مشکبار فرحت بخش تحریریں

مشکبار فرحت بخش تحریریں یہ پیج حیرت انگیز دینی واخلاقی واصلاحی باتیں لوگوں تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے

14/10/2025
پیکر تسلیم و رضا وادی منیٰ میںکچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بیوی بچے کو دیکھنے اور خیریت معلومکرنے کی غرض سے تشر...
17/08/2025

پیکر تسلیم و رضا وادی منیٰ میں
کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بیوی بچے کو دیکھنے اور خیریت معلوم
کرنے کی غرض سے تشریف لائے تو یہ دیکھ کر آپ کو بے پناہ خوشی ہوئی کہ بے آب و
گیاہ وادی میں جگہ جگہ سبزہ اگا ہوا ہے، چشمہ جاری ہے، پانی کی کوئی کمی نہیں، اور تو
اور ویرانہ بھی آباد ہوتا جا رہا ہے۔ ننھے اسماعیل بھی اب ماں کے ساتھ بھاگ دوڑ
کرنے اور کام کاج میں تھوڑا بہت ہاتھ بٹانے کے قابل ہو گئے ہیں۔ آپ نے
اللہ کا شکر ادا کیا۔ بچے کو گلے لگایا، پیار کیا اور واپس لوٹ گئے۔
کچھ عرصہ بعد جب پھر تشریف لائے تو حضرت اسماعیل جوانی کی سرحد
میں داخل ہو رہے تھے۔ بڑھاپے میں دعائیں مانگ مانگ کر بے پناہ تمناؤں اور
التجاؤں کے بعد جو بیٹا قدرت نے انھیں عطا فر مایا تھا وہ انتہائی شکیل جمیل ہونے کے
ساتھ نہایت ہی پاکیزہ سیرت کا حامل اور خوش اخلاق تھا۔ بوڑھے باپ کو اسے پھلتے
پھولتے دیکھ کر جس قدر خوشی ہوئی ہوگی اس کا اندازہ خود اُس کے سوا کون لگا سکتا ہے۔
چند ہی دنوں میں سعادت مند بیٹے کی اطاعت شعاری اور فرمانبرداری نے
ماں باپ کو ایسا گرویدہ بنا لیا کہ دم بھر کے لئے جدائی گوارہ نہ ہوتی تھی کہتے ہیں کہ
جس کے رہتے ہیں سوا اُس کو سوا مشکل ہے
حضرت
ابراہیم خلیل
اللہ کی یہی والہانہ شیفتگی ایک اور آزمائش کا پیش خیمہ
بن گئی۔ سرگوشیاں شروع ہو گئیں کہ اللہ کے خلیل بیٹے کی طرف کچھ زیادہ ہی مائل
ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح دوست کی دوستی پر جب حرف آنے لگا تو قدرت نے
اس جہمت بے جاسے اپنے قبیل کا دامن داغدار ہونے سے بچانے کا فیصلہ کر لیا۔ اب
اس حقیقت کو آشکار کر دینا ضروری ہو گیا کہ خلیل خلت کے جس مقام رفیع پر فائز ہیں
وہاں صرف رضائے دوست کی حکمرانی ہے۔ درمیان میں کسی رشتے کے حائل ہونے
کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
چنانچہ خواب میں حکم ہوتا ہے پیارے خلیل اپنی عزیز ترین چیز (اور وہ بیٹے
کے سوا اور کیا چیز ہوسکتی ہے )
ہماری راہ میں قربان کرو۔ تو بغیر کسی پس و پیش کے
پکار اٹھتے ہیں ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّیک۔ حاضر ہوں میرے مولا حاضر ہوں۔
لیکن معاملہ صرف اُن کے اکیلے کا نہیں تھا بلکہ اسی ایک حکم میں مستقبل کے
ہونے والے ایک عظیم پیغمبر کا بھی امتحان مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے عزم و
استقلال اور جزیئہ فدا کاری پر مکمل اعتماد کے باوجود آپ کے لئے یہ خیال باعث
تشویش رہا کہ آیا اسماعیل بھی اس کے لئے آمادہ ہو جائے گا یا نہیں۔ کیونکہ وہی
تو ہے جو میرے نزدیک دنیا بھر سے زیادہ عزیز و پیارا ہے۔ اور قربانی اُسی کی مطلوب
ہے۔ یہ سوچ کر مشورہ آپ نے اپنے لخت جگر سے خواب کا تذکرہ کرتے ہوئے
فرمایا۔
يبْنَى أَنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ انّي أَذْبَحُكَ
فَانظُرُ مَا ذَاتَرَىٰ.
بیٹے۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ تم کو ذبح کر رہا
ہوں بھلا بتاؤ تو اس بارے میں تمھاری کیا رائے ہے۔
قَالَ يَابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُ نِي إِنْشَاءَ اللَّهُ مِنَ
الصَّبِرِينَ پاره ۲۳ سوره الصفت آیت نمبر ۱۰۲
سعید بیٹے نے سنتے ہی سر تسلیم خم کرتے ہوئے عرض کیا ابا
جان یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے یہ تو میری خوش بختی کی
معراج ہے۔ (آپ حکم الہی کی تعمیل کیجئے مجھے انشاء اللہ
صابر و شاکر پائیں گے ) اطمنان رکھئے میرے پائے
ثبات میں لغزش نہیں پیدا ہوگی ۔
اس حوصلہ افزا جواب سے حضرت ابراہیم کو بے پناہ مسرت ہوئی ۔
آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے بھر آئیں۔ آگے بڑھ کر ہو نہار بیٹے کو گلے لگا لیتے
ہیں ۔ کہ بیٹا! تم نے رگوں میں گردش کرنے والے خون ابراہیمی کی لاج رکھ لی
مولائے کریم تم پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دے۔
حضرت اسماعیل کی قربانی اور ذبح عظیم
اور پھر منی کی وادی میں وہ انوکھا اور عظیم واقعہ رونما ہوا جس کی مثال دنیا کی
تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک نوے ۹۰ سالہ بوڑھا باپ آستین چڑھائے ، ہاتھ میں
چھری لئے اپنے اُس محبوب ترین لخت جگر کو ذبح کرنے کے لئے آگے بڑھ رہا تھا جو
اُس کی سالہا سال کی دعائے نیم شمی کا ثمرہ ، عصائے پیری، اور خاندانِ نبوت کا
چشم و چراغ تھا۔ اور تاجدار صبر و تحمل ، پیکر تسلیم ورضا ، اطاعت شعار بیٹا اپنی
ارجمندی پر نازاں پورے سکون و اطمنان کے ساتھ گردو پیش سے بے نیاز جلد سے
جلد اپنی منزل مراد تک پہنچنے کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا
چلا جاتا ہے دیوانہ کسی کا
نظر پھیرے ہوئے دونوں جہاں سے
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے باپ نے بیٹے کی گردن پر چھری پھیر دی ۔
آسمانوں میں ہل چل مچ گئی، فرشتے انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے، زمیں والے
حیرت میں پڑ گئے ، دشت و جبل کانپ اٹھے۔ دفعتہ لکوم رحمت میں تموج پیدا ہوا
اور عالم قدس سے آواز آئی۔ ابراہیم بس، بس رک جاؤ، تم نے خواب کو سچ کر
دکھایا۔ ہم اپنے دوستوں اور نیک بندوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں ۔ بلا شبہ یہ
ایک عظیم الشان اور کھلا ہوا جانثاری وفاداری کا امتحان تھا۔ اور اس امتحان میں تم
دونوں کامیاب (1) ہو گئے۔ کامیابی تمھیں مبارک ہو۔
وَنَادَيْنَهُ أَنْ يَابْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الْرُؤيَا إِنَّا كَذَلِكَ
نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ، إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلو الْمُبِينُ .
وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ، وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ .
سلْمٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، پاره ۲۳ سور و الملف آیت نمبر ۱۰۹۲۱۰۴
اور ہم نے آواز دی اے ابراہیم تم نے خواب کو سچ کر دکھایا
ہم ( نیک کام کرنے والے) محسنوں کو ایسا ہی بدلہ دیا
کرتے ہیں ۔ بے شک یہ ایک بہت ہی عظیم اور )
کھلی ہوئی آزمائش تھی ۔ اور ذبح اسماعیل کے فدیہ میں
ایک عظیم قربانی دے کر اُسے بچا لیا۔ اور اس بے مثال
قربانی کو ابراہیمی سنت کی یادگار میں آنے والی نسلوں
امت مسلمہ) کے لئے رہتی دنیا تک جاری رہنے والا
دستور بنا دیا۔ پس سلام ہو راہِ الہی میں اتنی عظیم قربانی دینے
والے ابراہیم پر۔
جو کام جذب شوق میں دیوانے کر گئے
وہ زندگی عشق کے دستور بن گئے
چونکہ اسلام کی یہی وہ حقیقت ہے جس پر ملت ابراہیمی کا سنگ بنیا د رکھا
جانے والا تھا۔ اس لئے قدم قدم پر حضرت ابراہیم کے توسط سے یہ حقیقت دنیا پر
آشکار کی جاتی رہی کیونکہ یہی مطلوب و مقصود فطرت ہے ۔
إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ
پاره ۱ سورة البقرہ آپ نمبر اس
جب بندہ نواز مالک نے کہا اے
ابراہیم مسلم اور فرمانبردار
بن جاؤ۔ تو بے چون و چرا پکار اٹھتے ہیں کہ میں فرمانبردار
بن گیا رب العالمین کا ۔
اور پھر اس حقیقت کو اپنے اوپر کچھ اس طرح طاری و ساری کر لیتے اور ایسے مسلم و
فرمانبردار بن جاتے ہیں کہ اُن کا پورا وجود یکسر پیکر اسلام اور اُن کا ہر عمل صدائے
اسلام بن جاتا ہے۔ کڑی سے کڑی سختیاں جھیلتے رہے، وطن سے بے وطن
ہوئے، گھر بار چھوٹا ، آگ میں جھونکے گئے ، اہل وعیال کی جدائی برداشت کی ۔
لیکن آزمائش کے ان تمام خطر ناک و ہمت شکن مراحل میں کہیں بھی آپ کے ارادوں
میں خونوان پیدا ہوا نہ پائے ثبات میں لغزش پیدا ہوئی۔ بلکہ اپنے رب کے ہر حکم کی
تعمیل میں جس بے مثال صبر وشکل اور عزم واستقلال کا مظاہرہ کیا وہ آپ کے مسلم
ہونے کی بنین اور نا قابل تردید شہادت ہے جس پر خود رب کائنات نے مہر تصدیق
ثبت فرمادی۔
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِمَ رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَأَتَمَّهُنَّ ، قَالَ إِنِّي
جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَا مَا ، قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي ، قَالَ
لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ ، پاره ۱ سوره بقرة آیت نمبر ۱۲۴
جب کچھ باتوں میں ابراہیم کو اُن کے رب نے آزمایا اور
انھوں نے اسے پورا کر دکھایا (
ہر آزمائش میں ثابت قدم
رہے)
تو اعلان فرما دیا کہ اے ابراہیم اب ہم تم کو لوگوں کا
امام و مقتدی)
بنائیں گے۔ عرض کیا میرے مولی
میری اولاد کو بھی یہ منصب عطا ہو۔ فرمایا میرا عہد
(
وعدہ)
ظالموں کے لئے نہیں ہوگا۔

مرد مومن اپنے کردار کے آئینے میں
سکی ہے وہ مقام تسلیم و رضا اور جذبہ اخلاص و وفا جو ملت حنیفی کے ہر
پیروکار اور مدعی اسلام سے مطلوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مومن کے لئے اس کارگر
حیات میں ہر لمحے ابتلا و آزمائش کے کٹھن مرحلوں سے گزرنا ناگزیر امر ہے۔ حالات
کتنے ہی سنگین و تا ساز گار کیوں نہ ہوں راہ حق میں پیش آنے والی تمام صعوبتوں اور
سختیوں کا خندہ پیشانی کے ساتھ مقابلہ کرنا ، ہمت و جرات اور صبر و قتل کے ساتھ
ثابت قدم رہنا بندہ مومن کی کامیابی و سرفرازی کی معراج اور مالک حقیقی سے
عہد و پیمان عبودیت سے عہدہ برا ہونے کا نشان ہے۔
الحاد و بے دینی اور خوف و ہراس کی گمراہ کن تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی اور آن
گفت پیچ وخم میں الجھی ہوئی راہ حیات کے ہر مسافر کے لئے حضرت ابراہیم و اسماعیل
کی ذات منارہ نور اور اُن کی زندگی جو سراسر اتلاد آزمائش ہی سے عبارت ہے مشعل
راہ ہے۔ ملاحظہ ہوار شاد قرآنی ۔
قُل صَدَقَ اللهُ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفاً، وَمَا
كَانَ مِنَ الْمُشْرِكين پاره ۲ سوره ال عمران آپ نمبر 1
آپ کہہ دیجئے کہ اللہ سچا ہے تم سب ملت ابراہیم کی
پیروی کرو کہ وہ (موجد تھے) مشرک نہ تھے اور
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَا هِيْمَ وَالَّذِيْنَ
پاره ۲۸ سوره مخته آید نمبر ۴
بیشک تمھارے لئے بہترین نمونہ عمل ہے حضرت ابراہیم
اور اُن کے ساتھیوں کے اعمال زندگی میں۔
یہ ہے ایک مرد مومن اور بچے مسلم کی صحیح تصویر اپنے فکر و خیال اور عمل
وکردار کے آئینے میں ۔
آج تاریخ ہم سے پوچھ رہی ہے کہ اے اسلام کا دعوی کرنے والو کیا
تمھارے
کردار و عمل میں بھی اس جرات و ہمت، صبر وقتل، جذبہ ایثار وقربان، حق گوئی
و بے با کی اور پاس ایمان ویقین کا کوئی عصر موجود ہے؟
بتوں سے تجھکو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
خوش فہمی و خود فریبی اگر مہلت دے تو زندگی کے شب و روز میں ہمیں اس
سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیئے، ورنہ دنیا ہمارا تمسخر اڑانے
میں حق بجانب ہوگی۔
دل میں ہزار بت ہیں نظر میں ہزار بت
حالت بتا رہی ہے مسلماں نہیں ہیں ہم

{سیدہ ہاجرہ کنیز تھیں یا شاہزادی}بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ہاجرہ فرعون کی نہیں بلکہ قبطی قومکے ایک بادشاہ کی صا...
16/08/2025

{سیدہ ہاجرہ کنیز تھیں یا شاہزادی}
بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ہاجرہ فرعون کی نہیں بلکہ قبطی قوم
کے ایک بادشاہ کی صاحبزادی تھیں جو فرعون سے پہلے مصر کا حکمران تھا جب کہ بعض
سیرت نگاروں کا خیال ہے کہ حضرت ہاجرہ رقیون شاہ مصر کی صاحبزادی تھیں جو بابل
کا رہنے والا تھا۔ افلاس و تنگ دستی سے مجبور ہو کر مصر آ گیا تھا۔ ذہانت و فطانت
اور ذاتی قابلیت کی بنا پر ارکین سلطنت میں شامل ہو گیا اور پھر رفتہ رفتہ بادشاہ بن
بیٹھا۔ بہر حال تصریحات و تفصیلات میں اختلاف کے باوجود اس میں کوئی دورائے
نہیں کہ حضرت ہاجرہ شاہزادی تھیں۔
اب رہی یہ بات کہ کچھ لوگوں کا بالخصوص یہودیوں کا اس بات پر شدید
اصرار ہے کہ حضرت ہاجرہ لونڈی تھیں اور حضرت اسماعیل (معاذ اللہ ) لونڈی زادے
تھے، تو یہ سراسر جھوٹ ، ان کی گندی اور متعصبانہ ذہنیت کی پیداوار ہے۔ حتی کہ خود
ان کی اپنی ہی تاریخ نہ صرف یہ کہ ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہے بلکہ پورے طور پر اس
کی واضح الفاظ میں تردید کرتی نظر آرہی ہے۔ تفصیل کے لئے مولینا غلام رسول
چہ یا کوئی کی کتاب براہین باھرہ فی حریتہ ھاجرہ کا مطالعہ فرمائیں فی الحال باقتضاء
مقام اُس کا ایک اقتباس بلا تبصرہ پیش خدمت ہے جسے ہم نے رحمتہ اللعالمین جلد دوم
سے لیا ہے۔ ملاحظہ ہو قاضی صاحب فرماتے ہیں۔
یہودیوں کے زبر دست مفسر تو راۃ ربی شلومو الحق نے
باب ۱۶ کتاب پیدائش کی تفسیر میں حضرت ہاجرہ کی بابت
مندرجہ ذیل الفاظ تحریر کئے ہیں ۔
آبتَ بَرَعَةَ هَا بَنَّا كَشَّر نَسيَّم شَغِسُّو اسَارَةَ اممو
اطَابَ شِتْهَا بَتِي شَفْحَه بَيْتِ زِهِ وَ لَوْ كَبِيرَهُ بَيْتَ
اخير (براہین باہره فی حرمینہ ہاجرہ ) ۔
وہ فرعون
کی بیٹی تھی جب اُس نے کرامات کو دیکھا جو بوجہ
سارۃ واقع ہوئی تھیں تو کہا کہ میری بیٹی کا اُس کے گھر میں
خادمہ ہو کر رہنا دوسرے گھر میں ملکہ ہو کر رہنے سے بہتر
ہے۔
اس شہادت سے صاف ظاہر ہو گیا کہ (۱) ہاجرہ شاہ مصر
کی دختر تھیں اور (۲) شاہ مصر پر حضرت سارہ کی عظمت
اس قدر طاری ہوگئی تھی کہ اس نے اپنی بیٹی کو بطور خادمہ ان
کے ساتھ کر دینا اپنے اور اپنے خاندان کے لئے فخر وعزت
کا باعث سمجھا۔ مبارک ہے سارہ خاتون جس کی خدمت کو
بادشاہ کی بیٹی نے اپنی عزت جانا، مبارک ہے ہاجرہ
خاتون جس کی تربیت ابتدائے عمر ہی سے خلیل الرحمن
علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر میں ہوئی ۔ ربی شلومو مفسرِ
تو راۃ کی مندرجہ بالا شہادت کے بعد کسی تفصیل کی ضرورت
باقی نہیں رہتی ۔ (رحمتہ اللعالمین جلد دوم صفحه ۴۶-۴۵)
بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت ہاجرہ کو کنیز اور لونڈی کہنا یہود ہوں
کی حاسدانہ جہالت اور مستشرقین متعصبین کی ہرزہ سرائی کے سوا کچھ نہیں ۔
رضائے الہی کے طلبگار وادی غیر ذی زرع میں
آزمائش کا ایک دور ابھی ختم ہی ہوا تھا کہ دوسرے امتحان کا اعلان کر دیا جاتا
ہے۔ وہی نور نظر جو مدتوں کی تمناؤں ، التجاؤں اور دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں ملا
تھا قدرت نے اس پارہ جگر کو ایک نئی آزمائش کا وسیلہ بنا دیا۔ حکم ہوتا ہے۔ ابراہیم؟
اپنی بیوی ہاجرہ اور بیٹے اسماعیل کو لے جاؤ اور وطن سے دور بہت دور حجاز کی بے آب
و گیاه بنجر زمین (وادی غیر ذی زرع) میں چھوڑ آؤ ۔ پیکر تسلیم و رضا حضرت
ابراہیم خلیل اللہ سر نیاز جھکاتے ہوئے عرض کرتے ہیں میرے مولی مجھے تو بس تیری
رضا در کار ہے۔ تیری مرضی یہی ہے تو مجھے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ فوراً اٹھے دودھ
پیتے معصوم بچے کو گود میں اور چہیتی بیوی کو ساتھ لیکر چل پڑتے ہیں ۔ رضائے الہی کا
طلبگار گرمی کی شدت۔ لو کے تھپیڑے آگ برساتی ہوئی بدن کو جھلسا دینے والی
صحرائی ہواؤں میں سفر کرتے ہوئے یک گونہ لذت محسوس کر رہا تھا۔ ایک طویل
سفر طے کرنے کے بعد جب آپ وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ وادی
میں بولوں کی جھاڑیوں کے سوا زندگی کے کہیں کوئی آثار نظر نہیں آتے سنسان
جنگل، ہو کا عالم اور ہر طرف موت کا سناٹا ۔ انسان تو کیا چرند و پرند تک کا کہیں کوئی
اتہ پتہ نہیں ہے۔ کیا یہی وہ جگہ ہے جس کی نشاندہی کی گئی ہے؟
آواز آئی ۔ ہاں، میرے خلیل، یہی وہ جگہ ہے جسے ہم نے تمھارے
نور نظر اسماعیل کی راجدھانی کے لئے ازل سے ہی منتخب کر رکھا ہے۔ اب تم اپنی بیوی
اور بچے کو اسی غیر آباد کھنڈرات میں چھوڑ کر واپس چلے آؤ۔ اطمنان رکھو ہمارے سپرد
کی ہوئی امانت ضائع نہیں ہوتی۔ حضرت ابراہیم پانی کا ایک مشکیزہ اور کچھ کھجور ہیں
حضرت ہاجرہ کے حوالے کرتے ہوئے بچے کو پیار کرتے ہیں اور واپس چل
پڑتے ہیں۔
حضرت ہاجرہ حیران ہیں ابراہیم کا یہ بدلا ہوا انداز سمجھنے سے قاصر تھیں ۔
نگاه پاس ذرا تو ہی کام کر اپنا
کہاں وہ چھوڑ کے جاتے ہیں بے قرار مجھے
چند قدم آگے بڑھ کر آواز دیتی ہیں۔ ابراہیم؟ اِلىٰ مَنْ تَكِلُنَا۔ میرے
سرتاج اتنا تو بتا دیں اس خشک بیاباں اور سنسان وادی میں یکہ و تنہا ہمیں کس کے
سہارے چھوڑے جا رہے ہیں ؟ قَالَ إِلى اللهِ آپ نے فرمایا اُسی رب العالمین
کے سہارے جس نے یہ حکم دیا ہے۔ حضرت ہاجرہ یہ جواب سن کر مطمئن ہو جاتی ہیں
اور عرض کرتی ہیں ۔ رَضِيتُ بِ اللهِ ـ إذاً لا يُضِيعُنَا - تب تو کوئی فکر کی
بات نہیں ہم اپنے پروردگار کی مشیت پر راضی اور مطمئن ہیں وہ ہمیں
ضائع نہیں ہونے دے گا۔ (1)
چشمہ زمزم کا ظہور
حضرت
ابراہیم واپس چلے گئے اور حضرت ہاجرہ بچے کو کلیجے سے لگائے
اس ویرانے میں تنہا رہ گئیں نہ کوئی غمگسار نہ چارہ گر مختصر سے سامان زندگی کو ختم ہوتے
دیر نہ لگی۔ پانی کا مشکیزہ خالی ہو گیا۔ کھجوریں ختم ہو گئیں۔ بھوک اور پیاس سے
معصوم شیر خوار اور ماں دونوں پریشان ہو گئے۔ جان پر بن آئی۔ ننھی سی کلی کھلنے
سے پہلے ہی مرجھائی جارہی تھی۔ موت و حیات کی کمکش میں مبتلا پارو جگر کی پیچی
نگاہیں ماں کے سوگوار چہرے پر تلی ہوئی تھیں۔ حالت انتہائی سنگین ہوتی جارہی تھی۔
در دو کرب کی یہ کیفیت ماں سے دیکھی نہ گئی تو بچے کو زمین پر لٹایا اور خود پانی کی تلاش
میں دوڑ پڑیں ۔ پہاڑیوں کے دامن میں دیوانہ وار چکر لگاتی رہیں لیکن پانی کا کوئی
سراغ نہ ملا۔ البتہ ایک غیبی آواز نے ڈھارس بندھائی۔ کوئی کہہ رہا تھا۔ ہاجرہ،
اندیشہ نہ کرو واپس لوٹ جاؤ ۔ اطمینا رکھو اپنے خلیل کی امانت کی حفاظت و صیانت
ہمارے ذمہ کرم پر ہے، آج کے بعد اس وادی کے باسیوں
کو کبھی پیاس نہیں ستائے
گی۔ حضرت ہاجرہ لوٹ آتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ ننھے اسماعیل کے قدموں کے نیچے
جہاں ایڑیوں کی رگڑ پڑ رہی تھی اب ایک صاف وشفاف چشمہ جاری ہو چکا ہے۔
پانی غذا کی بھر پور توانائیوں سے مالا مال تھا۔ اب یہی پانی پیاس بجھانے کے ساتھ
غذا کا بھی کام دیتا تھا۔ یہی وہ چشمہ ہے جو زمزم کے نام سے مشہور ہوا اور آج بھی
بیت اللہ کے قریب ہی ایک کنویں کی شکل میں موجود ہے۔
اور ویرانہ آباد ہوتا گیا
کچھ عرصہ حضرت ہاجرہ نے یکہ ونہا اپنے معصوم بچے کے ساتھ گذارا تھا کہ
قدرت نے اُن کی دل بستگی کا انتظام فرمادیا۔
بنو جرہم کا ایک قافلہ ملک شام کی طرف جاتے ہوئے جب اس طرف سے
گذرا تو پہاڑوں اور جھاڑیوں میں انھیں پرندوں کے کچھ جھنڈ نظر آئے جس سے
انھیں خیال ہوا کہ یہاں قریب میں کہیں نہ کہیں پانی ضرور ہو گا۔ آگے بڑھے اور
پہاڑی پر چڑھ کے ادھر اُدھر نظر دوڑائی پانی تو کہیں نظر نہ آیا البتہ دور وادی میں اکیلی
گود میں شیر خوار بچہ لئے ہوئے ایک عورت ضرور نظر آئی اب تو پورا یقین ہو گیا کہ
دور و نزدیک کہیں نہ کہیں پانی ضرور ہے۔ پہاڑی سے اترے قریب پہنچے تو دیکھا کہ
واقعی یہاں ایک چشمہ جاری ہے۔ دامن دل کھنچنے لگا جیسے کوئی ان دیکھی قوت آگے
بڑھنے سے روک رہی تھی ۔ چنانچہ قافلے والوں نے عورت (حضرت ہاجرہ) سے
درخواست کی کہ اگر اجازت ہو تو ہم یہاں آباد ہونا چاہتے ہیں ۔ حضرت ہاجرہ خود
بھی مسلسل تنہائی سے اکتاہٹ محسوس کر رہی تھیں اسے قدرت کا انعام سمجھ کر بخوشی
اجازت دے دیتی ہیں ۔
اس وادی میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے بعد یہ پہلا قافلہ تھا
جو آباد ہوا۔ اس سے پہلے یہاں
کسی قسم کی کوئی آبادی نہ تھی ایک لق و دق صحرا تھا یا پھر
بولوں کی جھاڑیاں اور جنگلی خود رو پودے تھے۔ رفتہ رفتہ گردو نواح سے قافلے آتے
رہے اور آباد ہوتے رہے۔ اس طرح آبادی میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہا یہاں
تک کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے وصال (۱) کے وقت تک ایک پورا شہر آباد
ہو چکا تھا۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یہی وہ مقدس شہر ہے جو مکہ مکرمہ کے نام سے مشہور ہوا، اور آج کم و بیش
ایک ارب پچیس کروڑ انسانوں کا قبلہ ہے۔ واللہ ۔ اطاعت شعاری و جاں سپاری کا
کتنا عظیم و حسین انعام ملا کہ چند وفاشعار دیوانے چلتے چلتے جہاں ٹھہر گئے زمانے کا
قبلہ قرار دے دیا گیا۔
خلوص دل سے سجدہ ہو تو اُس سجدے کا کیا کہنا
و ہیں کعبہ سرک آئے جبیں میں نے جہاں رکھ دی

{{ابوالانبیاء}}سیدنا ابراہیم علیہ السلامتقریباً ساڑھے چار ہزار برس پہلے کی بات ہے جب کوفہ و بصرہ کے درمیانیعلاقہ کے ایک ...
15/08/2025

{{ابوالانبیاء}}
سیدنا ابراہیم علیہ السلام
تقریباً ساڑھے چار ہزار برس پہلے کی بات ہے جب کوفہ و بصرہ کے درمیانی
علاقہ کے ایک شہر از (ur) میں سامی قبیلے کے ایک عالی خاندان میں حضرت سیدنا
ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اس وقت بابل کے وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ
نمرود تھا۔ جو انتہائی ظالم و سرکش حکومت کے نشے میں بدمست خدائی کا دعویدار بنا
ہوا تھا۔ پوری قوم بت پرست اور مشرک تھی۔ نمرود ان کے اس مشرکانہ مذہب کا
سر پرست ہونے کے ساتھ ان کا معبود بھی تھا۔ اسی جابر و قاہر بادشاہ کے
دور استبداد اور شرک و بت پرستی کے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد و ہدایت کے لئے
سید نا ابراہیم علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ آپ نے اپنی قوم کو بہتیر سمجھایا کہ ان بے بس
اور بے اختیار اپنے ہی ہاتھوں تراشے ہوئے لکڑیوں اور پتھروں کے بے جان بتوں کو
چھوڑو۔ میری بات مانو ۔ آؤ اس کی عبادت و پرستش کرو جو ہم سب کا پیدا کرنے والا
اور روزی دینے والا معبود برحق ہے۔ حی و قیوم پروردگار کو چھوڑ کر ان بے بس اور مجبور
پتھروں کی پرستش شرف انسانیت کی پیشانی پر ذلت ورسوائی کا داغ ہے۔

غم حیات سے تم کو نجات کیا دیں گے
جو بے ثبات ہیں خود وہ ثبات کیا دیں گے
پیغمبرانه اند از تبلیغ و طرز استدلال اتنا مئوثر اور واضح تھا کہ حقیقت دل کے
روزن پر دستک دیتی ہوئی محسوس ہونے لگی اور پھر اقرار کے سوا کوئی چارہ نہ رہ گیا سر
جھک گئے ۔ کہنے لگے ابراہیم تم تو جانتے ہو کہ یہ پتھر کے بے جان صنم عاجز ہیں بول
نہیں سکتے ۔ باطل کی شکست و ریخت کے اس منظر کو قرآن نے ہمیشہ کے لئے اپنے
دامن میں محفوظ کر لیا ہے۔
ثُمَّ نُكِسُو عَلَى رُوْسِهِمْ لَقَدْ عَلِمُمْتَ مَا هَؤُلَاءِ
يَنطِقُونَ پاره ۷ سوره انبیاء آیه نمبر ۶۵
سروں کو جھکا کر کہنے لگے اے ابراہیم آپ جانتے ہیں کہ
یہ بول نہیں سکتے ۔
خلیل اللہ دہکتے ہوئے انگاروں میں
لیکن اس اقرار کے باوجود بت پرستی چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے ۔ ادھر
نمرود نے دیکھا کہ مبادا قوم ابراہیم کی باتوں میں آجائے اور میری خدائی خطرے
میں پڑ جائے اس لئے بتوں کے نام کی دہائی دیگر پوری قوم کو برانگیختہ کر کے حضرت
ابراہیم کے خلاف کھڑا کر دیا اور خود ان کی جان لینے کا انتہائی خطرناک منصوبہ تیار کر
لیا۔ حکم دیا لکڑیاں اکٹھا کر وآگ کا زبردست الاؤ تیار کرو اور ابراہیم کو بھڑکتے ہوئے
الله
شعلوں کے حوالے کر دو۔ چنانچہ آگ بھڑ کا دی گئی اور جب شعلے آسمان سے باتیں
کرنے لگے تو اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نبیق ( گوپھن ) کے ذریعہ ان
بھڑکتے ہوئے شعلوں کے حوالے کر دیا۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک چالیس ۴۰ یا
پچاس ۵۰ سال کی تھی۔ البدایہ والنہار جلد اول صفحہ
لیکن وہ قوت قاہرہ جس نے حضرت نوح علیہ السلام کو طوفانی لہروں میں گم
ہونے سے بچا لیا تھا۔ اپنے خلیل پر لپکتے ہوئے شعلوں میں کوئی آنچ نہ آنے دی بلکہ
دہکتے ہوئے انگارے گلزار بن گئے اور باطل کا غرور خاک میں مل گیا مگر برا ہو بدبختی کا
کہ اتنا عظیم الشان نشان صداقت دیکھنے کے بعد بھی نہ تو قوم بت پرستی سے باز آئی نہ
ہی نمرود کی سرکشی میں کوئی فرق آیا۔
وطن سے ہجرت
جب اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا یہاں تک کہ حق و صداقت کی
راہ میں ثابت قدم رہنا انتہائی مشکل ہو گیا تو حضرت ابراہیم ہجرت کر کے کسی ایسی
جگہ کی تلاش میں نکل پڑے جہاں آزادی کی فضا میں یک سو ہو کر اپنے رب کی عبادت
وریاضت کر کے طمانیت قلب و جگر حاصل کر سکیں۔ آپ کی پہلی منزل فلسطین تھی جہاں
کچھ دنوں قیام پذیر رہ کر پھر رخت سفر باندھا اور اپنی شریک حیات حضرت سارہ کو
ساتھ لے کر چل پڑے۔
اب آپ کی دوسری منزل مصر تھی اس وقت یہاں کا حکمراں آپ ہی کا ہم
نسل سامی خاندان کا علوان ابن سنان یا سفیان ابن علوان نامی ایک شخص تھا۔ انتہائی
بد باطن و عیاش اور ظالم جو مصر کا پہلا فرعون مشہور ہوا۔ حضرت ابراہیم کے دورانِ قیام
کسی طرح اس کو اطلاع ملتی ہے کہ ایک مسافر کہیں سے آکر ہمارے شہر میں مقیم ہے
اور اس کے ساتھ ایک حسین و جمیل خاتون بھی ہے۔ تو اس نے حضرت سارہ کو کل میں
طلب کیا قاصد کو دیکھتے ہی حضرت سارہ کی نسوانی حس بیدار ہو جاتی ہے اور آنے
والے طوفان کے تصور سے لرز کر رہ جاتی ہیں کہ عورت کی عصمت ہی اس کی متاع
زیست اور سرمایہ حیات ہوتی ہے۔ اور اب وہی خطرے میں نظر آ رہی تھی آنکھوں
سے آنسو کی جھڑی لگ گئی اور پھر رقت و اخلاص میں ڈوبی ہوئی ایک پر سوز آواز فضا
میں ابھرتی ہے۔
میرے رحیم و کریم مولی میری فریاد سن لے مجھے اپنی پناہ میں
لے لے اور اس ظالم و سرکش بادشاہ کے شر سے بچالے
دعا کے فوراً بعد اضطرابی کیفیت دور ہو جاتی ہے اور چہرے پر طمانیت و
سکون کی ایک نورانی لہر دوڑ جاتی ہے۔ جیسے کسی غیبی آواز نے دل کے جھرونکھوں پر
دستک دے کر یقین دلا دیا ہو کہ اطمینان رکھو ہمارے کرم پر بھروسہ کرنے والے
کبھی
مایوس و نامراد نہیں ہوتے۔ چنانچہ حضرت سارہ پورے وقار و متانت کے ساتھ قاصد
کے ہمراہ شاہی محل میں حاضر ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی نظر جیسے ہی اس حسین و پاکیزہ
پیکر جمیل پر پڑی تو اس کے اندر کے شیطان نے انگڑائی لی۔ طاقت و حکومت کے
نشے میں چور بدمست جھومتا ہوا اٹھا۔ آگے بڑھا۔ اور دست درازی کا ابھی ارادہ
ہی کیا تھا کہ اچانک پاؤں تھر تھرائے بدن پر لرزہ طاری ہوا تو ازن برقرار نہ رکھ سکا، اور
زمیں پر گر کر تڑپنے لگا۔ ہاتھ پاؤں بے جان ومفلوج ہو گئے۔ اپنی اس نا گفتہ بہ
حالت کو دیکھ کر گھبرا اٹھا۔ ہوش و حواس گم اور سارانشہ ہرن ہو گیا موت کا بھیانک چہرہ
دیکھتے ہی خدا یاد آ گیا۔ دل ہی دل میں اپنے کئے پر شرمسار اور اس ارادہ بد سے
تائب ہو کر ایک مجرم فریادی کی طرح التجائیں کرنے لگا
سارہ! خدا کے لئے مجھے معاف کر دو اور میرے لئے خدا
سے دعا کرو کہ مجھے اچھا کر دے میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ
پھر کبھی ایسی جرات نہیں کروں گا
اور پھر امید و بیم کی حالت میں ملتجی نگا ہیں حضرت سارہ کے پر سکون چہرے
پر جم گئیں ۔ حضرت سارہ اس کی التجا د نہ کر سکیں دعا کے لئے ہاتھ اٹھ گئے عرض کیا۔
اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ صَادِقاً فَاطْلِقُ يَدَهُ اے میرے علیم و
خبیر مولی اگر یہ سچ کہتا ہے تو اسے معاف فرمادے میں بھی
اسے معاف کرتی ہوں
دیکھتے ہی دیکھتے پہلی حالت لوٹ آئی ساری تکلیفیں دور ہو گئیں۔ ہاتھ
پاؤں بھی درست ہو گئے ۔
فرعون حضرت سیدہ سارہ کی اس کرامت سے بے حد متاثر ہوا۔ اُس پر یہ
حقیقت آشکار ہوگئی کہ یہ خاندان انتہائی برگزیدہ اور بارگاہِ خداوندی کا مقبول ترین
خاندان ہے۔ اس لئے اب اُسے اپنے اس قدیم خاندان سے مدتوں کے ٹوٹے
ہوئے رشتے کو دوبارہ استوار کرنے کی خواہش بیدار ہو گئی۔ اور چاہا کہ اس
سامی النسل خاتون سے رشتہ ازدواج قائم ہو جائے کہ اس مقصد کے حصول کا نہیں
بہتر اور مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ مگر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ محترم خاتون شادی
شدہ حضرت
ابراہیم کی بیوی ہیں تو کف افسوس ملکر رہ گیا اور اپنی اس دلی آرزو کی تکمیل
کی خاطر اپنی بیٹی کو اس خاندان میں دینے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ مقصد تو اس برگزیدہ
خاندان سے رشتہ اور تعلق قائم کرتا ہے سو وہ یوں بھی بطریق احسن حاصل ہو جائے گا۔
مصر کی شاہ زادی حضرت ابراہیم کی خدمت میں
چنانچہ حضرت سارہ کو رخصت کرتے ہوئے بہت سے تحفے تحائف کے
ساتھ اپنی بیٹی حاجرہ کو بھی آپ کی خدمت میں یہ کہتے ہوئے پیش کر دیتا ہے کہ محترم
خاتون میری بیٹی کا آپ کے گھر میں خادمہ بن کر رہنا دوسرے گھر میں ملکہ بن کر رہنے
سے ہزار درجہ بہتر ہے۔
الغرض اس طرح پورے عزت و احترام کے ساتھ حضرت سارہ محل سے
رخصت ہو کر نصرت الہی کی ٹھنڈی چھاؤں میں چلتی ہوئی خوشی خوشی اپنے شوہر حضرت
ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہو گئیں اور عرض کیا میرے سرتاج مبارک ہو میرے مولی
نے میری فریاد کی لاج رکھ لی۔ نصرت الہی نے دشمن کی دسترس سے بچا لیا اور نہ
صرف بچالیا بلکہ ایک حسین انعام سے بھی سرفراز فرمایا ہے۔ یہ دیکھئے بادشاہ نے اپنی
چہیتی بیٹی ہاجرہ کو بطور خادمہ ہمارے حوالے کر دیا ہے۔
حضرت ابراہیم اس عطیہ ربانی پر سجدہ شکر ادا کرتے ہیں کہ ابتلا و آزمائش
کا ایک دور اور کامیابی کے ساتھ ختم ہوا۔
مَنْ يُتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ پاره ۲۸ سوره الطلاق آیه نمبر ۳
جو بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ (دونو جہان میں ) اس کیلئے کافی ہے
وقت گزرتا رہا زندگی رفتہ رفتہ معمول پر آتی گئی ۔ اب اس چھوٹے سے
خاندان میں ایک خادمہ کا بھی اضافہ ہو چکا تھا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد حضرت
سارہ ہاجرہ کو حضرت ابراہیم کے نام ہبہ کر دیتی ہیں کہ شاید انھیں کے بطن سے اللہ
تعالی ہمیں اولاد کی نعمت سے سرفراز فرما دے ( 1 ) ۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ
السلام نے ایک شاہ زادی کو اپنی خادمہ اور لونڈی بنا کر رکھنا گوارہ نہ فرمایا۔ اس لئے
حضرت ہاجرہ کو اپنے حبالہ عقد میں لیتے ہوئے اپنی شریک حیات بنالیتے ہیں۔
یہی شاہزادی حضرت ہاجرہ ہیں جنکے مبارک و مسعود بطن پاک سے اللہ
تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل جیسا پہلا اور اکلوتا فرزند
عطا فرمایا ( ۲ ) اور پھر ۱۳ سال کے بعد حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق
پیدا ہوئے۔

ممتار العلماعلامہ ممتاز احمد اشرف القادری مبارکپوری دار العلوم اشرفیہ کے ابنائے قدیم میں کئی تشخصاتکے حامل ہیں اس عظیم ا...
14/08/2025

ممتار العلما
علامہ ممتاز احمد اشرف القادری مبارکپوری دار العلوم اشرفیہ کے ابنائے قدیم میں کئی تشخصات
کے حامل ہیں اس عظیم ادارے سے آپ کا تین پشتوں کا تعلق ہے۔ والد ماجد جناب حافظ عبد العلیم
صاحب مرحوم اشرفیہ (شاخ سکٹھی ) کے مدرس تھے اور ولد اعز عزیزم مختار احمد علیگ جامعہ اشرفیہ کی
مجلس شوری کے معزز رکن ہیں۔ مصباحی برادران میں آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے تبلیغ وارشاد کا
مرکز ملک نصاری برطانیہ عظمی کو بنایا جہاں آپ پاکستانی علما علامہ نشتر صاحب اور مولانا عبدالوہاب
صاحب مرحوم کی رفاقت میں تحریک اسلامی کی ایک معروف تنظیم سے منسلک ہوئے ۔ پھر چند
مہینوں کے بعد جب رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری برطانیہ تشریف لے گئے تو آپ نے
حضرت علامہ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
علامہ اشرف القادری حضور حافظ ملت کے ارشد تلامذہ میں ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں جب دارالعلوم
اشرفیہ ایک عظیم بحران سے دو چار تھا، آپ کی مخلصانہ جدو جہد سے اس پر بہت جلد قابو پالیا گیا۔
۲۰ دسمبر ۲۰۰۹ء کو ہم دونوں جامعہ اشرفیہ کی لان میں بیٹھے ہوئے تھے، صدر العلما حضرت علامہ
محمد احمد مصباحی صاحب بالقالبہ ، صدرالمدرسین جامعہ ، ملاقات کے لئے تشریف لائے اثناء گفتگو
انھوں نے ہم سے فرمایا ” آپ دونوں نہ ہوتے تو حافظ ملت ۱۹۷۱ء میں بلرام پور جاچکے ہوتے۔
زیر نظر کتاب ” اسلام منزل بہ منزل کا میں نے متفرق مقامات سے مطالعہ کیا، زبان سلیس
اور عام فہم ہے مضمون اتنا وسیع اور طبائع کے لئے موزوں ہے کہ بس لکھتے جائیے۔
اللہ تعالیٰ اس
کتاب کو مصنف شہیر کے لئے ذریعہ مغفرت بنائے ۔ آمین
( شرر مصباحی مبارکپوری)

پیش لفظ
اے برق گلستاں میں نشیمن تھے اور بھی
کیوں میرے آشیاں پہ ہی تیری نظر پڑی
آج مسلم قوم ایک ایسے دور سے گذر رہی ہے جسے استبدادی دور کہنا زیادہ
صحیح اور درست ہوگا۔ یہ دور لٹیروں اور غارت گروں کا دور ہے۔ پورے ماحول پر
وحشت و درندگی کا راج ہے۔ انسانی ضمیر کے سارے حصار منہدم ہوتے جا رہے
ہیں ۔ تباہی و بربادی کا ایک سیلاب عظیم ہے جو بڑی تیزی سے عالم اسلام کی طرف
بڑھ رہا ہے۔ زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود مسلمانوں پر تنگ ہوتی جارہی ہے۔
معلوم دنیا کا کوئی گوشہ نہیں جس کے دامن میں اس قوم کو عافیت کی چند سانسیں میسر
ہوں ۔ آنے والا ہر دن کسی نہ کسی قیامت خیز تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ سامراجی اور
صیہونی طاقتیں انتہائی ہوشیاری اور چابک دستی کے ساتھ حالات کو ایسے رخ پر
موڑنے میں شب و روز سرگرم ہیں ۔ جس سے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے ختم یا کم از کم
سیاسی و معاشی لحاظ سے ایسا مفلوج کر دیا جائے کہ پھر کبھی سنبھل نہ سکیں ۔ اور ہمارے
دست نگرین بن کر رہ جائیں۔
سوال یہ ہے کہ وہ ملت بیضا جس کی اقبال مندی کا ستارہ کل تک

عظمت و رفعت کے بلند ترین افق پر چمک رہا تھا اگر آج ذلت و نکبت اور عبرت کا
نشان بن گئی ہے تو کیوں؟
جواب یہ ہے کہ علاوہ دیگر بہت سی وجوہات کے سب سے بڑی اور بنیادی
وجہ ہے اسلام سے بیزاری وفرار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی وہ مایوسی جو
مصائب و آلام کا ہجوم دیکھ کر دلوں میں گھر کر گئی ہے۔ جبتک یہ صورتِ حال باقی ہے
حالات میں تبدیلی ممکن نہیں ۔ شقاوتوں اور ہلاکتوں کی یلغار سے نجات کی صرف یہی
ایک راہ ہے کہ کسی طرح مایوسیوں کا حصار ٹوٹے اور دلوں میں امید کی شمع روشن ہو ۔
اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں ماضی کی کوتاہیوں سے تو بہ کر کے اپنے مالک حقیقی
کے آستانے پر جھکنا ۔ اور پورے اخلاص کے ساتھ اس سے اپنا رشتہ مربوط و مضبوط
کرنا ہوگا۔ یہیں سے ہمارے دلوں میں امید کی وہ کرن پھوٹے گی جس کے سہارے
دنیا بھر کی ظلمتوں اور تاریکیوں کا سینہ چیرتے ہوئے ایک بار پھر ہم اپنے روشن مستقبل
کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
زیر نظر کتاب میں ہم نے واقعات سیرت پر اسی رخ سے غور کرنے اور
سوچنے کا ذہن دینے کی کوشش کی ہے تا کہ قارئین پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ
حق و باطل کا یہ تصادم نہ تو تاریخ کا کوئی پہلا حادثہ ہے اور نہ ہی فرزندانِ توحید کے
لئے ابتلا و آزمائش کا کوئی نیا واقعہ ۔ پھر دل شکنی اور مایوسی کیوں؟
بجھی ہے شمع مسلم بارہا پھر جگمگائی ہے
یہ تارا ٹوٹ جاتا ہے درخشانی نہیں جاتی

چودہ سو برس سے ہمارے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا جواب ہو رہا ہے یہ اور بات
ہے کہ ماضی میں جب بھی اور جہاں بھی ہم سے ٹکرانے کی کوشش کی تو دشمنوں کو منہ کی
کھانی پڑی کیوں کہ ہمارے ارد گر د اسلام کا وہ آہنی حصار تھا جس کے تصور سے باطل
کو پسینہ آجاتا تھا
مگر آج ہمیں اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیئے کہ حریف پیہم
جد و جہد اور مکروفریب سے کام لیکر ہماری صفوں سے کچھ ضمیر فروش مفاد پرستوں کو
خریدنے اور پھر انھیں کے ذریعہ مسلمانوں کو اعتدال پسندی اور روشن خیالی کا جھانسہ
دے کر اس آہنی حصار سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گیا جس کا نتیجہ سامنے ہے۔ اس
طرح اپنوں ہی کی خودغرضانہ پالیسیوں اور ناعاقبت اندیشیوں کی وجہ سے آج پورا
عالم اسلام مغربی بھیڑیوں کی شکار گاہ بن گیا ہے۔
دیکھا جو تیر کھائے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
اشرف القادری مبارکپوری

.*فرائض کی ادئیگی*ایک مستری کی کام سے بیزاری اور اکتاہٹ اپنی انتہاء پر تھی. اس سے پہلے کہ کوئی بدمزگی پیدا ہوتی، اس نے ٹ...
07/08/2025

.
*فرائض کی ادئیگی*
ایک مستری کی کام سے بیزاری اور اکتاہٹ اپنی انتہاء پر تھی. اس سے پہلے کہ کوئی بدمزگی پیدا ہوتی، اس نے ٹھیکیدار کو جا کر اپنا استعفیٰ پیش کردیا.
ٹھیکیدار ایک رحم دل اور شفیق انسان تھا. اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک کاریگر تھا مگر اس مستری کی کچھ انوکھی ہی بات تھی. جہاں تک معاوضے اور دستور کے مطابق بودو باش کی سہولیات تھیں، ٹھیکیدار نے اسے ویسے ھی خوب نوازا ہوا تھا. اس مستری کی کام سے لگن اور محنت بھی قابل رشک تھی مگر ایک دن یہ بھی داغ مفارقت دے جائے گا، اس کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا تھا.
ٹھیکیدار نے استعفیٰ لیتے ہوئے مستری سے کہا. "جاتے جاتے ایک آخری مکان اپنے ہاتھ سے بنا کر دیتے جاؤ تو میں یہ استعفیٰ قبول کر لیتا ہوں" بادل ناخواستہ مستری کو کہنا ماننا پڑا.
مکان کی بے تکی بناوٹ، اکھڑے پلستر، کٹے پھٹے رنگ و روغن اور دروازے کھڑکیوں کے شکستہ کیل پرزوں کے ایک ایک زاویئے سے مستری کی اکتاہٹ دکھائی دیتی تھی. صاف لگتا تھا کہ اس نے یہ کام فرض سمجھ کر نہیں، جان چھڑانے کیلئے وبال سمجھ کر کیا هے.
مکان کیا تھا کہ گویا چند برساتوں کی مار اب گرا کہ تب گرا. ٹھیکیدار کو مکان کی چابیاں دیتے ہوئےجیسے ہی مستری نے اپنے استعفٰی کا مطالبہ دہرایا، ٹھیکیدار نے شفقت کے ساتھ چابیاں واپس مستری کو دیتے ہوئے کہا "میں تیرا استعفیٰ قبول کرتا ہوں اور یہ والا آخری مکان تیرے لئے میری طرف سے انعام هے!"
اب مستری دم بخود حالت ایسی کہ جیسے بدن میں جان ہی نہیں. یا اللہ! یہ کیا ہو گیا؟ میں نے کیوں اپنے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا. اگریہی مکان میرا مسکن بننا تھا تو میں نے اسے اچھا کیوں نہیں بنایا. لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھرتا رہا اورخود اپنے لیے یہ بدرنگی کر ڈالی، کاش ! کاش ! کاش ! مگر صرف حسرتیں تھیں !!!
کچھ ایسی ہی مثال ہماری زندگی میں کیے گئے اعمال اور خاص طور پر نماز کی ہوتی هے جس سے اللہ رب العزت تو بے نیاز هے مگر ہم ان سب کو اچھا کرنے کے محتاج ہیں. انہی پر ہی ہماری عاقبت اور آخرت کا دارومدار ہوتا هے مگر ہم ہیں کہ جان چھڑاتے ہیں. لاکھ سمجھایا جاتا هے کہ اچھے طریقہ سے اپنا فرض ادا کرو، اچھے طریقہ سے پیش کرو، سمجھ ہی نہیں آ رہی.
کاش اس وقت سے پہلے سمجھ آ جائے جب صرف ندامت، شرمندگی اور پچھتاوا ہوگا..!!
Please join my WhatsApp group
,,Deen o Duniya ''
https://chat.whatsapp.com/EPVR1cF35w650ffmICzeOg?mode=ac_t
Copy paste by Mohammad Manzoor Alam Misbahi Pesh Imam Mondal Ganthi Jam e Masjid Kolkata

WhatsApp Group Invite

31/07/2025

سوال : کیا میلاد منانا بدعت ہے؟؟
جواب : پہلی بات کہ شریعتِ مطہرہ کا یہ اصول یاد رکھ لیں کہ کسی بھی کام کے ناجائز ہونے کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ وه کام حضورِ اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم یا صحابۂ کرام علیھمُ الرِّضوان نے نہیں کیا تو ناجائز ہو گا بلکہ دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کام سے اللّٰه عزوجل اور اس کے محبوب صلی اللّٰه علیه وآلهٖ وسلم نے منع فرمایا ہے یا نہیں
منکرینِ میلاد اس حدیثِ پاک کا مفہوم سمجھے بغیر اسے عام مسلمانوں پر فِٹ کرتے ہیں اور مسلمانوں پر جہنمی اور بدعتی ہونے کے فتوے دن رات جھاڑتے ہیں
پیارے حبیب صلی اللّٰهُ عَلَيهِ وسلَّم نے ارشاد فرمایا
وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ
(سنن النسائی : 1579)
اور ہر بدعت(دین میں نیا کام) گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی
اس حدیث پاک کے تحت منکرین کے نزدیک میلاد منانا دین میں نیا کام ہے اور گمراہی ہے اور یہ عمل معاذ اللّٰه جہنم میں لے جانے والا ہے
اور اسی طرح حدیث پاک کی غلط تشریح کر کے گمراہی پھیلاتے ہیں
دوسری حدیث میں ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے پھر لوگ اس کے بعد اس کام پر عمل کریں تواس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی اور جو اسلام میں بُرا طریقہ جاری کرے اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہوگا۔
صحیح مسلم ، كتاب العلم ، باب : من سن سنة حسنة او سيئة ومن دعا الى هدى او ضلالة ، حدیث : 6975
منکرین کو یا تو یہ حدیث پتا نہیں ہوتی ، اگر پتا ہوتی ہے تو اسکو عوام سے چھپاتے ہیں۔ اور ان کے نام نہاد علماء اس حدیث کی الٹی سیدھی تاویلیں کر کے عوام کو بےوقوف بناتے ہیں۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 1017]، [صحيح ابن حبان 3308]، [مسند الحميدي 825] و [صحيح ابن خزيمه 2477]
بدعت کی غلط تعریف :
بدعت کی یہ تعریف بیان کرنا کہ دین میں ہر نیا کام گمراہی ہے تو پھر اس تعریف کے مطابق جو کام دین میں اکثر رائج ہیں وه سارے ہی ناجائز و حرام ہوں گے حالانکہ ایسی بات شریعت میں نہیں ہے دراصل محدثین اور فقہاء کے نزدیک بدعت کی دو اقسام ہیں
1،بدعت حسنہ
2 بدعت سیئہ
بدعت حسنہ سے مراد ہر وه نیا کام جو دین میں رائج ہو اور اس کے لئے شریعت میں کوئی ممانعت نہ آئی ہو اور نہ ہی اس سے دین میں بگاڑ پیدا ہو
بدعت سیئہ سے مراد ہر وه نیا کام جو دین میں رائج ہو مگر شریعت نے اس سے منع کیا ہو اور اس کے کرنے سے دین میں بھگاڑ پیدا ہو
اور اگر بلفرض منکرینِ میلاد کا یہی باطل اصول صحیح مان لیا جائے تو پھر آج بہت سارے ایسے کام دین میں رائج ہیں کہ جن کے کرنے کا حکم نہ تو حضورِ اکرم صلی اللّٰه علیه و آله وسلم نے فرمایا اور نہ ہی صحابہ کرام علیھمُ الرِّضوان نے فرمایا اور ہی تابعین اور تبع تابعین سے ایسا کچھ ثابت ہے جیسا کہ
1 جیسے پکی مسجدیں بنانا
2 مسجد میں بلب لگانا
3 پنکھے لگانا
4 مسجد کی دیواروں پر آیات لکھنا
5 مسجد کا مینار اور محراب بنانا
6 مسجدوں میں اوقات نماز کے چاڑٹس لگانا
7 مسجد میں اذان دینے کے اور جماعت کروانے کے لیے سپیکر کا استعمال
8 نمازوں کے لیے اذان کے اوقات اور جماعت کے اوقات کی فکسنگ
9 اذان اور اقامت کے درمیان وقت کا مخصوص وقفہ
10 قرآن مجید کی موجودہ کتابی صورت
11 قرآنِ پاک پر لگائے جانے والے اعراب
12 مکی اور مدنی سورتوں کی تقسیم
13 ہر سورت کا نام
14 ہر سورت میں آیات کی تعداد کا لکھا ہونا
16 آیات کی نمبرنگ 1 2 3
15 ہر سورت کتنے رکوعات پر مشتمل ہے؟
16 قرآن مجید کی تیس سپاروں کی تقسیم
17 ہر سپارے کا نام
18 ہر سپارے کی پھر مزید چار حصوں میں تقسیم
19 احادیثِ مبارکہ کی کتابوں کو دی گئی کتابی شکل جیسے (بخاری و مسلم شریف اور دیگر کتب احادیث)
20 منکرین کے مدرسوں میں پڑھائی جانے والی صرف، نحو، اصول اور عقائد کی کتابیں
21 پھر ان کتابوں کی کلاس کے لیے اوقات کی فکسنگ
20 فلاں اسلامی کتاب فلاں سال پڑھائی جائے گی فلاں کتاب فلاں سال
21 درس نظامی کی سالوں میں تقسیم
22 موجودہ سہولیات کے ساتھ کیا جانے والا حج و عمرہ
23 خانہ کعبہ پر لاکھوں روپے کا غلاف چڑھانا
24 غلاف کعبہ کی تبدیلی کے لیے خاص دن اور وقت کا تعین
25 غلافِ کعبہ کی سال بھر تیاری
26 غلاف کعبہ پر قرآنی آیات کا سونے سے لکھنا
اب منکرینِ میلاد اپنے اصول کے مطابق بتا دیں کہ کیا یہ کام بھی ناجائز و بدعت ہیں؟
🔸چوتھی بات اگر ميلاد منانا ناجائز و بدعت ہے تو یہ کام جو منکرینِ میلاد خود بڑے زور و شور سے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر
27 سیرتِ نبوی کانفرنس کی تاریخ اور وقت فکس کرنا اور جلسے کرنا ( خيال رہے میلاد النبی صلی اللّٰهُ عَلَيهِ وسلَّم سیرت النبی ہی کا حصہ ہے سیرت النبی صلی اللّٰهُ عَلَيهِ وسلَّم پر لکھی گئی تقریبا ہر کتاب میں میلاد النبی صلی اللّٰهُ عَلَيهِ وسلَّم کا تذکرہ موجود ہے اور ولادت سے قبل اور بعد کے واقعات و حالات موجود ہیں)
28 ختم بخاری کی تقریب کا انعقاد
29 سالانہ یومِ صحابه و اہل بیت کانفرنس کی تاریخ اور وقت فکس کر کے انعقاد کرنا
30 دفاع صحابہ ریلی کا انعقاد اس کا وقت ریلی موٹر سائیکل پر ہوگی یا کاروں اور اس میں اٹھائے ہوئے مخصوص قسم کے جھنڈے اور اس میں لگائے جانے والے مخصوص نعرے
31 حُسنِ قرات کانفرنسز کا پہلے پوسٹر چھپوا کر اشاعت کر کے بعد میں انعقاد
32 اہلِ حدیث کانفرنس
33 سالانہ رائیونڈ کا اجتماع کا انعقاد اس کی تاریخ اور وقت،
اس کے مخصوص ایام
یہ کب تک چلے گا کتنے دن پر مشتمل ہو گا
ان کانفرنسوں ، سالانہ جلسے جلسوں، ریلیوں اور اجتماعات وغیرہ کے منعقد کرنے کا حکم نہ تو حضورِ اکرم صلی اللّٰه عليه وسلم وآله وسلم نے فرمایا اور نہ ہی صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے فرمایا نہ تابعین اور نہ ہی تبع تابعین نے تو منکرینِ میلاد کے اصول کے مطابق کیا یہ کام ناجائز و بدعت نہیں ہیں ؟
برا ماننے کی ضرورت نہیں ، بات غور و فکر کی ہے ، مفسد لوگوں کو خود نہیں پتا کہ انکے بڑے اکابر انگریزوں کے ایجنٹ تھے ، کہ جنہوں نے 1400 سال سے رائج اہل سنت کے عقید وں کو اپنے نام نہاد شرک بدعت کے فارمولوں سے نشانہ بنایا ،فتنہ فساد پھیلایا اور امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ یہی انگریزوں کی سازش تھی جو کہ انکے ایجنٹس آج تک کر رہے ہیں ۔ یہ لوگ خود کو اہل سنت کہتے ہیں حالانکہ انکا اہل سنت اور اسکا 1400 سال سے رائج عقائد سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ گمراہ اور ایجنٹ ہیں ۔
(1)جشن سعودیہ منایا جاتا ہے ہر سال تاریخ مقرر کر کے ، جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
2۔ ہر سال تاریخ مقرر کر کے غسل خانہ کعبہ ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
3۔ ہر سال تاریخ مقرر کر کے غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
4۔ غلاف کعبہ پر آیت لکھی جاتی ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
5۔ مکہ مکرمہ مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا ثبوت قرآن و حدیث میں نہیں
6۔ ۔مدارس میں ہر سال تاریخ مقرر کر کے ختم بخاری ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
7۔ تاریخ مقرر کر کے محافل سجائی جاتی ہے جلسہ عام ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
8۔ ہر سال تاریخ مقرر کر کے تبلیغی اجتماع ہوتا ہے چلّے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
9۔ ہر سال تاریخ مقرر کر کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے وصال کے ایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
10۔ تاریخ مقرر کر کے جشن دیوبند و جشن اہل حدیث منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
دیوبندی وہابی اہل حد یثوں کے یہ سب کام کام نہ نبی پاک ﷺ نے کئے نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے کئے۔ نہ قرآن و حدیث مین اسکا ذکر ہے۔ تو پہلے وہ اپنے ان کاموں کو ثابت کریں ۔
11۔ ذکر میلادِ مصطفیٰ صلی الله عليه وسلم منانے کا کسی صحابی ائمہ محدث و بزرگان دین نے منع کیا ہو اس کا بھی قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ۔
لیکن جیسے ہی میلادالنبی صلی الله عليه وسلم منانے کی بات آ جائے سارے نام و نہاد مفتی دین کے ٹھیکیدار کھڑے ہو جاتے ہیں اور شرک و بدعت کا شور اپنانا شروع کر دیتے ہیں ۔ جب کہ انہیں خود شرک و بدعت کی تعریف نہیں معلوم ۔

Address

Mondal Ganthi Gazi Para
Kolkata
700052

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مشکبار فرحت بخش تحریریں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category