Rizwan Akram Class room

Rizwan Akram Class room im a Teacher/Trainer by profession and a continuous learner by passion. if you want to be my Teacher than you are Most welcome

01/05/2024

ون-ان-60

زندگی میں بڑی دریافتیں صحیح جوابات تلاش کرنے سے نہیں، بلکہ صحیح سوالات پوچھنے سے ہوتی ہیں۔

صحیح وقت پر پوچھا گیا صحیح سوال آپ کی زندگی بدل سکتا ہے:

دنیا کو مختلف نظریے سے دیکھیں۔
اپنی پریشانی کا جائزہ نئے زاویے سے لیں۔
اپنے غلط مفروضوں کو بے نقاب کریں۔
اپنے محدود کرنے والے عقائد کو ڈھونڈ کریں۔
پچھلے کئی برسوں سے، میں نے اپنے دوست ساحل سے سیکھتے ہوئے ایسے سوالات کی فہرست بنائی ہے جنہوں نے میرے کام کرنے، چلنے، جینے اور محبت کرنے کے طریقے کو بدل دیا ہے۔

میں آپ سے سات سوالات پوچھوں گا جن کا میری زندگی پر گہرا اثر پڑا ہے.

سوال نمبر 1

اگر میں آج کے دن کو 100 دن تک مسلسل دوہراؤں، تو کیا میری زندگی بہتر ہوگی یا بدتر؟
یا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؟

ہم اپنی زندگی کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں۔

یہ ہمارے روزانہ کے عمل کے معیار کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیتا ہے اور یہ جانچنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ہم صحیح راستے پر ہیں یا نہیں۔

باقاعدگی سے، اپنے آپ سے یہ سوال کر کے خود کو بیرونی نظر سے دیکھیں:

آپ کے روزمرہ کی روٹین آپ کی زندگی کو کس طرح آگے بڑھا سکتی ہے؟

کیا وہ آپ کو آپ کے مقاصد اور منزل کی سمت میں آگے لے جا رہی ہے؟

کیا وہ آپ کو راستے سے ہٹا رہی ہے؟

ون-ان-60 کا قاعدہ یاد رکھیں: 1-ان -60 کا قاعدہ ایک نیویگیشنل اصول ہے جو خاص طور پر ہوابازی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ دیگر شعبوں میں بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس قاعدے کے مطابق، اگر ایک جہاز اپنے مقررہ راستے سے صرف ایک ڈگری بھٹک جاتا ہے، تو وہ ہر 60 میل کی پرواز کے بعد اپنی اصل منزل سے تقریباً ایک میل دور ہو جائے گا۔

یہ قاعدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ چھوٹی غلطیاں بھی، جو شروع میں نظر انداز کی جا سکتی ہیں، فاصلہ اور وقت کے ساتھ کس طرح بڑھ سکتی ہیں اور بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے، یہ ضروری ہے کہ مسلسل جائزہ لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر بروقت تصحیح کی جائے تاکہ درست سمت میں سفر جاری رکھا جا سکے۔ اس قاعدے کو زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے. آپ کا ہردن یا تو آپ کو منزل کے قریب لے کر جا رہا ہے یا اس سے دور ہٹا رہا ہے.

زرا پھر سوچئے :

اگر میں آج کے دن کو 100 دن تک مسلسل دوہراؤں، تو کیا میری زندگی بہتر ہوگی یا بدتر؟
یا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؟
اس سوال کا جواب آپ کو اگلے سوال تک پہنچا دے گا.

عارف انیس

22/04/2024

بس %1 روزانہ!!!!

آج 2024 کو طلوع ہوئے 112 دن ہونے کو ہیں. ماہرین کے مطابق 4 جنوری سے ہی نیو ائیر ریزولیوشن گول مول ہونے شروع ہو جاتے ہیں. 9 جنوری تک بس، سو میں سے کوئی 7 فیصد کے آس پاس دیوانے ڈٹے رہ جاتے ہیں. تو آج ہم بڑی بڑیں ہانکنے کی بجائے، چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے ہیں. 100 فیصد کی بجائے 1 فیصد کی بات کرتے ہیں.

خوب بڑے ہو جائیں، پھل پھول جائیں،یا دبلے ہوجائیں، چوکس ہوجائیں، روز کے کھلے کٹے روز باندھتے جائیں، سٹریس نہ لیں، صحت مند عادات اپنا لیں، بل گیٹس نہ بنیں، جیف بیزوس اور ایلان مسک بھی مت بنیں، وہی رہیں جو ہیں، بس آج %1 کل سے بہتر ہوجائیں.

کایا پلٹ ہر ایک کو پسند ہے. یہ وہ کہانی ہے جو ہر ایک کے دل سے کلام کرتی ہے. محبت ہوئی، دل تڑخا، بس یہ ہوگیا، مرشد نے نظر کرم کی، مقدر بدل گئے. دس ڈالر جیب میں رہ گئے تھے، سو ملین ڈالرز کی لاٹری نکل آئی. یہ سب مَزے کا ہے، مگر فلمی ہے. جو زندگی روز گزارنی پڑے اس سے غیر متعلق ہے. یہ سب تو آپ کرنے چکے ہیں. سال ختم ہونے ہر نئی ڈائری اور اس میں لکھے جانے والے گول، وزن کم کرنے کے منصوبے، کتابیں جو پڑھنی تھیں، سفر جو کرنے تھے، مگر ادھورے رہ گئے. کایا پلٹنے کو بھول جائیں، بس ایک گھنٹہ روز کا وعدہ کر لیں، زندگی میں جہاں بھی موجود ہیں، کام میں، بزنس میں، برتاؤ میں، اخلاق میں، رشتوں میں، بس ایک فیصد بہتر ہوجائیں. صرف %1 روزانہ کی گارنٹی چاہیے.

یہی کائیزان( Kaizen) کی فلاسفی ہے. بہت سے لوگ اسے بنیادی طور پر جاپانی فلسفہ سمجھتے ہیں. لفظ جاپانی ہے، مگر یہ فلسفہ پہلے امریکیوں نے جاپان کو سکھایا. پھر خود بھول گئے تو جاپانیوں نے واپسی انہیں سکھایا.

پش اپس کرنے والے ہر روزانہ ایک پش آپ بڑھا کر دیکھیں. رات کو اپنے آپ کو ڈسپلن کرنے والے دس منٹ سے ابتدا کریں. کتاب لکھنے کے خواہش مند ہر روز ایک صفحہ لکھتے جائیں. کھانا کم کرنے کے خواہش مند دس کیلوریز روزانہ کم کرنے جائیں. پیدل چلنے قافلے ہر روز دس قسم چلیں، اور پھر دس قدم روز بڑھاتے جائیں.

کامیابی کے ماہرین سے کامیابی کا نسخہ پوچھیں تو وہ ملتی جلتی بات ہی بتاتے ہیں. "بس آدھ درجن چیزیں پکڑ لو اور انہیں ہزار بار کر لو، اگر بہت ہی کرنا ہے تو پانچ ہزار بار کر لو، دوہرا لو، زندگی اسی ڈگر پر ڈھل جائے گی. کچھ لوگ اس جادوئی عادت جو" کمپاؤنڈ ایفیکٹ "کا نام بھی دیتے ہیں.

فارمولا بالکل سادہ سا ہے. پانچ چھوٹی سی چیزیں پکڑیں جو دس منٹ کے اندر ہوسکیں، پھر کر نا شروع کریں اور ہزار دن تک کرتے جائیں. ہم غلطی ایک ہی کرتے ہیں. ایک دن میں بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، اور کر نہیں پاتے. بہت سے دنوں میں بہت کچھ کرسکتے ہیں، مگر کرتے نہیں ہیں.

کام کی ایک بات سن لی ہے، بہت ہے. اچھی باتوں کا چسکہ مت ڈالیں، اٹھیں اور کر ڈالیں. بہت سے لوگ پوری زندگی اقوال زریں اور اچھی باتیں جمع کرتے کرتے ایک عدد زندگی تمام کر بیٹھتے ہیں. سو اچھی باتیں جمع کرنے سے ایک اچھی بات پر عمل کر گزرنا افضل ہے.

آج آپ جہاں بھی موجود ہیں، جو کچھ جانتے ہیں، جتنے امکانات آپ کے سامنے موجود ہیں، جتنی مہارتیں آپ بے سیکھی ہوئی ہیں، یہ سب آپ کے طرز عمل اور روٹین کا نتیجہ ہے.

آپ کی زندگی، لمحہ بہ لمحہ انتخاب کا نتیجہ ہے. یہ یہ انتخاب اگر آپ خود نہیں کر رہے تو کوئی اور کر رہا ہے. اور کل آپ کو اس انتخاب پر راضی ہونا ہوگا.

اگر ایک جہاز کی سمت، پرواز کے وقت صرف %1 اپنی منزل سے مختلف ہو، تو دس گھنٹے کے سفر میں وہ اپنی منزل سے ہزار میل دور جا چکا ہوگا.

یاد رکھیں، آپ کا آج کا انتخاب، آپ کا کل بنا رہا ہے. کون سا سیاست دان کتنا بدعنوان ہے، اس بارے میں مزید معلومات آپ کی صحت اور امید میں اضافہ نہیں کریں گی اور نہ ہی تازہ ترین سکینڈل پر آپ کی مہارت آپ کے مستقبل میں کوئی تبدیلی لائے گی. صرف آنکھیں مت کھولیں، جاگیں. آپ کی سوچ اور آپ کا وقت بہت قیمتی ہے. اگر سوچ میں کچرا بھریں گے تو کچرا باہر آئے گا.

بولیے، آج اپنے کام میں، عشق میں، محبت میں، خدمت میں،ورزش میں، رشتوں میں، فرض میں، بندوں کے ساتھ، رب کے ساتھ معاملات میں %1 کیا ہے جو آپ بہتر کر سکتے ہیں؟

بس صرف ٪1 فیصد روزانہ!

عارف انیس

ری براڈ کاسٹ!!!

09/04/2024

کسی بھی کھیل کے مقابلے میں شامل ہونے والے ہر کھلاڑی کی نظر گولڈ میڈل پہ ہوتی ہے۔
گولڈ میڈل تک پہنچنے کے لئے لوگ مختلف قسم کے راستے بناتے ہیں۔
کچھ لوگ سفارش ڈھونڈتے ہیں۔
کچھ کھیل میں چیٹنگ کا پلان لے کے آتے ہیں۔
کچھ قسمت کے جادو کا انتظار کرتے ہیں۔
کچھ معجزے پہ آس لگا کے بیٹھتے ہیں۔
کچھ اپنے لئے جعلی گولڈ میڈل بنانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔
کچھ ریفری یا کھلاڑیوں کو خریدنے کا پلان بناتے ہیں۔
کچھ میڈل چرانے کی سوچتے ہیں۔

جب کچھ لوگ تو گولڈ میڈل پانے کے لئے گھر بیٹھے ہی اس کی خواہش کرتے ہیں۔ کبھی کھیل میں شامل نہیں ہوتے۔

بہت کم ہوتے ہیں، جو تیاری کرتے ہیں۔ اپنا بہترین دیتے ہیں۔ کر دکھاتے ہیں۔ اور گولڈ میڈل پا لیتے ہیں۔

آپس کے رشتوں میں بھروسے کی حیثیت گولڈ میڈل کی سی ہے۔

آپ بھروسہ صرف جیت سکتے ہیں۔
نہ بھیک کی طرح مانگ سکتے ہیں۔
نہ ڈیمانڈ کر سکتے ہیں۔
نہ فیک کر سکتے ہیں۔
نہ خرید سکتے ہیں۔
نہ چرا سکتے ہیں۔

کسی کا بھروسہ چاہئے تو بھروسہ جیتنے کی تیاری پکڑیں۔ بھروسہ بھلا ڈیمانڈ کرنے سے کب آتا ہے۔ بھروسہ تو جیتا جاتا ہے، گولڈ میڈل کی طرح۔

زندگی بدلنے والی 100 جدید کتابیں کتاب نمبر - 14مست الست جئیں!The Subtle Art of Not Giving a F*ckمارک مینسن ایک امریکی بل...
28/03/2024

زندگی بدلنے والی 100 جدید کتابیں



کتاب نمبر - 14

مست الست جئیں!

The Subtle Art of Not Giving a F*ck

مارک مینسن ایک امریکی بلاگر اور مصنف ہیں جن کی کتابیں پرسنل ڈیولپمنٹ، فلسفہ، اور ثقافتی تجزیے کے موضوعات پر ہیں۔ وہ ایک سادہ اور دوٹوک انداز کے ذریعے قارئین کو سمجھانے کے لیے طنزیہ انداز کو استعمال کرتے ہیں۔ اپنی بےباکی کے باعث انہیں کافی شہرت اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے؛ کچھ لوگ ان کو ایک تروتازہ آواز اور روایتی موٹیویشنل انڈسٹری کا باغی سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے ان کے انداز اور نقطہ نظر کو بہت زیادہ سخت اور منفی گردانتے ہیں۔

مینسن کا ایک اہم خیال یہ تھا کہ موٹیویشنل انڈسٹری ایک ایسے ماڈل پر کام کرتی ہے جو نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔ روایتی طور پر، سیلف ہیلپ کی کتابیں ہمیشہ مثبت سوچ اپنانے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ یہ نقطہ نظر، مینسن کے مطابق، فطری طور پر غیر حقیقی ہے اور یہ کہتا ہے کہ ہمیں مستقل طور پر خوش رہنے کی گیدڑ سنگھی تلاش کرنی چاہیے اور کسی بھی منفی احساسات یا تجربات سے بچنا چاہیے۔

مینسن اس تصور کو چیلنج کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ زندگی میں مشکلات اور مایوسی ناگزیر ہیں۔ اور حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہوتی ہے جب ہم ان مشکل لمحات کا سامنا کرنے کے لیے حوصلہ اور قابلیت کو پیدا کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ یہ مشکلات ہی ہیں جو ہمیں انسان کے طور پر آگے بڑھنے کے قابل بناتی ہیں، اور مسلسل خوشی یا ہمیشہ بہترین ورژن بننے کی تگ و دو میں دوڑتے رہنے سے ہم حقیقی معنوں میں زندگی نہیں گزار پاتے ہیں.

مارک مینسن کی تحریریں اور اثر انداز گفتگو نے انٹرنیٹ پر کافی شہرت پائی اور اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنی کتاب “The Subtle Art of Not Giving a F*ck” لکھی۔ اس کتاب میں وہ اسی فلسفہ کو وسعت کے ساتھ آگے لے کر جاتے ہیں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مشکلات کو قبول کرنا، اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا اور ہمیشہ کامل بننے کے زعم سے آزاد ہونا، یہیں وہ بنیادی عناصر ہیں جو ہمیں حقیقی معنوں میں ایک بھرپور زندگی کی طرف لے کر جاسکتے ہیں۔

1. ہر بات کو نظرانداز کرنے کا ہنر (The Subtle Art of Not Giving a F*ck): ہر چھوٹی بڑی بات کے بارے میں فکر کرنا، پریشان ہونا، اور دباؤ لینا آپ کی توانائی اور وقت کا ضیاع ہے۔ زندگی میں کچھ چیزوں کی طرف توجہ نہ دینا، انہیں نظر انداز کرنا اور جانے دینا آپ کو حقیقی معنوں میں سکون فراہم کرتا ہے۔ اپنی قوتِ ارادی اور توجہ صرف ان لوگوں، تجربات، اور مقاصد پر صرف کریں جو آپ کے لیے حقیقت میں قدر و قیمت رکھتے ہوں۔

2. خوش رہنے کی کوشش نہ کریں (Don’t Try): مستقل اور ہمہ وقت خوشی ایک غیر حقیقی اور نقصان دہ مقصد ہے۔ منفی احساسات اور مشکل لمحات زندگی کا ناگزیر حصہ ہیں۔ یہی مشکل لمحات آپ کے اندر موجود صلاحیت کو نکھارتے، ترقی کی راہ ہموار کرتے، اور آپ کو مستقبل کی کامیابی کی جانب لے کر جاتے ہیں۔ منفی حالات سے گھبرانے کے بجائے، ان تجربات سے سیکھنے کی کوشش کریں۔

3. تم خدا کے بھیجے ہوئے اوتار نہیں ہو (You Are Not Special): موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی پرکشش تصاویر اور یوٹیوب کی کامیابی کی کہانیاں ہم میں سے ہر ایک کو مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی زندگی کو نمایاں دکھانے کی کوشش کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر ہمیں عام یا متوسط زندگی گزارنی ہوتی ہے، اور اس میں کوئی برائی نہیں۔ اپنی حقیقت کو تسلیم کرنا خودشناسی کا پہلا زینہ ہے۔ اپنے مقصد پر توجہ مرکوز کرنے اور اس کی آبیاری میں محنت کرنے کی بجائے، اس خواہش کے دام میں پھنسنے سے بچیں کہ آپ اس دنیا میں کسی انوکھے مشن کو سرانجام دینے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

4. قدر کا پیمانہ (The Value of Suffering): مشکلات، تکالیف، اور منفی تجربات زندگی کا ناگزیر حصہ ہیں۔ آپ کے تجربات کے ساتھ آپ کے ردعمل، رویے اور آپ کی کوششیں مل کر وہ قدر بناتی ہیں جو انسان کے طور پر آپ کی ترقی میں معاون ہوتی ہیں۔ تکالیف اور ناکامیوں سے بھاگنے کے بجائے، ان تجربات کا سامنا کرتے ہوئے ان سے سیکھیں۔ اپنے آپ کو مستقبل میں بہتر فیصلے بنانے اور مشکلات میں ہمت نہ ہارنے کا سبق دیں۔

5. آپ ہمیشہ انتخاب کر سکتے ہیں (You Are Always Choosing): زندگی میں بہت سے ایسے حالات و واقعات ہوتے ہیں جن پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ لیکن ہم ان حالات کے بارے میں اپنے رویے کو ضرور منتخب کر سکتے ہیں۔ اپنی ذمہ داری کو قبول کریں اور فیصلہ کریں کہ آپ کیسے جواب دیں گے، چاہے صورتحال کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ حالات کا مقصد آپ کو ناکارہ ثابت کرنا نہیں، بلکہ وہ تو بس یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ مشکل لمحات میں کس طرح کے رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

6. آپ چول ثابت ہونے کو تیار رہیں (You Are Wrong About Everything): یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہمیشہ بہت کچھ ایسا ہے جو ہم نہیں جانتے، اور ہم سب سے بڑی غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی قابلیت سے آپ نئے نقطہ نظر اور تعمیری تبدیلی کے لیے تیار رہ سکتے ہیں۔ ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو اپنی غلطیوں کو چھپانے کے چکر میں ہر بحث کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی اصلاح پر تیار نہیں ہوتے۔ جو جان بوجھ کر اپنی غلطیوں میں الجھے رہتے ہیں وہ دراصل اپنی ترقی اور تعمیر کے راستے خود ہی مسدود کر رہے ہوتے ہیں۔

7. ناکامی ترقی کی جانب ایک قدم ہے (Failure Is the Way Forward): ناکامی سیکھنے کے عمل کا ایک حصہ ہے۔ اپنی ناکامیوں کو اپنی صلاحیتوں کا آئینہ سمجھنے کے بجائے، انہیں ترقی اور مستقبل میں بہتر کارکردگی کے مواقع کے طور پر دیکھیں۔ ہر ناکامی دراصل آپ کو ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ آپ ایک مخصوص طریقہ کار پر نظرثانی کریں یا کسی نئے مشن کا آغاز کریں۔ ہر ناکامی کے بعد ہمت نہ ہاریں بلکہ اس سے ہمت سیکھیں۔

8. کسی چیز کے لیے کھڑا ہونے کی اہمیت (The Importance of Saying No): ہر ہاں ایک ایسی چیز کی قیمت ہے جو آپ نہیں کر پاتے۔ اپنے وقت اور توجہ کی حفاظت کریں اور بار بار ایسے مواقع کو مسترد کر دیں جو آپ کی ترجیحات اور اہداف کے مطابق نہیں ہیں۔ ہر کام، دعوت ، یا رشتے کے لیے ہاں کہنا آپ کو اپنی اصل منزل سے دور لے جا سکتا ہے۔ اپنا مقصد متعین کریں اور اس پر قائم رہیں۔ ہر ایک کو خوش کرنے کی بلاسود کوشش میں جان سے مت جائیں کہ مرغی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گی اور کھانے والے کو مزہ بھی نہیں آئے گا.

9. زندگی تو مارے گی (And Then You Die): موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ اپنی فانی زندگی کو تسلیم کرکے آپ اپنی قیمتی زندگی کے لیے بہتر فیصلے کر پائیں گے۔ اپنی محدود زندگی کو ایسے تجربات اور لوگوں کے ساتھ گزاریں جو آپ کے لیے معنی خیز ہیں۔ اپنی قیمتی توانائی اور قوت ارادی ایسی چیزوں پر صرف کریں جن کی انجام دہی اور نتیجے آپ اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتے ہوں۔

10. آپ اپنے خیالات کے بندے نہیں ہیں (You Are Not Your Feelings): ہم ہمیشہ اپنے جذبات اور خیالات کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک طاقتور بات یہ ہے کہ ہم ان کا ردعمل منتخب کر سکتے ہیں۔ خود کو تربیت دیں کہ منفی خیالات یا احساسات میں نہ بہیں۔ ان کا مشاہدہ کریں، انہیں اپنا حصہ تسلیم کریں، لیکن ان کا مرکز بننے سے گریز کریں۔ اپنے احساسات اور خیالات سے علیحدہ رہنے کی مشق آپ کو جذباتی اتار چڑھاؤ کے باوجود ذہنی سکون حاصل کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

11. خود پسندی کے لیے بہتر راستہ چنیں (A Better Problem to Have): اپنا مقصد تلاش کریں: کوئی ایسا کام یا مشن جو آپ کے لیے ذاتی طور پر بامعنی ہو، جس کی تکمیل کے لیے آپ لگن اور پرعزم ہوں۔ یہ عمل آپ کی زندگی کو مزید معنیٰ اور مقصد بخشتا ہے۔ ایسا مقصد تلاش کریں جو آپ کو خود غرضی اور لالچ سے دور لے کر جائے، اور آپ کو ایک بہتر انسان بنا سکے۔

12. عاجزی اور قابلیت کی قیمت (The Virtues of Maturity): اپنی خامیوں کو تسلیم کریں اور اس بات کو سمجھیں کہ آپ سے بہتراور آپ سے زیادہ قابل لوگ بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔ اپنی ذات سے بالاتر مقاصد کی خدمت پر توجہ دیں۔ ایک ایسا نقطہ نظر اپنائیں جو آپ اور آپ کے آس پاس کے لوگوں کے لیے تعمیری ہو۔ اپنے علم، اپنی دولت یا اپنی صلاحیتوں کا غرور نہ کریں بلکہ دوسروں کو مدد فراہم کرنے میں ان وسائل کو استعمال کریں۔

13. مرجاو مگر اپنا کہا پورا کرو (Commitment): کسی چیز یا کسی رشتے کے ساتھ طویل مدتی وابستگی ہی حقیقی ترقی کو فروغ دیتی ہے۔ کامیاب رشتوں، کیریئر اور زندگی کے اہداف کے لیے لگن اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کریں۔ کسی بھی قابل قدر مقصد کے حصول کی کنجی لگن اور استقامت ہے۔ اس بات کو یاد رکھیں کہ لمبے سفر کا اولین قدم بہت چھوٹا ہوتا ہے، لیکن استقامت سے چھوٹے چھوٹے قدم ملتے ہوئے ایک طویل سفر طے کرتے ہیں۔

یہ کتاب کیوں مختلف اور اہم ہے؟ مینسن کی کتاب سیلف میڈ ازم کے بارے میں عام تصور سے ایک دلچسپ اور طاقتور تبدیلی ہے۔ منفی رویوں کے ردعمل میں ہمیشہ مثبت سوچ اپنانے پر زور دینے کے بجائے، وہ زندگی میں مشکلات کو قبول کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہمیں زندگی کے ناگزیر اتار چڑھاؤ سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دیتا ہے۔

مارک مینسن کی کتاب "The Subtle Art of Not Giving a F*ck" نے پرسنل ڈیولپمنٹ کی صنعت میں ایک انوکھا طوفان برپا کیا ہے۔ یہ روایتی طور پر پائی جانے والی، ہمیشہ مثبت سوچ اپنانے والی کتابوں کی براہِ راست ضد ہے۔ مینسن کی یہ کتاب ایک انوکھا فلسفہ پیش کرتی ہے کہ مستقل طور پر خوش رہنے کی جستجو نہ صرف غیر حقیقی اور ناقابل حصول ہے بلکہ حقیقی معنوں میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے رکاوٹ بھی بن سکتی ہے۔ ان کا اس بات پر زور ہے کہ حقیقی کامیابی کا راستہ زندگی میں آنے والی مشکلات، خامیوں اور مایوسی کے تجربات کو قبول کرنے سے نکلتا ہے۔ یہ کتاب روایتی ذاتی بہتری کی صنعت کو چیلنج کرتی ہے اور قارئین کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کمال اور مثالی بننے کی دوڑ سے پاک ہو کر زیادہ حقیقی اور تسلی بخش زندگی کی طرف بڑھیں۔

اس کتاب کی مقبولیت نے پرسنل ڈیولپمنٹ انڈسٹری کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ہے کہ آیا وہ حقیقی معنوں میں لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہے یا جھوٹی تسلی کے سہارے پر اس صنعت سے وابستہ لوگ دولت اور شہرت بٹور رہے ہیں۔ "The Subtle Art of Not Giving a F*ck" کی کامیابی کے باعث اب لوگ اپنی خامیوں اور کمزوریوں پر بھی کھل کر بحث کرتے ہیں اور ان پر غور کرتے ہیں، اور اس بات کے قائل ہوتے ہوئے ہیں کہ ان خامیوں کو قبول کرتےے ہوئے بھی بہت ترقی کی جا سکتی ہے۔

مارک مینسن کی اس کتاب کو بہت سے لوگوں نے بہت زیادہ منفی اور طنزیہ ہونے کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کی یہ رائے ہے کہ یہ کہانی ذاتی بہتری کے لیے ضروری حوصلہ افزائی کے جذبے سے خالی ہے۔ دوسری طرف، کچھ لوگ اس کتاب کو نفسیاتی اور ذاتی سطح پر ناگہانی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے افراد کے لئیے سادہ اور سطحی مشوروں سے پر پاتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ کتاب اگرچہ متنازعہ ہے لیکن اس نے خود کو بہتر بنانے کے تصور کو کئی معنوں میں بدل دیا ہے اور لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مشکلات کو اپنا دشمن سمجھتے ہوئے ان سے فرار اختیار کرنے کے بجائے مشکلات کو اپنی ذات کی پرورش اور تسلی بخش کامیاب زندگی کے سفر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

عارف انیس

زندگی بدلنے والی 100 جدید کتابیں کتاب نمبر - 11نیت میں طاقت ہے ڈاکٹر وین ڈایر کی کتاب "دی پاور آف انٹینشن"کل میں نے اپنے...
24/03/2024

زندگی بدلنے والی 100 جدید کتابیں



کتاب نمبر - 11

نیت میں طاقت ہے

ڈاکٹر وین ڈایر کی کتاب "دی پاور آف انٹینشن"

کل میں نے اپنے پسندیدہ مصنف ڈاکٹر وین ڈائر کی پہلی کتاب کا خلاصہ آپ سے شیئر کیا. آج دوسری کتاب کی باری ہے. میٹا فزکس، فلسفے یا روحانیت کے کسی بھی طالب علم کے لیے، ڈاکٹر وین ڈائر لاکھوں لوگوں کے لیے تحریک کا باعث رہے ہیں۔ ڈاکٹر ڈائر چالیس برس تک نفسیاتی، روحانی مسائل اور ان سے متعلقہ موضوعات کو عوامی سطح پر سمجھنے اور پیش کرنے کے ماہر رہے ہیں۔ ان کی زندگی پر صوفیانہ تعلیمات کا گہرا اثر ملتا ہے. وہ رومی کے بہت بڑے شیدائی تھے.

ڈاکٹر وین ڈائر کی شہرہ آفاق کتاب "دی پاور آف انٹینشن" زندگی کو نئے انداز میں تخلیق کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ یہ کتاب نیت کو محض ایک خواہش کے بجائے ایک توانائی کے طور پر دیکھتی ہے، جس کے ذریعے ہم اپنی مطلوبہ زندگی کی تخلیق میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کیا آپ کبھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی زندگی ایک خودکار پائلٹ پر چل رہی ہے، اور آپ صرف اس کے مسافر ہیں؟ کیا آپ مزید کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی حقیقت کو اس سمت موڑنا چاہتے ہیں جو آپ کے لیے خوشی اور تکمیل کا باعث ہو؟ اگر ایسا ہے تو، تو ڈاکٹر وین ڈائر کی کتاب "دی پاور آف انٹینشن" آپ کے لیے ایک مثالی رہنما ہے۔

یہ کتاب ہمیں نیت کے تصور سے متعارف کراتی ہے، جو ایک ایسی طاقتور قوت ہے جو ہماری زندگیوں کو جہاں سے کہیں بھی بدل سکتی ہے۔ ڈاکٹر ڈائر نیت کو محض ایک خواہش یا خواہش کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ وہ اسے کائنات کی بنیادی توانائی کے طور پر بیان کرتے ہیں، ایک غیر مرئی لیکن ہمیشہ موجود قوت جو ہر چیز کو جنم دیتی ہے اور اسے برقرار رکھتی ہے۔

ہم کائنات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں

کتاب کا ایک مرکزی خیال یہ ہے کہ ہم اس کائنات سے الگ نہیں ہیں، بلکہ ہم اس کے ساتھ گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ہم اس توانائی کا حصہ ہیں، اور ہمارے پاس اس تک رسائی حاصل کرنے اور اسے اپنی زندگیوں میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ رسائی ہمارے خیالات، احساسات اور اعمال کے ذریعے ہوتی ہے۔

جب ہم مثبت خیالات رکھتے ہیں، مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اقدامات کرتے ہیں، تو ہم دراصل کائنات کی نیت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم اس توانائی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ چیزیں ظاہر ہوں جو ہم چاہتے ہیں۔

نیت کے 7 چہرے کون سے ہیں؟

ڈاکٹر ڈائر نیت کی توانائی کے سات مختلف پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں، جنہیں وہ "نیت کے 7 چہرے" کہتے ہیں۔ یہ چہرے ہیں:

تخلیقی صلاحیت: یہ نیت کا وہ پہلو ہے جو ہمیں نئی ​​چیزوں کو تخلیق کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تخلیقی صلاحیت کسی بھی شعبے میں ظاہر ہو سکتی ہے، چاہے وہ آرٹ ہو، موسیقی ہو، کاروبار ہو، یا ذاتی تعلقات ہوں۔

مہربانی: مہربانی نیت کا ایک انتہائی اہم پہلو ہے۔ جب ہم اپنے آپ سے اور دوسروں سے مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو ہم خود کو کائنات کی مہربانی کے ساتھ ہم آہنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہماری زندگیوں میں خوشی اور برکت کا باعث بنتی ہے۔

محبت: محبت نیت کا ایک اور طاقتور پہلو ہے جو ہمیں اپنی زندگیوں میں محبت کو راغب کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب ہم محبت پھیلاتے ہیں، تو ہم خود کو واپسی میں محبت کے لیے دروازے کھول رہے ہوتے ہیں۔

خوبصورتی: نیت کا یہ پہلو ہمیں اپنی زندگیوں میں خوبصورتی کو تلاش کرنے اور اسے تخلیق کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ خوبصورتی اندرونی اور بیرونی دونوں طرح سے ہو سکتی ہے۔

توسیع: نیت کا یہ پہلو ہماری زندگیوں میں ترقی اور وسعت کا باعث بنتا ہے۔ جب ہم ترقی اور توسیع کے لیے کھلے ہوتے ہیں، تو ہم نئی ​​چیزوں کا تجربہ کرنے اور اپنے آپ کو وسعت دینے کے مواقع کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

برکت : برکت نیت کا وہ پہلو ہے جو ہمیں اپنی زندگیوں میں کثرت پیدا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب ہم اس بات پر یقین
کرتے ہیں کہ کائنات وافر ہے، تو ہم اپنے آپ کو اس وافر بہاؤ میں شامل کر لیتے ہیں۔

ذہن سازی: ذہن سازی نیت کا وہ پہلو ہے جو ہمیں بڑی اور بہتر چیزوں سے مربوط کر کے ہمیں اپنی زندگیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ہماری ناقابل یقین حد تک طاقتور صلاحیت کو کھولتا ہے۔

نیت کا علم آپ کی زندگی کو کیسے بدل سکتا ہے

جب ہم نیت کے 7 چہروں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں تو ہم اپنی زندگیوں میں تبدیلی دیکھنا شروع کرتے ہیں۔ ہم اپنے مقاصد کے حصول میں زیادہ کامیاب ہونا شروع کرتے ہیں، ہمارے تعلقات میں بہتری آتی ہے، اور ہم اپنی زندگیوں میں زیادہ خوشی اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔

یہ تبدیلی اس لیے رونما ہوتی ہے کیونکہ جب ہم کائنات کی نیت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں تو ہم ایک طاقتور قوت یعنی کائنات کے خالق تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ کائنات ہمارے خوابوں اور خواہشوں کی تعمیل میں ہمارا ساتھ دینے کی کوشش کرتی ہے۔

نیت کو کام میں لائیں!

لیکن صرف نیت کے بارے میں جاننا ہی کافی نہیں ہے۔ ہمیں اسے اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ڈائر کتاب میں نیت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے کئی تکنیکیں پیش کرتے ہیں، بشمول:

مراقبہ: مراقبہ یا عبادت ہمیں ان شعبوں سے جوڑنے میں مدد کرتی ہے جہاں نیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہمیں اپنے خیالات اور جذبات کو ساکت کرنے اور کائناتی شعور تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

تصورات: بصری تصاویر ایک طاقتور ذریعہ ہیں جو ہمیں اپنی خواہشات کو حقیقت بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ جب ہم اپنی خواہشات کو واضح طور پر تصور کرتے ہیں تو ہم انہیں حقیقی دنیا میں ظاہر ہونے کا زیادہ امکان پیدا کرتے ہیں۔

قبولیت : قبولیت کا عمل آدھا کام پورا کر دیتا ہے۔ جب ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کچھ ممکن ہے تو ہم راستے میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کے باوجود اسے حاصل کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔

خدمت: دوسروں کی خدمت نیت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور ہماری زندگیوں میں زیادہ سے زیادہ وصول کرنے کا ایک طاقتور طریقہ ہے۔ جب ہم اپنا وقت اور وسائل دوسروں کی مدد کے لیے دیتے ہیں تو ہم برکت اور رحمت کو زیادہ وصول کرنا شروع کر دیتے ہیں.

مثالیں جو ہماری روز مرہ کی زندگیوں سے تعلق رکھتی ہیں

ڈاکٹر ڈائر نیت کو ہماری روزمرہ زندگی کے لحاظ سے قابل فہم بنانے کے لئے متعدد مثالیں فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:

مشکلات کا حل: کبھی کبھی جب مشکلات ہمیں گھیر لیتی ہیں، تو ہم اپنے مقاصد سے دور محسوس کرتے ہیں۔ ان لمحات میں، ڈاکٹر ڈائر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ نیت کا ماخذ مشکلات ہی سے نئی راہیں دریافت کرتا ہے۔

تعلقات: تعلقات کبھی کبھی چیلنجنگ ہو سکتے ہیں، لیکن نیت اس بات کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ ہمارے تعلقات محبت اور احترام پر مبنی ہوں۔ نیت کی قوت ہمیں اپنی زندگیوں میں زیادہ محبت کرنے والے اور حمایت کرنے والے لوگوں کو راغب کرنے میں مدد کرتی ہے۔

صحت اور تندرستی: نیت ہمیں بہتر صحت اور تندرستی حاصل کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ جب ہم نیت کے ان چہروں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جیسے کہ تخلیقی صلاحیت، محبت، توسیع اور برکت ، تو ہم اپنے اندر سے زیادہ صحت مند بننے کی صلاحیت کو کھول دیتے ہیں۔

خلاصہ

"دی پاور آف انٹینشن" ایک شاندار ہے جو ہمیں نیت کی غیر معمولی قوت سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سکھاتی ہے۔جب ہم نیت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا سیکھتے ہیں، تو ہم اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کی توقع کر سکتے ہیں۔ ہم بھرپور اور بامعنی زندگی گزارنا شروع کر سکتے ہیں، جو ہمارے خوابوں کے مطابق ہو۔

آپ اپنی نیت کے ذریعے اپنی دنیا تخلیق کرتے ہیں: یہ ایسا ہے جیسے آپ کائنات کو بتا رہے ہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ اگر آپ ہمیشہ منفی سوچ رکھتے ہیں تو منفی چیزیں ہی آپ کی طرف کھینچیں گی۔ اپنی نیت کو مثبت رکھیں اور اچھی چیزوں کی توقع رکھیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو ملازمت کا انٹرویو مل رہا ہے تو اپنے آپ کو اعتماد سے بھرپور اور کامیاب تصور کریں، نہ کہ فکر مند اور پریشان۔

نیت کو بجلی کی طرح تصور کریں۔ یہ آپ کے ارد گرد موجود ہے اور آپ اسے متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ مثبت نیت رکھتے ہیں تو یہ توانائی آپ کو مثبت حالات کی طرف راغب کرے گی۔ جیسے ایک مثبت اور خوش مزاج انسان دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے، اسی طرح ایک مثبت نیت کائنات کو آپ کی طرف مائل کرتی ہے۔

ماضی بدل نہیں سکتا، لیکن آپ اپنے مستقبل کو تشکیل دے سکتے ہیں۔ اپنی نیت پر توجہ دیں اور اس بات پر فوکس کریں کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں میں الجھ کر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔

اپنے آپ سے سوال کریں کہ "میں واقعی کیا چاہتا ہوں؟" اکثر ہم یہ جانے بغیر ہی زندگی گزار دیتے ہیں کہ ہم اصل میں کیا چاہتے ہیں۔ اپنی نیت کو واضح کرنے کے لیے وقت نکالیں اور غور کریں کہ آپ کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتا ہے۔

جب آپ کسی چیز کو پورا یقین کے ساتھ مانتے ہیں تو وہ چیز آپ کی زندگی میں ظاہر ہوکر رہتی ہے۔ اگر آپ کوئی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں تو اس پر شک نہ کریں۔ یقین رکھیں کہ یہ ضرور پوری ہوگی۔

آپ جو سوچتے اور بولتے ہیں وہ آپ کی نیت کو متاثر کرتا ہے۔ منفی الفاظ اور خیالات سے پرہیز کریں اور مثبت الفاظ استعمال کریں۔ مثال کے طور پر، "میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا" کی بجائے کہیں ، "میں کامیابی کے لیے تیار ہوں".

شکر گزاری ایک طاقتور جذبہ ہے جو آپ کی زندگی میں مزید اچھی چیزیں کھینچ لاتا ہے۔ ان چیزوں کے لیے شکر گزار رہیں جو آپ کے پاس پہلے سے موجود ہیں، اور آپ کو جو کچھ چاہیے وہ آپ کو مل جائے گا۔

اگر آپ کسی سے ناراض ہیں یا کسی سے معافی مانگنی باقی ہے تو ایسا ضرور کریں۔ بغض اور غصہ آپ کی نیت کو روکتے ہیں اور آپ کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔

عارف انیس

زندگی بدلنے والی 100 جدید کتابیں کتاب نمبر - 12سیپینز  SAPIENS BY YUVAL HARARIمصنف کا تعارف:یوال نوح ہراری ایک ممتاز مور...
24/03/2024

زندگی بدلنے والی 100 جدید کتابیں



کتاب نمبر - 12

سیپینز

SAPIENS BY YUVAL HARARI

مصنف کا تعارف:

یوال نوح ہراری ایک ممتاز مورخ، فلسفی اور مصنف ہیں۔ وہ 1976ء میں اسرائیل میں پیدا ہوئے اور انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تاریخ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ہسٹری ڈیپارٹمنٹ میں بطور فیکلٹی ممبر کام کیا۔

ہراری کی دلچسپی بنیادی طور پر انسانیت کی تاریخ، مستقبل اور اس کے موجودہ حالات کے فلسفیانہ اور سائنسی تجزیے میں ہے۔ انہوں نے تاریخ، قرون وسطیٰ کی تاریخ اور عالمی مذاہب پر وسیع طو رپر تحقیق کی ہے۔

کتاب لکھنے کی وجہ:

ہراری کا کہنا ہے کہ ان کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ قارئین کو انسانیت کی کہانی کو ایک نئے اور وسیع تر تناظر میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم انسان اپنی اصل کو، اپنے ارتقاء کے مراحل کو اور اس دنیا میں اپنے کردار کو سمجھیں۔

"سپیئنز" اس مقصد کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ کتاب انسانیت کی ایک مختصر تاریخ پیش کرتی ہے، لیکن اس کا مقصد صرف واقعات کی ترتیب بیان کرنا نہیں ہے۔ ہراری اس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ کیسے ارتقاء، ماحولیات، ثقافت، اور سیاسی معیشت نے مل کر انسانیت کو اس نکتے تک پہنچایا ہے جہاں ہم آج کھڑے ہیں۔ وہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہمارا کیا انتظار کر رہا ہے۔

کتاب کا پس منظر:

"سپیئنز" 2011ء میں عبرانی زبان میں شائع ہوئی تھی۔ اسے دنیا بھر میں بہت پذیرائی ملی اور اس کا ترجمہ 60 سے زائد زبانوں میں کیا گیا۔ اس کی کامیابی کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ پیچیدہ موضوعات کو عام فہم انداز میں بیان کرتی ہے۔ ہراری سائنسی تحقیق، تاریخی واقعات، اور فلسفیانہ سوالات کو ایک ساتھ ملا کر ایک ایسی کہانی بناتا ہے جو قارئین کو اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔

کتاب کی کامیابی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ہمیں موجودہ دور کے اہم ترین سوالوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہم کس طرح کی دنیا میں رہتے ہیں؟ ہماری جگہ اس کائنات میں کیا ہے؟ اور ٹیکنالوجی کے تیز رفتار ارتقاء کے ساتھ انسانیت کا مستقبل کیا ہوگا؟ "سپیئنز" ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش نہیں کرتی، بلکہ یہ ہمیں ان پر غور کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

کتاب کا اثر:

"سپیئنز" نے دنیا بھر میں قارئین کو متاثر کیا ہے۔ اس نے انسانیت کی تاریخ اور مستقبل کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے کے لیے تحریک پیدا کی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نے ان کے دنیا کو دیکھنے کے نقطہ نظر کو بدل دیا ہے۔

"سپیئنز" ایک ایسی کتاب ہے جس کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو انسان ہونے کا مطلب سمجھنا چاہتا ہے اور یہ جاننا چاہتا ہے کہ ہم اس کائنات میں کہاں کھڑے ہیں.

سپیئنز: انسانیت کی مختصر تاریخ کے مرکزی موضوعات

انسانیت کا ظہور: یہ کتاب اس طرف روشنی ڈالتی ہے کہ انسانیت کے ارتقاء کے عمل کے نتیجے میں کیسے Homo Sapiens زمین پر سب سے غالب نسل بنے اور کیوں دوسری انسانی نسلیں غائب ہوگئیں۔ اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ہمارے آباء و اجداد دوسرے جانوروں سے ممتاز ہوئے اور کس طرح انہوں نے اپنے روزمرہ کے بقاء اور جدوجہد میں مزید مہارت اور پیچیدگی پیدا کر لی۔

فکری انقلاب: ہراری ابتدائی انسان کے ارتقاء میں ایک اہم ترین موڑ کو ”فکری انقلاب“ کا نام دیتے ہیں۔ اس انقلاب کا مرکزی نقطہ انسان کے ذہن کی صلاحیتوں میں اچانک اور بہت زیادہ اضافہ تھا۔ اس نے ہمیں استدلالی صلاحیت، مشکل مسائل کو حل کرنے کی قوت اور پیچیدہ زبان کی تشکیل کو ممکن بنایا.

زرعی انقلاب: شکاری معاشروں سے بتدریج زرعی معاشروں کی طرف تبدیلی بھی انسانیت کے سفر کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ زرعی انقلاب سے مراد انسانوں کا جنگلوں اور خانہ بدوش طرزِ زندگی کو چھوڑ کر زمین سے وابستہ ہونا، مستقل بستیاں بسانا اور اپنی خوراک کا بندوبست بذات خود کرنے کا عمل ہے۔ ہراری وضاحت کرتے ہیں کہ زرعی انقلاب کے کیسے دوررس نتائج ہوئے جس نے معاشرتی ڈھانچے اور طاقت کے توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔

دیومالائی کہانیوں کی تخلیق: انسان معاشرتی جانور ہے۔ بنیادی طور پر، بڑے گروہوں میں بقاء کی ہماری صلاحیت ان مشترکہ عقائد، قصوں اور کہانیوں پر ہی منحصر ہے جو ہمیں باندھتے ہیں۔ چاہے وہ مذہب ہو، قومی یکجہتی کا جذبہ ہو یا کسی بھی خاص نظریے سے تعلق ہو، یہ سب ہمیں باندھنے میں مرکزی کردار رکھتے ہیں۔

پيسے کی ایجاد: پیسے کی ایجاد کے ساتھ عالمی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کا مکمل نظام تشکیل پایا۔ ہراری اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ زرعی انقلاب کے بعد کس طرح ایک قابل اعتماد اور عالمی پیمانے کے ذریعہ مبادلہ کی ضرورت نے پیسے کو جنم دیا۔

سلطنتوں کا عروج اور زوال: سلطنتوں کا بننا اور ٹوٹنا انسانی تاریخ کا ایک لازمی جزو ہے۔ اس کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے کچھ معاشرے چھوٹی بستیوں سے وسیع سلطنتوں کی شکل کیسے اختیار کرتے ہیں اور پھر ان کے زوال کے اسباب کیا ہوتے ہیں۔ طاقت کی سیاست اور بڑے جغرافیوں کو کنٹرول میں رکھنے کے پیچھے کیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں، ان کا بھی ہراری تجزیہ کرتے ہیں۔

مذہب کا پھیلاؤ: مذہب صدیوں سے انسانی زندگی کا ایک اہم ترین حصہ رہا ہے۔ مذہب نے ہمیں ایک اخلاقی مرکز دیا اور بہت بڑے پیمانے پر معاشرتی ضابطے مرتب کرنے میں مدد کی۔ ہراری اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرح مذاہب وجود میں آئے، انہوں نے معاشروں کو کیسے متاثر کیا، اور ان کی انسانیت کے سفر میں کیا اہمیت رہی ہے۔

سائنسي انقلاب: جدید دنیا کا آغاز سائنسی انقلاب سے ہوتا ہے جہاں ہمارے پاس موجود علم اور اس کو جانچنے کے طریقوں نے دنیا کو سمجھنے کے ہمارے انداز کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ سائنس نے مشاہدے، تجربے، اور ریاضیاتی ماڈل کے استعمال پر بہت زیادہ زور دیا ہے، جس سے ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی ممکن ہوئی ہے۔

مستقبل کے چیلنجز: آخر میں، سپیئنز مستقبل کے ممکنہ راستوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ ہراری ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے کردار، بائیو انجینئرنگ کی وسعتوں، اور Artificial Intelligence کے انسانیت پر طویل المدتی اثرات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

کتاب کے غیر معمولی پہلو!

1. دیومالائی کہانیاں ہماری طاقت کا مرکز ہیں (Myths are the pillars of our power)

ہراری کی دلیل یہ ہے کہ معاشروں کی بقا ہماری حقیقت سے زیادہ ان عقائد، افسانوں، اور اجتماعی تصورات پر منحصر ہوتی ہے جن پر ہم یقین رکھتے ہیں۔یہ اجتماعی عقائد، چاہے مذہبی ہوں، قومی ہوں یا معاشی، افراد کو مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے بڑے پیمانے پر اکٹھا ہونے میں مدد دیتے ہیں۔
مثالیں: قوم پرستی کا تصور، انسانی حقوق کے قوانین، محدود کمپنیوں کا نظام (Corporations)، اور یہاں تک کہ پیسے کی قدر بھی ان ہی کہانیوں کا حصہ ہیں جن پر ہم سب کا اجتماعی یقین انھیں حقیقت کا درجہ دیتا ہے۔
گہرائی: سیاسی نظام، معاشی تصورات اور سماجی ضابطے جن پر ہم روزمرہ کی زندگی میں انحصار کرتے ہیں، حقیقت میں ان بنیادی افسانوں سے وجود میں آتے ہیں۔ بغیر ان کے انسانی معاشرے ان بڑے پیمانوں پر کام نہیں کرسکتے جو جدید دور کی پہچان بن چکے ہیں۔

2. خوشحالی بے چینی کی جڑ ہے (Prosperity is the root of restlessness)

یہ عام تصور کہ مادی خوشحالی مطلق اطمینان کا باعث بنتی ہے، اسے ہراری چیلنج کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بنیادی ضروریات پوری ہونے لگتی ہیں تو انسان اس سے آگے اور کچھ نیا حاصل کرنے کی خواہش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ خواہشات لامحدود ہوتی ہیں اور ایک مسلسل چکر کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔
مثالیں: آج کے ترقی یافتہ معاشروں میں مادی وسائل کی کثرت ہے پھر بھی لوگوں میں ڈپریشن، بے چینی اور عمومی عدم اطمینان عام ہے۔ ہراری کی یہ دلیل کہ ترقی اور بہتری کی جستجو فطری ہے، لیکن اس کا مقصد صرف راحت نہیں بلکہ لامحدود خواہشات کو پورا کرنا ہے، ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔انسان کے ارتقاء کا بنیادی سبب ہی ہماری اس مسلسل بے چینی اور ہمارے آس پاس کے ماحول کو بدلنے کی خواہش تھی۔ مادی بہتری اگرچہ آرام اور سہولیات فراہم کرتی ہے، لیکن وہ ہماری بے چینی، ہماری تلاش، اور مزید کے حصول کی خواہش کو ختم نہیں کر سکتی۔

3. تاریخ میں کوئی انصاف نہیں (There is no justice in history)

ہراری کہتے ہیں کہ تاریخ کا پہیہ زیادہ تر اتفاقی واقعات اور کسی کی پوزیشن مضبوط ہونے کی وجہ سے گھومتا رہتا ہے، نہ کہ کسی بلند و بالا انصاف کے تصور کے حساب سے چلتا ہے۔ کامیابی اور طاقت غالب آنے کے لیے ضروری نہیں کہ اخلاقیات اور انصاف سے بھی جڑے ہوں۔
مثالیں: سلطنتوں کا عروج و زوال، فاتحین کا تسلط، کمزور معاشروں کا استحصال، ان میں بہت سے واقعات کی بنیاد طاقت کے استعمال میں ہے، انصاف کے اصولوں میں نہیں۔ہراری یہ نقطہ اٹھاتے ہیں کہ تاریخ کو انصاف کی عینک سے دیکھنے کی خواہش اگرچہ فطری ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ دنیاوی طاقت کے پیمانے اخلاقی قوانین سے ماورا ہوتے ہیں۔

4. انسان ماحول کا قاتل ہے

انسان کی ارتقائی کامیابی باقی پرجاتیوں (Species ) کے لیے تباہی ثابت ہوئی ہے۔ ماضی میں بڑے جانوروں اور پرجاتیوں کا وسیع پیمانے پر انقراض جو ہمارے ہاتھوں ہوا ہے، اسکی مثال پہلے نہیں ملتی۔ اب ہم آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسی وجوہات سے قدرتی وسائل کا استحصال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مثالیں: آسٹریلیا کی قدیم میگا فاؤنا (بڑے جانوروں) کا انقراض، شمالی امریکہ کے بڑے جانوروں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت، یہ سب انسان کے مختلف براعظموں پر پھیلنے کے بعد ہوئے۔جدید صنعتی دور میں بھی ہمارے اقدامات سے سینکڑوں پرجاتیوں کو خطرہ ہے. Homo Sapiens نے زمین کے وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی تباہی برپا کی ہے جو ماحولیاتی نظام کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے۔

5. بہت سی انسانی طاقتیں اتفاقی ہیں (Many human superpowers are accidental)

ہراری کی یہ دلیل کہ زرعی انقلاب جیسا بنیادی واقعہ، جو انسانیت کے ارتقاء میں اہم ترین موڑ تھا، دراصل ایک ضرورت کے تحت وجود میں آیا۔ ہمارے اس تبدیلی کا مقصد ترقی نہیں تھا بلکہ وقت کی مجبوریوں سے نمٹنا تھا۔ زرعی انقلاب کسی خاص منصوبے کا حصہ نہیں تھا لیکن اس کے اثرات نے ہمیشہ کےلئے انسانیت کی سمت بدل دی۔
مثالیں: آگ کا استعمال، پہیے کی ایجاد، حتی کہ پیچیدہ زبان - یہ سب اچانک یا کسی خاص مقصد کی بجائے ضرورت اور حالات کے جبر سے وجود میں آئے۔
تاریخ کے بہت سے بڑے واقعات، جن کے بارے میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کسی منصوبہ بندی سے وجود میں لایا گیا، حقیقت میں اتفاق یا وقتی ضروریات کا نتیجہ تھے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جہاں ہم اپنے مستقبل کو شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہاں قسمت (یا اتفاق) بھی اپنا اثر رکھتا ہے۔ روحانی پہلو میں یقین رکھنے والے لوگ اسی کو امر ربی گردانتے ہیں.

6. ہم اب بھی نہیں جانتے کہ ہم کیا چاہتے ہیں (We still don't know what we want)

سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کے باوجود بنیادی طور پر ہم اس بات کا یقین نہیں رکھتے کہ ہمارا مستقبل کیسا ہونا چاہیئے۔ ہمیں ایسی لامحدود قوت مل رہی ہے جس کا استعمال کرنا ہمیں نہیں آتا۔ جین میں ایڈیٹنگ جیسی ٹیکنالوجیز کی مدد سے ہم انسان کے ارتقاء کو کنٹرول کرسکتے ہیں یا مصنوعی ذہانت (AI) ایجاد کرسکتے ہیں جسے روکنا ہمارے بس سے باہر ہوسکتا ہے۔
مثالیں: موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہم اتفاق تو کرتے ہیں لیکن عملی حل کے لیے کوئی حقیقی اتحاد نہیں بن سکا۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے بے لگام استعمال کے خطرات پر عالمی قوانین بنانے کی کوشش میں بھی بہت مشکلات ہیں، کیونکہ مختلف حصوں کی ترجیحات اور مقاصد آپس میں متضاد ہیں۔
ہم ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے اس زمانے میں ہیں جہاں ہمارے پاس موجود قوت اور اس کے استعمال کے لیے اخلاقی اور معاشرتی رہنما اصول ابھی تک بننے کے مراحل میں ہیں۔ مستقبل ہمارے سامنے ہے، لیکن ہمیں یہ طے کرنا باقی ہے کہ اس میں ہم کیا بننا چاہتے ہیں۔

7. خوشی اور معنی میں فرق ہے (Happiness is different from meaning)

انسان صرف مادی آسائش اور ذہنی خوشی تک محدود نہیں۔ ہم اس دنیا میں ایک مقصد، ایک معنی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہراری اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ صرف خوشی کی تلاش ایک سطحی مقصد ہے، اور حقیقی اطمینان تب حاصل ہوتا ہے جب زندگی کا کچھ مقصد اور معنی ہوں۔
مثالیں: بہت سے ایسے افراد جو اوسط سے بہت زیادہ مادی دولت رکھتے ہیں، وہ اکثر بے معنی اور خالی زندگی جینے کا احساس رکھتے ہیں۔ اسکے برعکس وہ لوگ جو کسی مقصد، کسی مشن، یا کسی بڑے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں اپنی زندگی گزارتے ہیں اکثر سکون اور اطمینان کی زندگی پاتے ہیں۔ جدید صنعتی معاشروں نے بنیادی ضروریاتِ زندگی عام انسان تک پہنچانے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے ۔ لیکن خوشحالی اور بنیادی آسائش میں فرق ہے۔ یہ فرق معنی اور مقصد کو تلاش کرنے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔

یہ کتاب ہمیں ان سوچوں پر مجبور کرتی ہے جن کو عام طور پر ہم نظرانداز کردیتے ہیں۔ اگر آپ انسانی تاریخ کے سفر، ہمارے فیصلوں کے پس منظر کی قوت اور مستقبل کی سمت پر ایک غیرمعمولی نقطہ نظر تلاش کرنا چاہتے ہیں، تو Sapiens ایک بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے کافی تنازعات بھی اٹھے جو کسی بھی اچھی کتاب پر آٹھ سکتے ہیں، تاہم یہ پڑھنے والے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے.

عارف انیس

Address

Stoke-on-Trent
ST34QF

Opening Hours

Monday 8am - 6pm
Tuesday 8am - 6pm
Wednesday 8am - 6pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm
Saturday 9am - 5pm
Sunday 9am - 5pm

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rizwan Akram Class room posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Rizwan Akram Class room:

Share

Category