27/04/2022
تبسم
کتنی خوش نصیبی کی بات ہے کہ جب کوئی غیر مُسلم آپ سے کہے
I’ve heard about your PROPHET (Peace be upon HIM), could you please tell me something more about HIM ?
ایسا ہی ایک واقعہ آج میرے ساتھ بھی پیش آیا جو آپکی نظر کرنے جا رہا ہوں ۔۔
میں سڈنی (آسڑیلیاء) کے جس علاقے میں رہتا ہوں یہاں کی آبادی ذیادہ تر مُسلمانوں پر مُشتمل ہے اور رمضان میں یہاں افطار کے بعد بہت رونق ہوتی ہے ، دو سے تین کلو میٹر کی سڑک پر فوڈ سٹالز لگتے ہیں اور باقی بھی ہر قسم کی دُکانیں رات گئے تک کُھلی رہتی ہیں اور تقریباً پورے سڈنی سے مُسلم ، غیر مُسلم ، گورے، کالے، بھورے، گندمی، ہر رنگ و نسل کے لوگ یہاں کا رُخ کرتے ہیں اور مختلف کھانوں اور ملبوسات کا لُطف اُٹھاتے ہیں ۔۔۔
آج جب حسبِ معمول میں کام پر گیا تو مجھے ایک خاتون ملیں ، رسمی سلام دُعا کے بعد کہنے لگیں کہ کیا تُم مُسلمان ہو ؟ ، میں نے اثبات میں سر ہلایا تو بولیں، کہ آج میں رمضان بازار گئی تھی ، بہت اچھا لگا مجھے، میں بہت سالوں سے جانا چاہ رہی تھی کیونکہ بہت سُنا تھا اس بازار کا مگر جا نہ سکی، آج جا کر محسوس ہوا کہ واقعی بہت اچھا ماحول ہوتا ہے ۔۔ میں خاموشی سے سُنتا رہا ۔ وہ تھوڑا توقف کرتے ہوئے کہنے لگی ،
میری ایک دوست نے مجھے ایک کتاب دی تھی مگر میں اُسے اتنا پڑھ نہ سکی وہ شاید تُمہارے پیغمبر (ﷺ) کی بیوی کے بارے میں تھی ۔ میں خاموشی سے اُس کی طرف دیکھتا رہا ، کہنے لگی ، کیا اُن کی کوئی بیوی تھی میں نے کہا، ہاں ایک سے ذیادہ بیویاں تھیں۔ جس پر اُسے تعجب ہوا مگر اُس نے کہا کہ پہلی جو تھیں تو میں نے جواب میں اُسے حضرت خدیجہ (رضی الله عنه) کے متعلق بتایا کہ وہ پہلی بیوی تھیں ہمارے نبی (ﷺ) کی اور وہ ہمارے نبی (ﷺ) سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھیں اور دونوں میں بہت محبت تھی، وہ دلچسبی سے میری باتیں سُنتی رہی پھر کہنے لگی مجھے مزید بتاؤ اُن (ﷺ) کے بارے میں ۔۔ میں نے اُسے بتایا کہ اللّٰہ نے قُرآن میں فرمایا کہ رسول (ﷺ) کی زندگی تُمہارے لیے بہترین نمونہ ہے اور ان (ﷺ) کی پیروی کرو ، یہ بات سُنتے ہی وہ کہنے لگی کہ اچھا ایک بات بتاؤ ، اگر کسی انسان کو بہت غصہ آتا ہو تو وہ کیسے اُن(ﷺ) کی زندگی سے سبق لے ؟ ۔۔
میں نہیں جانتا کہ یہ جواب اُس وقت کہاں سے آیا مگر سچ یہی ہے ،
میں نے جواب دیا کہ تبسم سے یعنی ہمارے نبی ﷺ کے ہونٹوں پر تبسم ہی رہتا تھا اور آپ (ﷺ) نے مُسکرا کر ملنے کو صدقہ قرار دیا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ غصے کا بہترین حل تبسم ہی ہے ، ۔۔۔۔
میرے جواب پر وہ مُتاثر ہوتی ہوئی اپنے لبوں پر مُسکراہٹ سجائے چلی گئی مگر میرے ذہن میں ہزاروں سوچیں چھوڑ گئی کہ کیا ہم اپنے نبی (ﷺ) کی صرف اسی سُنت کو اپنا پا رہے ہیں ؟
ہر وقت تیوری چڑھائے ، ناک پھُلائے گھُمتے رہتے ہیں ، جبکہ ہمارے نبی (ﷺ) کی زندگی مُکمل ضابطہ حیات کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے جسے اگر آج ہم پڑھنا شروع کریں تو ہماری زندگی کی مُشکلات پریشانیاں ، اُلجھنیں دور ہوتی جائیں گی ۔۔۔
اللّٰہ پاک سے دُعا ہے کہ اللّٰہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین ۔
خاکسار : چاچا بُوٹا ۔۔ (مُحمد عاطف حُسین)