01/10/2023
کیا تمام ممالک ایٹم بم بناسکتے ہیں؟
اگر کسی ملک کے پاس ٹیکانولوجی،مہارت اور سہولیات موجود ہو تو وہ ایٹم بم بنا سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کیا سبھی ممالک کو ایٹم بم بنانے کی اجازت ہے؟اسکا جواب دینے کے لیے ہمیں”NPT“ معاٸدہ کو سمجھنا پڑے گا۔
جوہری عدم پھیلاٶ کا معاٸدہ”NPT“ ہوا 1968 میں۔جب یہ معاٸدہ ہوا تو اس وقت صرف پانچ ممالک ہی ایسے تھے جن کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود تھے۔ان ممالک میں امریکہ،روس،برطانیہ،فرانس اور چین شامل ہیں۔اس معاٸدے کا مقصد یہ تھا کہ نیوکلیر ہتھیار کے پھیلاٶ کو روکا جاۓ وگرنہ یہ ٹیکانولوجی دنیا پھر میں پھیل گٸ تو اسکا نتیجہ بہت بھیانک ہوگا۔کیونکہ ایسی صورتحال میں ہر ملک دوسرے کو ملک کے خلاف ایٹم بم کو استعمال کرسکتا ہے جسکا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔کیونکہ اس سے ہہلے یعنی 1945 میں امریکہ کی طرف سے جاپان پر گراۓ گۓ دو ایٹم بم سے ہونے والی تباہی دنیا دیکھ چکی تھی جس میں کم و بیش اڑھاٸ لاکھ لوگ ہلاک ہوۓ تھے۔
اس لیے ضروری تھا کہ ایک ایسا معاٸدہ تشکیل دیا جاۓ جو اس بھیانک اور تباہ کن ہتھیار کے پھیلاٶ کو روک سکے اور نیوکلیر انرجی کو اچھے مقاصد یعنی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔اس وقت چونکہ پانچ ممالک یعنی امریکہ،روس،برطانیہ،فرانس اور چین اپنے ایٹمی تجربات کرچکے تھے لہذا اس معاٸدہ کی رو سے ایسے ممالک کو تسلیم شدہ ایٹمی ممالک مان لیا گیا۔اگرچہ اب 9 ممالک یعنی امریکہ،روس،فرانس،برطانیہ،چین،پاکستان،انڈیا،شمالی کور یا اور اسراٸیل کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں مگر تسلیم شدہ ایٹمی طاقتیں صرف پانچ ہی ہیں اور وہ ہیں امریکہ،روس،برطانیہ،فرانس اور چین کیونکہ ان ممالک نے جوہری عدم پھیلاٶ کے معاٸدہ یعنی NPT سے پہلے ایٹمی تجربات کرلیے تھے۔
اس معاٸدہ پر اب تک 190 کے لگ بھگ ممالک دستخط کرچکے ہیں جن میں تسلیم شدہ ایٹمی ممالک بھی شامل ہیں۔۔جو ممالک اس معاٸدہ پر دستخط کرچکے ہیں وہ اس بات کے پابند ہیں کہ ایٹم بم نہیں بناسکتے اگر وہ ایسا کریں گے یعنی معاٸدہ کی خلاف ورزی کریں گے تو ان پر معاشی پابندیاں لگادی جاٸیں گی۔
یورینیم ایک ایسی دھات ہے جسے ایٹم بم میں استعمال کیا جاتا ہے۔یورینم کے ایٹموں کو توڑ کر یعنی نیوکلیر چین ری ایکشن کی مدد سے بے پناہ انرجی حاصل کی جاتی ہے۔لیکن یورینیم کو نیوکلیر پاور پلانٹس میں استعمال کر کے اس سے بجلی بھی بناٸ جاسکتی ہے۔یورینیم ویسے تو تقریباً ہر منرل(پتھر) میں تھوڑی بہت مقدار میں پاٸ جاتی ہے مگر صرف چند پتھر(جیسے پچ بلینڈ) ہی ایسے ہیں جن میں یہ کافی مقدار میں پاٸ جاتی ہے۔ایسے پتھر جن میں یہ کافی مقدار میں پاٸ جاتی ہے وہ یورینیم کی اوورز کہلاتی ہیں۔یورینیم کی اورز زیادہ تر آسٹریلیا،کازقتستان،کینیڈا،روس،ناٸیجر وغیرہ میں پاٸ جاتی ہیں۔جن ممالک نے NPT پر دستخط کیے ہوۓ ہیں وہ یورینیم کی اوورز کو ان ممالک سے درآمد کرسکتے ہیں اور اسے نیوکلیر پاور پلانٹس میں استعمال کر کے سستی بجلی بناسکتے ہیں۔چونکہ پاکستان اور انڈیا وغیرہ نے NPT پر دستخط نہیں کیے ہوۓ لہذا ان ممالک سے ہورینیم درآمد نہیں کرسکتے۔
تحریر: