20/06/2025
✍️ ایک روحانی عہدِ نو کا آغاز
از: مختار تلہری ثقلینی بریلی
الحمدللہ ثم الحمدللہ!
زندگی کے 65 برسوں کا سفر مکمل ہو چکا ہے۔ اس سفر کا آغاز 1960 میں ہوا اور 1981 میں پہلی بار دل نے کچھ یوں کہا کہ الفاظ شعروں میں ڈھلنے لگے۔ ابتدا نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوئی، اور یہ وہ راستہ تھا جس پر قدم رکھنا میرے لیے باعثِ فخر و نجات بن گیا۔
رفتہ رفتہ نعت کے بعد غزل کی دنیا میں بھی قلم نے چلنا سیکھا، اور یوں میری ادبی زندگی کے صفحات رنگین ہونے لگے۔ الحمدللہ اب تک میرے تین نعتیہ اور سات غزلیاتی مجموعے منصۂ شہود پر آ چکے ہیں، جنہیں قارئین و ناقدین کی جانب سے سراہا گیا۔
2003 سے ایک اور باب کھلا، جب نو آموز شعراء کی ادبی تربیت کی توفیق ملی۔ یہ سفر بے حد خوشگوار اور بابرکت رہا۔ الحمدللہ! سینکڑوں شعراء نے میرے زیرِ سایہ اصلاحی فیض حاصل کیا، جن میں سے بیشتر غزل گو شعرا تھے۔ اس دوران بیشمار ایوارڈز، توصیفی کلمات اور اعزازی اسناد بھی حاصل ہوئیں۔ مگر سچ کہوں تو شہرت و ناموری کبھی مقصد نہ رہی۔ اللہ کا شکر ہے کہ "نام روشن ہے اور رہے گا" — یہی کافی ہے۔
لیکن... اب ایک فیصلہ کر چکا ہوں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ خود کو مکمل طور پر ذکرِ الٰہی اور مدحِ مصطفی ﷺ کے لیے وقف کر دوں۔ آج سے میرا قلم صرف حمد، نعت، منقبت، اور بزرگانِ دین کے تذکروں کے لیے مخصوص ہوگا۔
غزل سے دوری کا یہ فیصلہ وقتی نہیں، بلکہ شعوری، مستقل اور قلبی ہے۔ نہ اب غزل کہنی ہے، نہ غزلوں کی اصلاح کرنی ہے۔
جو احباب اصلاحِ غزل کے لیے رجوع کرتے ہیں، ان سے نہایت ادب کے ساتھ معذرت چاہتا ہوں۔
اس نئے روحانی سفر میں آپ سب احباب کی دعائیں، محبتیں اور نیک تمنائیں میرے ساتھ رہیں، یہی میری اصل کمائی اور سرمایۂ افتخار ہے۔
اللہ تعالیٰ مجھے اخلاص کے ساتھ یہ خدمت انجام دینے کی توفیق دے، اور اسے میری بخشش کا ذریعہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔ بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
والسلام
احقر الکونین
مختار تلہری ثقلینی بریلی