02/06/2026
Copied
💥 میرے ابو ہر تقریب، ہر جنازے اور ہر موقع پہ آدھا گھنٹہ پہلے پہنچ جاتے تھے.. ہم سمجھتے رہے ابا وقت کے بہت پابند ہیں ۔ لیکن حقیقت کچھ اور تھی ❤️❤️🤍
میرے ابا کبھی دیر سے نہیں پہنچے۔
نہ کسی شادی میں۔
نہ کسی جنازے میں۔
نہ کسی ہسپتال میں۔
نہ کسی سکول کی تقریب میں۔
ہماری پوری زندگی میں ایک بات ہمیشہ یقینی رہی:
اگر تقریب پانچ بجے ہے تو ابا ساڑھے چار بجے وہاں موجود ہوں گے۔
ہم سب اُن کی اس عادت پر ہنستے تھے۔
امی کہا کرتی تھیں:
"تمہارے ابا نے شاید گھڑی بھی اپنے وقت کی الگ رکھی ہوئی ہوگی"..
ہم بھی یہی سمجھتے رہے کہ وہ بس ضرورت سے زیادہ وقت کے پابند ہیں۔
مگر پچھلے مہینے، جب میں اُنہیں ڈاکٹر کے پاس لے جا رہی تھی، نہ جانے کیوں میرے منہ سے نکل گیا:
"ابا، آپ ہر جگہ اتنی جلدی کیوں پہنچتے ہیں؟"
وہ خاموش ہو گئے۔
کافی دیر گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتے رہے۔
پھر آہستہ سے بولے:
"تمہیں واقعی جاننا ہے؟"
میں نے مسکرا کر کہا:
"جی۔"
انہوں نے ایک لمبی سانس لی۔
اور ایک ایسی بات بتائی جس نے میری پوری زندگی بدل دی۔
انہوں نے کہا:
"چالیس سال پہلے میں ایک نوکری کے انٹرویو کیلئے آدھا گھنٹہ پہلے پہنچ گیا تھا۔"
انتظار گاہ میں ایک اور آدمی بیٹھا تھا۔
بہت گھبرایا ہوا۔
بار بار اپنے ہاتھ رگڑ رہا تھا۔
بار بار پانی پی رہا تھا۔
ابا نے اُس سے بات شروع کر دی۔
موسم کی۔
عمارت کی۔
اور اُس عجیب سے پنکھے کی جو ہر پانچ منٹ بعد چرچراتا تھا۔
تھوڑی دیر بعد اُس آدمی کی گھبراہٹ کم ہو گئی۔
اُس کا نام پکارا گیا۔
وہ اندر چلا گیا۔
ابا بھی گئے۔
شام تک نتیجہ آ گیا۔
نوکری اُس آدمی کو مل گئی۔
ابا کو نہیں۔
میں نے پوچھا:
"پھر؟"
ابا مسکرائے۔
"گھر آتے ہوئے پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ نوکری ملنے یا نہ ملنے سے زیادہ اہم ایک اور چیز تھی۔"
"وہ آدھا گھنٹہ۔"
میں خاموشی سے سنتی رہی۔
وہ بولتے گئے:
"بیٹا، اصل ضرورت تقریب کے بعد نہیں ہوتی۔"
"اصل ضرورت اُس سے پہلے ہوتی ہے۔"
"آپریشن سے پہلے۔"
"امتحان سے پہلے۔"
"جنازے سے پہلے۔"
"عدالت میں گواہی دینے سے پہلے۔"
"کسی مشکل گفتگو سے پہلے۔"
"اُس وقت انسان سب سے زیادہ تنہا ہوتا ہے۔"
پھر انہوں نے میری طرف دیکھا۔
اور بولے:
"میں نے اُس دن کے بعد فیصلہ کیا کہ جہاں بھی جاؤں گا، آدھا گھنٹہ پہلے جاؤں گا۔"
"شاید کسی کو میری ضرورت ہو۔"
اچانک مجھے اپنی پوری زندگی یاد آنے لگی۔
دادی کے آپریشن سے پہلے ابا ہسپتال کے باہر کسی اجنبی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔
محلے کے جنازوں میں وہ سب سے پہلے پہنچتے تھے۔
میرے سکول کے فنکشن میں بھی وہ ہمیشہ وقت سے پہلے موجود ہوتے تھے۔
میں سمجھتی تھی وہ بور ہو رہے ہوں گے۔
مگر حقیقت میں وہ کسی نہ کسی کے ساتھ بیٹھے ہوتے تھے۔
کسی پریشان باپ کے ساتھ۔
کسی گھبرائے ہوئے بچے کے ساتھ۔
کسی ایسی ماں کے ساتھ جس کا دل خوف سے بھر چکا ہوتا تھا۔
ابا بولتے رہے:
"آدھا گھنٹہ پہلے لوگ ابھی کردار ادا نہیں کر رہے ہوتے۔"
"اُس وقت وہ ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے حقیقت میں ہوتے ہیں۔"
"اور اکثر انہیں صرف ایک انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اُن کے پاس بیٹھ جائے۔"
گھر واپسی پر میں بہت دیر خاموش رہی۔
پھر اچانک سڑک کے کنارے گاڑی روک دی۔
ابا نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔
میں نے فون نکالا۔
اور اپنی بہن کا نمبر ملایا۔
دو سال سے ہم دونوں کے درمیان بات چیت تقریباً ختم تھی۔
کوئی بڑا جھگڑا نہیں ہوا تھا۔
بس خاموشی جمع ہوتی گئی۔
اور فاصلے دیوار بن گئے۔
میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ ایک دن جب میں تیار ہو جاؤں گی، تب فون کروں گی۔
اُس دن اچانک مجھے احساس ہوا:
شاید صحیح وقت وہ نہیں ہوتا جب ہم تیار ہوں۔
شاید صحیح وقت وہ ہوتا ہے جب ہم انتظار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
فون بجا۔
دوسری طرف سے بہن کی آواز آئی۔
"السلام علیکم۔"
میں خاموش ہو گئی۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا:
"میں تمہارے فون کا انتظار کر رہی تھی۔"
اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
آج ابا بیاسی سال کے ہیں۔
اب بھی ہر جگہ آدھا گھنٹہ پہلے پہنچتے ہیں۔
پچھلے ہفتے میرے بھتیجے کی گریجویشن تھی۔
تقریب شروع ہونے سے پہلے ایک نوجوان اکیلا بیٹھا تھا۔
اُس کے خاندان میں وہ پہلا شخص تھا جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو رہا تھا۔
وہ گھبرایا ہوا تھا۔
پریشان تھا۔
اور اکیلا تھا۔
ابا جا کر اُس کے پاس بیٹھ گئے۔
دونوں تقریب شروع ہونے تک باتیں کرتے رہے۔
بس آدھا گھنٹہ۔
صرف آدھا گھنٹہ۔
مگر بعض اوقات کسی انسان کی پوری زندگی بدلنے کیلئے آدھا گھنٹہ ہی کافی ہوتا ہے۔
کیونکہ دنیا میں سب سے قیمتی لوگ وہ نہیں ہوتے جو وقت پر پہنچتے ہیں...
بلکہ وہ ہوتے ہیں جو کسی کے مشکل وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ ❤️