17/03/2026
پاکستان میں مہنگائی کیوں ختم نہیں ہوتی؟
چند تلخ حقیقتیں:
1️⃣ پنجاب میں تقریباً 30,000 سرکاری گاڑیاں سالانہ تقریباً 20 ارب روپے کا پٹرول جلاتی ہیں۔
2️⃣ سندھ میں تقریباً 20,000 گاڑیاں سالانہ 13 ارب روپے کا پٹرول استعمال کرتی ہیں۔
3️⃣ بلوچستان میں 8,000 گاڑیاں سالانہ تقریباً 4 ارب روپے کا پٹرول خرچ کرتی ہیں۔
4️⃣ وفاقی حکومت کے پاس 12,000–15,000 گاڑیاں ہیں جو سالانہ تقریباً 9 ارب روپے کا پٹرول استعمال کرتی ہیں۔
5️⃣ ایک ایک افسر کے پاس دو دو تین تین سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور اور مفت پٹرول۔
6️⃣ حکمران عوام کو کہتے ہیں:
“پٹرول بچائیں، گاڑی کم چلائیں۔”
7️⃣ مگر خود بلٹ پروف لینڈ کروزر، پروٹوکول کی لمبی قطاریں اور درجنوں گاڑیاں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
8️⃣ پاکستان کی سیاست میں بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کے پاس:
•شوگر ملز
•فلور ملز
•سیمنٹ فیکٹریاں
•ہاؤسنگ سوسائٹیز
•پاور پلانٹس
•بڑے زرعی فارم
9️⃣ جب چینی مہنگی ہوتی ہے
تو شوگر ملز والوں کو فائدہ۔
🔟 جب آٹا مہنگا ہوتا ہے
تو فلور ملز والوں کو فائدہ۔
1️⃣1️⃣ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے
تو پاور پلانٹس والوں کو فائدہ۔
1️⃣2️⃣ اور جب عوام احتجاج کرتے ہیں
تو کہا جاتا ہے: قربانی دیں۔
📌 اصل مسئلہ حکومت نہیں…
مفادات کا نظام ہے۔
📌 آج جو لوگ حکومت میں بیک بینچرز ہیں
کل وہی فرنٹ لائن لیڈر بن جاتے ہیں۔
📌 چہرے بدلتے ہیں،
مراعات نہیں بدلتی۔
ایک غریب ملک میں امیر حکمران کوئی حادثہ نہیں…
یہ ایک مکمل نظام ہے۔ 🔥
•“پاکستان کے غریب حکمران اور امیر عوام”
لیکن اس قوم کو کبھی بیدار نہی ہونا یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے-