Bazm-e-Adab Badaun

Bazm-e-Adab Badaun Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bazm-e-Adab Badaun, Arts and entertainment, Badaun, Budaun.

ASSALAMUALEKUM,
BADAUN KI MASHOOR URDU TANZEEM BAZM E ADAB BADAUN TAQREEBAN 6 SAL SE URDU ADAB KI KHIDMAT KAR RAHI HAI ISME CHOTI BADI ALL INDIA MUSHAIRAY KI MEHFIL KA INAQAD KIYA JATA HAI AUR MUSALSAL JARI HAI,

19/08/2026

Uski Khushbu Meri Ghazalon Mein Simat Aayi Hai | Iqbal Ashhar
Iqbal Ashhar is a prominent contemporary Urdu poet known for his fresh, graceful, and melodious ghazals. His simple and elegant diction has earned him a distinct identity in mushairas in India and abroad. He also has a special place in Na‘t poetry and has participated in numerous Na‘t mushairas across India. His notable works include Dhanak Tere Khayal Ki, Rat Jage, Ghazal Sarai, and the Devanagari collection Urdu Hai Mera Naam.

मशहूर शाइर, अफ़साना-निगार, नग़मा-निगार, फ़िल्म स्क्रिप्ट राइटर,ड्रामा-नवीस, प्रोड्यूसर, मकालमा-निगार जनाब गुलज़ार साहब किसी ...
18/08/2026

मशहूर शाइर, अफ़साना-निगार, नग़मा-निगार, फ़िल्म स्क्रिप्ट राइटर,ड्रामा-नवीस, प्रोड्यूसर, मकालमा-निगार जनाब गुलज़ार साहब किसी तआरुफ़ के मोहताज नहीं हैं। अपने तवील फ़िल्मी-सफ़र के साथ साथ गुलज़ार अदब के मैदान में नई नई मंज़िलें तय करते रहे हैं। नज़्म में उन्होंने इक नई सिन्फ़ "त्रिवेणी" ईजाद की है जो तीन मिसरों की ग़ैर-मुक़फ़्फ़ा नज़्म होती है। गुलज़ार ने नज़्म के मैदान में जहाँ भी हाथ डाला अपनी जिद्दत से नया गुल खिलाया। कुछ अरसे से वो बच्चों के नज़्म-ओ-नस्र की तरफ़ संजीदगी से मुतवज्जह हुए हैं। उनकी शाइरी की अहम ख़ुसूसियात बक़ौल अहमद नदीम क़ासमी साहब, "लफ्ज़ और मिसरे के तास्सुराती तसव्वुर को महारत और चाबुक-दस्ती से अशआर में उजागर करना ही उनकी शाइरी में फ़ितरत-ए-गुलज़ार के हमज़ाद का काम करती है, उनके यहाँ फ़ितरत के मज़ाहिर जीते जागते सांस लेते और इंसानों की तरह जानदारों का रूप धरते महसूस होते हैं।" यही वजह है कि गुलज़ार फिल्मों में अपनी बेमिसाल कामयाबी और शोहरत के बावजूद संजीदा-अदब की तरफ़ से कभी ग़ैर-संजीदा नहीं हुए हैं। वो हिंदुस्तानी सिनेमा के सबसे बड़े "दादा साहब फाल्के अवार्ड", हॉलीवुड के "ऑस्कर अवार्ड", ग्रैमी अवॉर्ड", 21 मर्तबा "फ़िल्म-फ़ेयर अवॉर्ड", क़ौमी यकजहती के इंदिरा गाँधी अवॉर्ड, अदब के लिए "साहित्य अकेडमी अवॉर्ड" और हिंदुस्तान के तीसरे सबसे बड़े सिविलियन ख़िताब "पद्म-भूषण" से नवाजे जा चुके हैं। अप्रैल 2013 में उनको आसाम यूनिवर्सिटी चांसलर मुक़र्रर किया गया। बज़्म-ए-अदब बदायूँ आज उन्हें यौम-ए-पैदाइश की दिली मुबारकबाद पेश करती है......

مشہور شاعر، افسانہ نگار، نغمہ نگار، فلم اسکرپٹ رائٹر، ڈراما نویس، پروڈیوسر، مکالمہ نگار جناب گلزار صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اپنے طویل فلمی سفر کے ساتھ ساتھ گلزار ادب کے میدان میں نئی نئی منزلیں طے کرتے رہے ہیں۔ نظم میں انھوں نے اک نئی صنف "تروینی" ایجاد کی ہے جو تین مصرعوں کی غیر مقفیٰ نظم ہوتی ہے۔ گلزار نے نظم کے میدان میں جہاں بھی ہاتھ ڈالا اپنی جدت سے نیا گل کھلایا۔ کچھ عرصہ سے وہ بچوں کی نظم و نثر کی طرف سنجیدگی سے متوجہ ہوئے ہیں ان کی شاعری کی اہم خصوصیت بقول احمد ندیم قاسمی صاحب، "لفظ اور مصرعے کے تاثراتی تصور کو مہارت اور چابکدستی سے اشعار میں اجاگر کرنا ہے۔ان کی شاعری میں فطرت گلزار کے ہمزاد کا کام کرتی ہے ان کے یہاں فطرت کے مظاہر جیتے جاگتے سانس لیتے اور انسانوں کی طرح جانداروں کا روپ دھارتے محسوس ہوتے ہیں۔" یہی وجہ ہے کہ گلزار فلموں میں اپنی بےمثال کامیابی اور شہرت کے باوجود سنجیدہ ادب کی طرف سے کبھی غیرسنجیدہ نہیں ہوئے ہیں۔ وہ ہندوستانی سنیما کے سب سے بڑے "دادا صاحب پھالکےایوارڈ"، ہالی وڈ کے "آسکر ایوارڈ"، "گریمی ایوارڈ"، 21 مرتبہ "فلم فیر ایوارڈ"، قومی یکجہتی کے اندرا گاندھی ایوارڈ ، ادب کے لئے "ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ" اور ہندوستان کے تیسرے سب سے بڑے سویلین خطاب "پدم بھوشن" سے نوازے جا چکے ۔اپپریل 2013 میں ان کو آسام یونیورسٹی کا چانسلر مقرر کیا گیا۔ بزم ادب بدایوں آج انہیں یوم پیدائش کی دلی مبارک باد پیش کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

चंद उम्मीदें निचोड़ी थीं तो आहें टपकीं
दिल को पिघलाएँ तो हो सकता है साँसें निकलें

چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں
دل کو پگھلائیں تو ہو سکتا ہے سانسیں نکلیں

#گلزار
#गुलज़ार
Today 92th

17/08/2026

Main Umr Ke Raste Mein Chupchap Bikhar Jaata | Azm Behzad Urdu Poetry
Azm Bahzad began writing poetry in 1972 at the age of 14 and went on to become one of the most popular contemporary Urdu poets. He was admired for his refined diction, powerful metaphors, and soulful tarannum, which made him especially popular at mushairas.Besides poetry, he worked as an Urdu copywriter and wrote scripts for radio and television. His poetry collection “Taabeer Se Pehle” was published in 1997. He passed away on 4 March 2011 in Karachi after a cardiac arrest.

IBRAHIM HOSH (06 MAY 1918 - 17 AUG 1988)ہر رہ گزر پہ شمع جلانا ہے میرا کامتیور ہیں کیا ہوا کے یہ میں دیکھتا نہیںبیسویں ص...
17/08/2026

IBRAHIM HOSH (06 MAY 1918 - 17 AUG 1988)

ہر رہ گزر پہ شمع جلانا ہے میرا کام
تیور ہیں کیا ہوا کے یہ میں دیکھتا نہیں

بیسویں صدی میں کلکتہ کے شعری افق پر کئی ایسے آفتاب اور ماہتاب ابھرے، جنہوں نے اردو ادب اور صحافت کو اپنی خدمات سے روشن کیا۔ وحشت کلکتوی، پرویز شاہدی اور جمیل مظہری کے ساتھ ابراہیم ہوش کا نام بھی اسی سلسلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ابراہیم ہوش کی پیدائش 6 مئی 1918 کو کاشی پور، کلکتہ میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام حافظ شہامت اللہ تھا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ معین الاسلام، کاشی پور سے حاصل کی۔ 1935 میں میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کرنے کے بعد اسلامیہ کالج، کلکتہ میں داخلہ لیا، مگر مالی مشکلات کے سبب تعلیم کا سلسلہ آگے جاری نہ رکھ سکے۔ 1936 کے بعد انہوں نے صحافت کو اپنا پیشہ بنا لیا اور پھر پوری زندگی اسی سے وابستہ رہے۔
ابراہیم ہوش بنیادی طور پر شاعر تھے، لیکن صحافتی ذمہ داریوں کے تحت انہوں نے مضامین، اداریے، رپورٹیں اور کالم بھی بڑی کثرت سے لکھے۔ ان کی ادبی شخصیت کا ایک اہم اور روشن پہلو ان کی طنز نگاری ہے۔ ان کی طنزیہ تحریروں کا بڑا حصہ نغمگی کے موضوعات اور مسائل سے متعلق تھا، لیکن انہوں نے ادبی، معاشرتی اور سیاسی موضوعات پر بھی بے باک انداز میں لکھا۔ ان کی طنزیہ تحریریں ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔
1952 سے 1983 تک انہوں نے کلکتہ کے ہفت روزہ “آئینہ” اور روزنامہ “آبشار” میں اداریے لکھے۔ ان کی نظمیں “عصر جدید” کلکتہ میں شائع ہوتی تھیں اور انہی نظموں نے اخبار کو بھی مقبولیت دی اور ابراہیم ہوش کے نام کو بھی اردو پڑھنے والوں میں خاصا مشہور کر دیا۔ محمدن اسپورٹنگ فٹبال کلب سے ان کی وابستگی اور اس کے لیے لکھی گئی نظموں نے بھی ان کی شہرت میں اضافہ کیا۔1959 میں، ان کی زندگی ہی میں، ان کی نظموں کا مجموعہ “زندگی کا میلہ” شائع ہوا، جو ان کی شاعری کا اہم یادگار مجموعہ ہے۔ ابراہیم ہوش نے شاعری اور صحافت دونوں میدانوں میں اپنی الگ پہچان بنائی اور کلکتہ کی اردو ادبی دنیا میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔17 اگست 1988 کو 70 سال کی عمر میں ابراہیم ہوش اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤں
مزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤں

وہ اور ہوں گے جو ہیں آج قید بے سمتی
وہی ہے سمت میں جس سمت کو نکل جاؤں

فریب کھا کے جنوں عقل کے کھلونوں سے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ میں بہل جاؤں

مرا وجود ہے مومی کہیں نہ ہو ایسا
کسی کی یاد کی گرمی سے میں پگھل جاؤں

جو چاہتا ہے کہ پستی میں گرتے گرتے بچوں
نظر کا اپنی عصا دے کہ میں سنبھل جاؤں

××××××

हर रहगुज़र पे शम'अ जालाना है मेरा काम
तेवर हैं क्या हवा के ये मैं देखता नहीं

बीसवीं सदी में कलकत्ता के शेरी उफ़ुक़ पर कई ऐसे आफ़्ताब और माहताब उभरे, जिन्होंने उर्दू अदब और सहाफ़त को अपनी ख़िदमात से रोशन किया। वहशत कलकत्तवी, परवेज़ शाहिदी और जमील मज़हरी के साथ इब्राहीम होश का नाम भी इसी सिलसिले में ख़ास अहमियत रखता है। इब्राहीम होश की पैदाइश 06 मई 1918 को काशीपुर, कलकत्ता में हुई। उनके वालिद का नाम हाफ़िज़ शहामतुल्लाह था। इब्तिदाई तालीम मदरसा मुईन-उल-इस्लाम, काशीपुर से हासिल की। 1935 में मैट्रिक का इम्तिहान फ़र्स्ट डिवीज़न से पास करने के बाद इस्लामिया कॉलेज, कलकत्ता में दाख़िला लिया, मगर माली मुश्किलात के सबब तालीम का सिलसिला आगे जारी न रख सके। 1936 के बाद उन्होंने सहाफ़त को अपना पेशा बना लिया और फिर पूरी ज़िंदगी इसी से वाबस्ता रहे।
इब्राहीम होश बुनियादी तौर पर शायर थे, लेकिन सहाफ़ती ज़िम्मेदारियों के तहत उन्होंने मज़ामीन, इदारिये, रिपोर्टें और कॉलम भी बड़ी कसरत से लिखे। उनकी अदबी शख़्सियत का एक अहम और रोशन पहलू उनकी तंज़-निगारी है। उनकी तंज़िया तहरीरों का बड़ा हिस्सा नग़मगी के मौज़ूआत और मसाइल से मुतअल्लिक़ था, लेकिन उन्होंने अदबी, मुआशरती और सियासी मौज़ूआत पर भी बेबाक अंदाज़ में लिखा। उनकी तंज़िया तहरीरें हज़ारों सफ़्हात पर फैली हुई हैं।
1952 से 1983 तक उन्होंने कलकत्ता के हफ़्त-रोज़ा “आइना” और रोज़नामा “आबशार” में इदारिये लिखे। उनकी नज़्में “अस्र-ए-जदीद” कलकत्ता में शाया होती थीं और इन्हीं नज़्मों ने अख़बार को भी मक़बूलियत दी और इब्राहीम होश के नाम को भी उर्दू पढ़ने वालों में ख़ासा मशहूर कर दिया। मोहम्मडन स्पोर्टिंग फुटबॉल क्लब से उनकी वाबस्तगी और उसके लिए लिखी गई नज़्मों ने भी उनकी शोहरत में इज़ाफ़ा किया। 1959 में, उनकी ज़िंदगी ही में, उनकी नज़्मों का मजमुआ “ज़िंदगी का मेला” शाया हुआ, जो उनकी शायरी का अहम यादगार मजमुआ है। इब्राहीम होश ने शायरी और सहाफ़त दोनों मैदानों में अपनी अलग पहचान बनाई और कलकत्ता की उर्दू अदबी दुनिया में एक ख़ास मक़ाम हासिल किया। 17 अगस्त 1988 को 70 साल की उम्र में इब्राहीम होश इस दुनिया से रुख़्सत हुए।

मैं वो नहीं कि ज़माने से बे-अमल जाऊँ
मिज़ाज पूछ के दार-ओ-रसन का टल जाऊँ

वो और होंगे जो हैं आज क़ैद-ए-बे-सम्ती
वही है सम्त में जिस सम्त को निकल जाऊँ

फ़रेब खा के जुनूँ अक़्ल के खिलौनों से
ख़ुदा वो वक़्त न लाए कि मैं बहल जाऊँ

मिरा वजूद है मोमी कहीं न हो ऐसा
किसी की याद की गर्मी से मैं पिघल जाऊँ

जो चाहता है कि पस्ती में गिरते गिरते बचूँ
नज़र का अपनी असा दे कि मैं सँभल जाऊँ


#इब्राहीम_होश
Today 38th

NAZEER AKBARABADI (1735 - 16 August 1830)جس کام کو جہاں میں تو آیا تھا اے نظیرؔخانہ خراب تجھ سے وہی کام رہ گیااردو ادب م...
16/08/2026

NAZEER AKBARABADI (1735 - 16 August 1830)

جس کام کو جہاں میں تو آیا تھا اے نظیرؔ
خانہ خراب تجھ سے وہی کام رہ گیا

اردو ادب میں نظیر اکبرآبادی کا نام اُن شاعروں میں لیا جاتا ہے جنہوں نے شاعری کو محلوں اور درباروں سے نکال کر عام آدمی کی زندگی سے جوڑ دیا۔ نظیر کی پیدائش 1735 کے آس پاس دہلی میں ہوئی۔ اُن کے والد کا نام سید محمد فاروق تھا، جو عظیم آباد کے نواب کے مصاحبوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ اُن کی والدہ نواب سلطان خاں کے خاندان سے تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب مغل سلطنت زوال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ نظیر کے بچپن میں ہی 1739ء میں نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا اور بعد میں احمد شاہ ابدالی کے مسلسل حملوں نے دہلی کی حالت اور بدتر کر دی۔ اِنہی پُرآشوب حالات میں اُن کی والدہ دہلی چھوڑ کر آگرہ آ گئیں۔ یہی آگرہ آگے چل کر نظیر کی شخصیت، زندگی اور شاعری کا اصل مرکز بنا۔ نظیر نے باقاعدہ کسی بڑی درسگاہ میں تعلیم حاصل نہیں کی، لیکن اُس زمانے کے رواج کے مطابق عربی اور فارسی پڑھیں اور اپنی ذہین طبیعت سے کئی زبانوں پر دسترس حاصل کی۔ اردو اور فارسی کے علاوہ ہندی، پنجابی، سنسکرت، مارواڑی اور پوربی زبانوں سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ عوام میں اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اُنہیں عام بول چال اور ہندوستانی زبان کے مختلف لہجوں پر بھی گہری پکڑ حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری میں زندگی کی اصل آواز سنائی دیتی ہے۔
نظیر نے آگرہ میں بچوں کو پڑھانا اُن کا ذریعۂ معاش بنا۔ اُنہوں نے اپنا مکتب بھی چلایا۔ کچھ عرصے کے لیے متھرا گئے تو وہاں کے مرہٹہ قلعہ دار نے اُنہیں اپنا اُستاد مقرر کیا۔ آگرہ لوٹنے کے بعد محمد علی خاں کے بچوں کو پڑھایا۔ کہا جاتا ہے کہ اُن کی تدریسی صلاحیت اتنی اچھی تھی کہ بڑے گھرانوں کے بچے بھی اُن سے پڑھتے تھے۔نظیر صرف علم اور ادب کے آدمی نہیں تھے، بلکہ اُن کی شخصیت میں ایک قلندرانہ آزاد مزاجی بھی تھی۔ اُن کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو اُن کا صوفیانہ مزاج تھا۔ وہ تصوف سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے اور اُن کی شاعری میں نعتیہ اور صوفیانہ رنگ بھی ملتا ہے۔ ساتھ ہی وہ مذہبی تنگ نظری سے دور انسانیت اور بھائی چارے کو اہمیت دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے عید اور شبِ برات کے ساتھ ساتھ ہولی اور دیوالی جیسے ہندوستانی تہواروں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اُن کی نظموں میں مفلسی، بیماری، موسم، جانور، بازار، میلے، تہوار، کھیل، پتنگ، روٹی، کپڑا، دنیا کی ناپائیداری اور انسانی زندگی کے چھوٹے بڑے تمام تجربات دکھائی دیتے ہیں۔ اُنہوں نے معاشرے کے دبے کچلے اور عام طبقے کی زندگی کو بھی اُتنی ہی اہمیت دی جتنی کسی خاص یا اونچے طبقے کو۔
کہا جاتا ہے کہ نظیر نے تقریباً دو لاکھ اشعار کہے، لیکن اُن کا بڑا حصہ محفوظ نہ رہ سکا۔ اُنہوں نے اپنے کلام کو خود کسی مکمل شکل میں جمع نہیں کیا۔ بعد میں اُن کے شاگردوں اور عقیدت مندوں نے اُن کے کلام کو جمع کیا اور "کلیاتِ نظیر اکبرآبادی" کی شکل میں محفوظ کیا۔ نظیر کی شادی ادھیڑ عمر میں ظہورالنساء بیگم سے ہوئی۔ اُن کے دو بچے ہوئے جن میں بیٹے کا نام سید گلزار علی 'اسیر' تھا اور ایک بیٹی تھی۔ عمر کے آخری حصے میں اُنہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی۔ سنہ 1827ء میں اُنہیں فالج کا حملہ ہوا اور تقریباً 98 سال کی عمر میں 16 اگست 1830ء کو آگرہ میں اُن کا انتقال ہوا۔ اُن کی نمازِ جنازہ سنی اور امامیہ دونوں طریقوں سے پڑھی گئی۔ اُنہیں اُن کے اپنے مکان میں موجود نیم کے درخت کے نیچے سپردِ خاک کیا گیا۔

عیسیٰ کی قم سے حکم نہیں کم فقیر کا
ارنی پکارتا ہے سدا دم فقیر کا

خوبی بھری ہے جس میں دو عالم کی کوٹ کوٹ
اللہ نے کیا ہے وہ عالم فقیر کا

ہم کیوں نہ اپنے آپ کو رو لیویں جیتے جی
اے دوست کون پھر کرے ماتم فقیر کا

سب جھوٹ ہے کہ تم کو ہمارا ہو غم میاں
بابا کسے خدا کے سوا غم فقیر کا

مر جاویں ہم تو پر نہ خبر ہو یہ تم کو آہ
کیا جانے کب جہاں سے گیا دم فقیر کا

اب ہم پہ کیا گزرتی ہے اور کیا گزر گئی
کس سے کہیں وہ یار ہے محرم فقیر کا

جب جیتے جی کسی نے نہ پوچھا تو مہرباں
پھر بعد مرگ کس کو رہا غم فقیر کا

ہو کیوں نہ اس کو فقر کی باتوں میں دست گاہ
ہے بالکا نظیرؔ پراتم فقیر کا

×××××

जिस काम को जहाँ में तू आया था ऐ 'नज़ीर'
ख़ाना-ख़राब तुझ से वही काम रह गया

उर्दू अदब में नज़ीर अकबराबादी का नाम उन शायरों में लिया जाता है जिन्होंने शायरी को महलों और दरबारों से निकालकर आम आदमी की ज़िंदगी से जोड़ दिया। नज़ीर की पैदाइश 1735 के आसपास दिल्ली में हुई। उनके वालिद का नाम सैयद मुहम्मद फ़ारूक़ था, जो अज़ीमाबाद के नवाब के मुसाहिबों में शुमार किए जाते थे। उनकी वालिदा नवाब सुल्तान ख़ाँ के ख़ानदान से थीं। यह वह दौर था जब मुग़ल सल्तनत ज़वाल की तरफ़ बढ़ रही थी। नज़ीर के बचपन में ही 1739 ई. में नादिर शाह ने दिल्ली पर हमला किया और बाद में अहमद शाह अब्दाली के लगातार हमलों ने दिल्ली की हालत और बदतर कर दी। इन्हीं पुरआशोब हालात में उनकी वालिदा दिल्ली छोड़कर आगरा आ गईं। यही आगरा आगे चलकर नज़ीर की शख़्सियत, ज़िंदगी और शायरी का असल मरकज़ बना। नज़ीर ने बाक़ायदा किसी बड़ी दर्सगाह में तालीम हासिल नहीं की, लेकिन उस ज़माने के रिवाज के मुताबिक़ अरबी और फ़ारसी पढ़ीं और अपनी ज़हीन तबीयत से कई ज़बानों पर दस्तरस हासिल की। उर्दू और फ़ारसी के अलावा हिंदी, पंजाबी, संस्कृत, मारवाड़ी और पूरबी ज़बानों से भी वाक़फ़ियत रखते थे। अवाम में उठने-बैठने की वजह से उन्हें आम बोलचाल और हिंदुस्तानी ज़बान के मुख़्तलिफ़ लहजों पर भी गहरी पकड़ हासिल थी। यही वजह है कि उनकी शायरी में ज़िंदगी की असल आवाज़ सुनाई देती है।
नज़ीर ने आगरा में बच्चों को पढ़ाना उनका ज़रिया-ए-मआश बना। उन्होंने अपना मकतब भी चलाया। कुछ अरसे के लिए मथुरा गए तो वहाँ के मरहट्टा क़िलेदार ने उन्हें अपना उस्ताद मुक़र्रर किया। आगरा लौटने के बाद मुहम्मद अली ख़ाँ के बच्चों को पढ़ाया। कहा जाता है कि उनकी तदरीसी सलाहियत इतनी अच्छी थी कि बड़े घरानों के बच्चे भी उनसे पढ़ते थे।
नज़ीर सिर्फ़ इल्म और अदब के आदमी नहीं थे, बल्कि उनकी शख़्सियत में एक क़लंदराना आज़ाद-मिज़ाजी भी थी। उनकी शख़्सियत का एक और अहम पहलू उनका सूफ़ियाना मिज़ाज था। वे तसव्वुफ़ से गहरा लगाव रखते थे और उनकी शायरी में नातिया और सूफ़ियाना रंग भी मिलता है। साथ ही वे मज़हबी तंगनज़री से दूर इंसानियत और भाईचारे को अहमियत देते थे। यही वजह है कि उन्होंने ईद और शबे-बरात के साथ-साथ होली और दीवाली जैसे हिंदुस्तानी त्योहारों को भी अपनी शायरी का मौज़ू बनाया। उनकी नज़्मों में मुफ़लिसी, बीमारी, मौसम, जानवर, बाज़ार, मेले, त्योहार, खेल, पतंग, रोटी, कपड़ा, दुनिया की नापायेदारी और इंसानी ज़िंदगी के छोटे-बड़े तमाम तजुर्बात दिखाई देते हैं। उन्होंने समाज के दबे-कुचले और आम तबक़े की ज़िंदगी को भी उतनी ही अहमियत दी जितनी किसी ख़ास या ऊँचे तबक़े को।
कहा जाता है कि नज़ीर ने लगभग दो लाख अशआर कहे,लेकिन उनका बड़ा हिस्सा महफ़ूज़ न रह सका। उन्होंने अपने कलाम को ख़ुद किसी मुकम्मल शक्ल में जमा नहीं किया। बाद में उनके शागिर्दों और अकीदतमंदों ने उनके कलाम को जमा किया और “कुल्लियाते-नज़ीर अकबराबादी” की शक्ल में महफ़ूज़ किया। नज़ीर की शादी अधेड़ उम्र में ज़ुहूरुन्निसा बेगम से हुई। उनके दो बच्चे हुए जिनमें बेटे का नाम सैयद गुलज़ार अली 'असीर' था और एक बेटी थी। उम्र के आख़िरी हिस्से में उन्होंने गोशानशीनी इख़्तियार कर ली थी। सन् 1827 ई. में उन्हें फ़ालिज़ का हमला हुआ और लगभग 98 वर्ष की उम्र में 16 अगस्त 1830 ई. को आगरा में उनका इंतक़ाल हुआ। उनकी नमाज़े-जनाज़ा सुन्नी और इमामिया दोनों तरीक़ों से पढ़ी गई। उन्हें उनके अपने मकान में मौजूद नीम के दरख़्त के नीचे सुपुर्द-ए-ख़ाक किया गया।

ईसा की क़ुम से हुक्म नहीं कम फ़क़ीर का
अरिनी पुकारता है सदा दम फ़क़ीर का

ख़ूबी भरी है जिस में दो-आलम की कोट कोट
अल्लाह ने किया है वो आलम फ़क़ीर का

सब झूट है कि तुम को हमारा हो ग़म मियाँ
बाबा किसे ख़ुदा के सिवा ग़म फ़क़ीर का

हम क्यूँ न अपने-आप को रो लेवें जीते-जी
ऐ दोस्त कौन फिर करे मातम फ़क़ीर का

मर जावें हम तो पर न ख़बर हो ये तुम को आह
क्या जाने कब जहाँ से गया दम फ़क़ीर का

अब हम पे क्या गुज़रती है और क्या गुज़र गई
किस से कहें वो यार है महरम फ़क़ीर का

जब जीते-जी किसी ने न पूछा तो मेहरबाँ
फिर बा'द-ए-मर्ग किस को रहा ग़म फ़क़ीर का

हो क्यूँ न उस को फ़क़्र की बातों में दस्त-गाह
है बालका 'नज़ीर' पुरातम फ़क़ीर का


#नज़ीर_अकबराबादी
Today 196th

15/08/2026

Naya Libaas Pahen Ke Ye Kyun Sochte Ho | Nazm By Gauhar Raza
Gauhar Raza (born 17 August 1956) is a distinguished Indian engineer, science communicator, Urdu poet, social activist, and documentary filmmaker. Known for his socially conscious poetry and films such as Jung-e-Azadi and Inqilab (2008), he has made a notable contribution to Urdu literature, science communication, and progressive thought.

15/08/2026

Bharat Hai Mera Naam Main Dunia Se Nirala | Happy independence Day
Abdul Wahab ‘Azad’ — a distinguished Hindi-Urdu poet from Usawan, Badaun, born on 15 April 1953. His poetry beautifully reflects patriotism, social consciousness and the spirit of India. After serving 41 years in the India Post Department, he continued to enrich Mushairas and Kavi Sammelans across Badaun, Bareilly and beyond. His popular nazm “भारत है मेरा नाम, मैं दुनिया से निराला” remains especially cherished among poetry lovers.

🇮🇳

دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہونکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہوदिलों में हुब्ब-ए-वतन है अगर तो एक रहोनिखारना ये चमन है...
15/08/2026

دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو
نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو

दिलों में हुब्ब-ए-वतन है अगर तो एक रहो
निखारना ये चमन है अगर तो एक रहो

Zafar Malihabadi



SABA AKBARABADI (14 AUG 1908 - 30 OCT 1991)ہم عاشقانِ آلِ محمدﷺ ہیں اے صباء زندہ رہیں گے نام ہمارے فنا کے بعدمشہور و معر...
14/08/2026

SABA AKBARABADI (14 AUG 1908 - 30 OCT 1991)

ہم عاشقانِ آلِ محمدﷺ ہیں اے صباء
زندہ رہیں گے نام ہمارے فنا کے بعد

مشہور و معروف شاعر، مترجم، مرثیہ نگار صبا اکبرآبادی کا تعلق اُس سرزمین سے تھا جس کی مٹی نے اردو ادب کو میر، غالب، نظیر اکبرآبادی جیسے بڑے نام دیے، اسی ادبی فضا میں پروان چڑھنے والے صبا اکبرآبادی کی پیدائش 14 اگست 1908 کو آگرہ میں ہوئے۔ ان کا اصل نام خواجہ محمد امیر تھا۔ ان کے والد کا نام خواجہ علی محمد تھا۔ شاعری کا شوق انہیں کم سنی میں ہی پیدا ہو گیا اور محض 12 سال کی عمر میں انہوں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے عربی-فارسی کے استاد اخضر اکبرآبادی سے اصلاحِ سخن حاصل کی۔ 1919 میں انہوں نے اپنے والد کے ساتھ احمدآباد کی خلافت کمیٹی کی کانفرنس میں شرکت کی۔ جلیانوالہ باغ کے خونی حادثے کے فوراً بعد ہونے والی اس پُرآشوب ماحول میں کمسن صبا نے حسرت موہانی کی صدارت میں ہونے والے مشاعرے میں اپنا کلام سنایا۔
1930 میں وہ محکمۂ تعلیم میں بطور کلرک ملازم ہوئے۔ بعد میں مختلف تعلیمی اور کاروباری اداروں سے وابستہ رہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان چلے گئے اور کراچی میں قیام کیا۔ 1961 میں کچھ عرصے تک محترمہ فاطمہ جناح کے پرائیویٹ سیکریٹری بھی رہے۔ اس کے بعد جناح کالج اور دوسرے تعلیمی اداروں سے جڑے رہے اور طویل عرصے تک اپنی تعلیمی و ادبی خدمات انجام دیتے رہے۔
ادبی لحاظ سے دیکھا جائے تو صبا اکبرآبادی کا سرمایہ بہت وسیع ہے۔ غزل کے ان کے مجموعوں میں ’اوراقِ گل‘، ’چراغِ بہار‘ اور ’ثبات‘ کے ساتھ ساتھ ’ذکر و فکر‘، ’دستِ دعا‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی صبا اکبرآبادی نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ’شہادت‘، ’قرطاسِ عالم‘، ’سربکف‘، ’دوام‘ اور ’خوناب‘ ان کے مرثیوں کے اہم مجموعے ہیں۔ انہوں نے عمر خیام کی تقریباً بارہ سو رباعیوں کا اردو میں ترجمہ ’دستِ زرفشاں‘ کے نام سے اور مرزا غالب کی فارسی رباعیوں کا ترجمہ ’ہم کلام‘ کے نام سے شائع کیا۔ صبا اکبرآبادی 30 اکتوبر 1991 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ پیش ہے اُن کی مشہور زمانہ غزل۔۔۔۔

سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا
بات تو صرف اک رات کی تھی مگر انتظار آپ کا عمر بھر کر لیا

عشق میں الجھنیں پہلے ہی کم نہ تھیں اور پیدا نیا درد سر کر لیا
لوگ ڈرتے ہیں قاتل کی پرچھائیں سے ہم نے قاتل کے دل میں بھی گھر کر لیا

ذکر اک بے وفا اور ستم گر کا تھا آپ کا ایسی باتوں سے کیا واسطہ
آپ تو بے وفا اور ستم گر نہیں آپ نے کس لیے منہ ادھر کر لیا

زندگی بھر کے شکوے گلے تھے بہت وقت اتنا کہاں تھا کہ دہراتے ہم
ایک ہچکی میں کہہ ڈالی سب داستاں ہم نے قصے کو یوں مختصر کر لیا

بے قراری ملے گی مجھے نہ سکوں چین چھن جائے گا نیند اڑ جائے گی
اپنا انجام سب ہم کو معلوم تھا آپ نے دل کا سودا مگر کر لیا

زندگی کے سفر میں بہت دور تک جب کوئی دوست آیا نہ ہم کو نظر
ہم نے گھبرا کے تنہائیوں سے صباؔ ایک دشمن کو خود ہم سفر کر لیا

×××××

हम आशिक़ान-ए-आल-ए-मोहम्मदدﷺ हैं ऐ "सबा"
ज़िंदा रहेंगे नाम हमारे फ़ना के बा'द

मशहूर-ओ-मअरूफ़ शायर, मुतर्जिम, मर्सिया-निगार सबा अकबराबादी का ताल्लुक़ उस सरज़मीन से था जिसकी मिट्टी ने उर्दू अदब को मीर, ग़ालिब, नज़ीर अकबराबादी जैसे बड़े नाम दिए, इसी अदबी फ़ज़ा में परवान चढ़ने वाले सबा अकबराबादी की पैदाइश 14 अगस्त 1908 को आगरा में हुई। उनका अस्ल नाम ख़्वाजा मुहम्मद अमीर था। उनके वालिद का नाम ख़्वाजा अली मुहम्मद था। शायरी का शौक़ उन्हें कमसिनी में ही पैदा हो गया और महज़ 12 साल की उम्र में उन्होंने बाक़ायदा शायरी का आग़ाज़ कर दिया। उन्होंने अरबी-फ़ारसी के उस्ताद अख़ज़र अकबराबादी से इसलाह-ए-सुखन हासिल किया। 1919 में उन्होंने अपने वालिद के साथ अहमदाबाद की ख़िलाफ़त कमेटी की कॉन्फ़्रेंस में शिरकत की। जलियांवाला बाग़ के ख़ूनी हादसे के फ़ौरन बाद होने वाली इस कॉन्फ़्रेंस के पुरआशोब माहौल में कमसिन सबा ने हसरत मोहानी की सदारत में होने वाले मुशायरे में अपना कलाम सुनाया।
1930 में वह महकमा-ए-तालीम में बतौर क्लर्क मुलाज़िम हुए। बाद में मुख़्तलिफ़ तालीमी और कारोबारी इदारों से वाबस्ता रहे। तक़सीम-ए-हिंद के बाद पाकिस्तान चले गए और कराची में क़याम किया। 1961 में कुछ अरसे तक मोहतरमा फ़ातिमा जिन्नाह के प्राइवेट सेक्रेटरी भी रहे। इसके बाद जिन्नाह कॉलेज और दूसरे तालीमी इदारों से जुड़े रहे और लंबे अरसे तक अपनी तालीमी व अदबी ख़िदमात अंजाम देते रहे।
अदबी लिहाज़ से देखा जाए तो सबा अकबराबादी का सरमाया बहुत वसीअ है। ग़ज़ल के उनके मजमूओं में ‘औराक़-ए-गुल’, ‘चराग़-ए-बहार’ और ‘सबात’ के साथ साथ ‘ज़िक्र-ओ-फ़िक्र’ ‘दस्त-ए-दुआ’ शामिल हैं। इसके अलावा मर्सिया-निगारी में भी सबा अकबराबादी ने अपनी अलग पहचान क़ायम की। ‘शहादत’, ‘क़िरतास-ए-आलम’, ‘सर-ब-कफ़’, ‘दवाम’ और ‘ख़ूनाब’ उनके मर्सियों के अहम मजमूए हैं। उन्होंने उमर ख़य्याम की लगभग बारह सौ रुबाइयों का उर्दू में तर्जुमा दस्त-ए-ज़रफ़िशाँ’ के नाम से और मिर्ज़ा ग़ालिब की फ़ारसी रुबाइयों का तर्जुमा ‘हमकलाम’ के नाम से शाय किया। सबा अकबराबादी 30 अक्तूबर 1991 को इस्लामाबाद में इंतिक़ाल कर गए। पेश है उनकी मशहूर -ए-ज़माना ग़ज़ल..

सादगी तो हमारी ज़रा देखिए ए'तिबार आप के वा'दे पर कर लिया
बात तो सिर्फ़ इक रात की थी मगर इंतिज़ार आप का उम्र-भर कर लिया

इश्क़ में उलझनें पहले ही कम न थीं और पैदा नया दर्द-ए-सर कर लिया
लोग डरते हैं क़ातिल की परछाईं से हम ने क़ातिल के दिल में भी घर कर लिया

ज़िंदगी-भर के शिकवे गिले थे बहुत वक़्त इतना कहाँ था कि दोहराते हम
एक हिचकी में कह डाली सब दास्ताँ हम ने क़िस्से को यूँ मुख़्तसर कर लिया

ज़िक्र इक बेवफ़ा और सितमगर का था आप का ऐसी बातों से क्या वास्ता
आप तो बेवफ़ा और सितमगर नहीं आप ने किस लिए मुँह उधर कर लिया

बे-क़रारी मिलेगी मुझे न सुकूँ चैन छिन जाएगा नींद उड़ जाएगी
अपना अंजाम सब हम को मालूम था आप ने दिल का सौदा मगर कर लिया

ज़िंदगी के सफ़र में बहुत दूर तक जब कोई दोस्त आया न हम को नज़र
हम ने घबरा के तन्हाइयों से 'सबा' एक दुश्मन को ख़ुद हम-सफ़र कर लिया


#सबा_अकबराबादी
Today 118th

12/08/2026

Remembering WAHEED AKHTAR on his 91th Birth Anniversary | Bazm-e-Adab Badaun
Syed Waheed Akhtar (1935–1996) was a distinguished Urdu poet, critic, philosopher, scholar, and orator. Known by his pen name Waheed, he made significant contributions to Urdu poetry, philosophy, and literary criticism. His notable works include Paththaron Ka Mughanni, Zanjeer Ka Naghma, and Shab Ka Razmiya. His profound thought and unique literary style continue to inspire Urdu literature.

Address

Badaun
Budaun
243601

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm-e-Adab Badaun posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share