13/05/2026
منسوب تھے جو لوگ مِری زندگی کے ساتھ
اکثر وہی مِلے ہیں ‘ بڑی بے رُخی کے ساتھ
یُوں تو مَیں ہنس پڑا ہُوں تُمہارے لیے مگر
کِتنے ستارے ٹوٹ پڑے اِک ہنسی کے ساتھ
فرصت مِلے ــــــــ تو اپنا گریباں بھی دیکھ لے
اے دوست یُوں نہ کھیل مِری بے بسی کے ساتھ
مجبوریوں کی بات چلی ہے‘ تو مئے کہاں؟
ہم نے پیا ہے زہر بھی اکثر خوشی کے ساتھ
چہرے بدل بدل کے مُجھے مِل رہے ہیں لوگ
اِتنا بُرا سلوک ‘ میری سادگی کے ساتھ؟
اِک سجدۂ خلوص کی قیمت فضائے خلد؟
یاربّ ! نہ کر مذاق مِری بندگی کے ساتھ
محسنؔ کرم کی لَے بھی ہو جس میں خلوص بھی
مُجھ کو غضب کا پیار ہے‘ اُس دُشمنی کے ساتھ
(شاعرِ درد)
محسنؔ نقوی ¹⁹⁹⁶-¹⁹⁴⁷
مجموعۂ کلام : (بندِ قبا)