Rizvi Shares

Rizvi Shares معاشرے کی کھٹی میٹھی باتیں ، جس سے کسی کی دل آزاری نا ہو، کمنٹ بھی کرتے وقت لحاظ، ورنہ بلاک :-)

19/03/2026
ہمارے ایک اُستادِ محترم ہوا کرتے تھے۔ بچوں پہ تشدد کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اس تشدد کی وجہ سے بہت سے بچے اسکول ...
18/03/2026

ہمارے ایک اُستادِ محترم ہوا کرتے تھے۔ بچوں پہ تشدد کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اس تشدد کی وجہ سے بہت سے بچے اسکول سے بھاگ چکے تھے۔

آپ ایک بار اپنی زمین میں گندم بوائی کے دوران جب ٹریکٹر والے کو پیسے دینے لگے تو اس نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ ماسٹر جی کیوں شرمندہ کر رہے ہیں، آج میں جس مقام پر ہوں صرف آپ کی وجہ سے ہوں۔ اگر آپ اُس دن میری پٹائی نہ کرتے تو نہ میں اسکول سے بھاگتا اور نہ ٹریکٹر ڈرائیور بنتا۔

آپ ایک بار بس میں سفر کر رہے تھے، کرایہ دیتے ہوئے کنڈیکٹر نے یہ کہتے ہوئے لینے سے انکار کر دیا کہ “سر کیوں شرمندہ کرتے ہیں، آج میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی وجہ سے ہوں”۔ سر نے ادھر اُدھر دیکھا لیکن کسی نے نہیں سنا۔
کنڈیکٹر طوطے کی طرح بولے جا رہا تھا، سر یاد ہے میرا کلاس فیلو فرید؟ آج کل وہ فریدا استاد کے نام سے مشہور ہے اور وہ جو شاہ زیب ہوتا تھا ناں آج کل شاکا بدمعاش مشہور ہے۔ ہم سب آپ ہی کی وجہ سے اس مقام پر ہیں۔

اُستادِ محترم نے ایک بار پھر دائیں بائیں دیکھا، اپنا بستہ اٹھایا اور یہ سوچتے ہوئے چلتی بس سے چھلانگ لگا دی کہ ایسا نہ ہو راستے میں کوئی ڈاکو سوار ہو اور لوٹ مار کے دوران جب میرے پاس پہنچے تو بولے کہ سر آپ کیوں اپنا بٹوہ نکال کر شرمندہ کر رہے ہیں، آج میں جس مقام پر بھی ہوں صرف آپ کی وجہ سے ہوں۔
😂😂😂
فیصل بشیر کشمیری

‏پاکستان میں مہنگائی کیوں ختم نہیں ہوتی؟چند تلخ حقیقتیں:1️⃣ پنجاب میں تقریباً 30,000 سرکاری گاڑیاں سالانہ تقریباً 20 ارب...
17/03/2026

‏پاکستان میں مہنگائی کیوں ختم نہیں ہوتی؟
چند تلخ حقیقتیں:

1️⃣ پنجاب میں تقریباً 30,000 سرکاری گاڑیاں سالانہ تقریباً 20 ارب روپے کا پٹرول جلاتی ہیں۔

2️⃣ سندھ میں تقریباً 20,000 گاڑیاں سالانہ 13 ارب روپے کا پٹرول استعمال کرتی ہیں۔

3️⃣ بلوچستان میں 8,000 گاڑیاں سالانہ تقریباً 4 ارب روپے کا پٹرول خرچ کرتی ہیں۔

4️⃣ وفاقی حکومت کے پاس 12,000–15,000 گاڑیاں ہیں جو سالانہ تقریباً 9 ارب روپے کا پٹرول استعمال کرتی ہیں۔

5️⃣ ایک ایک افسر کے پاس دو دو تین تین سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور اور مفت پٹرول۔

6️⃣ حکمران عوام کو کہتے ہیں:
“پٹرول بچائیں، گاڑی کم چلائیں۔”

7️⃣ مگر خود بلٹ پروف لینڈ کروزر، پروٹوکول کی لمبی قطاریں اور درجنوں گاڑیاں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

8️⃣ پاکستان کی سیاست میں بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کے پاس:
•شوگر ملز
•فلور ملز
•سیمنٹ فیکٹریاں
•ہاؤسنگ سوسائٹیز
•پاور پلانٹس
•بڑے زرعی فارم

9️⃣ جب چینی مہنگی ہوتی ہے
تو شوگر ملز والوں کو فائدہ۔

🔟 جب آٹا مہنگا ہوتا ہے
تو فلور ملز والوں کو فائدہ۔

1️⃣1️⃣ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے
تو پاور پلانٹس والوں کو فائدہ۔

1️⃣2️⃣ اور جب عوام احتجاج کرتے ہیں
تو کہا جاتا ہے: قربانی دیں۔

📌 اصل مسئلہ حکومت نہیں…
مفادات کا نظام ہے۔

📌 آج جو لوگ حکومت میں بیک بینچرز ہیں
کل وہی فرنٹ لائن لیڈر بن جاتے ہیں۔

📌 چہرے بدلتے ہیں،
مراعات نہیں بدلتی۔

ایک غریب ملک میں امیر حکمران کوئی حادثہ نہیں…
یہ ایک مکمل نظام ہے۔ 🔥

•“پاکستان کے غریب حکمران اور امیر عوام”
لیکن اس قوم کو کبھی بیدار نہی ہونا یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے-

اشفاق احمد کو بات کرنے کا چسکا تھا ۔ اس نے خاکروب سے بات چھیڑی، کہنے لگا، اے میاں، تم چوڑے ہو کیا؟ چوڑے لگتے تو نہیں ہوـ...
16/03/2026

اشفاق احمد کو بات کرنے کا چسکا تھا ۔ اس نے خاکروب سے بات چھیڑی، کہنے لگا، اے میاں، تم چوڑے ہو کیا؟ چوڑے لگتے تو نہیں ہوـ

وہ رک گیا، بولا باؤ جی ـ میں عیسائی ہوں ـ چوڑا نہیں ہوں ـ
عیسائی تو ہو ٹھیک ہے، اشفاق نے کہا، پر کیا یہ کام تمہارا جدی کام ہےـ
جی نہیں، وہ بولا، یہ کام ہمارا جدی کام نہیں ہےـ اور نہ یہ کام میرا کام ہےـ
تو پھر کیوں کر رہے ہو تم یہ کام ـ
بس جی مجبوری ہے ـ
کیسی مجبوری ـ
بس جی میں دفتر میں چپڑ اسی تھا، پھر حکم ہو گیا کہ فضل مسیح جھاڑو کا کام کروـ
کس نے حکم دیا؟ اشفاق بولے
جی میرے مرشد نے حکم دیاـ مجھ سے ایک غلطی ہو گئ تھی ـ مرشد نے سزا دے دی ـ بولا فضل مسیح تین سال گندگی اٹھاؤ، پھر تین سال جھاڑو لگاؤـ چھ سال کے بعد آ کر ہم سے بات کرناـ

فضل مسیح کی بات سن کر شہاب(قدرت اللہ شہاب) کے کان کھڑے ہو گۓـ بولا فضل مسیح عیسائیوں کے بھی مرشد ہوتے ہیں کیا؟
صاحب جی، وہ بولا، یہ تو بندے بندے کی بات ہے، کوئی مرشد مان لیتا ہے، کوئی نہیں مانتاـ کوئی زبردستی نہیں صاحب جی ـایسے بھی ہیں جو مرشد مان کر بھی حکم نہیں مانتےـ آپ مسلمانوں میں بھی تو یہی ہوتا ہے جی ـ

ان کے لیۓ چاۓ کا ایک پیالہ منگوائیے، شہاب نے کہاـ
فضل نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے پر رکھ لیۓـ بولا، نہیں سرکار چاۓ کی تکلیف نہ کریں ـ چاۓ میں نہیں پیتاـ
کیوں نہیں پیتے، اشفاق نے پوچھاـ
حکم نہیں ہے، بابو جی، وہ بولا ـ
چاۓ منع ہے کیاـ اشفاق نے بوچھا
منع تو نہیں ـ دوجے سے لے کر پینے کا حکم نہیں ہےـ
لیکن کیوں ؟

حکم تو حکم ہوتا ہے جی ـ اس میں نہ نہیں ہوتاـ کس لیۓ نہیں ہوتاـ پچھنا نہیں ہوتا جی ـ پچھنا حجت ہےـ حکم ہے کہ فضل مسیح کسی کا دیا ہوا نہیں کھانا پیناـ کسی کا دیا ہوا نہیں پہنناـ ادھار نہیں مانگنا چاہے فاقے آئیں، پڑے آئے فاقےـ
بڑے سخت حکم ہیں، اشفاق نے کہا ـ
بابو جی، وہ بولا، جو سخت نہ ہو تو پھر وہ حکم ہی کیا ہواـ
تم نہ مانو ممتاز مفتی نے کہا۔۔۔۔
فضل مسیح ھنسا اور کہنے لگا صاحب جی ۔ مرشد مان کر جو حکم نہ مانے وہ مرد نہیں۔۔۔

ہم مسلمانوں میں تو بہت سارے ایسے ہیں فضل مسیح جو مرشد تو بنا لیتے ہیں پر حکم نہیں مانتے، میں نے بات کی وضاحت کی ـ
بس جی اس لیۓ مسلمان رل رہے ہیں ـ کوئی قدر نہیں، کوئی مان نہیں، وکھو وکھ ہو رہے ہیں، انگلاں ہی انگلاں مٹھ نہ بنےـ

سچ کہہ رہا ہے فضل مسیح، شہاب گنگنایاـ
صاحب جی صرف مسلمان کی گل نہیں ـ مسلمان ہو، عیسائی ہو، سکھ ہو، ہندو ہو کوئی بھی ہوـ اس سے فرق نہیں پڑتاـ بس شرط اک ہی ہے حکم منےـ اگوں بولنا نہیں ـ پچھنا نہیں ـ بس سر جھکا دینا ہے جس قوم نے حکم منیا وہ چڑھ گئ، نہ منیا تورل گئی ـ
شاباشے، اشفاق بولا، تو کھری باتاں کر رہا ہے فضل، پر یہ بتا کہ تیری سزا کے کتنے سال باقی ہیں ـ
فضل نے ماتھے پر زور سے ہاتھ مارا بولاـ وہ تو پورے ہو گۓ تھےـ صاحب جی ـ پر آخری سال میں پھر اک بھل ہو گئی ـ بندہ بشر ہے ناں صاحب جی، وہ بولاـ بھل ہو ہی جاندی ہے- سزا میں تین سال اور بڑھ گۓ جی ـ

تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے، اشفاق نے اسے چھیڑاـ
کیا فرق پڑے گا جی، وہ بولا، میں تو یہی رہوں گا جی ـ جو میں ہوں، میری بھل بھی یونہی رہے گی ـ یہاں بھل ہو جاۓ تو بندہ پراسچیت کر لیتا ہےـ مسلمانوں میں بھل ہو جاۓ تو ناواں کاٹ دیتے ہیں ـ اک چانس بھی نہیں دیتے ـ اور پھر مسلمان پیراں نے بڑی اوچی شرطاں لگا رکھیاں نیں ـ کوئی سالوں سال کھوہ میں لٹک کر نام جپتا ہے، کوئی سالوں سال پیٹ پر پتھر بنھے پھرتا ہےـ کوئی اپنے پتر توں خود نوں قربان کرنے کو اٹھ کھڑا ہوتا ہےـ توبہ جی توبہ، یہ تو جنوں کے کام ہیں ـ ان کے لیۓ سمندر جیسا حوصلہ چاہیۓ ـ صاحب جی ـ
فضل مسیح اٹھ بیٹھاـ اچھا صاحب جی، وہ بولاـ میں اپنا کام نپٹا لوں ـ

ہم دونوں فضل مسیح کو جاتے ہوۓ دیکھتے رہےـ یہ فضل مسیح کتنا بڑا آدمی ہےـ میں نے سوچا جو جانے بغیر ماننے کی ہمت رکھتا ہےـ زندگی بھر میں نے ماننے کی عظمت کو نہیں سمجھا تھاـ میں سمجھتا تھا جانے بغیر ماننا ممکن ہی نہیں، جو لوگ آنکھیں بند کر کے مان لیتے ہیں وہ جاہل ہیں ـ

نوٹ۔۔یہی فضل مسیح والا کردار اشفاق احمد صاحب نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اپنا مشہور ڈرامہ من چلےکا سودا میں فردوس جمال سے ادا کروایا تھا جو کہ انہوں نے نہایت خوبصورتی سے ادا کیا تھا۔۔۔

تمام پیاری اور خوبصورت ماووں کو سلام ، ایک پیغام اپنے بیٹوں کو گھر کا کام کرنے دیں معاشرے کا ناسور مت بنایئں۔
15/03/2026

تمام پیاری اور خوبصورت ماووں کو سلام ، ایک پیغام اپنے بیٹوں کو گھر کا کام کرنے دیں معاشرے کا ناسور مت بنایئں۔

13/03/2026

بزدل قوم ایک لائک بھی نہی دے گی۔

Address

Manchester

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rizvi Shares posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category