Canadian Pakistani; Pakistani Canadian

Canadian Pakistani; Pakistani Canadian this page is all about Canadian and pakistani cultural heritage and interesting differences between the two. love Pakistan love Canada .

05/04/2026

Copied

گاڑیوں میں جیسے سن روف ہوتی ہے نا، ویسے کمروں میں روشن دان ہوا کرتے تھے۔

کلائمیٹ چینج کی اِس صدی میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ بس روشن دان ہیں۔

روشن دانوں کا راستہ ہمارے اے سیوں نے بند کر دیا اور کھڑکی جتنی مرضی بڑی ہو جائے اُس کا وہ والا فائدہ ہی نہیں ہوتا۔

تب اے سی بس بڑے سرکاری دفتروں میں ہوتے تھے یا ہسپتالوں میں، اور ان عمارتوں میں روشن دان ٹیپ اور گتے لگا کے مکمل بند ہونا شروع ہو چکے تھے تاکہ ٹھنڈک باہر نہ جائے، وہ بس روشن دانوں کے چل چلاؤ کا زمانہ تھا۔

اِس میں سائنس بڑی سیدھی تھی، کمرے کی گرم ہوا اوپر اٹھتی تو اُسے باہر نکلنے کے لیے راستہ مل جایا کرتا تھا اور کھڑکیاں دروازے وغیرہ چقوں سے یا ٹاٹ قسم کے پردوں سے ڈھانپ دیے جاتے تاکہ دھوپ سے گرمی اندر نہ آئے۔

پنکھے بالکل چھت سے چپکے نہیں ہوتے تھے، جیسے اب ہمارے ہوتے ہیں، ایک موٹے پائپ کے آخر میں پنکھا ٹانگا جاتا تھا اور چھت سے اس کا فاصلہ کم از کم ڈیڑھ دو فٹ بڑے آرام سے ہوتا تھا۔

آپ لوگ اب حق پہ روتے ہیں کہ پنکھا آگ برسا رہا ہے، بھائی چھت کے منہ پہ پنکھا گاڑ دیں گے تو تپے ہوئے پچھواڑے سے آگ خرید کے اس نے آگے پھول تو نہیں نچھاور کرنے، گرمی ہی ملے گی۔

تان روشن دانوں ہی پہ ٹوٹے گی۔ وہ تھے تو چھتیں اونچی تھیں، پنکھے چھت سے دور اور انسانوں کے قریب ہوتے تھے، گرم ہوا اوپر نکلتی رہتی تھی اور کمرے کی ہوا کو وہی اوپر والا پنکھا سرکولیٹ کرتا تھا۔ ایک روم کولر کمرے میں کہیں لگ جاتا اور پورا گھر چادریں اوڑھ کے سوتا تھا۔

روشن دان ڈپریشن کم کرنے کا بھی اچھا طریقہ تھا۔ کوئی بیمار ہے، دس بارہ دن سے کمرے میں ہے، تب بھی روشن دان کو دیکھ کے دن رات، صبح شام، بادل، ہوا، بارش، سب کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ چاند تاروں پہ بھی نظر پڑ جاتی تھی، کوئی پرندہ آ گیا، بیٹھا، اڑ گیا، ایک دنیا تھی، طبیعت بہلی رہتی تھی۔

اب دیواروں کو دیکھیں آپ، چھت کے پنکھے کو گھور لیں یا موبائل کھول کے دیکھیں کہ باہر موسم کیسا ہے، یہ کیا زندگی ہے یار؟

ابھی کل ایک دوست نے کیا عمدہ بات کہی کہ پہلے خبرنامے کے آخر میں ہوا کرتا تھا موسم کا حال، اب شروعات ہی موسم کی خبروں سے ہوتی ہے۔

تو روشن دان ہمارے ہیرو ہیں اور اے سی اس پوری صورت حال میں ولن، کدھر جائے گی وہ ساری گرمی جو اس وقت آپ کے اے سیوں سے نکل کے ماحول میں جمع ہوتی جا رہی ہے؟ اقوام متحدہ کہتی ہے کہ آج سے ستر پچھتر سال بعد، دنیا کی تین چوتھائی آبادی جان توڑ قسم کی گرمی میں، صرف ان اے سیوں کی وجہ سے مبتلا ہو گی جو ہم آج کل بے دردی سے چلا رہے ہیں۔

’ہو جائے، ہمیں کیا، ہم پہلے ہی خوار ہیں، اس سے زیادہ کیا گرمی ہو گی؟‘

یہ قومی رویہ ہے ہمارا، اور ٹھیک بھی ہے، جس کی جگاڑ لگی ہوئی ہے وہ کیوں سوچے گا کہ اے سی بند کرے؟ لائٹ جاتی ہے تو جان نکل جاتی ہے، لوگوں کی ستر فیصد تنخواہ بجلی کے بلوں اور گرمی سے بچنے کے دوسرے چکروں میں نکل رہی ہے، حق ہے، سب ٹھیک ہے، لیکن یار ۔۔۔ اے سی پہ انحصار کم کرنے اور روشن دانوں کو یاد کرنے کا مطلب صرف ماضی کو واپسی نہیں ہے، وہ زندگی کا ایک پورا طریقہ تھا جو ہمارے بزرگوں نے بڑی سوچ بچار کے بعد بنایا تھا اور اس میں آدمی بے بس نہیں تھا موسموں کے آگے۔

وہ فطرت کے قریب تھے، قدرت بھی انہیں نوازتی تھی، ہوتا ہو گا تب بھی کوئی نہ کوئی موسمیاتی تغیر، لیکن انہیں اس کا حل بھی مل جاتا تھا، دو تین گھڑے ان کا پانی صاف کر دیتے تھے، مٹی کا برتن ہی اس پانی کو ٹھنڈا ٹھار بھی کرتا تھا، ململ کے سفید جوڑوں میں ان کی صبحیں شام ہو جاتی تھیں، سرسوں کا تیل ان کی ساری تکلیفوں کا حل تھا۔

موتیے کے ہار گلے میں ڈال کے ان کی پرفیوم والی حس مطمئن ہو جاتی تھی، تخم بالنگا یا گڑ وغیرہ ان کے کولڈ ڈرنک ہوتے تھے، باقی چھوٹا سا شہر ہوتا تھا، جہاں گئے پیدل گھومے، ویسے ہی واپس آ گئے، شام ڈھلے بان کی چارپائی پہ سکون سے آنکھیں بند کیں، بہت عیاشی ہوئی تو اسے گھسیٹ کے باہر نکالا اور ایک پیڈسٹل فین لگا لیا، گرمی ختم پیسہ ہضم، صبح تڑکے اٹھ کے واپس اندر چلے گئے۔

اب کیا ہو سکتا ہے؟ ولائتی چیخیں ہم نے مار لیں، انجام بھی دیکھ لیا، سر پہ بے رحم سورج ہے اور بجلی نہ ہو تو موت ۔۔۔ حل وہی ہے۔

روشن دان کو ایک بہانہ سمجھ لیں، ہر پرانا طریقہ گرمی بھگتانے میں اب بھی پہلے جیسا مددگار ہے۔

وہی پتلی لسی، الائچی، گڑ، ستو وغیرہ ٹائپ کے شربت، کھلے کپڑے، دھوپ میں سر اور گردن ڈھانپنے کا صافہ، مٹی کے برتن، گیلی چقیں، کُھسے، بان کی چارپائیاں، اے سی کی بجائے روم کولر، پھول، پودے، درخت، گھر میں جگہ کم ہے تو کیاریاں، نئے گھر بناتے ہوئے کمروں کے اطراف ہوا کے لیے غلام گردشیں، فوم کا کم استعمال، موسمی پھل سبزیاں، کم گوشت خوری، اور پانی میسر ہے تو دن میں تین چار بار نہانا۔

یہ سب کچھ آج بھی ہو سکتا ہے لیکن ایک بٹن دبانے سے اے سی کی جو ٹھنڈی یخ ہوا روح کے اندر تک اتر جاتی ہے اس کے نشے سے کون بچے اور کیسے؟

روشن دان دیکھ لینے کی امید کا سورج اب یادوں کے کمرے میں ہی کرنیں چھلکائے گا، اے سی سولروں پہ چلتے رہیں گے، بچے ہم سے زیادہ گرمیوں میں جھلسیں گے، ہم، پہلے آج زندہ رہنے کا سامان کریں گے، کل؟ کل کس نے دیکھا ہے؟

کل بھی ہم یہی کہتے تھے، آنے والے کل بھی یہی کہیں گے، رہے نام سائیں کا، جو کرنا ہے اسی نے کرنا ہے!

۔۔۔۔۔

روشن دان ہمارے ہیر

04/10/2026

Copied
جب اکیلے ہسپتال آئے پینتالیس سالہ خواجہ سرا نے آپریشن سے پہلے ہسپتال کے سنگی فرش پہ بیٹھ کر روتے ہوئے کہا
“ماں تو ماں ہوتی ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس کی کمی تو کبھی پوری نہیں ہوتی”

جب چالیس سالہ خاتون کو پردیس جاتے ہوئے اپنے سامان میں سلیقے سے سجائی ماں کی چادر کو بطور یاد ساتھ لے جاتے دیکھا۔

جب اٹھہتر سالہ بزرگ نے بتایا کہ زندگی میں سب سے بڑا دکھ ماں باپ کی جدائی تھا اور ان کے جانے کا گھاؤ، واحد گھاؤ ہے جو آج تک نہیں بھر پایا۔

جب گیارہ سالہ بچے نے ماں کی قبر سے لپٹ کر روتے ہوئے کہا کہ
“مجھے کس کے سہارے چھوڑ کر گئی ہو”

جب ساٹھ سالہ خاتون کو برسوں پہلے رخصت ہوئی ماں کی یاد میں آئے آنسو چھپانے کو پیاز چھیلتے دیکھا۔

جب سولہ سال کے نوجوان کو ماں کی تازہ قبر سے مٹی اٹھا کر ساتھ لے جاتے دیکھا۔

جب جوان توانا مرد کو مسجد میں نعت خوانی کے دوران ماں کے متعلق کلام سن کر دھاڑیں مار کر روتے دیکھا

جب تین سالہ بچے کو صبح سے بھوکے ہونے کے باوجود کھانا چھوڑ کر ماں کی تلاش میں پورا گھر پھرتے دیکھا

جب اک ذہنی مریض کو ماں کے مرنے کے بعد بھوک سے بلبلاتے دیکھا

تو جانا کہ کچھ بھی ہو جائے، ماؤں کو مرنا نہیں چاہیے۔۔۔۔

جب اپنی ماں کے جانے پہ اپنا ہونا بے مقصد ہوتے دیکھا ، جب ماں کی یاد میں دل نچڑتا ، وجود ادھڑتا دیکھا تو تب جانا کہ
“ماں تو ماں ہوتی ہے” اس کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔ سارے زمانے کے خزانے مل جائیں، پھر بھی ماں کے لمس کا متبادل نہیں ہو پاتے۔ نرم ترین بستر ، ماں کی آغوش کی نرمی نہیں دے پاتے۔ بہترین ہوٹل، ماں کے ہاتھ کی چُوری کا ذائقہ لوٹانے میں ناکام رہتے ہیں۔

مجھے لگتا تھا کچھ عمر گزرے گی تو سنبھل جائیں گے، دل کو قرار آ جائے گا۔ وقت مرہم بن کر اس دکھ کا مداوا کر دے گا۔ لیکن ہائے یہ دکھ۔۔۔۔۔۔ اس زخم کو آرام ملتا ہی نہیں۔ ہم عمر کے کسی بھی حصے میں پہنچ جائیں، ماں کی کمی بھرتی ہی نہیں، دل دوبارہ سے جڑتا ہی نہیں۔

میرے کریم جو تری رضا مگر اس بار
برس گزر گئے شاخوں کو بےثمر رہتے

۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔

03/29/2026

Copied

کوئی دو سال پہلے میں کچن میں برتن دھو رہی تھی. سردی شدید تھی

اور پانی ٹھنڈا. اس لئے تیز رفتاری کے ساتھ کام کر رہی تھی تاکہ جلدی ختم ہوں. لیکن ٹھنڈے ہاتھوں سے کانچ کی ایک پلیٹ پھسل کر ٹوٹی اور شیلف پر ہر طرف کرچیاں بکھر گئیں.

میں نے نہایت احتیاط سے انہیں سمیٹ کر کچرے میں ڈالا اور بقیہ برتن ختم کیے. آخر پر جب شیلف صاف کر کے اوپر وائپر لگانے لگی تو ایک آدھ کانچ کا ٹکڑا شیلف پر ہی رہ گیا تھا. شفاف ہونے کی وجہ سے مجھے نظر نہیں آیا. وائپر لگایا تو جیسے ہاتھ میں چبھ کر وہ ٹکڑا ساتھ ہی گِھسٹتا چلا گیا. بھل بھل خون گرنے لگا. ٹھنڈے ہاتھ میں شدت کا درد اٹھا. میں نے پٹی وغیرہ کی. کچھ دن بعد زخم مکمل ٹھیک ہو گیا. اور مجھے بھول گیا کہ کبھی ایسا کچھ ہوا بھی تھا.

کچھ دن پہلے دوبارہ مہمان بہت زیادہ تھے تو میں تیزی کے ساتھ کام کر رہی تھی. جلدی سے برتن دھو کر کر جب شیلف صاف کر کے وائپر لگانے لگی تو لاشعوری طور پر ایک دم سے میرا ہاتھ بے ساختہ پیچھے ہوا. اور مجھے جھماکے سے وہ دو سال پہلے کا واقعہ یاد آیا. حالانکہ اس بار شیلف پر کوئی کانچ نہیں بکھرا تھا ، لیکن میں نے پھر بھی زرا احتیاط سے شیلف صاف کی. مجھے وہ زخم یاد نہیں تھا، لیکن میرے دماغ کو زخم بھی یاد تھا، تکلیف بھی یاد تھی اور اس نے مجھے دوبارہ اس سے گزرنے سے بچانے کے لیے میرا ہاتھ پیچھے کر کے قبل از وقت ہی محتاط کر دیا تھا.

اس کو دماغ کا آٹومیٹک ڈیفینس میکنزم کہتے ہیں. وہ ایک بار چوٹ کھاتا ہے، لیکن اگلی بار اسے یاد رکھتا ہے اور خود کو دوبارہ اس تکلیف سے بچانے کی پوری کوشش کرتا ہے. لیکن دماغ صرف جسمانی چوٹ پر یہ نہیں کرتا. وہ جذباتی چوٹ پر بھی بالکل ایسا ہی ردِعمل دیتا ہے.

آپ کو کسی جگہ بے عزت کیا گیا، دماغ اگلی بار وہاں نہ جانے کے بہانے بنائے گا.
آپ کو کمتر محسوس کروایا گیا، دماغ آپ کو یا تو دوسری ایکسٹریم پر لے جا کر برتر محسوس کروائے گا یا پھر آپ کو کہے گا کہ خود کو کم تر مان لو، تاکہ تم تکلیف میں نہ رہو.
آپ کو کسی سے دھوکہ ملا، دماغ آپ کو اگلی بار کے لئے پوری انسانیت سے بے اعتبار کر دے گا.
آپ سے کسی نے بے وفائی کی، دماغ ساری زندگی کے لیے محبت وفا اور قدر دانی پر سے اعتبار اٹھا دے گا.

لیکن یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دماغ تو یہ سب کرے گا ہی. کیونکہ اس کا فنکشن ہی یہ ہے. اس نے ایسے ہی کام کرنا ہے. لیکن کیا دماغ کو آپ کو کنٹرول کرنا چاہیے؟ یا دماغ کا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں ہونا چاہیے؟

اس دنیا میں بہت کچھ ہوتا ہے. جسمانی، روحانی، جذباتی ہر طرح کی شکستگی ملتی ہے. لیکن یہ ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے کہ ہم نے اس چیز کو ، اپنی شکست کو، اپنی ہار کو، اپنے زخم کو اور اپنے درد کو خود پر کتنا حاوی ہونے دینا ہے.

آپ بس وہ زخم نہیں ہیں، جو صدیوں پہلے آپ کو ملا اور ابھی تک اس سے خون رِستا ہے.
آپ بس وہ دھوکہ نہیں ہیں، جو سالوں پہلے کسی نے آپ کو دیا اور آپ آج بھی خود سے نظریں نہیں ملا پاتے.
آپ بس وہ گناہ نہیں ہیں، جو عرصہ پہلے آپ سے سرزد ہوا اور آج بھی آپ کو آپ کی نظر میں شرمندہ رکھتا ہے.
آپ بس وہ بے وفائی نہیں ہیں، جو آپ سے کی گئی اور آپ وکٹم ہونے کے باوجود خود کو قصور وار سمجھتے ہیں.

آپ ، آپ ہیں. اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ آپ خوبصورت ہیں. خود پر لگے ہوئے تمام گھاؤ، زخم، شکستگی، ہار، اور تکلیفیں بھی آپ کو بدصورت نہیں بنا سکتیں. آپ ہر طرح کی عزت محبت اور وقار کے مستحق ہیں.

اس دنیا کے کسی بھی اور انسان کو معاف کرنے سے پہلے خود کو معاف کرنا سیکھیں. خود کو موردِ الزام ٹھہرانا چھوڑ دیں. خود کے اندر مستقل خامیاں تلاش کرنا ختم کر دیں. آپ محض خوبیوں سے مل کر بنے ہیں تب بھی بہترین ہیں. آپ محض خامیوں سے مل کر بنے ہیں تب بھی اپنی جگہ شاندار ہیں.

اپنے دماغ کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کی قسمت کے فیصلے کرے. وہ آپ کی تقدیر طے کرے. پلیٹ ٹوٹنے کے بعد زخم لگے اور اگلی بار انسان ہاتھ پیچھے کر لے تو فائدہ ہو سکتا ہے. لیکن، آپ سے کوئی غلطی ہو جائے اور آپ اس کے بعد ساری زندگی کے لیے انسانوں پر اعتبار کرنا چھوڑ دیں، محبت کو خود پر حرام کر لیں، تعریفوں پر منہ بسورنے لگیں، احساس کمتری پر مطمئن رہنے لگیں اور اپنے زخموں کو رِستا ہوا دیکھتے رہیں تو یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے.

فرار کی راہ چھوڑ دیں. اپنا سامنا کریں. اپنے زخموں پر مرہم پٹی رکھیں. اور زخم مندمل ہونے کے بعد اس زخم کو بھول جائیں. شفا پائیں. کسی اور کے لئے نہیں محض اپنے لیے. آپ خود شفا کے سب سے زیادہ مستحق ہیں .

،،تصویر ادھوری رہتی ہے ! رب کائنات نے زندگی کو ایسا ڈیزائن کیا ہے کہ تمام تر کامرانیوں اور کامیابیوں کے باوجود زندگی کی ...
03/11/2026

،،تصویر ادھوری رہتی ہے !
رب کائنات نے زندگی کو ایسا ڈیزائن کیا ہے کہ تمام تر کامرانیوں اور کامیابیوں کے باوجود زندگی کی تصویر ادھوری رہتی ہے
کہیں نہ کہیں اس میں موجود کمی اور کجی کی ٹیڑھ ہمیں چھبتی ضرور ہے ۔
مارچ کے آغاز میں بھارت میں دنیا کی مہنگی ترین پری ویڈنگ تقریبات نے پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچادیا۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی اس کا کافی چرچا رہا۔
مکیش امبانی ایشیا کے امیر ترین کاروباری اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں گیارویں نمبر پر ہیں وہ ریلائنس گروپ کے بانی اور چیئرمین ہیں.
اس تقریب میں مہمانوں کو ڈھائی ہزار ڈشز ناشتے ،ظہرانے ۔شام۔کی چائے عشائیے اور مڈںائٹ ڈنر کے طور پر پیش کی گئیں
فلم انڈسٹری کے تمام سپر سٹار تقریب میں ناچتے دکھائی دئیے۔
دنیا بھر سے نامور گلیمرس شخصیات کی موجودگی کی چکاچوند کے باوجود اس تقریب کا مرکز نگاہ دولہا اننت امبانی تھے
تقریب کے دولہا اننت مبانی اس وجہ سے بھی خبروں کا موضوع رہے کہ وہ ایک خطرناک بیماری کا شکار ہیں۔ جس میں وزن بے تحاشہ بڑھ جاتا ہے۔

اننت امبانی کو شدید قسم کا دمے کا مرض لاحق ہے جس کا علاج عام دوائیوں سے ممکن نہیں ۔سو علاج کے لیے اسے سٹیرائیڈز دئیے جاتے رہے ہیں ۔ان میں سٹیرائیڈز کی ایک قسم کارٹیکو سٹیرائیڈز تھی سٹرائیڈز کی یہ قسم وزن بڑھنے کا سبب بنتی ہے ۔
اس سے انسان کی بھوک بے تحاشہ بڑھ جاتی ہے اتنی کہ وہ ہاتھی کی طرح کئی افراد کا کھانا اپنے پیٹ میں انڈیلنے لگتا ہے ۔
اسے قدرت کی ستم ظریفی کہیے کہ کھربوں ڈالر کے اثاثوں کے مالک مکیش امبانی کا لاڈلا اور چھوٹا بیٹا ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس کے علاج کے لیے سٹیرائڈز کی تباہی کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا
اس کے بیٹے کو ہاتھیوں سے لگاؤ ہوا تو مکیش امبانی نے ایکڑوں پر پھیلا ہوا ہاتھیوں کا ایک سفاری پارک بنادیا ۔اس سفاری پارک میں بیمار ہاتھیوں کے اسپتال ،تفریح گاہوں ،سپا اور مالش کا انتظام ہے ۔خشک میوہ جات سے بھرے ہوئے سینکڑوں لڈو روزانہ ہاتھیوں کو کھلا دیے جاتے ہیں۔
یہ صرف مکیش امبانی کے اپنے بیمار بیٹے کے ساتھ لاڈ کی ایک جھلک ہے۔
مگر وہ اپنی تمام تر دولت کے باوجود اپنے بیٹے کے لیے مکمل صحت سے بھرا ایک دن نہیں خرید سکا۔
اننت امبانی نے تقریب میں ہزاروں مہمانوں کے سامنے اپنے دل کی بات کرتے ہوئے کہا کہ میری زندگی پھولوں کی سیج نہیں رہی بلکہ میں نے کانٹوں کے راستوں پر چل کر زندگی گزاری ہے
اس کا اشارہ اپنی خوفناک بیماری کی طرف تھا اس نے کہا کہ میں بچپن ہی سے ایک ایسی بیماری کا شکار تھا جس میں میری والدین نے میرا بہت ساتھ دیا۔
جب اننت امبانی یہ باتیں کر رہا تھا تو کیمرے نے ایشیا کے سب سے امیر ترین شخص مکیش امبانی کے چہرے کو زوم کیا اس کے گہرے سانولے رنگ میں ڈوبے
خدو خال تکلیف سے پگھل رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے
تکلیف اور بے بسی کے آنسو کہ وہ کھربوں ڈالر کے اثاثوں کے باوجود اپنے بیٹے کے لیے مکمل صحت سے بھرا ہوا ایک دن نہیں خرید سکا۔
رب نے دنیا ایسی ہی بنائی ہے کہ تصویر ادھوری رہتی ہے ۔اسی ادھورے پن میں ہمیں اس ذات کا عکس دکھائی دیتا ہے جو مکمل ہے!
سو آئیں مکیش امبانی کی دولت پر رشک کرنے کی بجائے اپنی زندگی کی ادھوری تصویر پر اپنے رب کا شکر ادا کریں

جہاں ہیں جیسے ہیں خوش رہیں۔۔۔ خوشیاں بانٹیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
Copied

02/17/2026

"ایک زائد پلیٹ"
"وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے گی۔" میری بارہ سالہ بیٹی ایک اجنبی لڑکی کو گھسیٹ کر ہمارے باورچی خانے میں لے آئی، مجھ سے اسے کھانا کھلانے کا مطالبہ کیا اور ایک ایسا راز فاش کیا جس نے میری پوری دنیا ہلا کر رکھ دی۔ میں نے کڑاہی میں بھنتے ہوئے صرف آدھا کلو قیمے کی طرف دیکھا۔ یہ آٹھ ڈالر کا آیا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ اسے چار لوگوں کے لیے 'ٹاکوز' (کھانے) میں پورا کروں گی۔ اب ہم پانچ لوگ تھے۔
ایما نے کہا، "امی، یہ زوئی ہے ۔" اس کے لہجے میں درخواست نہیں تھی، بلکہ وہ مجھے اعتراض کرنے کا چیلنج دے رہی تھی۔
زوئی فریج کے پاس کھڑی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے وہ دیوار میں کہیں چھپ جانا چاہتی ہو۔ 42 ڈگری کی شدید گرمی میں اس نے ایک بڑا سا 'ہوڈی' (گرم کپڑا) پہن رکھا تھا۔ اس کے جوتے جگہ جگہ سے ڈکٹ ٹیپ سے جڑے ہوئے تھے۔ وہ فرش کو گھور رہی تھی اور ایک بستہ تھامے ہوئے تھی جو بالکل خالی لگ رہا تھا۔
میں نے ذہن میں حساب لگایا۔ اگر میں اس میں کچھ مزید چاول اور لوبیا ڈال دوں، تو شاید کسی کو گوشت کی کمی محسوس نہ ہو۔
"ہیلو زوئی،" میں نے ایک بناوٹی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "ایک پلیٹ اٹھا لو۔"
رات کا وہ کھانا تکلیف دہ تھا۔ خاموشی اتنی گہری تھی کہ چبھ رہی تھی۔ میرے شوہر نے زوئی سے اسکول کے بارے میں پوچھا۔
"ٹھیک ہے، سر۔" بس ایک لفظی جواب۔
پھر اس کے والدین کے بارے میں پوچھا۔
"وہ کام پر ہیں۔"
وہ اس طرح کھا رہی تھی جیسے کوئی بھوکا جانور کھانے کے آداب برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ چھوٹے چھوٹے لقمے اور تیزی سے چبانا۔ وہ پانی کے تین گلاس پی گئی۔ جب بھی میں اسے دوبارہ کھانا دینے کے لیے ہلتی، وہ سہم جاتی۔
جب آخر کار دروازہ اس کے پیچھے بند ہوا، تو میں ایما پر برس پڑی۔ مہینے بھر کا تناؤ—بجلی کا بل، اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتیں سب غصے کی شکل میں باہر نکل آیا۔
"ایما، تم اس طرح اجنبیوں کو گھر نہیں لا سکتیں! ہمارا ایک بجٹ ہے۔ ہمارے پاس اپنے لیے ہی بمشکل پورا پڑتا ہے۔"
"وہ بھوکی تھی، امی۔"
"تو وہ اپنے گھر جا کر کھاتی! یا اسکول میں بتاتی!"
ایما نے غصے سے کاؤنٹر پر ہاتھ مارا۔ "اس کے گھر میں کھانا نہیں ہے! اس کے والد گودام میں دو شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور رات کو اوبر چلاتے ہیں تاکہ اس کی ماں کے اسپتال کے بل ادا کر سکیں۔ فریج خالی ہے۔ پچھلے ہفتے ان کی بجلی کٹ گئی تھی۔"
میں ساکت رہ گئی۔ "تمہیں یہ سب کیسے معلوم؟"
"کیونکہ آج وہ جم (کلاس) میں بے ہوش ہو گئی تھی۔ نرس نے اسے جوس کا ایک ڈبہ دیا اور کہا کہ ناشتہ اچھا کیا کرو۔ لیکن اس کے پاس ناشتہ نہیں ہوتا۔ اس کے پاس رات کا کھانا نہیں ہوتا۔ وہ صبح 11 بجے اسکول سے ملنے والا مفت لنچ کھاتی ہے اور پھر اگلے چوبیس گھنٹوں تک اسے کچھ میسر نہیں ہوتا۔"
میرا دل ڈوبنے لگا۔ "اس نے کونسلر کو کیوں نہیں بتایا؟ ہمارے پاس اس کے لیے پروگرامز موجود ہیں۔"
"مذاق کر رہی ہیں آپ؟" ایما نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے وہ اس عمر میں دنیا کی تلخیوں کو جان چکی ہو۔ "اگر وہ بتائے گی تو وہ چائلڈ پروٹیکشن (سی پی ایس) کو بلا لیں گے۔ جب وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ فریج خالی ہے اور گھر پر کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے کیونکہ اس کے والد 16 گھنٹے کام کر رہے ہیں، تو وہ اسے چھین کر لے جائیں گے۔ اس کے والد ہمت ہار جائیں گے، شاید نوکری سے بھی جائیں، اور وہ پھر کبھی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پائیں گے۔ وہ بھیک نہیں مانگ رہی امی، وہ اپنے خاندان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔"
میں کچن کے اسٹول پر بیٹھ گئی۔ غصہ غائب ہو گیا اور اس کی جگہ ایک ٹھنڈی، بوجھل شرمندگی نے لے لی۔
میں آدھا کلو گوشت پورا کرنے کے بارے میں پریشان تھی، جبکہ وہ بچی اس خوف میں مبتلا تھی کہ وہ اپنے باپ کو کھو دے گی جو اسے کھلانے کے لیے دن رات محنت کر رہا تھا۔
میں نے سرگوشی میں کہا، "اسے دوبارہ لے کر آنا۔"
"کل؟"
"ہر روز۔ جب تک میں منع نہ کروں۔"
زوئی اگلے دن آئی۔ اور اس سے اگلے دن بھی۔ یہ ایک خاموش معمول بن گیا۔ وہ آتی، آئی لینڈ پر بیٹھ کر ہوم ورک کرتی جب میں کھانا پکاتی، ہمارے ساتھ کھانا کھاتی اور چلی جاتی۔
اس نے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ کبھی شکایت نہیں کی۔ وہ بس خاموشی سے کھانا کھاتی۔
ہم نے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی۔ امریکہ میں غربت ایک "شرمناک راز" ہے۔ آپ اسے تسلیم نہیں کرتے، چاہے وہ آپ کے کھانے کی میز پر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔ آپ بس خاموشی سے کھانا آگے بڑھا دیتے ہیں۔
تین سال بعد، معیشت پھر بدل گئی۔ پٹرول مہنگا ہو گیا، کرائے بڑھ گئے۔ ہم سب دباؤ محسوس کر رہے تھے۔ لیکن وہ ایک زائد پلیٹ وہیں رہی۔
ہائی اسکول کی گریجویشن کی رات، زوئی ہمارے لونگ روم میں اپنی کیپ اور گاؤن پہنے کھڑی تھی۔ وہ اپنی کلاس میں اول آئی تھی۔ اسے اسٹیٹ یونیورسٹی کے لیے مکمل اسکالرشپ مل چکی تھی۔ وہ ایک انجینئر بننے جا رہی تھی۔
اس نے مجھے ایک کارڈ دیا۔ اس کے اندر اس کی اور اس کے والد کی تصویر تھی—ایک ایسا شخص جسے میں نے صرف دور سے دیکھا تھا جب وہ اپنی پرانی گاڑی میں اسے لینے آتا تھا۔
اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، "میں جانتی ہوں میں زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے کچھ غلط کہہ دیا، تو آپ کو احساس ہو جائے گا کہ میں آپ پر بوجھ ہوں اور آپ مجھے کھانا دینا بند کر دیں گی۔"
"زوئی، تم کبھی بوجھ نہیں تھیں۔"
اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ "آپ نے مجھے 800 بار رات کا کھانا کھلایا۔ آپ نے حکام کو فون نہیں کیا۔ آپ نے میرے والد کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کی۔ آپ نے بس اس بات کا خیال رکھا کہ میں اتنی طاقتور رہوں کہ پڑھ سکوں۔ آپ نے ہمیں بچا لیا۔ آپ کی وجہ سے ہم آج بھی ایک خاندان ہیں۔"
میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ میں نے کسی کو نہیں بچایا تھا۔ میں نے تو بس تھوڑا سا پاستا زیادہ ابال لیا تھا۔ میں نے تو بس سوپ میں تھوڑا پانی اور ڈال دیا تھا۔
لیکن یہی بات اہم ہے۔ ہم خود انحصاری پر فخر کرتے ہیں، لوگوں سے کہتے ہیں کہ اپنے حالات خود بدلو۔ لیکن آپ تب تک کھڑے نہیں ہو سکتے جب تک آپ کے جسم میں جان نہ ہو۔
ایما اب کالج میں ہے۔ پچھلے ہفتے اس کا فون آیا۔
"امی، میں تھینکس گیونگ پر ایک دوست کو گھر لا رہی ہوں۔ ہاسٹل بند ہو رہے ہیں اور وہ اوہائیو واپسی کی فلائٹ کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتا۔"
میں نے فوراً کہا، "ٹھیک ہے۔"
"امی، وہ کھاتا بہت زیادہ ہے۔"
"میں ایک بڑا ٹرکی (پرندہ) خرید لوں گی۔"
اپنے بچوں کے دوستوں کو غور سے دیکھیں۔ وہ جو خاموش رہتا ہے۔ وہ جو گرمی میں بھی ہوڈی پہنتا ہے۔ وہ جو کبھی نہیں بتاتا کہ اس نے کل رات کھانے میں کیا کھایا تھا۔
وہ کسی مسیحا کی تلاش میں نہیں ہیں۔ وہ کسی ایسے سرکاری پروگرام کی تلاش میں نہیں ہیں جو ان کی دنیا اجاڑ دے۔
وہ صرف بھوکے ہیں۔
ایک زائد پلیٹ تیار رکھیں۔ سوال مت کریں۔ بس اسے بھر دیں-آج بھی اگر آپ کے دروازے پر کوئی خاموش سا بچہ کھڑا ہو…
جو نظریں جھکائے ہو…
جو کبھی نہ بتائے کہ اس نے کل رات کیا کھایا تھا…تو یاد رکھیں
وہ مدد نہیں مانگ رہا۔
وہ صرف بھوکا ہے۔
ایک زائد پلیٹ تیار رکھیں۔
سوال مت کریں۔ بس اسے بھر دیں۔
اگر یہ کہانی آپ کے دل کو چھو گئی ہے، تو اسے آگے بڑھائیں۔
شاید کسی اور کے گھر میں بھی ایک پلیٹ کا اضافہ ہو جائے۔

Copied

02/13/2026

Copied

ہم نے وہ دور بھی گزارا ہے

۔۔۔
کہ پریاں ہماری چھت پہ اترا کرتی تھیں ۔۔

A bird's eye view....
1۔۔۔ مائیں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچیوں کو گھریلو امور اور دستی ہنر میں طاق کرتی تھیں ۔
2۔۔۔۔ ایک مضمون ہوم اکنامکس مڈل تک نصاب کا لازمی حصہ تھا جس میں کوکنگ اور سلائی , بنائی اور کڑھائی اور گھر داری سکول میں باقاعدہ سکھائی جاتی تھی اور میٹرک میں ایک سبجیکٹ ہاؤس ہولڈ بھی ہوتا تھا جس میں متعدد امور کے علاوہ تینوں طبقوں کی آمدن کے مطابق گھر کا پریکٹیکل بجٹ بنوایا جاتا تھا ۔۔۔
3 ۔۔۔جمعرات کو ہر گھر سے اور روازنہ کئی گھروں سے مر جانے والے افراد کی بخشش کے لئے مغرب کے وقت کھانے پہ ختم دلوا کے مسجد بھیجا جاتا تھا ۔۔
4 ۔۔ جب بچے مٹی اور کاغذ کے کھلونوں سے بہل جایا کرتے تھے ۔۔
5 ۔۔ جب لکس اور رکسونا کو انگریزی صابن کہا جاتا تھا ۔۔۔
6 ۔۔ ہینڈ واش کا کسی کو معلوم نہیں دیسی صابن کی پِھّچَر سے باتھ روم والے ہاتھ دھو لئے جاتے تھے ۔۔
7 ۔۔۔ سر دھونے کے لئے کپڑے دھونے والا اور نہانے کے لئے لائف بوائے صابن استعمال ہوتا تھا پھر بھی اتنے لمبے کالے سیاہ ریشمی بال ہوتے کہ طرحدار چوٹی پہ ناگن کا گمان ہوتا ۔۔
8 ۔۔۔ فقیر صرف پیٹ بھرنے کے لئے مانگتے تھے ۔۔ اور خال خال نظر آتے تھے ۔۔
9 ۔۔۔ فلم , ٹی وی اور تھیٹر کے اداکار عوام کی رسائی میں نہیں تھے ۔۔ نہ ہی ادیب اور شاعر عام تھے یہ سب لوگ ایک الگ عزت , مقام اور رتبہ رکھتے تھے عوام انہیں صرف سکرین پہ دیکھ سکتے تھے ۔۔
10 ۔۔۔ بڑے بہن بھائیوں کے کپڑے , جوتے , کتابیں , کاپیاں چھوٹے بہن بھائیوں کو تبرک کی طرح بانٹیں جاتی تھیں ۔۔۔
11 ۔۔ تمام بہن بھائی سرکاری سکولز میں پڑھتے تھے اور سب چھوٹے بڑے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے پیدل ہی آ جا جاتے تھے ۔
12 ۔۔۔ پرانے جوتوں کو سلوانے پالش سے چمکانے اور گنٹھوانے کا عام رواج تھا ۔۔
13 ۔۔ مردوں کا کیجول قومی لباس دھوتی بنیان تھی ۔۔
14 ۔۔۔ عام سواری سائیکل تھی اور پورے گھر کے لئے ایک ہی کافی تھی ویسپا موٹر سائیکل کسی کسی کے پاس ہوتی تھی ۔۔ فوکسی کا رواج جا رہا تھا اور سوزوکی شیراڈ جدید ترین فیشن کہلاتی تھی ۔۔
15 ۔۔۔ شہر بھر میں بمشکل چند ایک کاریں ہوا کرتی تھی ۔۔
16 ۔۔ بیرسٹری اور وکالت ایک معزز ترین پیشہ تھی معاشرے میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔
17 ۔۔ جگہ جگہ پیٹرول پمپ اور مسافر خانے نہیں ہوتے تھے ۔۔۔ نہ ہی روڈز پہ واش رومز ہوتے تھے مرد سڑکوں کی طرف پیچھا کر کے اور خواتین روڈ پہ بنے گھر والوں سے حاجت کی درخواست کرتی تھیں ۔۔۔
18 ۔۔۔ پڑوس سے ایک پیالی سالن , چینی یا گھی مانگ لینے کا عام رواج تھا اس میں کوئی جھجھک یا شرمندگی نہیں تھی ۔۔
19 ۔۔ پاؤ بھر گوشت میں سبزی ڈال کے دس بارہ افراد بہترین طعام کرتے تھے ۔۔ پاؤ بھر ہی دودھ سے چھ پیالی چائے بن جاتی تھی اور دہی پراٹھا یا چائے پراٹھا پورے گھر کا ناشتہ ہوتا تھا ۔۔ کبھی کبھی پراٹھوں کے لئے گھی نہیں بھی بچتا تھا ۔۔۔
20 ۔۔ گھر کی لڑکیاں بالیاں مل جل کے درجہ بدرجہ گھر کے تمام کام نمٹا لیتی تھیں ہیلپرز کا کوئی تصور نہیں تھا ۔۔
21 ۔۔ گھر بھر کی جرسیاں اور کپڑے گھروں میں ہی بُنتے سلتے اور ڈنڈے( کتکے) سے کوٹ کے دھلتے تھے ۔۔ رضائیاں دُلایاں بھی ۔۔۔
22 ۔۔۔ راہ چلتے محلے دار بچوں کو ڈانٹ کر گھر کی راہ دکھا دینے کا حق رکھتے تھے ۔۔۔ چچا ماموں ابا برابر اہمیت رکھتے تھے ۔۔
23 ۔۔۔ پانی بکتا نہیں تھا جگہ جگہ دستی ہینڈ پمپ لگے تھے یا پھر پیاسے لوگ بلا جھجھک دروازے کھٹکھٹا لیتے تھے ۔۔۔ لوگوں میں اتنی مروت تھی کی دور دراز سے اترنے والی باراتوں کو بھی سادہ پانی , میٹھا پانی یا سکنجبین پلا دیتے تھے ۔۔۔
24 ۔۔۔ شہری گھروں میں بھی پانی کی موٹر کا رواج نہیں تھا موٹروں کا رواج 80 کی دہائی میں عام ہوا ۔۔۔
25 ۔۔۔ فوڈ پوائنٹس اور باہر کے کھانوں , کھابوں کا رواج نہین تھا بلکہ اسے باقاعدہ برا سمجھا جاتا تھا اور گھر کی عورت کی کارکردگی اور سگھڑاپے پہ سوالیہ نشان تھا ۔۔
26 ۔۔ کوئی بھی چھوٹا بڑا برتن یا کڑاہی یا پرات یا بیلنا چوکی سہولت اور پورے استحقاق سے مانگ لی جاتی تھی ۔۔
27 ۔۔ بیشتر سنی اور شعیہ گھرانوں میں منہ اندھیرے رجب کے کونڈے بنائے اور کھلائے جاتے تھے ۔۔
28 ۔۔ عام گھروں میں سالانہ قراآن خوانی اور میلاد کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔۔
29 ۔۔۔ حاجات کی مقبولیت کے لئے محلے کی عورتوں کے ساتھ مل کے یٰسین شریف پڑھی جاتی تھی ۔۔
30 ۔۔۔ سال میں ایک بار بستروں کی پیٹیاں اور صندوق مانجھے جاتے تھے ۔۔۔ گھروں سے پڑچھتیاں ختم کرکے شوکیسز کا رواج پڑ رہا تھا ۔۔
31 ۔۔۔ ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر پسندیدہ ترین تفریح اور دل بستگی کے سامان تھے اور سب کو میسر نہیں تھے لوگ میچ اور گرما گرم خبریں سننے باربر کی دکان پہ جایا کرتے تھے اب تو ہر سینہ گوگل ہے ۔۔
32 ۔۔ بیوٹی پارلرز کا ترجمہ و تفصیل کسی کو معلوم نہیں تھے ۔۔۔
33 ۔۔ شدید گرمی میں بھی دوپہر کے چند گھنٹے پنکھا چلانے کے بعد بند کر دیا تھا اور رات کو چھت پہ بتیاں بجھا کے سونے کا رواج تھا ۔۔ زیادہ کھاتے پیتے گھروں میں خس اور کچی اینٹوں کی چنائی والے دیوار گیر کولر تھے ۔۔۔ ائیر کولر بھی رواج پکڑ رہے تھے ۔۔
34 ۔۔ بھائی لوگ بہنوں کو خوب ستایا کرتے اور آخر میں اپنے حصے دے کے منایا کرتے تھے ۔۔
35 ۔۔۔ لڑکی لڑکے کی صنف میں واضح فرق روا رکھا جاتا تھا ۔۔ لیکن بہن بھائیوں میں آپس میں شدید محبت ہوتی تھی ۔۔۔

( دیہاتوں میں تو یہ روایات ذرا اور بھی گہری ہوتی تھیں یہ طائرانہ نظر شہری زندگی کی ہے ۔۔۔
پھر ہم سب مہذب , تعلیم یافتہ اور مذہبی ہوگئے ۔۔ )

زارـⷶــⷢــᷧــᷧــᷦـــ ا مظہــ

02/09/2026

C

Copied

میں نے طب کی پریکٹس کے 53 سالوں میں 4000 سے زیادہ لوگوں کو مرتے دیکھا۔
میں نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے۔ میں نے ان کے آخری لمحوں میں ان کا ہاتھ تھاما۔ میں نے ان کے خاندانوں کو خبر دی۔ اور اب میں آپ کو ایک ایسی بات بتانے جا رہا ہوں جو ان میں سے زیادہ تر لوگوں میں مشترک تھی۔ وہ جینیات کی وجہ سے نہیں مرے۔ نہ بدقسمتی کی وجہ سے۔ وہ انتخاب کی وجہ سے مرے۔ ایسے رویے، ایسے اندازِ زندگی—جن کے نمونے میں نے 1972 میں پہچان لیے تھے۔ میں نے دہائیوں تک اپنے مریضوں کو خبردار کیا۔ زیادہ تر نے بات نہیں مانی۔ اور اب وہ سب جا چکے ہیں۔

میں 102 سال کا ہوں۔ میں یہ بات نہ تو ہمدردی کے لیے بتا رہا ہوں، نہ حیران کرنے کے لیے۔ میں یہ اس لیے بتا رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سمجھیں:

میں نے مرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اتنا وقت گزارا ہے جتنا آج زمین پر کوئی زندہ انسان نہیں گزار سکا۔ اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو 100 تک پہنچے، اور وہ جو 68 پر اچانک مر گئے—ان میں فرق کیا تھا۔ ممکن ہے آپ اس وقت، آج ہی، ان میں سے کم از کم دو کام کر رہے ہوں اور آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ وہ آپ کی زندگی کے سال کم کر رہے ہیں۔

پہلی چیز:

جو چیز سب سے تیزی سے انسان کو مارتی ہے—ہر چیز سے زیادہ—وہ ہے زیادہ دیر بیٹھنا۔ یہ مبالغہ نہیں ہے۔ میں نے یہ اپنی آنکھوں سے بار بار ہوتے دیکھا۔
1981 میں میں نے الگ نوٹس رکھنے شروع کیے: وہ مریض جو کام کے دوران بیٹھے رہتے تھے اور وہ جو دن بھر حرکت میں رہتے تھے۔ اکاؤنٹنٹ، سیکرٹریاں، ایگزیکٹو۔ وہ مختلف انداز میں بوڑھے ہوتے تھے۔ ان کے خون کے ٹیسٹ مختلف ہوتے تھے۔ ان کے دل جلدی فیل ہوتے تھے۔
1990 تک میرے پاس اتنا ڈیٹا تھا کہ میں یقین سے کہہ سکوں: جو شخص روزانہ 8–9 گھنٹے بیٹھتا ہے، وہ اندرونی طور پر اُس شخص سے 40٪ زیادہ تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے جو دن میں حرکت کرتا رہتا ہے۔ بعد میں میڈیکل ریسرچ نے اس کی تصدیق کی۔ لیکن میں نے یہ سب اپنے مریضوں کے جسموں میں پہلے دیکھا۔
کیا ہوتا ہے؟
خون کی گردش سست ہو جاتی ہے۔ خون ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ لمفی نظام—جو حرکت پر منحصر ہوتا ہے—جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔ 60 کے بعد، اگر استعمال کم ہو جائے، تو پٹھے چند دنوں میں کمزور ہونے لگتے ہیں
اور یہ عمل بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔
میرے پاس ایک ریٹائرڈ جج مریض تھا۔ وہ ہر صبح 45 منٹ ورزش کرتا تھا—باقاعدگی سے۔ اسے لگتا تھا وہ محفوظ ہے۔ لیکن ورزش کے بعد وہ 10–11 گھنٹے بیٹھ کر پڑھتا یا ٹی وی دیکھتا تھا۔ 71 سال کی عمر میں وہ فالج سے مر گیا۔
صبح کی ورزش نے اسے دوپہر کی بے حرکتی سے نہیں بچایا۔
حل مشکل نہیں: ہر گھنٹے حرکت کریں۔ کھڑے ہوں۔ کسی دوسرے کمرے تک چلیں۔ ایسا کچھ کریں جس میں ٹانگیں استعمال ہوں۔ میں 1974 سے ایسا کر رہا ہوں۔ ٹائمر لگائیں۔ میں 102 سال کا ہوں—اور آج بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔

دوسری چیز: نیند

صرف زیادہ نیند نہیں بلکہ صحیح قسم کی نیند۔
کتنے ہی مریض فخر سے کہتے تھے: “مجھے صرف 5 یا 6 گھنٹے کی نیند کافی ہے۔”
یہ طاقت کی علامت نہیں تھی۔ یہ خود فریبی تھی۔
دماغ کو 7 سے 8 گھنٹے درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ گہری نیند میں اپنی مرمت مکمل کر سکے۔ اسی دوران دماغ کا صفائی نظام وہ فاضل مادے خارج کرتا ہے جو یادداشت کی خرابی سے جڑے ہوتے ہیں۔
جب آپ مسلسل نیند کم کرتے ہیں، تو یہ زہریلے مادے ہر رات جمع ہوتے جاتے ہیں۔
میں نے دیکھا: جو لوگ اچھی نیند نہیں لیتے تھے وہ 10 سال پہلے یادداشت کے مسائل کا شکار ہو جاتے تھے۔ اتنا مضبوط تعلق تھا کہ میں 60 کی عمر میں ہی اندازہ لگا لیتا تھا کہ کون کب زوال کا شکار ہوگا—صرف نیند کی بنیاد پر۔
اور ایک بات: ٹکڑوں میں نیند۔ کم نیند سے بھی بدتر ہے۔ رات میں بار بار جاگنا۔ گہری نیند تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ بہت سے مریضوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ رات میں جاگ رہے ہیں ان کے شریکِ حیات جانتے تھے، وہ نہیں۔ اگر آپ 8 گھنٹے بستر پر گزار کر بھی تھکے ہوئے اٹھتے ہیں، تو کچھ غلط ہے۔

تیسری چیز: تنہائی

یہ نرم بات لگتی ہے۔ لیکن ہے نہیں۔
تنہائی جسم میں مسلسل دباؤ پیدا کرتی ہے۔ اسٹریس ہارمون بڑھ جاتے ہیں۔ مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔سوزش بڑھتی ہے۔
میں نے ایسے مریض دیکھے جو بظاہر صحت مند تھے لیکن اکیلے رہتے تھے کوئی قریبی تعلق نہیں۔ وہ ان لوگوں سے زیادہ تیزی سے بگڑے جنہیں شدید بیماریاں تھیں مگر مضبوط سماجی تعلقات تھے۔
60 کے بعد جب شریکِ حیات یا دوست بچھڑنے لگتے ہیں۔ تو تنہائی کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔آپ کو اس کے خلاف لڑنا ہوگا:کسی گروپ میں شامل ہوں۔کسی کو فون کریں۔ہفتوں تک بغیر بات چیت کے نہ رہیں۔

چوتھی چیز: خوراک

اور یہ مجھے غصہ دلاتی ہےکیونکہ ہماری میڈیکل برادری نے40 سال تک غلط مشورے دیے۔
ہم نے کہا: کم چکنائی کھائیں۔
ہم نے کہا: سارا اناج صحت مند ہے۔
ہم نے کہا: اورنج جوس اچھا ہے۔
اور ہم نے ایک ایسی نسل پیدا کی جو بڑھاپے میں ٹوست، جام اور سیریلز کھا رہی تھیاور حیران تھی کہ شوگر کیوں بڑھ رہی ہے۔60 کے بعد میٹابولزم بدل جاتا ہے۔انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔کاربوہائیڈریٹس ہضم کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔جو 40 پر ٹھیک تھاوہ 70 پر سوزش پیدا کرتا ہے۔
میں نے 65 پر اپنی خوراک بدلی۔پروسیسڈ کاربوہائیڈریٹس کم کیے۔صحت مند چکنائی بڑھائی۔ سبزیاں اور پروٹین پر توجہ دی۔ تین ماہ میں میری سوزش کے ٹیسٹ بہتر ہو گئے۔میں نے یہی مریضوں کو کہا۔ جنہوں نے مانا، فائدہ ہوا۔زیادہ تر نے نہیں مانا۔وہ اب نہیں رہے۔

پانچویں چیز: مستقل فکر

یہ خطرناک ہے کیونکہ۔ یہ بیماری نہیں لگتی یہ عادت لگتی ہے۔مگر مسلسل پریشانی اسٹریس ہارمونز کو بلند رکھتی ہے جو پورے جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔میں نے ایسے ریٹائرڈ مریض دیکھےجو مالی طور پر محفوظ تھےخاندان کے درمیان تھےپھر بھی دن بھر بے قابو فکروں میں مبتلا رہتے تھے۔ان کا جسم تیزی سے بوڑھا ہوا۔نیند خراب ہوئی۔مدافعتی نظام کمزور ہوا۔جو چیز آپ کے قابو میں نہیں اسے چھوڑنا
صرف ذہنی سکون نہیں زندہ رہنے کا ذریعہ ہے۔

میں آپ کو اپنی بیوی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔وہ آٹھ سال پہلے فوت ہو گئیں۔ہماری شادی کو 61 سال ہو چکے تھے۔انہوں نے میری کسی بات پر عمل نہیں کیا۔گھٹنوں کے درد کی وجہ سے وہ بیٹھتی رہیں۔نیند خراب تھی، مگر علاج سے انکار کیا۔خوراک وہی پرانی—روٹی، مٹھائیاں، کم چکنائی۔اور وہ ہر دن بچوں اور پوتوں کی فکر کرتی رہیں۔وہ 94 سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔94 ایک اچھی عمر لگتی ہے—لیکن میں نے ان کے آخری 15 سالآہستہ آہستہ ختم ہوتے دیکھے۔وہ حرکت، ذہانت اور خودمختاری کھو بیٹھی تھیں۔وہ سال نعمت نہیں تھے—وہ مسلسل کمی تھے۔وہ بہتر زندگی کے مزید 10 سال پا سکتی تھیں۔انہوں نے بدلنے کا انتخاب نہیں کیا۔

میں 102 سال کا ہوں۔میں اکیلا رہتا ہوں۔خود کھانا پکاتا ہوں۔ہر دن چلتا ہوں۔
پڑھتا ہوں۔اپنے پوتوں کو فون کرتا ہوں۔ہر رات 7½ گھنٹے سوتا ہوں۔میں خاص نہیں ہوں۔میں خوش قسمت نہیں ہوں۔میں انتخاب کرتا ہوں۔اور آپ بھی
اسی لمحےانتخاب کر رہے ہیں۔آپ کو سب کچھ بدلنے کی ضرورت نہیں۔
صرف ایک چیز چنیں:
نیند،
تنہائی،
خوراک،
یا فکر۔
ایک ٹھیک کریں باقی خود آسان ہو جائیں گی۔

میں نے اپنے تین میں سے دو بچے دفن کیے۔میں نے اپنی بیوی دفن کی۔میں نے 4000 مریض دفن کیے۔میں اب بھی یہاں ہوں۔اور میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ جن میں سے زیادہ تر کو میں نے دفن کیا—انہیں اس وقت نہیں جانا چاہیے تھا۔آپ ابھی یہاں ہیں۔اب سوال یہ ہے:

آپ اس کے بارے میں کیا کرنے والے ہیں؟pe

12/25/2025

جناح صاحب کی زندگی کا ایسا پہلو جس پہ بہت کم بات کی جاتی ہے۔
اگر آپ نے سکول و روایتی مضامین سے قائد کو جانا ہے۔
تو یہ مضمون آپ کو کچھ نیا مگر مستند سکھائے گا۔

ایسا پہلو جس کاچھوٹی بہن محترمہ فاطمہ کی کتاب میں بھی کم زکر ملتا ہے۔

اگر آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔
تو ان کی بیوی کا انتقال 1929ء میں ہوا۔
اور آپ کااپنا انتقال سال 1948ء میں ہوا۔
اس دوران 19 سال کا عرصہ گزر گیا۔

کئی خواتین بالخصوص بزنس فیمیلز ان سے بندھن باندھنے کی خواہاں تھیں۔

مگر انہوں نے پھر دوبارہ شادی کیوں نہیں کی؟
اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

جن دنوں جناح صاحب ممبئی میں وکالت کیا کرتے تھے۔
وہیں ان کا پارسی فیملی سر دنشا سے ملنا ملانا ہوتا تھا۔

اک بار وہ ان کے گھر گے۔
تو وہاں اک 16 سالہ لڑکی سے ملنا ہوا۔

اس نوجوان کے اندر درج ذیل خوبیاں عام تھیں:
1): شعر و شاعری سے شغف تھا۔
2): کتابوں کا مطالعہ پسند تھا۔
3): ملکی سیاست پہ اپنی رائے رکھتی تھیں۔

"یقین سے کہنا مشکل ہے ۔۔۔ رتی کا حسن و زہانت انہیں پسند آگیا۔ادھر مسٹر جناح کی پروقار پرسنالٹی اور شہرت بہت انسپائرڈ تھیں۔"
(حوالہ: ہم سب نیوز ڈیسک: 8 مئی 2017ء)

وہ اپنے گھر میں جناح صاحب کو دیکھ کر اکثر انسپائر ہوتی تھیں۔
کیوں کہ قائد کی ڈریسنگ سے لے کر بات چیت میں اک کشش تھی۔
اور یہ شروعاتی کشش محبت میں کب ڈھلنے لگی۔
اس کا انہیں علم ہوا۔

ہاں انہیں 3 چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا:
1): جناح صاحب مسلم تھے اور وہ پارسی تھیں۔
2): خود اک امیر فیملی سے تھیں جب کہ جناح مڈل کلاس سے تھے۔
3): جناح صاحب کی عمر 42سال اور وہ 18 سال کی ہوگی تھیں۔

آپ اس پارسی لڑکی کی جگہ پہ خود کو رکھ کر سوچیں۔
جنہوں نے ایک ایسے انسان سے محبت کی۔

دینی مسئلہ کا حل رتی نے اسلام پڑھا۔
اور پھر دل سے مذہب اسلام قبول کیا۔
ان کا نام “مریم جناح” رکھا گیا۔

خاندانی مسئلہ کا حل انہوں نے دولت چھوڑ کرکیا۔
اور فیملی سے علیحدگی اختیار کی۔
بلکہ زرا مشکل زاویہ یہ بنتا ہے کہ فیملی نے بائیکاٹ کیا۔

اپنے سے 20 سال بڑے پارٹنر سے شادی کا عملی فیصلہ کیا۔
اپنے mental compatability سے درست ثابت کیا۔
بالخصوص دونوں کی سیاسی و فلسفیانہ باتیں خوب میچ کرتیں۔

یہ اک غیر روایتی شادی تھی۔
ممبئی کی امیر پارسی کلاس میں بڑا سکینڈل رہا۔

یہ محبت 1918ء سے 1928ء تک خوب پلتی رہی۔
مگر مریم جناح کو قائد سے اک گلہ رہتا تھا۔
وہی جو اکثر محبوبہ کو محبوب سے رہتا ہے۔

آپ کے پاس میرے لیے ٹائم ہی نہیں ہے۔
آپ مجھے اگنور کرتے ہیں تو اچھا نہیں لگتا۔

حالاں کہ وہ خود بھی سمجھتی تھیں کہ جناح صاحب اک ملک بنانے کی راہ پہ گامزن ہیں۔ کارنر میٹنگ سے لے کر شہروں میں اجلاس اور رات گے مطالعہ کرتے رہنا تو الگ تھا۔

وہ اپنے اک خط میں جناح صاحب کو لکھتی ہیں:
"ڈارلنگ! آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا۔ اس سب کے لیے شکریہ۔
یقین جانو کہ میرے دل میں صرف گہری سافٹ نس اور گہرا درد ہے۔
ایسا درد جو اذیت کے بغیر ہے۔"
(دا ایکسپریس ٹربیون: 30 سمبر 2011ء)

کبھی کبھار انہیں پیارے قائد کی جدائی اداس بھی کرتی:
"اے محبوب! مجھے اس پھول کی طرح یاد رکھنا۔
جسے آپ نے ہی انتخاب کیا تھا۔
نہ کہ اس پھول کی طرح سمجھنا۔
جس کو پائوں تلے روند ڈالا ہو۔"
(ریفرنس: پاکستان سوشل ہب: 7 مئی 2017ء)

وہ 1928ء میں کچھ عرصہ کے لیے جناح صاحب سے علیحدہ ہوگئیں۔

اپنے اک خط میں وہ" خوبصورت اختتام "کا کہتی ہیں:

"یاد رکھیے گا کہ میں نے آپ سے ایسی محبت کی ہے۔
جو کم ہی کسی مرد کے حصے میں آئی ہوگی۔
میں صرف یہ ریکوسٹ کرتی ہوں۔
جو شروعات دل دینے سے ہوئی تھیں۔
ہماری کہانی کا اینڈ بھی احساسِ محبت سے بھرپور ہو۔"
(خط کی تاریخ و مقام: فرانس 5 اکتوبر: 1928ء)

قارین اکرام ! آپ آج کل خود دیکھیے ۔
ہم مرد و خواتین دوسرے کے لیے کتنا بدل سکتے ہیں؟

اک کی روٹین بزی ہوتو بات بریک اپ تک آجاتی ہے۔
کسی کو مذہب فالو کرنے سے ہچکچاہٹ ہو تو بلا ک کردیا جاتا ہے۔
ڈرسینگ سینس سے لے کر ہمارے شوق کیسے مختلف ہوں۔
ان سب پہ گرفت سی رہتی ہے۔

اس سارے کو مریم جناح صاحبہ کے حساب سے دیکھیے۔

محبوب ملا تو ایک شاندار لیڈر بھی تھا۔
نہ عمر کا نہ مذہب کا نہ ہی فیملی سٹیٹس کا فرق دیکھا۔
جیسا محبوب نے چاہا۔
انہوں نے خود کوبدل دیا۔

بیٹی کی پیدائش کے بعد دونوں کے رشتے میں ٹھہرائو آیا۔

مگر فاصلے کہیں نہ کہیں رہے۔

مریم جناح نے نہ کبھی طلاق یا خلع کا مطالبہ کیا۔
وہ خاموشی سے تاج محل (ہوٹل) میں الگ رہنے لگیں۔

ان کے خطوط بتاتے تھے کہ وہ اینڈ تک محبت کرتی رہیں۔
محترمہ فاطمہ کی کتاب سے بھی دوبارہ ملنے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

مریم جناح 20 فروری 1929ء کو اس دنیا سے چلی گیں۔
ان کے ہیرو جنازے میں شریک ہوئے۔

عینی شاہدین اور بہت سے سوانح نگاروں کے مطابق:
"بہت کم ایسا ہوا ہے۔
ہم نے جناح صاحب کوپبلک میں روتے دیکھا ہو۔
مریم کے انتقال پہ وہ مسلسل آنسوئوں میں ڈوبے رہے۔"

آپ کے خیال میں محترمہ مریم جناح کی محبت کیسی تھی؟
کیا اک محبوب کی ملکی ذمہ داریاں کو خیال بھی رکھنا چاہیے؟

(نوٹ! جناح صاحب کی شخصیت پہ احتیاط سے کامنٹ کیجیے گا۔
وہ ہمارے محترم لیڈر ہیں اور ملکی قیام میں میجر کردار رہا ہے۔)

شکریہ
بلال مختار
آسٹریلیا




Copied

Address

Toronto, ON

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Canadian Pakistani; Pakistani Canadian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Canadian Pakistani; Pakistani Canadian:

Share