Rohi Da Raja

Rohi Da Raja only trust to Allah❤️💯

Permanently closed.
21/09/2026
 کچھ عرصے سے ڈھرکی کی صحرائی پٹی میں اپنے عزیزوں کے ہاں آنا جانا ہے۔ اسی دوران اس خطے کو قریب سے دیکھنے اور یہاں کے حالا...
11/09/2026



کچھ عرصے سے ڈھرکی کی صحرائی پٹی میں اپنے عزیزوں کے ہاں آنا جانا ہے۔ اسی دوران اس خطے کو قریب سے دیکھنے اور یہاں کے حالات، تاریخ اور لوگوں کی زندگی کو سمجھنے کا موقع ملا۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں کبھی مہر سرداروں کی شاہی ہوا کرتی تھی۔ وسیع زرعی اراضی مقامی جاگیرداروں اور وڈیروں کی دسترس میں تھی۔ اس زمین کو ان کے تسلط سے نکال کر غریب حر جماعت کے حوالے کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا، بلکہ ایک طویل، مشکل اور خطرات سے بھرپور جنگ تھی۔

پاکستان بننے سے یکم اپریل 1952ء تک حر جماعت پر عرصۂ حیات تنگ رہا۔ سید شاہ مردان شاہ پیر صاحب پگارا نے جب جماعت کی قیادت سنبھالی تو حکومت کو حروں کے پُرامن رہنے کی ضمانت دے کر انہیں قید و بند اور حکومتی مشینری کے عتاب سے نجات دلائی۔

سید شاہ مردان شاہؒ نے حر جماعت کو قومی دھارے میں شامل کیا، پاک فوج میں حروں کی شمولیت کا راستہ ہموار کیا اور اپنی سیاسی بصیرت سے یہ ثابت کیا کہ حر جماعت صرف ایک روحانی جماعت نہیں بلکہ قومی معاملات میں بھی ایک مؤثر قوت بن سکتی ہے۔

پیر صاحب پگارا کی قیادت میں جماعت کے کئی افراد بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پیر صاحب پگارا اپنے مریدوں کے لیے صرف روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک ایسے کنگ میکر بھی تھے جن کی سیاسی بصیرت نے کئی لوگوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔

لیکن عظیم قیادت کی اصل طاقت اس کے وہ کارکن اور فقیر ہوتے ہیں جو میدان میں اتر کر مشکل وقت میں جماعت کا ساتھ دیتے ہیں۔

چولستان میں مراد فقیر درس نے اپنی جدوجہد کے ذریعے حر جماعت کے لوگوں کے لیے زرعی اراضی کے حصول اور خوشحالی کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا، تو ڈھرکی کے خطے میں پیر صاحب پگارا نے یہی مشن فقیر الیاس منگریہ کے سپرد کیا۔

اور الیاس فقیر منگریہ نے یہ ذمہ داری کس طرح نبھائی، اس کا جواب آج ڈھرکی کے صحراؤں میں نظر آتا ہے۔

انہوں نے سب سے پہلے مقامی وڈیروں اور جاگیرداروں کی اجارہ داری کو چیلنج کیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس راستے میں خطرات بھی تھے، مخالفت بھی تھی اور اپنی زندگی تک داؤ پر لگانے کا حوصلہ بھی درکار تھا۔

مگر پیر صاحب پگارا کے اعتماد اور جماعت کی محبت نے الیاس فقیر کو وہ قوت دی جس کے بل بوتے پر انہوں نے حر جماعت کے حقوق کی بھرپور جنگ لڑی۔

ان کی جدوجہد کے نتیجے میں حر جماعت کے لوگوں کو اس خطے میں ہزاروں ایکڑ اراضی حاصل ہوئی۔ شاہ مائنر، فقیر مائنر اور چھٹڑ واہ جیسی نہری سہولیات نے اس علاقے میں زراعت کے امکانات پیدا کیے۔ کپاس سے لے کر مونگ پھلی تک مختلف فصلیں کاشت ہونے لگیں اور صحرائی خطے کے لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے کھلنے لگے۔

پھر قدرت نے اس سرزمین کو ایک اور نعمت دی۔

قدرتی گیس دریافت ہوئی۔

آج جن زمینوں سے گیس نکلتی ہے، ان میں حر جماعت کے بہت سے خاندان آباد ہیں۔ ان خاندانوں کو روزگار، معاوضے، وظائف اور دیگر سہولیات ملیں۔ اگرچہ اس پورے خطے کی وہ ترقی نہ ہو سکی جس کی یہاں کے لوگوں کو ضرورت تھی، لیکن الیاس فقیر نے اپنی استطاعت کے مطابق جماعت کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

لوگ کہتے ہیں وہ بڑے فسادی ہیں!

ہاں، شاید وہ فسادی ہیں۔

مگر ان کا یہ ’’فساد‘‘ غریب حر جماعت کے مفاد کے لیے تھا۔

لوگ کہتے ہیں وہ بہت جھگڑالو ہیں۔

شاید درست کہتے ہیں، مگر انہوں نے یہ مزاج اس خطے کو غلامی اور جاگیردارانہ تسلط سے نکالنے کی جنگ میں اپنایا۔

کہا جاتا ہے کہ الیاس فقیر قوم پرست ہیں۔

مگر میں نے جو کچھ سنا اور سمجھا، اس میں مہر، منگریہ، راجڑ، پنھیار اور حر جماعت کے دوسرے خاندانوں کو ایک ہی جماعت کا حصہ سمجھنے کی سوچ نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے لیے غریب جماعت کے بچوں کا مستقبل ہی اصل مسئلہ رہا۔

وہ انسان ہیں، فرشتہ نہیں۔

ان میں خامیاں بھی ہوں گی۔ اقتدار اور اختیار کے عروج میں انسان سے غلط فیصلے بھی ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں، لوگوں کو شکایات بھی ہوں۔

لیکن کسی انسان کے کردار کا فیصلہ صرف اس کی خامیوں سے نہیں، اس کے مجموعی کردار اور اس کے کاموں سے ہونا چاہیے۔

اور آج اگر ڈھرکی کے صحراؤں میں کہیں بہار دکھائی دیتی ہے، اگر کہیں کھیت لہلہاتے ہیں، اگر کہیں غریب حر جماعت کا فرد اپنے پاؤں پر کھڑا نظر آتا ہے تو اس بہار میں فقیر الیاس منگریہ کی انتھک محنت کا حصہ ضرور ہے۔

میں الیاس فقیر منگریہ کو پہلے صرف نام سے جانتا تھا۔

لیکن ڈھرکی آ کر محسوس ہوا کہ یہاں ان کا نام نہیں، ان کے کام بولتے ہیں۔

آج وہ عمر کے آخری حصے میں ہیں، مگر اس عمر میں بھی جماعت کی خدمت اور اس کی خوشحالی کے مشن سے وابستہ ہیں۔

درگاہ شریف کی امانتوں کے امین، ایک نڈر، بے باک اور خوددار انسان۔

انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ حر جماعت کی خدمت میں گزار دیا ہے۔ اسی لیے ان کی گفتگو میں اعتماد جھلکتا ہے اور ان کے لہجے میں وہ بے خوفی نظر آتی ہے جو صرف وہ شخص اختیار کر سکتا ہے جس نے اپنی زندگی کسی مقصد کے لیے وقف کر دی ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ فقیر الیاس منگریہ اس خطے کے نجات دہندہ کرداروں میں سے ایک ہیں۔

پیرانِ پگارا کی شاندار قیادت نے اس خطے میں امن، محبت اور بھائی چارے کی بنیاد مضبوط کی اور لوگوں کو غلامی کے احساس سے نکالنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ اس قیادت کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری کو الیاس فقیر منگریہ نے اپنے انداز میں نبھایا۔

ورنہ شاید یہی غریب لوگ اور ان کی آنے والی نسلیں وڈیروں کی غلامی میں زندگی گزارنے پر مجبور رہتیں، ان کی سلامیاں بھرتیں اور ان کے دروازوں پر روزگار کی بھیک مانگتیں۔

اکثر مرنے کے بعد لوگوں پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، قصیدے پڑھے جاتے ہیں اور خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

مزہ تو تب ہے جب زندہ انسان کی قدر کی جائے۔

فقیر الیاس منگریہ کی شخصیت کسی قلم کی محتاج نہیں، کیونکہ ان کی زندگی خود ایک کتاب ہے۔

آج جب اپنی آنکھوں کے سامنے نام نہاد وڈیروں کو غریبوں کی معمولی نوکریوں تک کی دلالی کرتے، روزگار کے نام پر حصے وصول کرتے اور ترقیاتی وسائل کے بارے میں سوالات اٹھتے دیکھتا ہوں تو الیاس فقیر کی بہت سی خامیوں کے باوجود وہ مجھے ایک ہیرے جیسے صاف اور قیمتی کردار کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

چٹی دلالی سے کوسوں دور۔

خودسر ہو سکتے ہیں، مگر خود غرض نہیں۔

انا پرست ہو سکتے ہیں، مگر مطلب پرست نہیں۔

ان کا مقصد اگر کوئی ہے تو وہ غریب حر جماعت کی خوشحالی، عزت اور اپنے حقوق کا تحفظ ہے۔

کوئلے کی کان سے نکلنے والا شفا بخش ہیرا شاید ایسا ہی ہوتا ہے—گرد و غبار میں چھپا ہوا، سختیوں میں تراشا ہوا، مگر اندر سے قیمتی۔

ہر شخص کے مطابق ہونا منافقت کی علامت ہے۔ یقیناً بہت سے لوگوں کو الیاس فقیر سے شکوے ہوں گے، شکایات ہوں گی، اختلافات بھی ہوں گے۔

لیکن تاریخ میں ان کے اب تک کے کردار، جدوجہد اور کارناموں کو دیکھتے ہوئے وہ خراجِ تحسین کے مستحق ضرور ہیں۔

زندہ انسانوں کی قدر کیجیے۔

اللہ تعالیٰ فقیر الیاس منگریہ کو صحت، عزت اور خضری زندگی عطا فرمائے، انہیں حر جماعت کی خدمت اور اس کی خوشحالی کے مشن میں ثابت قدم رکھے۔

پیرانِ پگارا کی قیادت سلامت رہے۔
حر جماعت متحد رہے۔
اور غریب حر کے حقوق محفوظ رہیں۔




#ڈھرکی

#چولستان

Address

Uk
Rahimyar Khan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rohi Da Raja posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category