کیسے کیسے روگ نجانے لگ گئے
ہم کو مرنے میں زمانے لگ گئے
غافل رہے سبھی باعثِ مرگ کیا ہے
میرے احباب مجھے دفنانے لگ گئے
ہم اسے اپنا سمجھتے رہے برسوں
پھر ایک دن میرے ہوش ٹھکانے لگ گئے
وہ جس کو ملا ہو گا یقیناً
اس کے ہاتھ خزانے لگ گئے
11/02/2026
پایا جہاں میں تو نے میرا نعم البدل کیا
بڑی گاڑی، مٹھی بھر دولت اور محل کیا
اپنے ہاتھوں سے آج جلا رہا ہوں میں
تیرے لیے لکھے قصیدے کیا، غزل کیا
کی ہزار بار توبہ خدا سے میں نے
ہوئی ہے مجھ سے خطا روزِ ازل کیا
دل جب اٹھ جائے تو کشش کھو دیتا ہے
گُلِ لالہ کیا، گلاب کیا اور کنول کیا
Be the first to know and let us send you an email when Jaun Elia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.