07/06/2026
اے وطن! خود کو آزاد دیکھے گا تو ، شیر دَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
دن پھریں گے ترے،ربِّ عزَّ و جَل،لم یزل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
عالمی بےحسی ہے جو کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا آج تک
اب کریں گے ہمیں مسئلہ اپنا حل،ہم کو حَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
یہ ہمارے تشخص کا ہے مسئلہ ہم کو معلوم ہے اس کا کرنا ہے کیا
ہم پہاڑی ہیں مرنے سے ڈرتے نہیں حق اَجل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
ایشیا پھر سے دیکھے گا بیٹے ترے اپنی تابندہ تاریخ دہرائیں گے
سرخ جھنڈا ہر اک سمت لہرائیں گے، تیرے ہَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
کشتی بان اپنے حق کے لیے جب اٹھے دلی والوں کے ایوان ہل جائیں گے
مانسَر ، گِل سر ، آنچار ، کوثر ، وُلر ، نام بَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
صاف آبی ذخائر پہ شب خون کی داستانِ ستم ختم ہونے کو ہے
اوجھ،لدر،سرو،پونچھ،نیلم،توی نیر چَھل کی قسم،جھیل ڈل کی قسم!
-
اے وطن تیری سونا اگلتی زمیں غاصبوں سے چھڑائیں گے ہم ایک دن
تیرے زرقون پکھراج فیروزہ روبی اوپَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
تیرے مقبول و برہان کٹتے رہیں ، تیرے یاسین جیلوں میں پستے رہیں
تیری عزت کا سودا کریں گے نہیں انڈا سَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
ہم وطن ایکتا کا ارادہ کریں ، باڑ کیا چیز ہے باڑ کٹ جائے گی
خطے مل کر رہیں گے ابد کی قسم ہے ازل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
جموں کشمیر و اقصائے تبت تلک وادی وادی بہاروں سے بھر جائے گی
لالہ،گیندا،بنفشہ،جمبیلی،گلاب اور کنول کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
ڈوڈا،سامبہ،ریاسی،اننتناگ سے کارگل،شوپیاں،لیہہ،ادھم پور تک
سارے شہروں میں امن و اماں لائیں گے راج دَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
مِلْواں تہذیب کے گمشدہ قافلے،ایک دھارے میں لائیں گے سب سلسلے
ہندو مسلم کا فرق اس ضمن میں نہیں،گنگا جَل کی قسم،جھیل ڈل کی قسم!
-
کیا تمدن تھا جس کی پھبن بجھ گئی،خون دے کر نکھاریں گے وعدہ رہا
ہم کو سوگند تیرے برے حال کی!اچھے کل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
واکھ اور روف گیتوں کی میٹھی دُھنیں سُر بہ سُر یاد ہیں،مل کے گائیں گے سب
حبہ خاتون و روپا بھوانی کی سو ، دِیدِی لَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
حق طلب وارثو، اٹھ چلو دل جلو ، اپنی جاگیر اپنا وطن چھین لو!
ہے تمہیں روضۂ شاہِ ہمداں و درگاہِ بَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
ہم مسلماں اگر ایک ہو کر رہیں،کوئی طاقت ہمیں توڑ سکتی نہیں
غزوۂ ہند کی ہے بشارت ہمیں،اس جَدل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-
میرا پہلا تعارف ہے میری زمیں،کاشر اس کے بنا میں تو کچھ بھی نہیں
میرا رزقِ سخن سب ہے نذرِ وطن،اس غزل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
شوزیب کاشر~