Shozaib Kashir - poet

Shozaib Kashir - poet shozaib kashir ,rawalakot Azad Kashmir
welcome to my page

07/06/2026

اے وطن! خود کو آزاد دیکھے گا تو ، شیر دَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
دن پھریں گے ترے،ربِّ عزَّ و جَل،لم یزل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

عالمی بےحسی ہے جو کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا آج تک
اب کریں گے ہمیں مسئلہ اپنا حل،ہم کو حَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

یہ ہمارے تشخص کا ہے مسئلہ ہم کو معلوم ہے اس کا کرنا ہے کیا
ہم پہاڑی ہیں مرنے سے ڈرتے نہیں حق اَجل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!

-

ایشیا پھر سے دیکھے گا بیٹے ترے اپنی تابندہ تاریخ دہرائیں گے
سرخ جھنڈا ہر اک سمت لہرائیں گے، تیرے ہَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

کشتی بان اپنے حق کے لیے جب اٹھے دلی والوں کے ایوان ہل جائیں گے
مانسَر ، گِل سر ، آنچار ، کوثر ، وُلر ، نام بَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

صاف آبی ذخائر پہ شب خون کی داستانِ ستم ختم ہونے کو ہے
اوجھ،لدر،سرو،پونچھ،نیلم،توی نیر چَھل کی قسم،جھیل ڈل کی قسم!
-

اے وطن تیری سونا اگلتی زمیں غاصبوں سے چھڑائیں گے ہم ایک دن
تیرے زرقون پکھراج فیروزہ روبی اوپَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

تیرے مقبول و برہان کٹتے رہیں ، تیرے یاسین جیلوں میں پستے رہیں
تیری عزت کا سودا کریں گے نہیں انڈا سَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

ہم وطن ایکتا کا ارادہ کریں ، باڑ کیا چیز ہے باڑ کٹ جائے گی
خطے مل کر رہیں گے ابد کی قسم ہے ازل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

جموں کشمیر و اقصائے تبت تلک وادی وادی بہاروں سے بھر جائے گی
لالہ،گیندا،بنفشہ،جمبیلی،گلاب اور کنول کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

ڈوڈا،سامبہ،ریاسی،اننتناگ سے کارگل،شوپیاں،لیہہ،ادھم پور تک
سارے شہروں میں امن و اماں لائیں گے راج دَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

مِلْواں تہذیب کے گمشدہ قافلے،ایک دھارے میں لائیں گے سب سلسلے
ہندو مسلم کا فرق اس ضمن میں نہیں،گنگا جَل کی قسم،جھیل ڈل کی قسم!
-

کیا تمدن تھا جس کی پھبن بجھ گئی،خون دے کر نکھاریں گے وعدہ رہا
ہم کو سوگند تیرے برے حال کی!اچھے کل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

واکھ اور روف گیتوں کی میٹھی دُھنیں سُر بہ سُر یاد ہیں،مل کے گائیں گے سب
حبہ خاتون و روپا بھوانی کی سو ، دِیدِی لَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

حق طلب وارثو، اٹھ چلو دل جلو ، اپنی جاگیر اپنا وطن چھین لو!
ہے تمہیں روضۂ شاہِ ہمداں و درگاہِ بَل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

ہم مسلماں اگر ایک ہو کر رہیں،کوئی طاقت ہمیں توڑ سکتی نہیں
غزوۂ ہند کی ہے بشارت ہمیں،اس جَدل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!
-

میرا پہلا تعارف ہے میری زمیں،کاشر اس کے بنا میں تو کچھ بھی نہیں
میرا رزقِ سخن سب ہے نذرِ وطن،اس غزل کی قسم،جھیل ڈَل کی قسم!

شوزیب کاشر~

چھلا جب کوئی زخم دیرینہ، جاگی نمائش کی خواہشنگارش نگارش سلگتی ہے جیسے ستائش کی خواہشبڑی مشکلوں سے بنائی گئی ایک صورت کی ...
01/06/2026

چھلا جب کوئی زخم دیرینہ، جاگی نمائش کی خواہش
نگارش نگارش سلگتی ہے جیسے ستائش کی خواہش

بڑی مشکلوں سے بنائی گئی ایک صورت کی صورت
بڑی کوششوں سے جھٹائی گئی ایک کاوش کی خواہش

ارے پھر تو اچھے ہمی ہیں اگر یہ تہی دامنی ہے
تمنائے جاہ و حشم ہے،نہ لطف و نوازش کی خواہش

رہِ خوشہ چینانِ الفقر فخری،کوئی کھیل ہے کیا!
نہ عہدے کی لالچ،نہ منصب کی پروا،نہ بخشش کی خواہش

علی الرغمِ دانش عجب اہلِ بینش کا معیار دیکھا
اٹھانے کی دُھن ہو،خوشامد کا گُن ہو یا پالش کی خواہش

زہے سادگی ہم فقیروں کو دنیا لبھائے تو کیسے
نہ کمخواب کی آرزو ہے،نہ زر بفت پوشش کی خواہش

دلِ نا شکیب اور کیا چاہتا ہے سہولت سے گریہ
دلاسے کی حاجت،نہ پرسے کی چاہت،نہ پرسش کی خواہش

خجستہ قدم کون مہمان آتا ہے اھلاً و سھلاً
مکیں سے زیادہ مکاں کو ہے جس کی رہائش کی خواہش

سیہ ہول کی ہولناکی ہے کیا ہم ستاروں سے پوچھو
نہ مرکز کا جھگڑا،نہ محور کا چکر،نہ گردش کی خواہش

دریغا! ہلاکت ہے اللہ بجائے کہ دھر لے کسی کو
زمین و زن و زر یا ایسی کسی آزمائش کی خواہش

ادب میں سیاست کا کھیل آپ کھیلیں کہ خاص آپ کو ہے
تعصب کی خارش ،تکبر کا کیڑا،نمائش کی خواہش

وہ بدلا کچھ ایسے دھری کی دھری رہ گئی دل کی دل میں
وہ حسرت کی حسرت،وہ ارماں کا ارماں،وہ خواہش کی خواہش

قریں تھا کہ تشنہ لبی رنگ لاتی مگر اس سے پہلے
ہوا ہو گئی وقت کی گرد میں پہلی بارش کی خواہش

یہ کیا قہر ڈھائے گی،خود ہی بتائے،گی ہم کیا بتائیں
رگیں پھاڑتی،دھاڑتی،خون پروَردہ یُورش کی خواہش

اٹھارہ دسمبر: تشنج سے مملو،وہ گردن شکن دن
کہ نس کیا دبی ساتھ ہی دب گئی ناز بالش کی خواہش

فضا منفرد،کیمیا مختلف،رنگ الگ، ڈھب جدا ہے
کہ غالب پرستوں کو ججتی نہیں طرزِ آتش کی خواہش

سخنور بکاؤ زیادہ ہیں مانا پہ واللہ بعضے
خوشا بے نیازی!نہیں جن کو تل بھر سفارش کی خواہش

سخن شورشوں سے پرے ایک دنیا سکوں ہی سکوں ہے
جہاں کوئی فتنہ طرازی ہے کاشر،نہ سازش کی خواہش

شوزیب کاشر ~

23/05/2026

Voice over artist, Eatisam ul haq
Thank you so much

مری نس نس جو یوں مہکی ہوئی ہے دیارِ جاں میں خوشبو نعت کی ہےدلوں میں زندہ شوقِ پیروی ہے''یہ سب عشقِ نبی کی روشنی ہے''نبی ...
14/05/2026

مری نس نس جو یوں مہکی ہوئی ہے
دیارِ جاں میں خوشبو نعت کی ہے

دلوں میں زندہ شوقِ پیروی ہے
''یہ سب عشقِ نبی کی روشنی ہے''

نبی کی سیرت و سنت پہ چل کر
حیات آسودہ خاطر کٹ رہی ہے

زمین و آسماں پر تا قیامت
حکومت آپ کی تھی آپ کی ہے

ارے او زائرِ کوئے رسالت
ادب سے جا ! حضوری کی گھڑی ہے

مکمل آپ پر قصرِ نبوّت
یہی تھی جو کہ خشتِ آخری ہے

شفاعت کا جسے مژدہ سنا دیں
وہ عاصی تو مقدر کا دھنی ہے

اغثنی یا رسول اللہ اغنی
چلے آؤ کہ وقتِ جاں کنی ہے

فرشتے چار سو سایہ فگن ہیں
درود ِ پاک کی محفل سجی ہے

جو اپنے دشمنوں کو بھی اماں دے
کمال اس شاہ کی دریا دلی ہے

جو پتھر کھا کے بھی پیہم دعا دے
مرے سرکار جیسا کیا کوئی ہے

پسِ مرگ آپ کا جلوہ عطا ہو
یہی میری تمنا آخری ہے

ثنائے مصطفی پر صرف ہو گی
خدایا تو نے جو توفیق دی ہے

ملک عارض بچھائے منتظر ہیں
سواری مصطفی کی آ رہی ہے

دلوں کے بھید جانت ہے مرا رب
مری نیت کہاں اس سے چپھی ہے

علی شیرِ خدا ہے شاہ مرداں
علی خیبر شکن، سیف الجلی ہے

علی کو واقفِ اسرارِ کُن، جان
علی تو بابِ شہرِ آگہی ہے

بحمد اللہ حسینی ہوں حسینی
مارا ملجا مرا ماویٰ علیؓ ہے

علامانِ علی کی شاں نرالی
قلندر مست نعرہ حیدری ہے

اسے کیا فکرِ محشر ،خوفِ دوزخ
نبی کا امتی جو پنجتنی ہے

تمہارے شہر کی آب و ہوا میں
کشش جیسے کہ مقناطیس کی ہے

نکل جائے نہ ساعت حاضری کی
اسی کارن ہمیں جلدی پڑی ہے

مرے وارے نیارے ہو گئے ہیں
مدینے میں ڈیوٹی لگ گئی ہے

وہ جب سے خواب میں تشریف لائے
مرے اندر کی حالت دیدنی یے

اسی کارن ہوں میں خوشحال کاشر
فروغِ نعت میری نوکری ہے

فروغِ نعت کا صدقہ ہے کاشرؔ
جو دنیا میں مجھے عزت ملی ہے

شوزیب کاشر ~

04/01/2026

Address

Kowloon

Telephone

+923333751055

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shozaib Kashir - poet posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Shozaib Kashir - poet:

Share

Category