08/10/2026
افریقہ کے ملک تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک غیر معمولی مسلمان داعی، شیخ موسیٰ علی، المعروف “راکٹ”، اپنی سادہ زندگی، دین سے وابستگی اور حج کے غیر معمولی سفر کے حوالے سے مشہور ہوئے۔
دستیاب روایات کے مطابق، شیخ موسیٰ علی نے ابتدائی زندگی میں عیسائیت سے وابستگی رکھی اور ایک کیتھولک مشنری کے طور پر بھی کام کیا۔ بعد ازاں ان کی زندگی میں ایک ایسا روحانی موڑ آیا جس نے ان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا۔
روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ 1966ء میں انہوں نے ایک خواب دیکھا جس میں انہیں بتایا گیا کہ وہ مسلمان ہیں، ان کا نام موسیٰ علی ہے اور انہیں اللہ سے محبت رکھنے والے لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔ اسی واقعے کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنی زندگی دین کی خدمت اور دعوت کے لیے وقف کر دی۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ خواب سے متعلق یہ واقعہ ایک روایت اور ذاتی روحانی تجربے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے؛ اس کی آزاد تاریخی تصدیق ممکن نہیں۔ اسی لیے اسے قطعی تاریخی حقیقت کے بجائے “روایات کے مطابق” بیان کرنا زیادہ محتاط طریقہ ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد شیخ موسیٰ علی نے مشرقی افریقہ کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کی۔ ان کے بارے میں روایات میں تنزانیہ، موزمبیق اور آس پاس کے علاقوں میں ان کی دعوتی سرگرمیوں کا ذکر ملتا ہے۔
وہ صرف دعوت و تبلیغ ہی کے حوالے سے مشہور نہیں ہوئے بلکہ مکہ مکرمہ میں حج اور کینیا کے جزیرۂ لامو میں میلاد کی محافل میں باقاعدگی سے شرکت کے حوالے سے بھی ان کا ذکر ملتا ہے۔ فوٹوگرافر پیٹر سینڈرز سے منسوب ایک تحریر میں انہیں ایک ایسے انتہائی سادہ شخص کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو ہر سال حج اور لامو کی میلاد میں شرکت کیا کرتے تھے۔
ان کے سفر کا انداز بھی لوگوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ روایت ہے کہ ان کے پاس اکثر نہ ٹکٹ ہوتا تھا، نہ سفر کے لیے رقم، اور نہ ہی پاسپورٹ۔ جب لوگ ان سے پوچھتے کہ وہ اتنے سفر کیسے کر لیتے ہیں تو وہ مبینہ طور پر مسکرا کر جواب دیتے:
“By rocket!” — “راکٹ سے!”
اسی جملے سے ان کے ساتھ “راکٹ” کا لقب مشہور ہونے کی روایت بیان کی جاتی ہے۔
ان کی زندگی کے بارے میں سب سے زیادہ مشہور دعووں میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک حج کی سعادت حاصل کی اور 2016ء تک 50 مسلسل حج کیے۔ بعض روایات اس تعداد کو پچاس سے بھی زیادہ بتاتی ہیں۔
تاہم اس معاملے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ مجھے حج کے تمام 50 سفر کی تصدیق کرنے والا کوئی مستند سرکاری ریکارڈ یا ایسا آزاد تاریخی ماخذ نہیں ملا جو ہر سال کے حج کی تصدیق کرتا ہو۔ اس لیے زیادہ درست الفاظ یہ ہیں کہ:
“روایات کے مطابق، انہوں نے 2016ء تک 50 مسلسل حج کیے۔”
نہ کہ اسے قطعی طور پر ثابت شدہ تاریخی حقیقت قرار دیا جائے۔
اسی طرح بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ شیخ موسیٰ علی کی دعوت سے 50,000 سے زیادہ افراد نے اسلام قبول کیا اور انہوں نے بعض لوگوں کے حج و عمرہ کے اخراجات بھی ذاتی طور پر برداشت کیے۔
لیکن اس 50,000 کی تعداد کی تصدیق کے لیے مجھے کوئی قابلِ اعتماد آزاد ذریعہ نہیں ملا۔ اس لیے اسے شیخ کی مستند سوانح کا حصہ بنا کر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔
شیخ موسیٰ علی کی شخصیت سے متعلق دستیاب روایات کا ایک مشترک پہلو ان کی سادگی، سفر، دعوتِ اسلام اور حج سے غیر معمولی وابستگی ہے۔ ان کی زندگی کے بارے میں مشہور قصے انہیں ایسے شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں جس نے مادی وسائل کی کمی کے باوجود دین سے اپنی وابستگی کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے رکھا۔
جن لوگوں نے ان کی زندگی کے واقعات بیان کیے، ان کے نزدیک ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی سادگی تھی کہ وہ شہرت یا دنیاوی آسائش کے بجائے دین، سفر اور عبادت سے وابستہ رہے۔
ان کی وفات کے بارے میں گردش کرنے والی روایت کے مطابق وہ دارالسلام، تنزانیہ میں تقریباً 100 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ تاہم مجھے ان کی پیدائش اور وفات کے بارے میں بھی کوئی ایسا آزاد سرکاری ریکارڈ نہیں ملا جس کی بنیاد پر عمر یا تاریخِ وفات کو قطعی طور پر بیان کیا جا سکے۔
اس لیے شیخ موسیٰ علی “راکٹ” کی زندگی کو بیان کرتے ہوئے سب سے ذمہ دارانہ انداز یہ ہے کہ ان کی دعوتی زندگی، حج سے وابستگی اور سادگی کو بیان کیا جائے، لیکن خواب، 50 حج، 50,000 نو مسلم افراد اور بغیر پاسپورٹ و ٹکٹ سفر جیسے غیر معمولی دعووں کو “روایات کے مطابق” کہہ کر پیش کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ