Punjabi Pardesi

Punjabi Pardesi میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

23/03/2026
تمام دوستوں کی عید الفطر مبارک ہو ہمارا واٹس ایپ گروپ ضرور جوائن کریں لنک نیچے پہلے کمنٹ میں ہے
21/03/2026

تمام دوستوں کی عید الفطر مبارک ہو
ہمارا واٹس ایپ گروپ ضرور جوائن کریں لنک نیچے پہلے کمنٹ میں ہے

بینچوں پر بیٹھے ہیں نگینے لوگمیدان میں اتارے گئے کمینے لوگاس شعر میں شاعر کہنا کیا چاہتا ہے۔ جسٹ سوچنگ 🤔
15/02/2026

بینچوں پر بیٹھے ہیں نگینے لوگ
میدان میں اتارے گئے کمینے لوگ

اس شعر میں شاعر کہنا کیا چاہتا ہے۔
جسٹ سوچنگ 🤔

13/02/2026

مولوی مسجد میں معصوم بچے کے ساتھ بے غیرتی کرتے پکڑا گیا 😡

‏ضروری اطلاع 🚨یکم فروری 2026 سے نئے قانون لاگو  بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں پر 2 بڑی پابندیاں عائد — پروٹیکٹر کے ...
29/01/2026

‏ضروری اطلاع 🚨

یکم فروری 2026 سے نئے قانون لاگو
بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں پر 2 بڑی پابندیاں عائد — پروٹیکٹر کے نئے اصول!

حکومت پاکستان اور بیورو آف امیگریشن نے بیرون ملک کام (Work Visa) پر جانے والے شہریوں کے لیے دو نئی اور لازمی شرائط نافذ کر دی ہیں۔ اگر آپ ان پر عمل نہیں کریں گے تو نہ پروٹیکٹر لگے گا اور نہ ہی جہاز میں بیٹھنے دیا جائے گا۔

1. سافٹ اسکلز ٹریننگ (Soft Skills Training) - لازمی شرط
اب "پروٹیکٹر" لگوانے سے پہلے آپ کو آن لائن ٹریننگ مکمل کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔
• یورپ کے لیے: 1 جنوری 2026 سے یہ شرط نافذ ہو چکی ہے۔
• خلیجی ممالک (سعودی عرب، دبئی، قطر وغیرہ) کے لیے: یہ شرط 1 فروری 2026 سے لاگو ہوگی۔
• طریقہ کار: یہ سرٹیفکیٹ آپ "PakSoftSkills" ایپ یا سرکاری ویب سائٹ softskills oec سے حاصل کر سکتے ہیں۔
2. ای-پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ (e-Protector) - ایئرپورٹ کے لیے
• یکم فروری 2026 سے پرانے مہر والے سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل "e-Protector" سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
• ایئرپورٹ پر بورڈنگ پاس تب ہی ملے گا جب آپ کے پاس یہ ڈیجیٹل ثبوت ہوگا۔

خلاصہ (Summary):
پہلے آن لائن ٹریننگ کریں، پھر پروٹیکٹر لگوائیں، اور سفر سے پہلے اپنا e-Protector ڈاؤن لوڈ کرنا نہ بھولیں!

⚠️ Disclaimer: This content is based on official notifications from the Bureau of Emigration & Overseas Employment.

‏کئی برسوں بعد بیرونِ ملک سے واپسی پر، باپ نے اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو حیران کرنے کے لیے اس کا بستر چاکلیٹس سے بھر دیا.برس...
14/01/2026

‏کئی برسوں بعد بیرونِ ملک سے واپسی پر، باپ نے اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو حیران کرنے کے لیے اس کا بستر چاکلیٹس سے بھر دیا.

برسوں پردیس میں، ہزاروں کلومیٹر دور رہ کر، سالگرہ کے دن، اسکول کے لمحات اور سونے سے پہلے کی کہانیاں کھو دینے کے بعد یہ باپ گھر لوٹا تو تحفوں سے بڑھ کر ایک گہرا احساس ساتھ لایا… احساسِ جرم۔
اس بات کا جرم کہ وہ کئی راتیں وہاں موجود نہ تھا۔
اس بات کا جرم کہ اس نے اپنی موجودگی کو مجبوری اور بقا کے بدلے قربان کر دیا۔
لوگ پردیس میں محنت کرنے والوں کا یہ پہلو ش*ذ ہی دیکھتے ہیں۔
وہ گھر بھیجا گیا پیسہ تو گنتے ہیں، مگر اکیلے میں پیے گئے آنسو نہیں۔
وہ قربانی کو تو دیکھتے ہیں، مگر اس درد کو نہیں کہ 3–4 طویل برسوں بعد صرف 30–40 دن کے لیے اپنے بچے کو دیکھنا نصیب ہو۔
چاکلیٹس سے بھرا یہ بستر کوئی عیش و آرام نہیں۔
یہ ایک معذرت ہے۔
یہ محبت ہے جو کھوئے ہوئے وقت کی کمی پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پنجابی پردیسی 🇵🇰

‏حنا اپنے کمرے میں لیٹی سوچ رہی تھی کہ آخر یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟نہ تو میرا کوئی بھائی ہے جس سے میں اپنے اوپر ہوتے ...
14/01/2026

‏حنا اپنے کمرے میں لیٹی سوچ رہی تھی کہ آخر یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟
نہ تو میرا کوئی بھائی ہے جس سے میں اپنے اوپر ہوتے ظلموں کو شئیر کر سکتی ہوں،
اور نہ ہی اپنے ابو کو بتا سکتی ہوں، پھر ابا ہی تو اکلوتے سہارا ہیں ہمارے 😔🖤

ماں بارہویں ہی سال ٹوکنے لگی تھی، بیٹا گلی میں نظریں جھکا کر چلو مگر حنا کو سمجھ دو سال بعد آئی۔
جب نعیم کریانہ والے کی نظر، چہرے پر ٹھہرنے کے بجائے نیچے سرک کر اٹکنے لگی تھی۔ 👀⬇️

نعیم کی دکان پر ماہانہ کھاتہ چلتا تھا، مجبوری تھی دن میں ایک دو بار جانا پڑتا۔
مگر جب وہ گھورتا، تو حنا کا سانس جیسے سینے ہی میں اٹک جاتا۔ 😰
جلد پر سرسراہٹ دوڑ جاتی، کمر خود بخود جھکنے لگتی۔
اس کی کمینی نظروں کے حصار میں دوپٹہ وہم بن جاتا۔ 🧣❌
صرف وہی نہیں تھا منیر سبزی والا، یاسر دودھ والا— سب کے سامنے۔

راہ چلتے ہوئے سر خود بخود جھک جاتا، راستے میں کھڑے ہر آدمی کو کتے کی طرح نظر انداز کر دیتی۔ 🐕🚶‍♀️
ماں معذور نہ ہوتی تو حنا اتنی مجبور نہ ہوتی۔
قدرت بھی عجیب فیاض تھی، جو بن جوانی سے پہلے اتر آیا تھا۔

ایسا سچ جو اب جھکے بغیر چھپتا ہی نہیں تھا، اور جسے چھپانے کے لیے وہ اور زیادہ جھکتی چلی گئی۔ 😔💔
گلی میں سنبھل سنبھل کر چلتی حنا کا دل ہمیشہ چور بنا رہتا۔
بانہیں لاشعوری طور پر آگے بڑھ کر دھڑکتے دل کو دبائے رکھتیں کہ کہیں دھڑکن ہی نہ دکھائی دینے لگے۔ 💔🤐
دوپٹہ سنورتا نہیں تھا، لپٹنے لگتا تھا۔
نعیم سیانی عمر کا، بال بچوں والا تھا— مگر ذہن کا غلیظ۔ 😡🧠
حنا اکلوتی تھی۔
ابا عبدالرؤف کام پر، ماں سارا دن بیماری کے ساتھ چارپائی پر۔
ابا کو کبھی نہ بتایا کہ نعیم مجھے تنگ کرتا ہے۔
سوچ کر ہی ڈر جاتی— ابا ماں کی دوائیاں بھگتے یا دکانداروں سے لڑائیاں؟ 😟⚖️
ماں کی بس زبان چلتی تھی، سو سارا زور حنا پر ہی نکلتا۔

چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پِستے پِستے حنا کے قد کے ساتھ اس کا “کُب” بھی بڑھنے لگا تھا۔
خوش شکل تھی، مگر اس کی شکل سے کوئی خوش نہیں تھا۔
ابا کے ساتھ اسکول جاتی تو بھی ہر نگاہ چہرے سے نیچے ہی اٹکتی۔

سب سے زیادہ خوف تب آتا جب کوئی دور کا چاچا، ماما بھانجی میں مامتا تلاش کرنے لگتا۔
دوپٹہ اپنی ہی چار دیواری میں چادر بن جاتا۔ 🧣🏠😔

اتوار کا دن تھا کپڑے دھوتے ہوئے سرف کم پڑ گیا۔
ماں کی ضد تھی کہ آج ہی سب دھل جائیں— کل آدھا دن تو اسکول میں گزرنا ہے۔
حنا نے تین بار گلی میں جھانک کر دیکھا۔
کانسٹیبل اشرف کے تھڑے پر برف والے کا لڑکا دو اور لڑکوں کے ساتھ موبائل میں گم تھا— وہی لڑکے جو پہلے بھی بلاوجہ ٹکرائے تھے۔

ماں کی بڑبڑاہٹ بڑھتی جا رہی تھی
آخر ہمت کی چادر کے بجائے دوپٹہ لپیٹا اور باہر نکل آئی۔
لڑکوں نے اسے دیکھ لیا تھا وہ جان گئی— ایک لمحے میں تینوں اپنی اپنی گندگی سوچ چکے ہونگے۔

کانوں میں ان کی بکواس سائیں سائیں کرتی رہی اور وہ تیز قدموں سے دکان تک پہنچ گئی۔ 🏃‍♀️😤
سانس پھولی ہوئی تھی۔
“بیس بیس والے تین سرف۔” نعیم نے ساشے کی طرف اشارہ کیا:
“خود ہی اتار لو۔”
حنا نے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ چیخ گلے میں اٹک گئی۔
نعیم نے ایسے دبایا جیسے بوٹی نوچ لی ہو۔
اٹھتی جوانی کی چپیڑ ڈھلتی عمر کا نعیم کہاں سہہ پاتا؟ 😡👊
ایک ہی وار میں نعیم کاؤنٹر سمیت گلی میں جا گرا۔
چار برس کی ساری پیڑیں ایک لمحے میں جاگ اٹھیں۔
حنا نے اس کے منہ پر پاؤں جما دیا۔
گلی میں سناٹا تھا۔
سب کی نظریں اب نعیم پر تھیں۔
منیر سبزی والا بولا:
“بیٹی، جانے دے… میری بیٹی ہے تو۔۔۔”

حنا نے گردن اٹھا کر پہلے سبزی والے کو دیکھا پھر کچھ نہیں بولی، سب کو دیکھا۔
تب کانسٹیبل اشرف کی بیوی، شگفتہ جوتی ہاتھ میں لیے آگے بڑھی اور نعیم کے منہ پر دے ماری:
“حنا، پتر تو گھر جا!”

نعیم کی بیوی خاموش کھڑی تھی، سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ وہ کس طرف کھڑی ہو۔
حنا پورے اعتماد سے گھر کی طرف چل دی۔
ہاتھ میں سرف کے چند ساشے ابھی تک تھے۔
دروازہ کھلا۔
“سرف لے آئی ہو؟” ماں نے پوچھا۔
“ہاں ماں، لے آئی ہوں۔”
واشنگ مشین چل پڑی۔
حنا نے آہستہ سے کہا:
“داغ اچھے ہوں یا برے، دھونے عورتوں کو ہی پڑتے ہیں۔”
مگر ہر داغ خاموشی سے نہیں دھلتا۔
کچھ داغ ہمت مانگتے ہیں۔

اور اس معاشرے میں حنا جیسی ہمت یا تو نایاب ہے… یا خطرناک۔ 🔥💪
اب کی بار جب حنا اپنے کمرے میں لیٹے سوچ رہی تھی کہ
کاش یہ ہمت اگر میں اس دن دکھاتی جب اس نے میرے ساتھ پہلی دفعہ بد تمیزی کی تھی،
کم از کم اتنی اجیرن زندگی نہ جیتی۔ 😔🖤

‏ضرور پڑھیں اور ضرور سوچیں یہ 7 منٹ 11 سیکنڈ کی ویڈیو محض تفریح نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ایک نہایت سنگین طبی اور سماجی ...
04/01/2026

‏ضرور پڑھیں اور ضرور سوچیں
یہ 7 منٹ 11 سیکنڈ کی ویڈیو محض تفریح نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ایک نہایت سنگین طبی اور سماجی مسئلے کی مؤثر عکاس ہے۔ یہ ویڈیو ہمیں اس حقیقت پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ موجودہ جدید دور میں شادی جیسے مقدس اور اہم رشتے کو صرف روایتی زاویے سے نہیں بلکہ سائنسی اور طبی اصولوں کی روشنی میں بھی پرکھا جانا چاہیے۔

جس طرح نکاح کے لیے قانونی شرائط کی تکمیل لازم سمجھی جاتی ہے، اسی طرح شادی سے قبل مرد کا مکمل طبی معائنہ وقت کی ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ نکاح نامے کے ساتھ مرد کے فٹنس سرٹیفکیٹ کو لازم قرار دینا ایک ایسا عملی قدم ہو سکتا ہے جو رشتے کی بنیاد کو شفاف، محفوظ اور صحت مند بنائے۔

یہ اقدام نہ صرف میاں بیوی کو ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی اذیت سے بچانے کا ذریعہ بنے گا بلکہ ایک پُرسکون، متوازن اور خوشحال ازدواجی زندگی کی مضبوط ضمانت بھی ثابت ہوگا۔

یہ محض کوئی انتظامی تجویز نہیں بلکہ ایک خاموش مگر بامعنی سماجی انقلاب کی پکار ہے، جس کا مقصد آنے والی نسلوں کو پیچیدہ طبی اور نفسیاتی مسائل سے محفوظ رکھنا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کرنا ہے۔

03/01/2026

تھائی لینڈ میں ایک پاکستانی سیاح کو کھسروں نے لین دین میں بے ایمانی کرنے پر سر بازار پیٹ ڈالا

02/01/2026

ایک انڈین مسلم عورت جو اس وقت دبئی میں رہائش پذیر ہیں اس کے ساتھ پاکستانی ملک کریم نواز ولد نذر حسین نے فراڈ کیا ہے اس نے پاکستانی حکومت سے انصاف کی اپیل کی ہے ۔

السّلَامُ عَلیکمُ وَرَحــَـــــمةُاللّهِ وَبَرَكَآتُهُ! صبح بخیر زندگی سجری سویر دا سوہنا سلام میترو دعاواں چہ یاد رکھیو...
02/01/2026

السّلَامُ عَلیکمُ وَرَحــَـــــمةُاللّهِ وَبَرَكَآتُهُ!
صبح بخیر زندگی
سجری سویر دا سوہنا سلام میترو دعاواں چہ یاد رکھیو

اٙللـَّهـُمَّ صـَلِِِّ وَسّـلٙـِّمْ وَبـَارِكْ عـٙلـىِِ مُحـٙٙمّـدِِؐﷺ

اَللّٰھمَّ صَلِِّ عَلٰی مُحمَّدٍوَّعلٰی آلِ مُحمَّدٍکماصَلَّيتَ علٰی اِبْراھِيم وَعلٰی آلِ اِبْراھيمَ اِنَّك حَميدُمَّجيدُُ
اَللَّھُمَّ بَارك عَلٰی مُحمَّدٍوَّعَلی آلِ مُحمَّدٍکَمَا بَارکتَ عَلٰی اِبراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبراھيمَ اِنَّك حمِيدُمَّجِيد
جمعہ مبارک

‏آج 30 دسمبر کو یہ بندہ خود ہی سامنے آیا تھا جبکہ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھااس کے اعترافات نے نوے کی دہائی میں م...
30/12/2025

‏آج 30 دسمبر کو یہ بندہ خود ہی سامنے آیا تھا جبکہ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا
اس کے اعترافات نے نوے کی دہائی میں معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا تھا
لاہور جیسے پر ہجوم شہر میں اتنی سفاکی اور خاموشی کے ساتھ جرائم کی ترتیب دینے والا یہ شخص
اک تاریک سیل میں اپنے انجام کو پہنچا
معصوموں کی روحیں آج بھی سوال پوچھتی ہونگی جو اس کے مظالم کا نشانہ بنے
آپ میں سےکون اس شخص کو جانتا ہے ؟

Address

Al Qouz 4
Dubai
00000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Punjabi Pardesi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Punjabi Pardesi:

Share