Glamorous Punjab

Glamorous Punjab Punjabi Culture

01/04/2025
Eid Mubarak
31/03/2025

Eid Mubarak

جاپان کا ٹوکیو شہر آج کل ایمانداری میں ساری دنیا میں ٹاپ کر گیا ھے اور جاپانی اقوام عالم میں نمبر ون کیسے ھیں ..... ؟یہ ...
06/11/2020

جاپان کا ٹوکیو شہر آج کل ایمانداری میں ساری دنیا میں ٹاپ کر گیا ھے اور جاپانی اقوام عالم میں نمبر ون کیسے ھیں ..... ؟
یہ دس حقائق آپ کو وجہ بتائیں گے ۔۔ !!!

1- جاپان میں پہلی جماعت سے لیکر سے تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ایسا مضمون یعنی سبجیکٹ بھی پڑھاتے ہیں جس میں انہیں روزمرہ کے معاملات اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ کی اخلاقیات کے بارے میں سمجھایا اور بتایا جاتا ہے۔

2- جاپان میں پہلی جماعت سے تیسری تک بچوں کو فیل کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ کیونکہ ان چھوٹے بچوں کی تعلیم کا مقصد ان کی تربیت اور ان کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے نا کہ ان کو تلقین اور روایتی تعلیم۔

3- چہ جائکہ جاپانی دنیا کی امیر ترین قوموں میں شمار ہوتے ہیں مگر ان کے گھر میں کام کاج کیلئے نوکر اور خادم کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ ماں باپ ہی بچوں اور گھر کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

4- جاپانی بچے روزانہ اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر 15 منٹ کیلئے اپنے سکول کی جھاڑ پھونک اور صفائی ستھرائی کرتے ہیں، اس مشق کا مقصد انہیں اخلاقی طور پر متواضع بنانا اور عملی طور پر صفائی پسند بنانا ہوتا ہے۔

5- جاپان میں ہر بچہ اپنا دانت صاف کرنے والا برش بھی سکول ساتھ لیکر جاتا ہے، سکول میں کھانے پینے کے بعد ان سے دانت صاف کرائے جاتے ہیں، اپنے بچپن سے ہی ان کو اپنی صحت کا خیال رکھنے والا بنایا جاتا ہے۔

6- سکولوں میں اساتذہ اور منتظمین کھانے کا معیار جانچنے اور بچوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے طلباء سے آدھا گھنٹہ پہلے کھانا کھاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی بچے ہی جاپان کا مستقبل ہیں اور ان کی حفاظت کا یقینی بنایا جانا کتنا اہم ہے۔

7- جاپان میں صفائی کا کام کرنے والے کو ایک خاص نام سے پکارا جاتا ہے جس کا مطلب ہیلتھ انجینئر بنتا ہے۔ اس کی تنخواہ امریکی ڈالر میں 5000 سے 8000 یعنی پاکستانی روپے میں آٹھ لاکھ سے پندرہ لاکھ ماہانہ کے درمیان رہتی ہے۔ اس ملازمت کیلئے امیدوار باقاعدہ زبانی اور تحریری امتحان پاس کرتے ہیں۔

8- جاپان میں گاڑیوں، ریسٹورنٹس اور بند مقامات پر موبائل استعمال نہیں کیا جاتا۔ جاپان میں سائلنٹ موڈ پر لگے موبائل کو ایک خاص نام دیا جاتا ہے جس کا مطلب اخلاق پر لگا ہونا بنتا ہے۔

9- جاپان میں اگر آپ کسی کھلی دعوت یا بوفے ڈنر پر چلے جائیں وہاں پر بھی یہی دیکھیں گے کہ لوگ اپنی پلیٹوں میں ضرورت کے مطابق ہی کھانا ڈالتے ہیں۔ پلیٹوں میں کھانا بچا چھوڑنا جاپانیوں کی عادت نہیں ہے۔

10- جاپان میں سال بھر گاڑیوں کی اوسط تاخیر 7 سیکنڈ تک ہوتی ہے۔ جاپانی وقت کے قدردان لوگ ہیں اور منٹوں سیکنڈوں کی بھی قیمت جانتے ہیں.....

11- بہت خوب لیکن ایک ضروری بات وہ یہ کہ۰۰ جاپانی امیر نہیں ہیں ۰۰ دنیا کے 100 امیر لوگوں میں ایک بھی جاپانی نہیں ہے۰۰زندگی بہت سمپل ہے۰۰
اور ٹیلی فون سائلنٹ موڈ جس کو جاپانی میں "Manner mode" کہتےہیں اورہمارے ہاں بائیک کا سائیلنسر بھی منہ پھٹ کرواتے ہیں نوجوان اور سوزوکی میں پریشر ہارن لگا کر لنک روڈ اور كاكول روڈ ایبٹ آباد میں انسانوں کے کان بہرے کرتے ہیں اور بساط بھر مزید شور پیدا کرتے ہیں ..!!

10/09/2020

بغاوت فرض ہوتی ہے

سنو اندھو، سنو بہرو
بغاوت فرض ہوتی ہے
اپاہج، مردہ دل لوگو
بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں حاکم نہ ہو اللہ
جہاں قانون ناں قرآں
وہاں حکمِ خدا ہے یہ
بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں بھٹکے اجالے ہوں
جہاں اندھے سویرے ہوں
جہاں روشن دِیا کرنا
بغاوت کے برابر ہو
تو ان اندھوں کی بستی میں
بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں سانسیں خریدیں ہم
کبھی بک کر کبھی مر کر
جہاں ہم پیٹ بھرنے پر
منائیں جشن گھر گھر پر
تو اس مسکین بستی میں
بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں حقدار کہتا ہے
وہاں اوپر میں پوچھوں گا
یہاں پر تُو خدا ہے تو
خدا اپنے سے پوچھوں گا
قیامت جب ہو یوں برپا
بغاوت فرض ہوتی ہے

یہ سر گلیوں میں کٹوانا
جہاں پہ رِیت بن جائے
غریبی کا مداوا جب
فقط یہ موت رہ جائے

جہاں بھیگے دوپٹہ جب
تو ماں کا خون سے بھیگے
جہاں یہ عمر بے چاری
سدا ماتم میں بس گزرے
وہاں مرنے سے پہلے تو
بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں وجہِ حکومت کی
رگوں میں دوڑتا خوں ہو
جہاں عقل و خرد ساری
فقط دولت کی مرہوں ہو

جہاں انصاف کرسی ہو
جہاں قانون کرسی ہو
جہاں عالم بھی کرسی ہو
جہاں مذہب بھی کرسی ہو
تو ایسی بے کسی میں ہی
بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں حاکم ہو بس اللہ
جہاں قانون بس قرآں
اسی دورِ حکومت میں
اطاعت فرض ہوتی ہے
وگرنہ کچھ بھی ہو جائے
بغاوت فرض ہوتی ہے

سنو اندھو سنو بہرو
اپاہج، مُردہ دل لوگو
سنو حکمِ خدا ہے یہ
بغاوت فرض ہوتی ہے...

06/09/2020

__ خلوص کی قیمت __
(رلا دیا اس کہانی نے)

مجھے یہ واقعہ مسز طارق کے بڑے بیٹے نے خود سنایا ۔ میںنے اس سے پوچھا کہ بھری جوانی میں وہ تصوف کے خارزار میں کیونکر اترا۔ اس نے کہا : اپنی ماں کی وجہ سے ۔ پھر اس نے مجھے اپنی پوری کہانی سنائی ۔ اس نے کہا: ہم چار بھائی ہیں۔ والد کا وسیع وعریض کاروبار تھا ۔ ابھی ہم لڑکپن میں تھے کہ ایک حادثے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ماں غیر معمولی خاتون تھی ۔ شکل و صورت کے لحاظ سے اور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے بھی۔ وہ غیر معمولی رکھ رکھائو کی عورت تھی ۔اولاد کی خاطر اپنی زندگی تج دینے کا اس نے فیصلہ کیا۔ کاروبار کی دنیا سے مکمل انجان ہونے کے باوجود اس نے فیصلے صادر کرنے شروع کیے ۔ جائیداد کافی تھی ۔ کئی جگہ نقصان بھی ہوا لیکن بہرحال ہم چار بھائیوں میں سے تین کسی نہ کسی طرح پڑھ لکھ گئے ۔ عملی زندگی کا آغاز کیا تو تینوں غیر معمولی ثابت ہوئے ۔ میں نے کاروبار سنبھالا تو دیکھتے ہی دیکھتے اسے چار چاند لگ گئے ۔ کئی ممالک تک میں نے اسے پھیلا دیا ۔ مجھ سے چھوٹا بھائی ایک بے مثال شاعر بنا ۔ اس سے چھوٹا بہت بڑا سائنسدان ۔ سب سے چھوٹا بھائی ذہنی طور پر معذور تھا۔ بات تو وہ سمجھ لیتا تھا لیکن اسے چلنے میں دقت ہوتی ۔ اسے صرف بہت قریب کی چیزیں ہی نظر آتی تھیں ۔ اسی طرح وہ اپنے قریب کی آواز ہی سن سکتا تھا ۔ قصہ مختصر یہ کہ اس کی حسیات (senses)سست تھیں ۔ ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے ۔ وہ گھر کے سامنے یا چھت پر بیٹھا دھوپ سینکتا رہتا ۔ کبھی کبھار وہ چہل قدمی کرنے چلا جاتا۔ کئی کئی گھنٹوں بعد واپس لوٹتا ۔ وہ سب ذمہ داریوں سے آزاد تھا ۔

یہاں تک پہنچ کر وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا ۔ میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔ کافی دیر سوچنے کے بعد اس نے سلسلہ ء کلام وہیں سے جوڑا ''اس روز ‘‘ اس نے کہا '' زندگی میں پہلی بار ماں نے ہم سے کوئی فرمائش کی۔ اس نے کہا کہ وہ یہ چاہتی ہے کہ اس کی سالگرہ پر ہم سب اسے کوئی تحفہ دیں ۔پہلی بار اس نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا ۔ ہم تینوں حیرا ن تھے ۔ ہماری خاطر اس نے اپنی زندگی تج دی تھی ۔ یہ صلہ دینے کا وقت تھا۔ ہم سب سالگرہ کی تیاریوں میں لگ گئے۔ آخر سالگرہ کا دن آیا ۔ میں نے 10ارب روپے کا ایک نہایت خوبصورت جہاز ماں کو پیش کیا ۔ اس میں وہ جب جہاں جس علاقے کی سیر کرنا چاہتی ، کر سکتی تھی ۔شاعر بھائی نے ایک طویل نظم ماں کے نام لکھی تھی اور کیا خوب۔ کبھی کسی نے اپنی ماں کی ایسی تعریف نہ لکھی ہوگی ۔ سائنسدان نے ایک ایسی چادر اسے پیش کی، جس کا رنگ پہننے والے کے جذبات کے اعتبار سے بدل جاتا تھا۔ سرخ، نیلے، سفید سمیت وہ کئی رنگ بدل سکتی تھی ۔ میں نے اپنی زندگی میں اس قدر خوبصورت لباس نہ دیکھا تھا ۔ ماں نے کہا کہ اب سب تفصیل بتائو کہ کس طرح تم نے یہ تحفہ میرے لیے حاصل کیا۔ میں نے بتایا کہ میں نے اپنے مینیجر کو فون کیا۔ اسے کہا کہ وہ اچھے جہازوں کی تفصیلات مجھے پیش کرے ۔ پھر دس بہترین جہازوں میں سے میں نے یہ منتخب کیا۔ مینیجر کو چیک پر دستخط کر کے دئیے۔ شاعر نے کہا کہ وہ ساری رات سوچتا رہا۔ ایک ایک مصرعہ لکھتا رہا ، مٹاتا رہا ۔ سائنسدان نے کہا کہ ایسی چادر پر وہ کئی سال سے کام کررہا تھا۔ جب ماں نے فرمائش کی تو اس نے وہ چادر سب سے پہلے ماں کو پیش کرنے کا ارادہ کرلیا۔

ماں مسکراتی رہی، اس نے ہمارا شکریہ ادا کیا ۔ جب یہ محفل تمام ہونے لگی تو دروازہ کھلا اور ذہنی معذور بھائی لنگڑاتا ہوا اندر آیا۔ اس کے کپڑے خاک آلود تھے ۔ اس کے رخسار پر ایک زخم تھا۔ اس سے خون رس رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک گڑیا تھی ۔ا س گڑیا نے جو لباس پہن رکھا تھا، اس پر شیشے جڑے ہوئے تھے ۔ کئی شیشے ٹوٹے ہوئے تھے ۔ ایسا لگتا تھا کہ ہمارا چھوٹا بھائی کہیں گرا ہے یا اسے کوئی حادثہ پیش آیا ہے ۔ماں دیوانہ وار اس کی طرف لپکی۔ اسے پانی پلایا گیا ۔ اسے نہلایا گیا اور اس کے کپڑے تبدیل کرائے گئے ۔ زخم معمولی تھا، اسے پٹی کی ضرورت نہیں تھی ۔ پھر ذہنی معذور بھائی نے رک رک کر ماں کو اپنی کہانی سنائی : جب اس نے سنا کہ ماں تحفہ مانگ رہی ہے تو وہ گھر سے نکل پڑا۔ آخر اسے ایک زیرِ تعمیر عمارت نظر آئی ۔ اس نے ٹھیکیدار سے کہا کہ وہ مزدوری کرنا چاہتا ہے ۔ اتفاق کی بات یہ تھی کہ ٹھیکدار نے اسے پہچان لیا۔ اس نے کہا کہ تم تو مسز طارق کے بیٹے ہو ۔ لڑکے نے کہا کہ وہ اپنی ماں کو کوئی تحفہ دینا چاہتا ہے ۔ وہ مزدوری کرنا چاہتا ہے ۔ ٹھیکیدار نے اسے ویسے ہی کچھ رقم دینے کی پیشکش کی، جو اس نے مسترد کر دی ۔ آخر ٹھیکیدار نے اسے ایک برتن دیااور اسے مٹی کے ایک ڈھیر پر کھڑا کر دیا۔ اسے کہا کہ اس میں مٹی ڈالے اور کچھ دور خالی زمین پر پھینکتا رہے۔

سناٹے کے عالم میں ، ہم سب اس کی کہانی سنتے رہے ۔ ہمیں اندازہ تھا کہ کیسی مزدوری اس نے کی ہوگی۔ ساری مٹی وہ راستے میں ہی گرا دیتا ہوگا ۔ اس نے بتایا کہ ٹھیکیدار رورہا تھا۔ اس کی اپنی ماں چند روز قبل ہی فوت ہوئی تھی ۔ ٹھیکیدار نے اسے بہت سے پیسے دئیے۔ایک جگہ اسے چمکدار روشنیوں والے کھلونے نظر آئے۔ وہاں اس نے ساری رقم دکان والے کو دے دی اور فقط ایک گڑیا اٹھا کر چلا آیا۔ اس بیچارے کو پیسوں کا حساب کتاب کہاں آتا تھا۔جب وہ گھر پہنچا تو ماں کو تحفہ دینے کی خواہش میں تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔ sensesسست ہونے کی وجہ سے وہ گر پڑا۔ اسے چوٹ لگ گئی۔
ماں گڑیا کو چومتی رہی اور ہمارے بھائی کو بھی ۔ وہ روتی رہی ۔ اتنا روئی کہ ہمارے باپ کے مرنے پر بھی کیا روئی ہوگی ۔ ہم تینوں بھائی سکتے کے عالم میں چھوٹے کو دیکھتے رہے ۔ یہ بات صاف ظاہر تھی کہ اس نے ہم تینوں کو شکستِ فاش سے دوچار کیا تھا ۔ ہمارے تحفوں پر ماں نہ تو روئی تھی اور نہ ہی جذبات سے بے قابو ہوئی تھی ۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میرے دس ارب روپے کے جہاز کی اس سو روپے کی گڑیا کے سامنے کوئی حیثیت نہ تھی ۔ میں نے صرف مینیجر کو فون کیا تھا۔ اس نے اپنا آپ دائو پر لگا دیا تھا ۔ ماں نے ہم تینوں کا بھی شکریہ ادا کیا تھا لیکن ہم ہار چکے تھے ۔

یہ وہ وقت تھا، جب میں سوچنے لگا کہ اگر ایک انسان دس ارب روپے کے جہاز پر سو روپے کی گڑیا کو ترجیح دے رہا تھا تو خدا کے ہاں حساب کتاب کے پیمانے کیا ہوں گے ۔ انسا ن تو بنیادی طور پر مادہ پرست ہے ۔ وہ تو سونے، لوہے ، کوئلے اورتیل کے ذخائر سے محبت کرتا ہے ۔ خدا نے تو یہ چیزیں خود بنائی ہیں ۔ وہ تو ان چیزوں سے محبت نہیں کرتا۔اگر ایک انسان یعنی میری ماں خلوص کو اس قدر اہمیت دے رہی تھی تو خدا کے ہاں اس خلوص کی قیمت کیا ہوگی؟
اس نے فیصلہ کیا کہ ایک سو روپے کی گڑیا لوں اور خدا کو پیش کروں ۔ ایسی گڑیا جو دس ارب روپے کے جہاز پہ بھاری ہو جائے۔“ انتخاب

03/09/2020

#موبائل اور #انسان
دنیا کے پہلے موبائل کا بنیادی کام صرف کال کروانا تھا، اس میں کوئی دوسری آپشن نہ تھی۔ پھر ایس ایم ایس ایڈ ہوا، پھر انٹرنیٹ، پھر دنیا کی ہر چیز کو موبائل میں شفٹ کر دیا گیا۔ آج موبائل سے دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا کام ہو جو نہ لیا جا رہا ہو۔

مگر یہ موبائل آج بھی اپنا بنیادی کام نہیں بھولا۔ آپ کوئی گیم کھیل رہے ہوں یا فلم دیکھ رہے ہوں، انٹرنیٹ سرفنگ کر رہے ہوں یا وڈیو بنا رہے ہوں الغرض ایک وقت میں 10 کام بھی کر رہے ہوں۔

تو جیسے ہی کوئی کال آئے موبائل فوراً سے پہلے سب کچھ چھوڑ کر آپ کو بتاتا ہے کہ کال آرہی ہے یہ سن لیں۔ وہ اپنے سارے کام روک لیتا ہے۔

اور ایک انسان جسے اللہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور ساری کائنات کو اس کی خدمت کے لیے سجا دیا، وہ اللہ کی کال پر دن میں کتنی بار اپنے کام روک کر مسجد جاتا ہے؟

مسجد جانا تو درکنار اب اللہ کی کال یعنی اذان پر ہم اپنی گفتگو بھی روکنا مناسب نہیں سمجھتے۔ عبادت ہر انسان اور نماز ہر مسلمان کی زندگی کا بنیادی جز ہے جس کی موت تک کسی صورت میں بھی معافی نہیں۔

کاش ہم موبائل سے اتنا سا ہی سبق سیکھ لیں جسے ہم نے خود ایجاد کیا اور ایک لمحہ بھی خود سے جدا نہیں کرتے کہ دنیا کے سب ہی کام کرو مگر اپنی پیدائش کا بنیادی مقصد اللہ کی عبادت کبھی نہ بھولو۔ اذان ہوتے ہی سب کچھ روک کر مسجد چلو اور اللہ کی کال پر لبیک کہو۔“
*اسلامی سکالر رحمانہ ایمن*

02/09/2020

*

سلطان محمود غزنوی اپنے کچھ سپہ سالاروں کیساتھ جنگل کے راستہ سے بھٹک گئے، عصر سے وقت تیزی سے سورج ڈھلنے کیطرف گزر رہا تھا سلطان جنگل میں راستہ تلاش کرنے میں سرگرداں تھے کہ ایک ہندو دھرم کی شہزادی پر نگاہ پڑی جو اپنی کنیز کیساتھ شاید شکار پر نکل آئی تھی اکیلی شہزادی اور اسکی کنیز اس چیز سے بے خبر دریا کے کنارے پاؤں ڈبوۓ بیٹھیں تھیں کہ انکے پیچھے ایک جنگلی ریچھ پہنچ چکا ہے۔

اس وقت تک کے سلطان کا تیر اس کے حلق سے آر پار ھوتا وہ ریچھ شہزادی کی کنیز کو ایک ہاتھ کے پنجے سے ضرب دے چکا تھا اس سے پہلے شہزادی اپنا ترکش سنبھالتی اور تیر کمان میں لگاتی شاید بہت دیر ہو جاتی۔

سلطان محمود غزنوی نے پےدر پے تین تیر اس جنگلی درندے پر دے مارے جس سے وہ ڈھیر ہو گیا۔

شہزادی کو یہ جاننے میں مشکل نا ہوئی کہ اس مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کوئی جنگجو سپہ سالار ہی کر سکتا ھے۔

شہزادی سلطان کیطرف متوجہ ہوئی اظہار تشکر کے لۓ اپنا تعارف کرواتے ہوئی بولی میرا نام سمرتی ہے میں جے پور ریاست کے راجہ کی اکلوتی بیٹی ہوں میری جان بچانے کا شکریہ میں تمھیں اپنے پتا سے کہہ کر فوج میں کوئی اعلیٰ عہدہ دلا دوں گی ویسے تم ہماری فوج کے سپاہی لگتے نہیں ہو بتاؤ کہاں سے تعلق ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟

سمرتی شاید یہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے سامنے کوئی معمولی سپاہی نہیں ہیں بلکہ اس وقت کی سب سے طاقتور اسلامی لشکر کے سربراہِ اعلیٰ سلطان ہیں، جنکے نام سے ہی ہندو راجاؤں کے حلق خشک ہو جاتے ھیں۔

سلطان نے مختصراً اپنی شناخت ظاہر نا کرتے ہوئے کہا جی کسی اور فوج کا سپاھی ہوں۔

چلئے محترمہ میں آپکو کسی محفوظ مقام پر پہنچادوں گا آپ میرے پیچھے چلتی جائیں اندھیرا بڑھتا جا رہا ہے راستہ نا ملا تو شاید اسی جنگل میں رات بسر کرنی پڑے گی، شھزادی سمرتی جان چکی تھی کہ یہ شخص لالچ اور خوف سے پاک ہے وہ سلطان کی نظروں میں حیاء دیکھ کر خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔

جنگل کی خاردار جھاڑیوں کی وجہ سے شھزادی کا پیراہن مختلف جگہ سے چھلنی ہو چکا تھا شھزادی تھکاوٹ سے چور ہو چکی تھی سلطان نے شھزادی کو ایک سخت پتھروں اور درختوں کی اوٹ کیطرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا شھزادی، آپ ادھر آرام کر لیں رات کی تاریکی بڑھ رہی ہے اور موسم میں بھی تغیر کے آثار ہیں اندھیرے میں مزید سفر گھنے جنگل میں کرنا دشوار ہے علی الصبح نکلیں تو شاید میں آپکو کسی محفوظ مقام پر پہنچا سکوں سمرتی کے پاس سلطان پر اعتماد کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نا تھا سلطان نے محسوس کیا شھزادی اپنے بیش قیمت مگر قدرے باریک لباس میں جنگل کی ٹھنڈی رات شاید نا گزار سکے سلطان نے اپنی موٹی چادر شھزادی کیطرف اچھال دی اور معنیٰ خیز نظروں سے شھزادی کو دیکھا جیسے کہہ رہے ہو یہ اوڑھ لیں، شھزادی نے بلا جھجک چادر اوڑھی اور ٹیک لگا کر درختوں کی اوٹ میں پاؤں پسار لۓ اسکی نظریں سلطان کے چہرے کی طرف جمی ہوئی تھیں جو نظریں جھکاۓ ایک قریب پڑے بڑے پتھر پر بیٹھ کر آگ جلانے کی کوشش کر رہے تھے بالآخر آگ جل گئ اسکی روشنی میں سلطان کا نورانی اور بھرا ھوا وجاھت والا چہرہ چمک رہا تھا سلطان نے شھزادی سے قطعہ نظر مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھنے لگے، شھزادی کو جھٹکا لگا اوہ یہ تو مسلمان لگتے ہیں۔

ایک دفعہ شھزادی کانپ گئ کہیں غزنی کے لشکر سے تو نہیں یہ تو لٹیرے ہیں گاۓ بھینس بکری سب کا مانس کھاتے ہیں یہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن اگلے ہی لمحے شھزادی اب تک اسکے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرنے لگی اگر یہ اتنا ہی سفاک اور ظالم ہوتا تو مجھے ریچھ سے نا بچاتا نا چاہتے ہوۓ بھی شھزادی کا دل پھر سے اطمینان و یقین سے بھر گیا۔

سلطان نماز کے بعد دعا کرتے وقت زارو قطار رونے لگے روتے روتے سلطان نے اپنے خنجر کی نوک اپنے پاؤں کے انگوٹھے پر رکھ کر اسکو دبا دیا، شھزادی دیکھتی رہی کہ یہ جوان مرد مجھ سے گفتگو میں بے تکلف نہیں ہونا چاھتا۔

علی الصبح سلطان نے شھزادی سے کہا اب ھمیں نکلنا چاھۓ کچھ دور جا کر سلطان کو ایک سفید پتھر پڑا ملا جو سلطان کے سپاہی نشانی چھوڑ گۓ تھے کہ راستہ اسی طرف ھے یہ اس زمانے کا ایک طریقہ تھا کہ جنگل میں پتھر چھوڑتے جاتے تا کہ پیچھے آنے والا راستہ جان سکے کے گزرنے والا کہاں سے انکا ساتھی گزرا ہے۔

بالآخر شھزادی اور سلطان ایک ہموار راستہ پر آ پہنچے کچھ دور ایک چھوٹے سے گاؤں کے آثار نظر آ رہے تھے سلطان نے کہا یہ آپکی ریاست کی حدود کا ہی گاؤں معلوم پڑتا ہے شھزادی ہاں دیکھتے ہیں گاؤں پہنچنے پر شھزادی نے گاؤں کے مکھیاء کو بلاوا بھیج دیا مکھیاء اپنے کچھ ساتھیوں سمیت حاضر ہوا شھزادی نے کہا ہمیں دو برق رفتار گھوڑے دے جائیں اور کچھ خشک اناج اس سپاھی کو دیا جاۓ شھزادی نے سلطان سے کہا اجنبی ہمیں بہت حیرت ہوئی ہے تم پر، آخر تم کس مٹی کے بنے ہو ساری رات تم اپنے خنجر سے زخم کریدتے رہے اور میری طرف کوئی توجہ نا دی تم چاہو تو ہمارے ساتھ محل چلو ہم تمھیں انعام و اکرام سے بھر دیں گے اپنی جان بچانے کے بدلہ میں۔

سلطان نے گھوڑے پر سوار ہو کر شھزادی سے کہا شھزادی صاحبہ زخم اس لئے کریدتا رہا کہ آپکا حُسن میرے ایمان کو زَد نا پہنچاۓ اور میری توجہ میرے درد کی طرف رہے آپکی طرف نا بڑھے۔
شھزادی کیا تمھیں یہ موقعہ گنوانا چاہئیے تھا ہم سے خلوت میں ملاقات کیلئے لوگ اپنی ریاستیں دستبردار کرنے کو تیار ہیں۔

سلطان شھزادی میں مسلمان ہوں اور محمد مصطفیٰ ﷺ کا غلام ہوں میری نظر آپکے جسم پر نہیں بلکہ خود میری اپنی روح پر تھی شاید میرے جسم سے گناہ کا داغ دھل جاتا لیکن میری روح پر اس گناہ کا داغ لیکر میں اپنے نبی پاک ﷺ کے سامنے کیسے پیش ہوتا۔۔۔۔؟ مجھے یہ گوارہ نہیں تھا کیونکہ الحمد للہ میں ایک سچّا مسلمان ہوں۔

شہزادی یہ جواب سن کر اس سپاہی کی اپنے سچے مذہب اسلام کیساتھ لگاؤ، محبت اور وفاداری دیکھ کر انکے کردار سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی جیسے اسکا دل اسی اجنبی کے مذہب اور زندگی میں شامل ہونے کو بیقرار ہو۔

یہ کہہ کر سلطان نے اجازت چاہی۔۔۔۔۔

شھزادی اپنا اور اپنی فوج کا نام تو بتاتے جاؤ ہم یاد رکھیں گے۔

سلطان نے چادر سے نقاب اوڑھا تیر ترکش کندھے پر ڈالے تلوار اپنے میان میں ڈالی اور گھوڑے کی رکابیں پکڑتے ہوے بولے۔۔۔۔۔۔۔

شھزادی میرا نام ہے سلطان محمود غزنوی اور میں ہی غزنی کی عظیم الشان فوج کا سپہ سالار اعظم اور سلطان (بادشاہ) ہوں، یہ کہہ کر سلطان نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی اور سرپٹ دوڑتے ہوۓ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔

اللہ اکبر سبحان اللہ ماشاءاللہ۔

*یہ تھے اللہ و رسول ﷺ کے سچے وفادار ایسے تھے اسلامی سلطنت کے حکمران، اور مسلمان بادشاہ اور کامل ایمان والے آج انکے نقشِ قدمِ پاک ہم سب کیلئے راہِ نجات ہیں۔

Address

Chandigarh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Glamorous Punjab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share