Syed Mehdi Hassan Razvi

Syed Mehdi Hassan Razvi Official Page Of Syed Mehdi Hassan Razvi
(Author of Four Kashmiri Books)
زَمزٔمۍشہجار ، اشہِ روٗد ، فُراتٕکۍآلو ،ناگہٕ راد بَٹھِ پؠٹھ

02/07/2026

عزادار... باعثِ فخر یا باعثِ ندامت؟محرم آتے ہی دنیا بھر میں امام حسینؑ کے چاہنے والے سیاہ لباس پہنتے ہیں، مجالس برپا کرت...
29/06/2026

عزادار... باعثِ فخر یا باعثِ ندامت؟

محرم آتے ہی دنیا بھر میں امام حسینؑ کے چاہنے والے سیاہ لباس پہنتے ہیں، مجالس برپا کرتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں اور اپنے مولا کی مظلومیت پر اشک بہاتے ہیں۔ یہ سب محبتِ حسینؑ کی علامتیں ہیں اور یقیناً عظیم عبادت بھی ہیں۔ لیکن ایک سوال ہر عزادار کو اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا میں صرف نام کا عزادار ہوں یا واقعی کردار کا بھی عزادار ہوں؟

امام حسینؑ نے کربلا میں اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے اصحاب کی قربانی صرف اس لیے نہیں دی تھی کہ لوگ ان کی شہادت پر آنسو بہائیں، بلکہ اس لیے دی تھی کہ دینِ خدا زندہ رہے، حق باقی رہے اور باطل بے نقاب ہو جائے۔ یزید صرف ایک شخص کا نام نہیں تھا بلکہ ایک فکر کا نام تھا؛ ایسی فکر جو دین کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا چاہتی تھی۔ زبان پر اسلام تھا لیکن عمل میں ظلم، شراب، فسق و فجور اور احکامِ الٰہی کی مخالفت تھی۔

امام حسینؑ نے اسی باطل نظام کے خلاف قیام کیا۔ اگر آج کوئی شخص خود کو حسینی کہتا ہے لیکن ساتھ ہی نشہ آور چیزوں کا عادی ہے، جوا کھیلتا ہے، لوگوں کا حق مارتا ہے، جھوٹ بولتا ہے یا دوسروں کو تکلیف پہنچاتا ہے تو اسے رک کر سوچنا چاہیے کہ وہ کس راستے پر چل رہا ہے۔ نام حسینؑ کا لینا آسان ہے لیکن حسینؑ کے راستے پر چلنا مشکل ہے۔

آج کل بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چند دن عزاداری کر لینے سے تمام ذمہ داریاں پوری ہو جاتی ہیں۔ محرم میں ماتم بھی ہوگا، مجلس بھی ہوگی، لیکن باقی سال نماز میں سستی، زبان پر گالیاں، معاملات میں دھوکہ اور زندگی میں گناہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ دین ہے جس کے لیے امام حسینؑ نے قربانی دی تھی؟ اگر ہمارا عمل یزیدی صفات سے بھرا ہوا ہو تو صرف حسینؑ کا نام لینے سے ہم حسینی نہیں بن جاتے۔

ذرا سوچئے، جب ایک عزادار بازار میں، سڑک پر یا سوشل میڈیا پر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو اسے صرف شیعہ نہیں دیکھتے، غیر شیعہ اور غیر مسلم بھی اسے دیکھتے ہیں۔ وہ عزادار کے کردار سے حسینؑ کے پیغام کو پہچانتے ہیں۔ اگر عزادار دیانت دار، بااخلاق، سچا اور نیک کردار ہوگا تو لوگ کہیں گے کہ واقعی حسینؑ کا پیغام انسان کو بہتر بناتا ہے۔ لیکن اگر وہی عزادار جھوٹا، بدزبان، نشہ کا عادی یا دوسروں کا حق مارنے والا ہو تو لوگ اس کے عمل کو دیکھ کر عزاداری پر بھی سوال اٹھائیں گے۔

ہم اکثر حضرت زہراؑ کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہمارے اعمال اہلِ بیتؑ کو خوش بھی کرتے ہیں یا نہیں؟ ایک طرف ہم مجالس میں بیٹھ کر اہلِ بیتؑ کی عظمت بیان کرتے ہیں اور دوسری طرف انہی تعلیمات کے خلاف زندگی گزارتے ہیں۔ اگر زبان پر محبتِ حسینؑ ہو لیکن عمل میں نافرمانی ہو تو یہ محبت اپنے مقصد کو پورا نہیں کرتی۔

عزاداری اپنے اندر کے یزید کو پہچاننے اور اسے ختم کرنے کا نام ہے۔

ہر عزادار کو اپنے دل سے چند سوال پوچھنے چاہئیں:

کیا میں نماز کا پابند ہوں؟

کیا میرے کاروبار اور معاملات میں دیانت داری ہے؟

کیا میں کسی کا حق تو نہیں کھا رہا؟

کیا میرے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ ہیں؟

کیا میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کر رہا ہوں؟

کیا میری زندگی دیکھ کر لوگ حسینؑ کو یاد کرتے ہیں یا صرف میرا تضاد دیکھتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ عزاداری صرف سینہ زنی اور آنسوؤں کا نام نہیں۔ عزاداری ایک عہد ہے کہ ہم ظلم کے مقابلے میں حق کا ساتھ دیں گے، گناہ کے مقابلے میں تقویٰ کو اختیار کریں گے اور اپنے کردار کو ایسا بنائیں گے کہ امام حسینؑ کے نام کی عزت میں اضافہ ہو، کمی نہ آئے۔

قیامت کے دن شاید ہم سے یہ نہ پوچھا جائے کہ تم نے کتنے جلوسوں میں شرکت کی، بلکہ یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ جس حسینؑ کے لیے تم روتے تھے، کیا تم نے اس کے راستے پر چلنے کی کوشش بھی کی تھی؟

لہٰذا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ ہماری عزاداری باعثِ فخر ہے یا باعثِ ندامت۔ ہم امام حسینؑ کے نام کو سربلند کر رہے ہیں یا اپنے اعمال سے اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگر ہمارا کردار حسینی بن گیا تو ہماری عزاداری کامیاب ہے، اور اگر کردار نہ بدلا تو صرف دعوے باقی رہ جائیں گے۔

خدا ہمیں ایسا عزادار بنائے جس پر امام حسینؑ، حضرت زہراؑ اور رسولِ خداؐ فخر کریں، نہ کہ ایسا جس کے اعمال ان کے نام پر دھبہ بن جائیں۔

24/06/2026

ذاکرِ اہلِ بیت جناب محمد جعفر ملک صاحب، احمد پورہ

موصوف کے پاس کشمیری مرثیوں کے متعدد مضامین کے اوزان محفوظ ہیں، اور اپنی شیرین و پُراثر زبان کے ذریعے ان مرثیوں کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کا اندازِ خواندگی سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے.....
خدا عمر نوح عطا کرے آمین

ذاکرِ اہلِ بیت جناب محمد جعفر ملک صاحب، احمد پورہموصوف کے پاس کشمیری مرثیوں کے متعدد مضامین کے اوزان محفوظ ہیں، اور اپنی...
24/06/2026

ذاکرِ اہلِ بیت جناب محمد جعفر ملک صاحب، احمد پورہ

موصوف کے پاس کشمیری مرثیوں کے متعدد مضامین کے اوزان محفوظ ہیں، اور اپنی شیرین و پُراثر زبان کے ذریعے ان مرثیوں کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کا اندازِ خواندگی سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے.....
خدا عمر نوح عطا کرے آمین

22/06/2026

فقیر کُس گوو ؟

22/06/2026

وۄنی ہَے مرٕ ہا خدا کر کرِ ژلہنم نۄمہ ارسرو
Zakir Syed Mehdi Hassan Razvi

السلام علیک یا ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام
22/06/2026

السلام علیک یا ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام

21/06/2026

Part 1

20/06/2026

Grateful to Hussaini Welfare Organisation, Hassanabad, Srinagar, for honouring me with a Certificate of Appreciation for writing a Noha dedicated to Imam Hussain (A.S.).

May Allah accept this humble service and bless all efforts made in the cause of Karbala.

Labbaik Ya Hussain (A.S.)

Address

Baramulla
Srinagar
193401

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Mehdi Hassan Razvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category