چاچا بوٹا

چاچا بوٹا ناول
عشق
اور
تم۔

 #کتابِ_حیات_ قُرآن
10/07/2023

#کتابِ_حیات_ قُرآن

23/01/2023

قُرآن کی بے حُرمتی کرنے والا یقینن سزا کا مستحق ہے چاہے وہ کوئی غیر مُسلم ہو جو جلا کر کرئے یا پھر کوئی مُسلم جو گھر میں سب سے اُونچی جگہ پر رکھ کر کرئے یعنی ربِ کائینات کے پاک کلام کو کھول کر کبھی پڑھے ہی نہ اور اُس پر وہاں دھول جمتی رہے اور یا پھر وہ جو پڑھے لیکن سمجھے نہ ۔۔۔
بہت دُکھ ہوا سویڈن والے واقعے سے اور سوشل میڈیا پر لوگوں کے کمینٹس بھی پڑھے کہ اس ملعون کو مار دینا چاہیے وغیرہ وغیرہ ۔ بلکل ٹھیک ہے ہماری پاک کتاب کی ایسی بےحُرمتی پر سزا تو یہی ہونی چاہیے مگر ہم اپنا کیا کریں ؟
اگر آج ہماری زندگیاں قُرآن کے مطابق ہوتیں تو یہ نوبت آتی ہی نہ
بُنیادی وجہ یہی ہے کہ اسلام اور قُرآن کی سب سے ذیادہ بے حُرمتی آج کا مُسلمان خود کر رہا ہے ۔۔۔
سوچیئے گا ضرور ۔

 #چاچابُوٹا
30/11/2022

#چاچابُوٹا

13/11/2022

بلکل 92 کی طرح ہی ہو رہا ہے سب ، بس لگ یہ رہا ہے کہ گورے 92 کا بدلہ ہی نہ لے لیں کہیں ۔۔

10/11/2022
10/11/2022

Ohohoho
Raaayyyyy baba ghajab hoe geyo rayyyyy 🤣🤣🤣

 #چاچابُوٹا
23/09/2022

#چاچابُوٹا

15/08/2022

جب کوئی مجھے کہتا ہے ناں کہ “آزادی مُبارک” تو مجھے بہت غصہ آتا ہے ، پچھلے ۷۶ سالوں سے ان سالوں نے ڈرامہ رچایا ہوا ہے آزادی کا، بھئی اگر آزاد ہوتے تو آج کروڑوں لوگ مُلک سے باہر اپنی فیملیز سے دور نہ رہ رہے ہوتے صرف اور صرف روزگار کی خاطر ،
مُلک کا سب سے ذیادہ پڑھا لکھا طبقہ مُلک سے بھاگ رہا ہے یا موقع ملتے ہی بھاگ جائے گا
ایسی حالت کر دی ہے ان خنزیروں نے مُلک کی کہ جو آج سے پچاس سال پہلے غریب تھا وہ آج بھی غریب ہے یا پھر اگر کسی خاندان کا کوئی بیرونِ ملک چلا گیا تو اُن کی کچھ بہتری ہوئی مگر اپنے ملک میں رہتے ہوئے نوکری پیشہ حلال کمانے والوں کی بس دال روٹی ہی چلی ہے جو کہ اب وہ بھی مُشکل ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔
یہ آزادی کا سب ڈرامہ ہے ،آزاد لوگوں کا معیارِ زندگی بہتری کی طرف جاتا ہے جبکہ یہاں تو پستی ہی پستی ہے ، چور ڈاکو امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں اور ایماندار بندے یا تو ملک چھوڑ رہے ہیں یا پھر غربت کی آخری لکیر سے بھی نیچے چلے گئے ہیں ، مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ بہت جلد اس مُلک میں فوج رہ جائے گی یا پھر حُکمران کیونکہ وہی سب سے ذیادہ مُحبِ وطن ہے باقی سارے غدار یعنی غریب عوام یا ملک چھوڑ کر بھاگ جائے گی یا پھر مر جائے گی ۔۔۔۔۔
جو لوگ بیرونِ مُلک رہتے ہیں چاہے جس بھی ملک میں ہوں ، چاہے وہ مغرب ہو یا پھر عرب کا کوئی ملک ، دل سب کا جلتا ہی رہتا ہے ، جسم ادھر تو دل و دماغ پیچھے اٹکے ہوتے ہیں لیکن اس کی بُنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ اس مُلک کی اشرافیہ نے اس کو اتنا لُوٹا ہے کہ لوگ اپنا معیارِ زندگی بہتر کرنے کے لیے اُنہی مُلکوں کی طرف بھاگتے ہیں جن سے ہم نے 75 سال قبل آزادی لی تھی ، آباؤاجداد اُدھر غلام تھے اور ہم ادھر آ کر غلامی کر رہے ہیں ، یقین مانیے کوئی فرق نہیں ہے ، ہاں بس اتنا فرق ضرور ہے کہ پُرکھوں نے دھوتی کُرتے میں غلامی کی اور ہم لوگ سوٹ بُوٹ میں کر رہے ہیں اور یہ بھی آسرا ہے کہ جب کبھی لات پڑئے گی تو اپنی اُجڑی ہوئی جھونپڑی میں لوٹ جائیں گے ۔۔۔۔
جس جس نے بھی اس وطنِ عزیز کو نوچا یا اللّٰہ اُن سب کو آسان موت نہ دینا بس ۔ اٰمین ثُم اٰمین ۔۔۔

خاکسار : مُحمد عاطف حُسین

09/08/2022

السلام عليكم ورحمة اللّٰہ وبركاته،

کافی عرصہ قبل ہمارے کشمیر میں دیواروں پر ایک شعر لکھا ہوتا تھا کہ
شہید کی جو موت ہے
وہ قوم کی حیات ہے
اب تو خیر پاکستان و کشمیر میں لوگ جہاد کا نام لیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں امریکہ نے سُن لیا تو پیسے بند ہو جائیں گے ، لیکن اُس وقت کچھ کچھ غیرت باقی تھی حُکمرانوں میں بھی اور قوم میں بھی لیکن اب ساری قوم محرم میں صرف نعرے لگاتی ہیں ، “ہمارے ہیں حُسین (رضی اللّٰہ)” “ہمارے ہیں حُسین (رضی اللّٰہ)” لیکن صرف چھاتی پیٹ لینے یا نعرے لگانے سے حُسین (رضی اللّٰہ) ہمارے نہیں ہوں گے بلکہ امامِ عالی مقام کی طرح جہاد کرنا ہو گا ، وہ جہاد ہی تھا میرے معصوم لوگو، وہی جہاد جس کا قُرآن میں بھی حُکم ہے ۔۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میٹرک میں سورۃ الانفال اور غالبًا سورۃ توبہ پڑھا کرتے تھے اور جہاد کا بھی ذکر تھا اُن میں تو کچھ عرصے بعد سُننے میں آیا کہ وہ دونوں سورتیں سلیبس سے نکال دی تھیں کیونکہ پرویز مشرف کو اُن کے ابا “امریکہ” نے حُکم دیا تھا۔۔۔
خیر بات وہ ہو رہی تھی کہ ہمارا دوہرا معیار ہے ، رونا حُسین (رضی اللّٰہ) کے لیے اور زندگی یزید ملعون کے نقشِ قدم پر ۔۔۔
شروع میں جو شعر آپکو سُنایا ہے اُس کا مطلب ہی یہی ہے کہ شہید کی ظاہری موت اُس کی قوم کو ہمیشہ کی زندگی بخش جاتی ہے جیسے امامِ عالی مقام کی شہادت نے قیامت تک کے مُسلمانوں کو حیات بخشی لیکن اُن مسلمانوں کو جو اُن کے نقشِ قدم پر چلیں گے ، ہم جیسے دوغلوں کو نہیں جن کی زندگیاں اللّٰہ معاف کرئے ہوبہو یزید جیسیں اور موت ہمیں چاہیے حُسین ابنِ علی (رضی اللّٰہ) جیسی ۔۔
ہم نے کربلا سے بس یہی سیکھا کہ بہت ظُلم ہوا ہمارے پیارے نبی (ﷺ) کی آل پر ، اپنی مجلسوں میں سُنا سُنا کر لوگوں کو خوب رُلاتے ہیں اور اگلے دن چلو جی پھر وہی شمر ملعون جیسی مکاریاں ، وہی خبیث ابنِ ذیاد جیسی دھوکے بازیاں اور لانتی یزید جیسے ظالم ، طاقت اور دولت کے نشے میں چُور اکٹر کر گھومتے ہیں ۔۔۔ میں کہتا ہوں ہماری اتنی اوقات ہی نہیں کہ ہم امامِ عالی مقام (رضی اللّٰہ ) کی زندگی سے کچھ سیکھ سکیں تو پھر ایسا کرو کہ جس کو حقیقی زندگی میں انجانے میں رول ماڈل بنا رکھا ہے ، ہاں وہی ملعون یزید ، اُسی کی زندگی سے عبرت پکڑ لو کہ چاہے جس بھی تخت پر بیٹھ جاؤ ۔۔۔ “آخر موت ہے”
آخر میں بس اتنا ہی کہ مجھے کسی بھی فرقے سے کبھی کوئی اختلاف نہیں نہ ہی میں کسی کو گالی دیتا ہوں اور نہ ہی معاذ اللّٰہ کسی کو کافر کہتا ہوں کیونکہ میں نے جتنا اسلام پڑھا ہے اُس کے مطابق اسلام نے کہیں پر بھی مجھے judge 👨‍⚖️ بننے کا حق نہیں دیا ، ہاں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا تمام مُسلمانوں سے کہ چاہے قیامت تک کوئی ماتم منائے یا کوئی مجلسیں یا محفلیں سجائے لیکن جب تک عملی زندگی میں حُسین ابنِ علی (رضی اللّٰہ) کی جھلک نظر نہیں آئے گی تب تک قوم کو حیات نصیب نہ ہو گی ۔۔

وسلام
خاکسار : مُحمد عاطف حُسین ۔۔۔۔

30/06/2022

How to become a positive person.

Address

Brunton Avenue
Richmond, VIC
3002

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when چاچا بوٹا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category