑا دیتا.
'' قاضی نے بھی اپنی گدی کے نیچے سے کَوڑا نکال کر سلطان غیاث الدین کو دکھاتے ہوئے کہا:
'' اور اگر آپ شریعت کا حکم ماننے سے ذرا بھی ہچکچاتے تو میں اس کَوڑے سے آپ کی خبر لیتا۔ بےشک یہ ہم دونوں کا امتحان تھا.''

❤ ایسے بھی حکمران تھے اور ایسے عادل منصفین تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو ایسے عادل جج اور نیک حکمران عطا فرمائے ..‼

نبأ وفاة علم من أعلام العالم الإسلامي شيخي ومجيزي في الحديثأيّها الإخوة الأفاضل، و الأخوات الفضليات، بقلوب مؤمنة، و كبود...
19/05/2020

نبأ وفاة علم من أعلام العالم الإسلامي شيخي ومجيزي في الحديث

أيّها الإخوة الأفاضل، و الأخوات الفضليات، بقلوب مؤمنة، و كبود ملتهبة، و دموع منسكبة، و آهات متوالية، و أنّات متتابعة، ننعى إليكم علما من أعلام الأسلامية شيخ المحديثين و مشيخة الحديث بأزهر الهند الجامعة الإسلامية دار العلوم بديوبند، مسند الهند، العلامة الجليل، الفقيه الأصولي، المتفنن، جامع المعقول والمنقول، الأستاذ الإمام الشيخ سعيد أحمد بن يوسف بن علي البالنبوري تغمد الله برحمته.
توخّاه الموت صبيحةَ يوم الثلاثاء، ٢٦ من رمضان المبارك ١٤٤١هـ، الموافق ١٩ أيار ٢٠٢٠م قبل حوالي عشرين دقيقة
بمدينة ممبائي عن عمر يناهز الثمانين، أفناه في العلم و العمل و نشر مفاهيم الدين الصحيحة ظلّ يسخو بعلمه إلى أن أقعده المرض و توالت عليه الأمراض و اصطلحت إلى أن أنجزت فيه المنيّة البارحة ليلة القدر.
اللهم أجرنا في مصيبتنا، واخلفنا فيها. إن العين لتدمع، وإن القلبَ ليخشع، ولا نقول إلا ما يرضي ربنا!

وُلِدَ الشيخ البالنبوري رحمه الله في نحو 1360هـ الموافق 1940م بقرية "كاليره" بمديرية بانس كانتها" بولاية "غوجرات" الشمالية و"بالنبور" هي بلدة من أعمال هذه المديرية.
وقرأ الشيخ البالنبوري رحمه الله القرآن الكريم في الكتّاب بقريته "كليره" وهو في الخامسة من عمره، حيث تَلَقَّى مبادئ القراءة وأنهى قراءةَ القرآن الكريم وتعلّم الأردية والكجراتية ثم قرأ الفارسية في مدرسة دارالعلوم بمدينة "جهابي" والتحق بمدرسة في مدينة "بالنبور" حيث اجتاز المرحلةَ الابتدائيةَ والمتوسطةَ، ثم التحق بجامعة مظاهر علوم بمدينة "سهارنبور" حيث اجتاز المرحلةَ الثانويةَ و المرحلة العالية ماكثًا فيها ثلاث سنوات وتَلَقَّى الدراسةَ العليا في الحديث والتفسير والفقه وما يتعلّق بذلك من العلوم في الجامعة الإسلاميةِ دارالعلوم / ديوبند التي انتسب إليها عام 1380هـ / 1961م . وتَخَرَّجَ منها عالماً مُؤَهَّلاً عام 1382هـ / 1962م . حائزًا على الدرجة الأولى ثم التحق بالجامعة بقسم الإفتاء، وتَدَرَّبَ فيه على استخراج المسائل والإجابة عن الاستفتاءات، صادرًا عن المقرَّرات الدراسيّة المُخَصَّصَة لهذا القسم ، وتحت إشراف كبار رجال الإفتاء البارعين من ذوي العلم والفهم والصلاح وذلك خلال العامين 1382 – 1384هـ = 1963-1964م . ونظرًا لمؤهلاته العلمية الفائقة انْتُخِبَ من قبل الجامعة "مفتيًا مساعدًا" بهذا القسم.
ثم عُيِّنَ أستاذًا للدراسات العليا في شوال 1384هـ الموافق يناير 1965م في دارالعلوم الأشرفية بمدينة "راندير" الملاصقة لمدينة "سورت" الشهيرة بولاية "غوجرات" . حيث وَاصَلَ تدريسَ كتب الحديث والفقه والعقائد عبر (9) تسع سنوات متتاليات، وعُنِيَ إلى جانب ذلك بالتأليف والكتابة في موضوعات دينية شتى، مُوَظِّفًا أوقاتَ فرصه في الأعمال الجديّة .
وفي رجب 1393هـ عَيَّنَه مجلسُ الشورى لدارالعلوم / ديوبند أستاذاً بها ، وبَاشَرَ فيها مَهَامَّ التدريس ابتداءً من شوال 1393هـ = أكتوبر 1973م ، ولا مازال يقوم بها عن جدارة وأهلية مشكورتين من قبل الطلاب والأساتذة والمسؤولين حتى وفاته. وبما أن الله عزّ وجل وَهَبَه ذاكرةً قوية وقوةَ عارضةٍ وقدرةً على عرض المسائل العلمية والمواد الدراسيّة مُبَسَّطَة مُسَهَّلَة مرتبة يسهل إساغتها وتلقيها؛ كما أنه كان متقنا للعلوم الشرعية والمتفرعة منها، ولا يحضر الفصول الدراسيّة إلاّ بعد تحضير مطلوب مُسَبَّق؛ فيهتم الطلاب اهتمامًا بالغًا بحضوركل درس يلقيه في الحديث أو الفقه أو غيرهما من الفنون. كما كان له لسان سلسال في الخطابة والوعظ.
وقد عَيَّنه المجلس التنفيذي للجامعة الإسلاميّة دارالعلوم/ ديوبند في اجتماعه المنعقد يوم الأحد: 10/جمادى الثانية 1429هـ الموافق 15/ يونيو 2008م رئيسَ هيئة التدريس و ولاّه إلى جانب ذلك منصب شيخ الحديث إثر استقالة الشيخ نصير أحمد خان / حفظه الله عن المنصب لأمراضه الناشئة عن شيخوخته .
مشائخه:
قال الشيخ البالنبوري رحمه الله : قرت صحيح البخاري على فخر المحدثین مولانا فخرالدین المرادآباد يؒ، ومقدمة مسلم وکتاب الایمان و الجامع الترمذي على العلامة بلیاويؒ وما بقي من صحيح مسلم بعد كتاب الإيمان على مولانا بشیر احمد خاں بلند شہريؒ الجامع الترمذي من بعد أبواب الأطعمة مع کتاب العلل و الشمائل و سنن أبي داؤد على العلامة فخرالحسن مرادآباديؒ، و سنن النسائي على مولانا محمد ظہور الديوبنديؒ وشرح معاني الآثار للطحاويؒ على المفتی السید مہدي حسن شاہ جہاں پوريؒ و مشکوٰۃ المصابيح للخطيب التبريزي على مولانا السید حسن صاحبؒ دیوبنديؒ وعلى مولانا عبدالجلیل صاحبؒ دیوبنديؒ و ما بعد كتاب النكاح على مولانا اسلام الحق صاحبؒ الأعظميؒ و موطا مالک على حکیم الإسلام القاري محمد طیب مؤسس دار العلوم(الوقف) وعلى موطا محمد مولانا عبد الاحد صاحب دیوبنديؒ (من كتاب مشاہیر محدثین و فقہائے کرام ص/۲۷و۲۸ )
مُؤَلَّفَاته :
1- هداية القرآن تفسير القرآن الكريم باللغة الأردية إلى 15 جزءًا. 2- تعريب الفوز الكبير للإمام الدهلوي. 3- العون الكبير شرح بالعربية للفوز الكبير. 4- فيض المنعم شرح بالأردية، لمقدمة صحيح مسلم . 5- تحفة الدرر شرح بالعربية لنخبة الفكر. 6- مبادئ الفلسلفة شرح بالعربية للمصطلحات الفلسفية . 7- معين الفلسفة شرح بالأردية لمبادئ الفلسفة . 8- مفتاح التهذيب شرح بالأردية لتهذيب المنطق للعلامة التفتازاني رحمه الله. 9- المنطق السهل، تسهيل بالأردية للكتاب "تيسير المنطق" بالأرديـة. 10- النحو السهل في جزئين كتاب دراسي بالأردية للطلاب المبتدئين. 11- الصرف السهل في جزئين كتاب دراسي بالأردية مدرج في المقررات الـدراسية في شتى المدارس بالهند . 12- محفوظات (ثلاثة أجزاء) مجموع آيات وأحاديث لتحفيظ الطلاب. 13- كيف ينبغي أن تفتي ؟ شرح بالأردية لكتاب "شرح عقود رسم المفتي" للعلامة محمد أمين بن عـابــدين الشامي. 14- هل الفاتحة واجبة على المقتدي ؟ شرح بالأرديـة لكتاب "توثيق الكلام" للإمام محمد قاسم النانوتوي مؤسس جامعة ديوبند. 15- حياة الإمام أبي داؤد بالأردية. 16- مشاهير المحدثين والفقهاء ورواة كتب الحديث ، ترجمة موجزة بالأردية لكبار أعلام الأئمة ، مما يحتاج إليه الطلاب والمدرسون. 17- حياة الإمام الطحـاوي بالأردية. 18- الإسلام في العالم المتغير مجموع مقالات بالأردية قدمت إلى بعض المؤتمرات الإسلامية. 19- اللحية وسنن الأنبياء، رسالة بالأردية. 20- حرمة المصاهرة، رسالة بالأردية. 21- تسهيل الأدلة الكاملة، شرح بالأردية لكتاب شيخ الهند محمود حسن الديوبندي "الأدلة الكاملة" . 22- إفادات الإمام النانوتوي ، مجموع مقالات بالأردية حول أفكار الإمام محمد قاسم النانوتوي مؤسس جامعة ديوبند ، ونشرتها في حينها مجلة "الفرقان" الأردية لصاحبها الشيخ محمد منظور النعماني رحمه الله. 23- الإفادات الرشيدية، مجموع مقالات بالأردية يتضمن دراسة لعلوم الشيخ رشيد أحمد الكنكوهي رحمه الله ، نشرتها في حينها مجلة "دارالعلوم" الأردية . 24- رحمة الله الواسعة ، وهو شرح بالأردية لكتاب "حجة الله البالغة". 25- تهذيب المغني ، شرح بالأردية لكتاب "المغني" في أسماء الرجال لصاحبه العلامة محمد بن طاهر الفتني الهندي. 26- زبدة الطحاوي اختصار بالعربية لكتاب "معاني الآثار" للإمام الطحاوي رحمه الله. 27 – "تحفة الألمعي في شرح جامع الترمذي" وهو هذا الشرح الذي تحدّثتُ عنه في السطور الماضية. اسفدت في ترجمة الشيخ مما كتبه فريد الباجي.
سمعت منه الجامع الصحيح للإمام البخاري قبل المغازي عام 2014/2015م حينما كنت طالبا في دار العلوم بديوبند كان شيخنا -رحمه الله- يقرأ علينا صحيح البخاري ويشرحه شرحا وافيا وفي نهاية العام الدراسي حينما خلص الشيخ رحمه الله من الجامع الصحيح قبل المغازي أجاز لنا إجازة عامة لجميع مروياته جزاه الله عنا خير الجزاء جعلها في ميزان حسناته.
وعند الشيخ من الاطلاع الواسع، والمعرفة التامة، والمكتبة الواسعة العامرة بغرائب المصنفات، وعجائب المؤلفات، وقد اطلع الشيخ عليها اطلاعا تاما، مع ما تهيأ له من مصادر المعرفة، والثقافة المتشعبة، والفكر المعاصر، والفلسفة، والمناهج الفكرية المختلفة، على نحو قلَّ أن يتهيأ أو يجتمع لأحد. ولقد انتفعت بعلمه وعقله وسمته، وتفقهت به.
وكان رحمه الله يأتي إلى الجامعة حوالي الساعة العاشرة والنصف صباحا فيجلس نحواً من ساعتين فصاعدا، فيلتحق طلاب العلم من الأقطار المختلفة، حتى يمتلئ بهم دار الحديث ثم يشرع الشيخ يقوم بقراءة مجلس الحديث.
ولقد كان -رضي الله عنه- من الألمعية، وحدة الذهن، وشدة الذكاء، وقوة المُدرك بالمحل الأعلى، وكم تفتق ذهنه عن ابتكار بحوث عجيبة، أو دراسة عدد من البحوث المشهورة من وجهة جديدة، فكان يأتي في ذلك بالومضات الدالة على صفاء ذهن، وإدراكٍ لنسق الشرع الشريف في بناء العلوم والمعارف.
فالرجاء ممّن ترامى إليه هذا النّبأ أن يجأر إلى الله أن يتغمّده بالرُّحمى، و يرزقه السُّكنى في الفردوس الأعلى.

محمد سرفراز الندوي ثم القاسمي
طالب الدراسات العليا بجامعة الأزهر بالقاهرة مصر المحروسۃ

https://www.facebook.com/sibghatullah.nadwi.786

07/05/2020

Address

Nagina

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sibghatullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Sibghatullah:

Shortcuts

Share

Category