01/05/2024
ون-ان-60
زندگی میں بڑی دریافتیں صحیح جوابات تلاش کرنے سے نہیں، بلکہ صحیح سوالات پوچھنے سے ہوتی ہیں۔
صحیح وقت پر پوچھا گیا صحیح سوال آپ کی زندگی بدل سکتا ہے:
دنیا کو مختلف نظریے سے دیکھیں۔
اپنی پریشانی کا جائزہ نئے زاویے سے لیں۔
اپنے غلط مفروضوں کو بے نقاب کریں۔
اپنے محدود کرنے والے عقائد کو ڈھونڈ کریں۔
پچھلے کئی برسوں سے، میں نے اپنے دوست ساحل سے سیکھتے ہوئے ایسے سوالات کی فہرست بنائی ہے جنہوں نے میرے کام کرنے، چلنے، جینے اور محبت کرنے کے طریقے کو بدل دیا ہے۔
میں آپ سے سات سوالات پوچھوں گا جن کا میری زندگی پر گہرا اثر پڑا ہے.
سوال نمبر 1
اگر میں آج کے دن کو 100 دن تک مسلسل دوہراؤں، تو کیا میری زندگی بہتر ہوگی یا بدتر؟
یا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؟
ہم اپنی زندگی کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں۔
یہ ہمارے روزانہ کے عمل کے معیار کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیتا ہے اور یہ جانچنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ہم صحیح راستے پر ہیں یا نہیں۔
باقاعدگی سے، اپنے آپ سے یہ سوال کر کے خود کو بیرونی نظر سے دیکھیں:
آپ کے روزمرہ کی روٹین آپ کی زندگی کو کس طرح آگے بڑھا سکتی ہے؟
کیا وہ آپ کو آپ کے مقاصد اور منزل کی سمت میں آگے لے جا رہی ہے؟
کیا وہ آپ کو راستے سے ہٹا رہی ہے؟
ون-ان-60 کا قاعدہ یاد رکھیں: 1-ان -60 کا قاعدہ ایک نیویگیشنل اصول ہے جو خاص طور پر ہوابازی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ دیگر شعبوں میں بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس قاعدے کے مطابق، اگر ایک جہاز اپنے مقررہ راستے سے صرف ایک ڈگری بھٹک جاتا ہے، تو وہ ہر 60 میل کی پرواز کے بعد اپنی اصل منزل سے تقریباً ایک میل دور ہو جائے گا۔
یہ قاعدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ چھوٹی غلطیاں بھی، جو شروع میں نظر انداز کی جا سکتی ہیں، فاصلہ اور وقت کے ساتھ کس طرح بڑھ سکتی ہیں اور بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے، یہ ضروری ہے کہ مسلسل جائزہ لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر بروقت تصحیح کی جائے تاکہ درست سمت میں سفر جاری رکھا جا سکے۔ اس قاعدے کو زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے. آپ کا ہردن یا تو آپ کو منزل کے قریب لے کر جا رہا ہے یا اس سے دور ہٹا رہا ہے.
زرا پھر سوچئے :
اگر میں آج کے دن کو 100 دن تک مسلسل دوہراؤں، تو کیا میری زندگی بہتر ہوگی یا بدتر؟
یا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؟
اس سوال کا جواب آپ کو اگلے سوال تک پہنچا دے گا.
عارف انیس