The Land Of Beauty,Pakistan

The Land Of Beauty,Pakistan paris

21/10/2013

ایک صاحب اپنے سات یا آٹھ سالہ بچے کو موٹر بائیک کے آگے بیٹھا کر تیزی سے سڑک کا موڑ کاٹتا ہے کہ یکا یک سامنے سے ایک گاڑی والا آجاتا ہے ۔۔ موٹر سائیکل والا بہت تیز تھا لیکن گاڑی والے نے بہت ہمت کر کے اپنی گاڑی کو بریک لگائی ، پھر بھی اس ایمرجنسی بریک میں بائیک والے کی ایک ٹانگ پر ہلکی سی خراش آئی اور وہ گرتے گرتے بال بال بچا ، ١٠ قدم پر جاکر اُس نے بائیک روک لی بچے کو وہیں بیٹھا رہنے دیا ) جو قدرے خوف ذدہ ہو گیا تھا ، اور نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا والد اُسے چھوڑ کر جائے ( ۔۔ بائیک والے نے آتے ہی گاڑی والے کے گریبان کو پکڑ کر اُسے گاڑی سے باہر نکالا ،، اور اُسے گالی گلوچ کرنے لگ گیا ۔۔۔۔ گاڑی والا جو بہت دھیما بھلا مانس انسان لگ رہا تھا ، اُس بائیک والے سے کہنے لگا ۔۔““ غلطی تمہاری ہے ، تمہیں موڑ کاٹتے ہوئے بائیک کو آہستہ کرنا چاہے تھا ،، پھر بھی میں تم سے اُلجھنا نہیں چاہتا ۔۔
لیکن بائیک والا اُس سے لڑنے پر بضد تھا ۔۔۔ آخر کار گاڑی والے نے معاملہ ختم کرنے کے لئے وہ جملہ کہا جس نے معاشرتی اقدار میں پلتی ہماری نئی نسلوں کے زہنوں کا احاطہ کیا ہواہے ۔۔

““ دیکھو تمہارا بچہ تمہیں بڑے معصوم انداز سے دیکھ رہا ہے ۔۔ تم مجھ سے الجھو گے تو بات ہاتھا پائی تک پہنچے گی ، میں اکیلا ہوں مجھے میرا کوئی نہیں دیکھ رہا ، لیکن تمہارے ساتھ تمہارا بچہ ہے اگر اُس نے آج تمہیں مجھ سے مارکھاتا دیکھ لیا تو اُس کے دل میں تمہارے لئے ““ہیرو “ کا کردار ختم ہو جائے گا ۔۔

اُس کی سوچ کہ تم اُس زندگی میں سب سے بڑا سہارا ہو ختم ہو جائے گی ، جو اس کے بچپن کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔۔۔““

بائیک والے کی آنکھیں نم ہوگئیں ۔ اُس نے گاڑی والے کے کپڑے جھاڑتے ہوئے معافی مانگی اور واپس بائک پر آکر اپنے بچے کو پیار کرنے لگا ““ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ““

اس دانشمندی سے اُس بائیک والے نے بچے کے دل میں ““ ہیرو ““ کو مرنے نہیں دیا ۔

06/10/2013

٭٭٭حکایات مولانا جلال الدین رومیؒ ٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭حقیقی بادشاہی ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم ادھمؒ دریا کے کنارے پر بیٹھے اپنی گدڑی سی رہے تھے اچانک وہاں سے ایک وزیر کا گزر ہوا اس نے جو حضرت ابراہیم ادھمؑ کو اس حالت میں دیکھا تو بڑی حیرت کا اظہار کیا اور کہنے لگا کہ کس قدر عظیم سلطنت کے مالک ہیں اور فقیری کو اختیار کر رکھا ہے۔ بادشاہ ہو کر فقیروں کی طرح گدڑی سی رہے ہیں۔ جبکہ ادھر ان کے نہ ہونے سے سلطنت برباد ہوئی جا رہی ہے۔ حضرت ابراہیم ادھمؒ نے کشف کے ذریعے سے اس کے دل کی بات معلوم کر لی اور اس کو اپنے قریب بلایا۔ وہ وزیر آپؒ کے قریب آیا تو آپؒ نے اس سے فرمایا تو نے اپنی سمجھ کے مطابق بات کی ہے۔ اس کے بعد آپؒ نے اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور پھر بلند آواز سے پکارا کہ میری سوئی مجھے دو۔ اچانک دریا کے اندر سے ہزاروں مچھلیاں اپنے اپنے منہ میں سونے کی سوئی دبائے ہوئے پانی سے باہر نکلیں۔ حضرت ابراہیم ادھمؒ نے پھر آواز دی۔ اے اللہ! مجھے صرف میری سوئی چاہیے۔ چنانچہ اسی وقت ایک دوسری مچھلی برآمد ہوئی جس کے منہ میں حضرت ابراہیمؒ کی سوئی تھی۔ آپ نے سوئی اس مچھلی سے لے لی۔
اس کے بعد آپؒ نے اس وزیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بادشاہی اچھی ہے یا وہ حقیر سلطنت کی بادشاہی۔ پھر خود ہی فرمایا، یقینا یہ بادشاہی حقیقی بادشاہی ہے اور سب سے اچھی ہے۔ یہ سن کر اور دیکھ کر وزیر نے معذرت کی اور اپنی راہ پر چل دیا۔ -

27/09/2013

وہ دن مجھے آج بھی یاد ھے کہ میں ماں کیساتھ بازار گیا ہوا تھا تو کلائی پہ باندھنے والی ایک گھڑی پر دل آ گیا میں نے ماں سے ضد کی مجھے گھڑٰی خرید کر دیں لیکن گھڑی مہنگی ھونے کے سبب ماں نہ دلوا سکیں اور ھم ضد کرتے روتے روتے ماں کیساتھ گھر آ گئے اور گھر آتے ہی گھر سر پر اُٹھا لیا اُس وقت کی خوش قسمتی یہ تھی کہ والدِ محترم گھر موجود نہ تھے ورنہ اتنا شور مچانے کی مجال ہی نہ ہوتی اور گھڑی کی حسرت صرف حسرت ہی رہ جاتی پر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پھر صاحب ھوا کچھ یوں کہ ماں نے کھانہ دیا اور ھم نے انکار کیساتھ ساتھ کھانا بھی اُٹھا مارا وھاں ماں کو تھوڑا غصہ آیا اور آخر کہہ ہی دیا نہیں کھانا نہ کھائو مرو جا کر کہیں تمہارے نخرے اُٹھانے کیلئے ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ھیں دفع ھو جائو اور مجھے دوبارہ شکل مت دکھانا تو صاحب انا بھی ہمارے اندر خُدا نے دبا دبا کر شروع سے ہی بھری ہوئی ھے ماں کے یہ الفاظ سننا تھے کہ اُٹھ کھڑے ھوئے اور منہ اُٹھا کر گھر سے چل دیے غالباً چھ سے سات گھنٹے ھم نے جتنی بے فکری سے گُذارے شاید ماں نے اپنی زندگی کے سب سے زیادہ کرب ناک گُذا...رے ھوں گے اس بات کا اندازہ اُس وقت ھوا جب ھم نے ایک مسجد کے اسپیکر سے اپنی گمشدگی کا اعلان سُنا تو گھر کی جانب رُخ کر لیا راستے میں میرا پھوپھو زاد ملا جو مجھے ہی ڈھونڈنے نکلا تھا مجھے گھر لے گیا جاتے ہی کیا دیکھا ماں ایک ھاتھ میں گھڑی ، ایک ھاتھ میں کھانا اور آنکھوں میں میری نادانی یعنی آنسو لیے بیٹھی میری راہ تک رہی تھیں مجھے دیکھتے ہی گلے سے لگایا ، ماتھا چومتے ھوئے گھڑی باندھی ، کہا تم نے دوپہر سے کھانا بھی نہیں کھایا کیا حشر کر لیا اپنا اور جو کرنے کا حکم مجھے دیا تھا اپنے اُوپر لے لیا کہتیں اگر میں مر جاندی تے فیر ساری عمر تو گھڑیاں ای پانیاں سی ۔۔
اُس دن ھونے والا ایک واقعہ جو مجھے اب کبھی یاد آئے تو سارا دن بال نوچنے کو جی کرتا ھے اگر رات میں یاد آئے ساری رات بستر پر نہیں کانٹوں پہ گُزرتی ھے۔ ھاسٹل میں رھتے ھوئے جی کرتا ابھی اُڑ کر ماں کے پاس چلا جائوں اور سر پیٹ پیٹ کر انہی قدموں میں جان دے دوں جب یہ یاد آتا ھے کہ جب ماں جہیز میں ملی ہوئی ہزاروں کی ملکیت رکھنے والی کان کی بالیاں صرف پانچ سو میں بیج کر اُس دن میرے لئے گھڑی لائی تھیں

25/09/2013
The Base camp of K7 in Charakusa Range, Karakorams, Pakistan
24/09/2013

The Base camp of K7 in Charakusa Range, Karakorams, Pakistan

Beautiful Malam Jabba Fully Covered in Snow !♥!
23/09/2013

Beautiful Malam Jabba Fully Covered in Snow !♥!

Adresse

Paris
75000

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque The Land Of Beauty,Pakistan publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager