Atif hussain

Atif hussain Social issues, Entertainment and many more

27/04/2022

تبسم

کتنی خوش نصیبی کی بات ہے کہ جب کوئی غیر مُسلم آپ سے کہے
I’ve heard about your PROPHET (Peace be upon HIM), could you please tell me something more about HIM ?
ایسا ہی ایک واقعہ آج میرے ساتھ بھی پیش آیا جو آپکی نظر کرنے جا رہا ہوں ۔۔
میں سڈنی (آسڑیلیاء) کے جس علاقے میں رہتا ہوں یہاں کی آبادی ذیادہ تر مُسلمانوں پر مُشتمل ہے اور رمضان میں یہاں افطار کے بعد بہت رونق ہوتی ہے ، دو سے تین کلو میٹر کی سڑک پر فوڈ سٹالز لگتے ہیں اور باقی بھی ہر قسم کی دُکانیں رات گئے تک کُھلی رہتی ہیں اور تقریباً پورے سڈنی سے مُسلم ، غیر مُسلم ، گورے، کالے، بھورے، گندمی، ہر رنگ و نسل کے لوگ یہاں کا رُخ کرتے ہیں اور مختلف کھانوں اور ملبوسات کا لُطف اُٹھاتے ہیں ۔۔۔
آج جب حسبِ معمول میں کام پر گیا تو مجھے ایک خاتون ملیں ، رسمی سلام دُعا کے بعد کہنے لگیں کہ کیا تُم مُسلمان ہو ؟ ، میں نے اثبات میں سر ہلایا تو بولیں، کہ آج میں رمضان بازار گئی تھی ، بہت اچھا لگا مجھے، میں بہت سالوں سے جانا چاہ رہی تھی کیونکہ بہت سُنا تھا اس بازار کا مگر جا نہ سکی، آج جا کر محسوس ہوا کہ واقعی بہت اچھا ماحول ہوتا ہے ۔۔ میں خاموشی سے سُنتا رہا ۔ وہ تھوڑا توقف کرتے ہوئے کہنے لگی ،
میری ایک دوست نے مجھے ایک کتاب دی تھی مگر میں اُسے اتنا پڑھ نہ سکی وہ شاید تُمہارے پیغمبر (ﷺ) کی بیوی کے بارے میں تھی ۔ میں خاموشی سے اُس کی طرف دیکھتا رہا ، کہنے لگی ، کیا اُن کی کوئی بیوی تھی میں نے کہا، ہاں ایک سے ذیادہ بیویاں تھیں۔ جس پر اُسے تعجب ہوا مگر اُس نے کہا کہ پہلی جو تھیں تو میں نے جواب میں اُسے حضرت خدیجہ (رضی الله عنه) کے متعلق بتایا کہ وہ پہلی بیوی تھیں ہمارے نبی (ﷺ) کی اور وہ ہمارے نبی (ﷺ) سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھیں اور دونوں میں بہت محبت تھی، وہ دلچسبی سے میری باتیں سُنتی رہی پھر کہنے لگی مجھے مزید بتاؤ اُن (ﷺ) کے بارے میں ۔۔ میں نے اُسے بتایا کہ اللّٰہ نے قُرآن میں فرمایا کہ رسول (ﷺ) کی زندگی تُمہارے لیے بہترین نمونہ ہے اور ان (ﷺ) کی پیروی کرو ، یہ بات سُنتے ہی وہ کہنے لگی کہ اچھا ایک بات بتاؤ ، اگر کسی انسان کو بہت غصہ آتا ہو تو وہ کیسے اُن(ﷺ) کی زندگی سے سبق لے ؟ ۔۔
میں نہیں جانتا کہ یہ جواب اُس وقت کہاں سے آیا مگر سچ یہی ہے ،
میں نے جواب دیا کہ تبسم سے یعنی ہمارے نبی ﷺ کے ہونٹوں پر تبسم ہی رہتا تھا اور آپ (ﷺ) نے مُسکرا کر ملنے کو صدقہ قرار دیا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ غصے کا بہترین حل تبسم ہی ہے ، ۔۔۔۔
میرے جواب پر وہ مُتاثر ہوتی ہوئی اپنے لبوں پر مُسکراہٹ سجائے چلی گئی مگر میرے ذہن میں ہزاروں سوچیں چھوڑ گئی کہ کیا ہم اپنے نبی (ﷺ) کی صرف اسی سُنت کو اپنا پا رہے ہیں ؟
ہر وقت تیوری چڑھائے ، ناک پھُلائے گھُمتے رہتے ہیں ، جبکہ ہمارے نبی (ﷺ) کی زندگی مُکمل ضابطہ حیات کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے جسے اگر آج ہم پڑھنا شروع کریں تو ہماری زندگی کی مُشکلات پریشانیاں ، اُلجھنیں دور ہوتی جائیں گی ۔۔۔
اللّٰہ پاک سے دُعا ہے کہ اللّٰہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین ۔

خاکسار : چاچا بُوٹا ۔۔ (مُحمد عاطف حُسین)

06/03/2022

Negative Energy

ہم اکثر خود ہی اپنے گِرد منفی توانائی یعنی Negative Energy پیدا کر تے ہیں اور پھر اُس میں کُڑتے رہتے ہیں ، مثال کہ طور پر اگر کسی نے ہمارے ساتھ بُرا کیا ہے یا کسی سے بحث کے دوران تھوڑی تلخی ہو جائے اور ہم اُس تلخی کو سوچنا شروع کریں تو کچھ ہی دیر میں ہمیں غصہ آنے لگتا ہے اور اکیلے بیٹھے ہی ہم اُس غصے میں جلنے لگتے ہیں اور پھر اُس منفی سوچ کا دائرہ اتنا وسیع ہو جاتا ہے کہ ہمارے ارد گِرد ایک Negative Energy جنم لینے لگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم اس منفی توانائی کے جال میں ہوتے ہیں اور پھر کیا ؟ پھر ہم اور ہماری منفی سوچیں جن کا نُقصان ہمیں اور صرف ہمیں ہی ہوتا ہے ۔۔۔
اسی سے پھر overthinking جنم لیتی ہے اور overthinking بھی Depression اور Anxiety کا سبب بننے والے بہت سے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور Negative Energy کا سب سے بڑا نُقصان یہ ہے کہ ہمارے
ساتھ ملنے والے ہر شخص کو ہم سے Negative Vibes آتی ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ کوئی ہمارے منہ پر نہ کہتا ہو ۔۔۔
آپ نے بھی اکثر یہ محسوس کیا ہو گا کہ کچھ لوگوں کو دور سے دیکھتے ہی آپ کے اندر سے آواز آتی ہے کہ اب یہ انسان کوئی منفی بات
ہی کرئے گا ، وہ دراصل اسی Negative Energy کی وجہ سے ہوتا ہے جو اُس شخص نے خود ہی اپنی منفی سوچوں اور غلط گُمان کی وجہ سے اپنے گرد پیدا کی ہوتی ہے ۔۔
تو لُبِ لُباب یہ ہے کہ اپنی سوچ کو ہمیشہ مُثبت رکھئیے اور چاہے کچھ بھی ہو جائے اپنی سوچ کو کبھی پٹری سے اُترنے نہ دیجئیے اور ذیادہ گُمان کرنے سے پرہیز کیجیے جیسا کہ اللّٰہ سُبحان تعالیٰ نے قُرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّۖ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ۗ اَ يُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّأْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ۗ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۗ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ۔ (الحجرات آية ۱۲)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللّٰہ سے ڈرو، اللّٰہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔
غیبت اور باقی موضوعات پر پھر کبھی لکھوں گا انشاءاللّٰہ ،
یاد رکھئیے کہ انسان کو اللّٰہ نے بڑی طاقت دی ہے اور جو اپنی سوچوں پر قابو پا لے وہ کم از کم ذہنی اذیت سے بچ جاتا ہے اور اگر اللّٰہ کا ذکر بھی زبان پر جاری کر لے تو سکونِ قلب کی دولت بھی اُسے میسر آ جاتی ہے انشاءاللّٰہ ۔۔۔

خاکسار : مُحمد عاطف حُسین

عید مُبارک 😅
13/05/2021

عید مُبارک 😅

07/05/2021

اس ویڈیو کو بناتے ہوئے بس ایک ہی خیال دماغ میں آ رہا تھا کہ کیا یہ نیچے چلتے پھرتے لوگ ہیں ؟ اور اگر لوگ ہیں تو اتنے چھوٹے لوگ ؟ ۔۔ اس سے قبل کہ جسم کے ساتھ دل و دماغ بھی ہواؤں میں ہو جاتا کہ اچانک ایک خیالِ خیر نے دماغ میں جگہ بناتے ہوئے فرمایا ۔ حضور ، لوگ چھوٹے نہیں بلکہ آپ بُلندی پر آ گئے ہیں اور ہاں البتہ آپ کی سوچ ضرور چھوٹی ہو رہی ہے قابو کیجیے اس سے قبل کہ جسم تو آپ کا بُلندی پر ہی رہے اور سوچ آپ کی گر چُکی ہو ۔
اب سمجھ آیا کہ لوگ بُلندی پر پہنچ کر دوسروں کو چھوٹا اور حقیر کیوں سمجھنے لگتے ہیں ۔
آئے ہائے کیا کرنا ایسی بُلندیوں کا ، چلو تھلے چلیے بارش آن والی اے ۔
ویسے ہی تمہیں وہم ہے، افلاک نشیں ہیں
تم لوگ بڑے لوگ ہو، ہم خاک نشیں ہیں

کیا کوزہ گری بھول گیا ہے کوئی منصور
ہم لوگ کئی سال ہوئے چاک نشیں ہیں (منصور آفاق)

نوٹ : ویسے کتنا خرافاتی دماغ ہے ناں میرا ؟

خاکسار : مُحمد عاطف حُسین ۔

01/05/2021

نواز الدین صدیقی کو تو آپ سب لوگ ہی جانتے ہوں گے ۔
موصوف ، میرے تو پسندیدہ اداکار ہیں کیونکہ نانا پارٹی نیکر اور
عرفان خان مرحوم کے بعد شائد یہ واحد ایسے اداکار ہیں جو واقعی
ہی اپنی اداکاری کا لوہا منوا کر اس مقام تک پہنچے ہیں ۔ خیر
نواز بھائی کی ایک فلم ہے Freaky Ali ، جس میں شروع میں
نواز بھائی کا undergarments کا کھوکھا (دُکان) ہوتا ہے
جہاں وہ ذیادہ تر چڈیاں (کچھے) بیچتے ہیں ۔ اُس فلم میں ایک سین
آتا ہے جہاں نواز بھائی ایک انتہائی طویل اور مُشکل چڈی بیچنے
والا ڈائیلاگ بھی بولتے ہیں ، وہ آپ خود YouTube پہ دیکھ لیجیے
گا ، میں اُس ڈائیلاگ سے آگے کا قصہ آپکو بتانا چاہتا ہوں ، تو
جیسے ہی نواز بھائی وہ مُشکل ڈائیلاگ مکمل کرتے ہیں اتنے میں
ایک شرابی جس کے ہاتھ میں شراب کا پوا (quarter) ہوتا
ہے ، آ کر پوچھتا ہے کہ
“ کتنے کی ہے چڈی”
نواز الدین صدیقی : صرف چالیس روپے کی ۔
شرابی : بہت مہنگی ہے
نواز الدین صدیقی : یہ quarter کتنے کا ہے ؟
شرابی : ساٹھ روپے کا
یہاں نواز بھائی نے تاریخی ڈائیلاگ بولا کہ

“ساٹھ روپے کا quarter پی کر نالی میں گر کر اپنی عزت کی ایسی تیسی کروا لو گے لیکن چالیس روپے کی چیز جو آپ کی عزت بچاتی ہے وہ تُمہیں مہنگی لگ رہی ہے واہ”

وہ شرابی جا چُکا ہے اور نواز بھائی کہہ رہے ہیں

“پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے چڈی والا ادھر ہے”

نوٹ: میری پوسٹ کا تعلق MTJ کے ناڑے سے ہے یا نہیں یہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ۔

وسلام
تُمہاری دُعاؤں کا ابا حضور (طالب ابا جی کا اسمِ مُبارک ہے اس لیے ادب سے ابا حضور لکھنا پڑا )
۔ مُحمد عاطف حُسین

20/04/2021
لیکن حشر کو ہو گا یہ معلوم                          کہ جیتا کون اور ہارا کون                ہم سوئے حشر چلیں گے شہِ ابرا...
18/04/2021

لیکن حشر کو ہو گا یہ معلوم
کہ جیتا کون اور ہارا کون

ہم سوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ
قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ


یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ
کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ

21/12/2020

المُخلصین
اسلامُ علیکم خواتین و حضرات ۔
ہر معاشرے میں انسان کو ہمیشہ سے ہی مُخلص لوگوں کی تلاش رہتی ہے خواہ وہ کسی بھی فیلڈ میں ہو ، تعلیم سے نوکری تک ، شادی بیاہ سے کاروبار تک ، دوستی سے محبت تک ، رشتہ داروں سے غیروں تک ، غرض یہ کہ انسان ساری زندگی ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتا ہے جو اُس کے ساتھ مُخلص ہوں ، جو پُرخلوص ہو کر اُس کا ساتھ دیں ۔ اب ذرا مُخلصی کا لفظی مفہوم جان لیتے ہیں ، مُخلص ، خلوص ، اخلاص یہ سب الفاظ ہم معنی ہیں یعنی سب کا مطلب ایک ہی ہے کہ بلا غرض کسی کے کام آنا یا کسی سے لگاؤ رکھنا وغیرہ یعنی جو شخص بغیر کسی لالچ و غرض کے آپ کا ہر موڑ پر ساتھ دے وہ یقینن آپ کے ساتھ مُخلص ہے اور ایسے لوگ بہت نایاب ہوتے ہیں لیکن الحمداللّٰہ ابھی تک اس نفسا نفسی کے دور میں بھی ناپید نہیں ہوئے ، مل جاتے ہیں ۔۔ اللّٰہ پاک سب کو ایسے لوگ عطا فرمائے ۔ اٰمین
اب سورۃ ص کی آیات مُبارکہ مُلاحظہ فرمائیے ۔

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ (۷۱)
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک انسان مٹی سے بنانے والا ہوں

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (۷۲)
پھرجب میں اسے پورے طور پر بنا لوں اور اس میں اپنی رو ح پھونک دوں تو اس کے لیے سجدہ میں گر پڑنا

فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ (۷۳)
پھر سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا

إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (۷۴)
مگر ابلیس نے نہ کیا تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا

‎ قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا
‎خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْعَالِين (۸۵)
فرمایا اے ابلیس! تمہیں اس کے سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا کیا تو نے تکبر کیا یا تو بڑوں میں سے تھا
‎قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِین
(۷۶)
اس نے عرض کی میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو نے آگ سے بنایااور اسے مٹی سے بنایا

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ (۷۷)
فرمایا پھر تو یہاں سے نکل جاکیونکہ تو راندہ گیا ہے

وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ (۷۸)
اور تجھ پر قیامت تک میری لعنت ہے

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (۷۹)
عرض کی اے میرے رب! پھر مجھے مردوں کے زندہ ہونے تک مہلت دے

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ (۸۰)
فرمایا پس تمہیں مہلت ہے

إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ (۸۱)
وقت معین کے دن تک

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (۸۲)
عرض کی تیری عز ت کی قسم! میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا

إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (۸۴)
مگر ان میں جو تیرے خالص (مُخلصین) بندے ہوں گے

خواتین و حضرات ان آیاتِ مُبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حسد بغض ، تکبر وغیرہ سب شیطانی صفات ہیں جن کی بنا پر اُس نے اللّٰہ کا حُکم ماننے سے انکار کیا اور خود کو انسان سے ابتر سمجھا یعنی اپنی بناوٹ پر تکبر کیا اور تاقیامت لعنت کا مستحق ٹھہرا اور مردود ہو گیا اور ساتھ ہی ساتھ قیامت تک مہلت مانگی اللّٰہ سے اور اللّٰہ کی عزت کی قسم اُٹھاتے ہوئے انسان کو گُمراہ کرنے کی ٹھان لی لیکن بات غور طلب یہ ہے کہ مُخلصین کو کبھی گُمراہ نہ کر سکے گا ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ مُخلصین کون ہیں ؟ ، کیا خصوصیات ہیں اُن لوگوں کی کہ ایک ایسا دُشمن جو انسان کا ازل سے دُشمن ہے اور دُشمن بھی ایسا کہ اُس کو یہ ایڈوانٹیج حاصل ہے اللّٰہ کی طرف سے کہ وہ ہمیں نظر بھی نہیں آ سکتا لیکن اُس کی پوری فوج ہے جو ہمارے دائیں جانب سے بائیں جانب سے ، آگے پیچھے ، اوپر نیچے ہر طرف سے ہم پر حملہ آور ہو سکتا ہے لیکن ہمیں اُس کا بن دیکھے ہی مُقابلہ کرنا ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ اب میرے جیسا گُناہگار بندہ تو اُس کے جال میں بڑی آسانی سے پھنس جاتا ہے اور گُناہ کر بیٹھتا ہے لیکن آخر یہ مُخلصین کون ہیں جن پہ پے در پے وار کرتا ہے شیطان پھر بھی وہ اُنھیں گُمراہ نہیں کر پاتا ؟ تو خواتین و حضرات اس کے لیے ہمیں اللّٰہ والوں کی زندگیوں کو پڑھنا پڑتاہے اُن کے حالات و معاملاتِ زندگی کو بغور دیکھنا پڑتا ہے پھر جا کر قُرآن کے اس ایک مُبارک لفظ کی حقیقت تک ہم پہنچ سکتے ہیں وہ بھی اگر اللّٰہ چاہے تب ۔
آئیے کوشش کرتے ہیں اللّٰہ کی مدد سے کہ ہم مُخلصین کی کچھ صفات کو جان سکیں ، تو حضراتِ محترم معاملہ جو میری ناقص عقل کے مطابق ہے کچھ یوں ہے کہ مُخلصین اللّٰہ کو صرف اللّٰہ کے لیے ہی یاد کرتے ہیں بنا کسی دُنیاوی و اُخروی لالچ کے ، اُنھیں صرف اللّٰہ کی رضا درکار ہوتی ہے جبکہ ہمارے جیسا گُناہگار بندہ اللّٰہ کو اپنے اغراض و مقاصد کے لیے یاد کرتا ہے ، اب مثال کے طور پر اگر آپ یوٹیوب پر سرچ کرتے ہیں “تیسرہ کلمہ” ، صرف یہ دو الفاظ لکھیں گے تو ہزاروں ویڈیوز سامنے آ جائیں گی کہ تیسرے کلمے کا وظیفہ کرنے سے کاروبار میں برکت ، آپ دنوں میں مالامال ہو جائیں گے ، اولاد میں برکت ، جادو سے نجات وغیرہ وغیرہ وغیرہ لیکن بدقسمتی سے ہزاروں میں شائد کوئی ایک ویڈیو یا تحریر ایسی ہو جس میں یہ سمجھایا گیا ہو کہ ماشاءاللّٰہ اس کلمے میں اللّٰہ کے ایسے تعریفی الفاظ ہیں کہ پڑھنے والے کی روح تروتازگی سے بھر جائے گی ، ایسی خوبصورت تعریف ہے کہ دل اللّٰہ کے نور سے روشن ہو جائے لیکن بات پھر وہی آ جاتی ہے کہ اللّٰہ پڑھنے والے کی نیت اور اُس کے مقاصد کے مطابق اُسے صلہ دیتا ہے جیسے اگر اسی کلمے کو کوئی دُنیاوی پریشانیوں کے لیے پڑھے تو یقینن اللّٰہ اُس کی پریشانیاں ختم کر دے گا لیکن مُخلصین کا اللّٰہ کی تعریف کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ اللّٰہ راضی ہو جائے باقی دُنیاوی کوئی مقصد نہیں اسی لیے تو اللّٰہ نے اُنھیں مُخلصین کہا ہے اور جن کو ہم صوفیاءے کرام ، اولیاءاللّٰہ کے نام سے بھی جانتے ہیں ، مُخلصین جنت کی آرزو بھی نہیں کرتے کیونکہ یہ بھی اُن کے نزدیک لالچ میں آتا ہے جیسا کہ علامہ اقبال (رحمتہ اللّٰہ ) نے فرمایا
یہ جنت مُبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنہ چاہتا ہوں
خواتین و حضرات ذرا غور تو کیجیے کہ جو شخص اللّٰہ کے ساتھ اتنا مُخلص ہو تو شیطان مردود اُس مردِ قلندر کو کیسے گُمراہ کر سکتا ہے لیکن بات ساری اپنی پہچان کی ہے اور اپنے ساتھ جنگ کی ہے ، دیکھیے حضور اکثر ہم کہیں کوئی شامنگ کرنے جائیں تو وہاں ہمیں ایک چیز مفت دے دی جاتی ہے کہ سر یہ کمپلیمنڑی ہے ، اسی طرح جب انسان اللّٰہ کو صرف اللّٰہ کے لیے یاد کرتا ہے تو اللّٖہ اُسے باقی سب کچھ کمپلیمنڑی عطا کر دیتا ہے لیکن مُخلصین وہ سب کچھ بھی مخلوقِ خُدا پر لُٹاتے رہتے ہیں کیونکہ اُنھیں جو چاہیے ہوتا ہے وہی کافی ہے ، لیکن بات ہے ساری سمجھ کی اور قُرآن پہ غور کرنے کی کیونکہ ثواب تو اللّٰہ تب بھی دے گا قُرآن پڑھنے کا کہ اگر ہم بنا سمجھے بھی پڑھیں گے لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ خالقِ کائینات کا پاک کلام ہو اور میں بس الفاظ دُھراتا رہوں یہ بھی میرے نزدیک بے ادبی ہے کیونکہ دیکھیےاس معمولی سی دُنیا کا بھی اُصول ہے کہ کسی معمولی سے انٹیلچول کی بات پہ بھی بڑے بڑے مفکر تمام زندگیاں غور کرتے رہتے ہیں تو پھر اللّٰہ سے بڑا بھی کوئی انٹیلیکچول ہے بھلا ؟ نہیں کوئی نہیں ۔

كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (۲۹)
یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقلمند نصحیت حاصل کریں (۲۹) سورة ص۔

میرا ہمارے مولیوں سے اور کوئی اختلاف نہیں ہے بس اتنا سا اختلاف ہے کہ انہوں نے اُمت کو اللّٰہ اور رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وال وسلم ) سے ہٹا کر ، ثواب کی لالچ اور جنت کی خواہش کی جانب لگا دیا ہے لیکن یاد رکھئیے جب آرزو جنت بنانے والے کی ہو گی تو جنت تو وہ کمپلیمنڑی عطا فرما دے گا ۔
اگر اس کو لکھنے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اللّٰہ پاک مجھے اپنے حبیبِ پاک (صلی اللّٰہ علیہ وال وسلم ) کے صدقے معاف فرمائے اور ہم سب کو قُرآن کا فہم عطا فرمائے ۔ اٰمین

مُجھے روح میں "ھو" چاہیے
مجھے صرف "تو" چاہیے

خاکسار : مُحمد عاطف حُسین ۔

تصویر جاب ختم کر کے نکلا تو مغرب کی آذانِ ہو چُکی تھی، گاڑی کے پاس پہنچا تو دل کیا کہ آج کار پارک میں ہی مغرب پڑھی جائے ...
10/12/2020

تصویر

جاب ختم کر کے نکلا تو مغرب کی آذانِ ہو چُکی تھی، گاڑی کے پاس پہنچا تو دل کیا کہ آج کار پارک میں ہی مغرب پڑھی جائے کھُلے آسمان تلے اور گاڑی سے مُصلحہ نکال کر کار پارک میں ہی نمازِ مغرب ادا کی، مُصلحہ پہ بیٹھا جب سامنے نظر پڑی تو اتنا خوبصورت منظر دیکھ کر رہا نہیں گیا اور موبائل کے کیمرے سے یہ تصویر کھینچ لی ، ۔۔۔ کتنا خوبصورت منظر ہے نا ؟ ۔۔۔ بلکل پُرسکون سا ؟ ۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے سورج جاتے جاتے اپنی روشنی کی آخری چھینٹیں آسمان پہ پھینک گیا ہو ، کافی دیر سوچتا رہا کہ طلوعِ شمس سے پہلے اور غروبِ شمس کے بعد آسمان پہ یہ سُرخی کیوں چھا جاتی ہے ۔۔۔ کچھ خاص سمجھ نہیں آ سکا بس ایسا لگتا ہے کہ انسان کے طلوع ہونے سے پہلے دُنیا والوں کو نئے آنے والے مہمان کی آمد کی خوشی اور غروب ہونے کے بعد چند دن کا غم بس پھر سب کچھ نارمل ۔۔۔ دُنیا ہمارے
آنے سے پہلے بھی بہت اچھی چل رہی تھی اور ہمارے جانے کے بعد بھی بہت اچھی چلتی رہے گی ۔۔۔ ہر انسان اس دُنیا میں ایک رول پلے کرنے آیا ہے بس جن کو اپنا رول سمجھ آ جاتا ہے وہ ہیرو بن کر جاتے ہیں اس دُنیا سے اور جو لوگ اپنا رول اپنا مقصد تلاش
نہیں کرتے وہ بس اپنا رزق مکمل ہونے کے بعد گُمنام مر جاتے ہیں جیسے بس روٹی کھانے آئے ہوں اس دُنیا میں ،
جو مقصدِ حیات مجھے سمجھ آیا ہے جو ساری کائنات کے انسانوں کا سیم ہے وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں باقی اپنا رول آپ نے خود تلاش کرنا ہے ،پوری دُنیا کے انسانوں کا مقصدِ حیات اپنے خالق کو پیچاننا ہے اُس کا قُرب حاصل کرنا ہے ، بات لمبی ہو جائے گی لیکن ایک مثال کے ساتھ سمجھاتا ہوں۔۔۔ فرض کیجئیے آپ کو آج پتا چلتا کہ جو لوگ آپ کے ماں باپ ہیں وہ آپ کے حقیقی والدین نہیں ہیں بلکہ اُنہوں نے جسٹ آپ کو پالا ہے تو آپ کتنا تڑپے گیں اپنے حقیقی والدین کو ڈھونڈنے کے لئے، اُن سے ملنے کے لئے ۔۔۔
ہمارے والدین ہمیں اس دُنیا میں لانے کا سبب بنے ہیں اُن کے احسانات کا بدلہ ہم کبھی نہیں دے سکتے لیکن اپنے خالقِ حقیقی کو ڈھونڈنا اُس کو پہچاننا ہی ہمارا اصل مقصد ہے باقی اس دُنیا میں ہمارا رول کیا ہو گا یہ بھی اُس نے طے کر رکھا ہے بس ہمیں غور و فکر کر کے اُس رول تک پہنچنا ہے اس سے قبل کہ زندگی کی مغرب ہو جائے ۔
یاد رکھئیے گا ہر تصویر کی ایک کہانی ہوتی ہے، تصویر یعنی میں ، آپ ہم سب اور ہمارا مصور تمام کائیناتوں کا رب ہے ، تو ذرا غور تو کیجئیے کہ مصوّر اتنا عظیم ہے تو تصویر بھی تو شاندار ہی ہو گی ۔
‏‎انسان کو گر اپنا ہی عرفاں ہو جائے
‏‎ہر راز حقیقت سے شناسا ہو جائے

‏‎قطرے کی حقیقت کچھ نہیں لیکن
‏‎شامل ہو جو دریا میں تو دریا ہو جائے

ہمارے بابا جی اکثر یہ اشعار پڑھا کرتے تھے

در بدر خانہ بخانہ تیری شہرت کے لیے
ہم جہاں میں تیری تصویر لیے پھرتے ہیں
خاکسار : چاچا بوٹا ۔ مُحمد عاطف حُسین ۔

07/12/2020

فیسبُک فراڈ
اسلامُ علیکم : آج آپ کو ایک ایسے فراڈ سے آگاہ کرتا چلوں جو کہ آجکل فیسبُک کے ذریعے کیا جا رہا ہے جس میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ فراڈ کرنے والا شخص آپ کی پروفائیل پر جا کر آپ کی تصاویر سیو کرنے کے بعد فیسبُک کا ایک نیا آکاؤنٹ بناتا ہے جس کا نام اور تصاویر بلکل آپ کے آکاؤنٹ جیسی ہوتی ہیں یعنی آپ کے آکاؤنٹ کی ایک جعلی کاپی تیار کر کے پھر اُس کا اگلا قدم ہوتا ہے کہ آپ کے دوستوں کو ریکویسٹ سینڈ کرتا ہے ( یہاں ایک بات ذہن نشین کر لیجیے کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے فرینڈز پرائیوٹ کیے ہوئے ہیں تو یاد رکھئیے آپ کی پبلک پوسٹس پہ آپ کے لائیکس اور کمینٹس سے اندازہ لگانا مُشکل نہیں کہ آپ کے دوست کون سے ہیں ) ۔۔ ریکویسٹ ایکسیپٹ ہونے پر وہ آپ کے دوستوں کو میسج کرتا ہے کہ میری اماں ، باپ یا کوئی بھی قریبی بیمار ہے یا کوئی اس طرح کا بہانہ بنا کر پیسے مانگتا ہے اور ساتھ ہی ایک آکاؤنٹ نمبر بھیجتا ہے کہ میں بہت مصروف ہوں اس لیے مجھے کالز نہ کرنا بلکہ پیسے اس آکاونٹ میں ٹرانسفر کر دو ، وغیرہ وغیرہ ۔
احتیاطی تدابیر :
۱- جب بھی کسی دوست کی دوبارہ ریکویسٹ آئے تو ایکسیپٹ کرنے سے قبل اُس سے رابطہ کیجیے اُس کے موبائیل نمبر پر ۔
۲- اگر ریکویسٹ ایکسیپٹ کر بھی لیں تو اس طرح پیسے بھیجنے سے گُریز کریں بلکہ فون کر کے کنفرم کر لیں ۔
جزاک اللّٰہ خیر ۔
خاکسار: مُحمد عاطف حُسین ۔

Address

Hampden Road
Sydney, NSW
2195

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Atif hussain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Atif hussain:

Shortcuts

Featured

Share