21/05/2025
جانتے ہیں منزل بہت دور چلی گئی ہے
لیکن سفر اب بھی جا رہی ہے
شاید اس لیے صحرا میں کہیں دور بیٹھے ہیں - کسی کشتی کی تلاش میں
اور یہ بھی جانتے ہیں کہ شاید یہاں کشتی کا آنا ممکن نہیں
تو پھر کیوں خود سے نہیں تم بنا لیتے ہیں کشتی خود کے لیے
دیکھو زمانہ اتنا دور چلا گیا تمہارے یوں اکیلے بیٹھے رہنے سے کیا ہی کسی کو فرق پڑا
جن لوگوں کے لیے تم نے خود کو تباہ کیا سب کی زندگی یہ دور کہیں بھی نہیں رکی
اور تم اس کشتی کی اہ میں اپنا مستقبل بھی گوانے بیٹھے ہو