Informative Zone

Call Directions Website

Informative Zone Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Informative Zone, Art, Flat 302, Building 1933, Sharjah.

مکہ مکرمہ میں زیارات کے دوران ہمارے ٹیکسی والے بھائی نے ہمیں ایک مقام دکھایا اور بتایا کہ یہ مقامِ اسماعیل علیہ السلام ہ...
16/09/2026

مکہ مکرمہ میں زیارات کے دوران ہمارے ٹیکسی والے بھائی نے ہمیں ایک مقام دکھایا اور بتایا کہ یہ مقامِ اسماعیل علیہ السلام ہے؛ یعنی وہ جگہ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے والے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیے کے طور پر ایک جانور عطا فرما دیا۔

یہ مقام منیٰ کی خیمہ بستی کے قریب بتایا جاتا ہے۔ تاہم جب میں نے اس نسبت کے بارے میں مزید تحقیق کی تو مجھے ایسی واضح اور مستند روایت نہیں ملی جس کی بنیاد پر یقین کے ساتھ کہا جا سکے کہ موجودہ دور میں یہی مخصوص جگہ وہ مقام ہے جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

البتہ تاریخی روایات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے کو منیٰ سے منسوب کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں منیٰ کے موجودہ قربان گاہ کے مقام کا بھی ذکر ملتا ہے، لیکن ان روایات کی اسناد اور تفصیلات میں کلام موجود ہے۔

اسی طرح صحیح احادیث میں منیٰ کے بارے میں یہ بات ضرور ثابت ہے کہ پورا منیٰ قربانی کی جگہ ہے، اس لیے کسی ایک مخصوص مقام کو لازماً حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے کی جگہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اس لیے اس مقام کو ’’مقامِ اسماعیل‘‘ کے نام سے معروف جگہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اسے قطعی طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے کی عین جگہ کہنا محتاط طرزِ عمل نہیں۔

ڈسکلیمر: اس تحریر میں مقام کی تاریخی نسبت کے بارے میں احتیاط اختیار کی گئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے کا منیٰ سے تعلق تاریخی روایات میں بیان ہوا ہے، تاہم موجودہ دور میں کسی مخصوص مقام کو قطعی طور پر اسی واقعے کی جگہ قرار دینے کے لیے واضح مستند دلیل دستیاب نہیں۔

ملاوی کے ضلع منگوچی میں 86 سالہ چکھوایا کمالونی نے اپنی بستی کے مسلمانوں کے لیے مسجد تعمیر کروا کر خدمتِ خلق اور سخاوت ک...
16/09/2026

ملاوی کے ضلع منگوچی میں 86 سالہ چکھوایا کمالونی نے اپنی بستی کے مسلمانوں کے لیے مسجد تعمیر کروا کر خدمتِ خلق اور سخاوت کی ایک خوبصورت مثال قائم کردی۔

رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنی ذاتی جمع پونجی سے 3 کروڑ 50 لاکھ ملاوی کواچا، جو تقریباً 20 ہزار امریکی ڈالر کے برابر بتائی جاتی ہے، خرچ کرکے چیلومبو گاؤں میں ایک مستقل مسجد تعمیر کروائی۔

کمالونی نے مقامی مسلمانوں کو ایک عارضی جگہ پر نماز ادا کرتے دیکھا تو ان کے دل میں ایک بہتر اور مستقل عبادت گاہ تعمیر کروانے کا خیال آیا۔ مسجد کی تعمیر ستمبر 2025ء میں شروع ہوئی اور تقریباً 11 ماہ بعد مکمل ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق 29 اگست 2026ء کو ایک تقریب کے دوران مسجد مقامی کمیونٹی کے حوالے کردی گئی۔ بزرگ کے مطابق مسجد کی تعمیر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا کام چھوڑنے کی کوشش ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں۔

86 سال کی عمر میں اپنی ذاتی جمع پونجی سے مسجد تعمیر کروانا یقیناً سخاوت، خدمت اور نیکی کے جذبے کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔

ڈسکلیمر: اس تحریر میں چکھوایا کمالونی، مسجد کی تعمیر اور مالی اخراجات سے متعلق تفصیلات دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر بیان کی گئی ہیں۔ رقم، تاریخ اور دیگر تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے انہیں رپورٹ شدہ معلومات کے طور پر سمجھا جائے۔

مسجدِ قبا سے صرف چند منٹ کی پیدل مسافت پر ایک پُرسکون تاریخی مقام واقع ہے، جسے بہت سے زائرین بغیر توجہ دیے گزر جاتے ہیں ...
16/09/2026

مسجدِ قبا سے صرف چند منٹ کی پیدل مسافت پر ایک پُرسکون تاریخی مقام واقع ہے، جسے بہت سے زائرین بغیر توجہ دیے گزر جاتے ہیں — مسجدِ بنی عُنیف۔

مدینہ منورہ کی معروف اور عظیم مساجد کے مقابلے میں یہ مسجد نہایت سادہ نظر آتی ہے۔ نہ بلند و بالا مینار، نہ شاندار گنبد، بس ایک پُرسکون سا مقام جو مدینہ منورہ کی تاریخی یادوں سے جڑا ہوا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق، جب نوجوان صحابی حضرت طلحہ بن البراء رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے خود تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے صرف کسی صحابی کو ان کا حال معلوم کرنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ خود ان کی عیادت فرمائی، جو آپ ﷺ کی رحمت اور شفقت کی خوبصورت مثال ہے۔

مدینہ منورہ کی تاریخی روایات میں یہ بھی منقول ہے کہ واپسی سے قبل رسول اللہ ﷺ نے اس مقام پر نماز ادا فرمائی۔ اُس وقت یہاں کوئی مسجد موجود نہیں تھی بلکہ کھلا میدان تھا۔ بعد کے زمانے میں اسی مقام پر ایک مسجد تعمیر کی گئی تاکہ اس تاریخی نسبت کی یاد باقی رہے۔

آج مسجدِ بنی عُنیف اپنی سادگی کے ساتھ زائرین کو مدینہ منورہ کے اُن تاریخی واقعات کی یاد دلاتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی رحمت، شفقت اور عبادت سے وابستہ ہیں۔

اگر آپ مسجدِ قبا کی زیارت کے لیے جائیں تو چند اضافی منٹ نکال کر اس مقام کو بھی دیکھ سکتے ہیں اور اس نسبت سے جڑی تاریخی روایات پر غور کر سکتے ہیں۔

مقام: مسجدِ قبا سے تقریباً 500 میٹر جنوب مغرب کی جانب۔

ڈسکلیمر: مسجدِ بنی عُنیف اور رسول اللہ ﷺ کے اس مقام پر نماز ادا فرمانے سے متعلق تفصیلات مدینہ منورہ کی تاریخی روایات میں بیان ہوئی ہیں۔ موجودہ مسجد اور اس تاریخی واقعے کے درمیان نسبت کو قطعی اور متفق علیہ تاریخی حقیقت کے بجائے منقول تاریخی روایت کے طور پر سمجھا جائے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک زائر کا مسجدِ نبوی ﷺ کے ریاض الجنہ میں دورانِ زیارت انتقال ہوگیا۔ بتایا ج...
16/09/2026

رپورٹس کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک زائر کا مسجدِ نبوی ﷺ کے ریاض الجنہ میں دورانِ زیارت انتقال ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ نماز کے دوران سجدے کی حالت میں تھے جب ان کی وفات ہوئی۔

ریاض الجنہ مسجدِ نبوی ﷺ کا ایک بابرکت حصہ ہے، جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔‘‘

اس واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد لوگوں نے مرحوم کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور اہلِ خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعائیں کیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی ایمان، عافیت اور اپنے رب کی رضا کے ساتھ خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

ڈسکلیمر: اس تحریر میں واقعے سے متعلق تفصیلات میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹس کی بنیاد پر بیان کی گئی ہیں۔ زائر کی شناخت اور سجدے کی حالت میں انتقال سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں کی گئی۔

آج مجھے جنت البقیع میں حاضری کا موقع ملا تو دل میں خیال آیا کہ آپ سب کو بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک کی...
16/09/2026

آج مجھے جنت البقیع میں حاضری کا موقع ملا تو دل میں خیال آیا کہ آپ سب کو بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک کی زیارت کرواؤں۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی اور داماد تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح پہلے نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے فرما دیا۔

یوں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیوں کا شوہر ہونے کا شرف حاصل ہوا، اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین یعنی ’’دو نوروں والے‘‘ کہا جاتا ہے۔

تاریخی روایات میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ازواج کے طور پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا، فاختہ بنت غزوان، ام عمرو بنت جندب، فاطمہ بنت ولید، ام البنین بنت عیینہ، رملہ بنت شیبہ اور نائلہ بنت فرافصہ رضی اللہ عنہن کے نام بیان کیے جاتے ہیں۔ حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا ان کی آخری زوجہ تھیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت ان کے ساتھ موجود تھیں۔

جنت البقیع میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے معروف اس مقام پر کھڑے ہو کر انسان کو اس عظیم صحابی کی یاد آتی ہے جنہوں نے اسلام کے لیے اپنی جان، مال اور زندگی وقف کر دی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ڈسکلیمر: جنت البقیع میں موجود قبور کی موجودہ ظاہری نشاندہی تاریخی روایات اور معروف مقامی نسبتوں کی بنیاد پر بیان کی جاتی ہے۔ قبور پر واضح کتبے یا نشانات موجود نہ ہونے کی وجہ سے کسی مخصوص قبر کی قطعی شناخت کا دعویٰ احتیاط کے خلاف ہے۔ ازواجِ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نام اور دیگر تاریخی تفصیلات بھی مختلف کتبِ تاریخ میں معمولی اختلاف کے ساتھ منقول ہوئی ہیں۔

ہندو وکیل سری چند راجپوت کی ایک ویڈیو اور بیان سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہے ہیں، جس میں وہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو خات...
16/09/2026

ہندو وکیل سری چند راجپوت کی ایک ویڈیو اور بیان سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہے ہیں، جس میں وہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیتے ہوئے آپ ﷺ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سری چند راجپوت کے مطابق حضرت محمد ﷺ رحمتُ للعالمین ہیں اور آپ ﷺ کی تعلیمات پوری انسانیت کے لیے ہیں۔ ویڈیو میں وہ اپنے کورٹ پر ’’خاتم النبیین ﷺ‘‘ کا بیج لگائے ہوئے بھی نظر آتے ہیں، جسے وہ نبی کریم ﷺ سے اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں بعض مذہبی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف بھی بیان کیا کہ ان کے مطابق آخری نبی کے عرب سے آنے کا ذکر موجود ہے اور وہ حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور مختلف صارفین اس پر اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں۔

ڈسکلیمر: اس تحریر میں سری چند راجپوت کے اپنے بیان اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں موجود دعووں کو ان ہی کی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کے بیان میں مذکور مذہبی حوالہ جات کی الگ سے مکمل تحقیق اس تحریر کا حصہ نہیں، اس لیے انہیں حتمی تاریخی یا مذہبی حوالہ سمجھنے کے بجائے بیان کردہ مؤقف کے طور پر لیا جائے۔

مسجد نبوی ﷺ کے قریب گیٹ نمبر 316 کے باہر ایک خوبصورت تاریخی مسجد واقع ہے، جسے عام طور پر مسجد علی رضی اللہ عنہ کے نام سے...
16/09/2026

مسجد نبوی ﷺ کے قریب گیٹ نمبر 316 کے باہر ایک خوبصورت تاریخی مسجد واقع ہے، جسے عام طور پر مسجد علی رضی اللہ عنہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

مدینہ منورہ کی اس بابرکت سرزمین پر موجود یہ مقام اہلِ ایمان کے لیے اسلامی تاریخ کی یادوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات، بہادری اور قربانیوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

مسجد نبوی ﷺ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے یہاں آنے والے زائرین مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات اور اسلامی تاریخ سے وابستہ یادوں کو بھی محسوس کرتے ہیں۔

مدینہ منورہ کا ہر راستہ محبتِ رسول ﷺ کی ایک داستان سناتا ہے، اور یہاں کے تاریخی مقامات انسان کے دل کو عہدِ نبوی ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتے ہیں۔

ڈسکلیمر: اس مسجد کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرنے کی وجہ اور تاریخی نسبت کے بارے میں مختلف معلومات بیان کی جاتی ہیں۔ اس لیے اس تحریر میں اسے معروف نسبت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، حتمی تاریخی نسبت کے طور پر نہیں۔

15/09/2026

یہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے منسوب پیالہ مبارک ہے

روایات کے مطابق یہ گھر حضرت امام حسینؑ کی لاڈلی بیٹی بی بی سکینہؑ سے منسوب کیا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ آج بھی وادیِ ...
15/09/2026

روایات کے مطابق یہ گھر حضرت امام حسینؑ کی لاڈلی بیٹی بی بی سکینہؑ سے منسوب کیا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ آج بھی وادیِ عقیق میں اس مقام کے آثار موجود ہیں۔

آج جب میں وادیِ عقیق کے راستے سے گزر رہا تھا تو سوچا کہ اس تاریخی مقام کی زیارت آپ لوگوں کو بھی ضرور کرواؤں۔

روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ جب امام حسینؑ کا قافلہ وادیِ عقیق کے علاقے سے گزرا تو اہلِ بیتؑ کے خواتین و اطفال سفر کی مشقتوں سے تھکے ہوئے تھے۔ اسی دوران بی بی سکینہؑ اپنے والدِ گرامی امام حسینؑ کے قریب آئیں۔ امام حسینؑ نے اپنی معصوم بیٹی کو دیکھا تو ان کے چہرۂ مبارک پر محبت، شفقت اور آنے والے حالات کی فکر کے آثار نمایاں تھے۔

روایات میں اس موقع پر امام حسینؑ کی اپنی بیٹی کو صبر اور حوصلے کی تلقین اور انہیں محبت سے تسلی دینے کا ذکر ملتا ہے۔ باپ اور بیٹی کی یہ نسبت ہمیں اہلِ بیتؑ کی محبت، قربانی اور صبر کی یاد دلاتی ہے۔

وادیِ عقیق مدینہ منورہ کے قریب واقع ایک معروف تاریخی وادی ہے۔ احادیث میں بھی وادیِ عقیق کا ذکر ملتا ہے اور اسے ایک بابرکت وادی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ علاقہ اپنی وادیاں، باغات اور قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے بھی معروف رہا ہے، جبکہ اموی اور عباسی ادوار میں یہاں مختلف محلات اور باغات تعمیر کیے جانے کا ذکر تاریخی کتابوں میں ملتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وادیِ عقیق صرف ایک قدرتی وادی نہیں بلکہ مدینہ منورہ کی تاریخ اور اسلامی تہذیب کے کئی اہم ادوار کی یادیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

ڈسکلیمر:
بی بی سکینہؑ سے اس موجودہ گھر کی نسبت اور یہاں پیش آنے والی مذکورہ گفتگو کی تفصیلات معتبر تاریخی مصادر سے قطعی طور پر ثابت نہیں۔ اس لیے اسے ایک منسوب تاریخی مقام اور روایتی بیان کے طور پر ہی پیش کیا جانا چاہیے۔ وادیِ عقیق کی تاریخی اور حدیثی اہمیت اپنی جگہ ثابت ہے، تاہم موجودہ عمارت کو بی بی سکینہؑ کا اصل گھر قرار دینا احتیاط کے بغیر درست نہیں ہوگا۔

طائف کے قریب بنی سعد کے علاقے میں موجود کچھ قدیم کھنڈرات اور آثار کو روایتی طور پر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر...
15/09/2026

طائف کے قریب بنی سعد کے علاقے میں موجود کچھ قدیم کھنڈرات اور آثار کو روایتی طور پر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے منسوب کیا جاتا ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنے بچپن کا ابتدائی حصہ گزارا۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ کی رضاعی والدہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ ﷺ نے بنی سعد کے صحرائی ماحول میں پرورش پائی، جہاں عرب معاشرے کے سادہ اور فصیح ماحول میں آپ ﷺ کے ابتدائی ایام گزرے۔

بنی سعد کا یہ دور سیرتِ طیبہ کے اہم واقعات سے بھی وابستہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بچپن میں پیش آنے والے شقِ صدر کے واقعے کا ذکر صحیح احادیث میں ملتا ہے۔

آج اس علاقے میں موجود بعض قدیم آثار کو مقامی روایات کی بنیاد پر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر اور رسول اللہ ﷺ کے بچپن کے قیام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ مقامات دیکھ کر دل میں سیرتِ رسول اللہ ﷺ کے ان مبارک ابتدائی ایام کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو سمجھنے، آپ ﷺ سے سچی محبت کرنے اور آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈسکلیمر: بنی سعد میں موجود ان کھنڈرات اور آثار کی حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے طور پر قطعی آثارِ قدیمہ یا مستند تاریخی شناخت ثابت نہیں۔ اس لیے انہیں حضرت حلیمہ سعدیہؓ سے منسوب تاریخی آثار کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے۔

Address

Flat 302, Building 1933
Sharjah
00000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Informative Zone posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category