Hum Bhi HEn

Hum Bhi HEn Hum ne page hasne ke liy bnaya he ap sub log ko Thora Hsane ke liy khush Rahee ar hame suppor kren

21/07/2023

میری یہ بچپن سے عادت رہی ہے کہ جب محلے کی دکان سے کچھ بھی لیا،
انہوں نے اخباری ٹکڑے میں لپیٹ کر دیا تو شے کے استعمال کے بعد اس ٹکڑے کو ضرور دیکھا اور پڑھا۔
یہ 2007 کی بات ہے میں اسلام آباد میں اس وقت سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا۔ مارکیٹ میں تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا۔

ہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔

اُس نے لکھا کہ:
میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔

میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا۔

،،شیخ صاحب لاہور میں ایک معمولی سے دفتر میں ملازم تھے، دن کچھ ایسے پھرے کہ اسی دفتر کے صاحب کو پسند آ گئے اور یوں انکی فیملی میں ہی شیخ صاحب کی شادی ہو گئی۔

قدرت شیخ صاحب پر مہربان تھی، دن رات اور رات دن میں بدلتے گئے اور شیخ صاحب ایک دکان سے ایک مارکیٹ اور پھر ایک فیکٹری سے دو، چار، اور پھر نہ جانے کتنی فیکٹریوں کے مالک بنتے گئے۔

دھن برستا گیا، دو بچے ہو گئے۔ شیخ صاحب نے کرائے والی کمرے سے ایک اپارٹمنٹ اور پھر لاہور کے انتہائی پوش علاقے میں دو کنال کی ایک کوٹھی خرید لی۔ مالی کی ضرورت پیش آئی تو چکوال سے آئے ہوئے سلطان کو فیکٹری سے نکال کر اپنی کوٹھی میں پندرہ سو روپے ماہوار پر اپنی کوٹھی پر ملازم رکھ لیا۔

سلطان ایک انتہائی شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا، نہ کوئی عداوت، نہ کبھی کوئی شکائت۔ ایک بار شیخ صاحب دن کے دس بجے کسی کام سے گھر واپس آئے تو گاڑئ دروازے پر ہی کھڑی کر دی
کہ ابھی واپس دفتر جانا تھا۔ دروازے سے گھر کے داخلئ دروازے کے درمیان اللہ جانے کیا ہوا کہ پودوں کو پانی دیتے سلطان کے ہاتھ سے پایپ پھسلا اور شیخ صاحب کے کپڑوں پر پوری ایک تیز پھوار جا پڑی،

شیخ صاحب بھیگ گئے۔ سلطان پاؤں میں گر گیا، گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا کہ صاحب غلطی ہو گئی۔ لیکن شیخ صاحب کا دماغ آسمان پر تھا۔ غصے میں نہ آو دیکھا نہ تاو، وہیں کھڑے کھڑے سلطان کو نوکری سے ننکال دیا۔کہا شام سے پہلے اس گھر سے نکل جاوؐ۔

سلطان بیچارہ سامان کی پوٹلی باندھ کر گھر سے نکل کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ گیا کہ شاید صاحب کا غصہ شام تک ٹھنڈا ہو جائے تو واپس بلا لیں۔ شام کو سیخ صاحب واپس آئے، دیکھا سلطان ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، گارڈ کو کہا اسے دھکے دیکر نکال دو، یہ یہاں نظر نہ آئے، صبح ہوئی تو سلطان جا چکا تھا۔ رب جانے کہاں گیا تھا۔

وقت کزرتا گیا، شیخ صاحب کے تیزی سے ترقی پاتے کاروبار اور فیکٹریوں میں ایک ٹھہراوؐ سا آنے لگا۔ کاروبار میں ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ کم پڑتی گئی۔ لیکن شیخ صاحب زندگی سے بہت مطمئن تھے۔

پھر ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، پوری فیکٹری جل کر راکھ ہو گئی۔ کچھ مزدور بھی جل گئے۔ شیخ صاحب کو بئٹھے بٹھائے کروڑوں کا جھٹکا لگ گیا۔ کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوا تو شیخ صاحب کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہو گئے۔ بڑا بیٹا یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا،

دوستوں کے ساتھ سیر پر مری گیا واپسی پر حادثہ ہوا تو وہ جوان جہان دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شیخ صاحب کی کمر ٹوٹ گئی۔

نقصان پر نقصان ہوتے گئے۔ دو کنال کی کوٹھی بیچ کر دس مرلے کے عوامی طرز کے محلے میں آ گئے۔ جب عقل سے کچھ پلے نہ پڑا تو پیروں فقیروںںں کے ہاں چلے گئے کہ شاید کوئی دعا ہاتھ لگ جائے اور بگڑی ہوئی زندگی پھر سے سنور جائے۔ باقی ماندہ کاروبار بیچ کر اور کچھ دیگر پراپرٹی کو رہن رکھ کر بنک سے قرضہ لیا اور چھوٹے بیٹے کو ایک نیا کاروبار کر کے دیا۔

اسکے پارٹنر دوست نے دغا کیا اور اکثر پیسہ ڈوب گیا۔ شیخ صاحب ساٹھ سال کی عمر میں چارپائی سے لگ گئے۔

ایک دن ایک پرانا جاننے والا ملنے آئا، حالات دیکھے تو بہت افسوس کیا۔ کہا شیخ صاحب انڈیا سے ایک بزرگ آئے ہوئے ہیں، بہت بڑے اللہ والے ہیں، داتا صاحب کے پاس ہی ایک مکان میں انکا چند دن کا قیام ہے، اگر ان کے پاس سے دعا کروا لیں تو اللہ کرم کرے گا۔

شیخ صاحب فورا تیار ہو گئے۔ اس مکان پر پہنچے، ملاقات کی، مسئلہ بیان کیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں، کچھ دیر مراقبے کی کیفیت میں رہے، پھر آنکھیں کھولیں، شیخ کو دیکھا اور کہا "تم نے سلطان کو کیوں نکالا تھا؟"

چیخ کے سر کے اوپر گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی، آنکھوں سے آنسووؐں کی ایک نہ تھمنے والی لڑی جاری ہو گئی، شیخ بزرگ کے پاوؐں میں گر گیا، معافیاں مانگنے لگا۔ بزرگ نے اسے کہا میری بات سنو۔ پروردگار رازق ہے، وق رزق ضرور دے گا لیکن اسکا وسیلہ انسانوں کو ہی بنائے گا۔اوپر سے نیچے آتے پانی کی تقسیم جس طرح نہروں نالوں کی طرح ہوتی ہے رزق کی تقسیم اسی طرح ہے۔

پروردگار کے نزدیک ہم میں سے ہر ایک شخص وسیلہ ہے کسی اور کے رزق کا۔ اگر آپ وسیلہ بننے سے انکار کرو گے تو تمہارے حصے کا وہ رزق جو اس وسیلے سے تمہیں بطور معاوضہ مل رہا تھا ختم ہو جائے گا۔

تمہیں لاکھوں کروڑوں سلطان کو پندرہ سو روپے دینے کے لیے ملتے تھے۔ تم نے وہ روک لیے، اوپر والے نے نمہارا معاوضہ ختم کر دیا۔ اب جاوؐ اور سلطان کو ڈھونڈو، اگر وہ مان جائے معاف کر دے تو تمہارے دن پھر جائیں گے۔

شیخ کی دنیا لٹ گئی، وہ سر پیٹتا گھر آیا پرانے کاغذات ڈھونڈتا رہا کہ شاید کہیں سلطان کا کوئی پتہ، کوئی شناختی کارڈ، کوئی اور معلومات مل سکیں۔ کچھ بھی نہ ملا تو شیخ دیوانہ وار سلطان کو ڈھونڈنے چکوال جانے والی بس میں بیٹھ کر چکوال چلا گیا۔ مگر سلطان نہ ملا۔

چھوٹا بیٹا ڈھونڈتا ڈھونڈتا چکوال اڈے پر آ پہنچا اور باپ کو واپس لاہور لے آئا۔ لیکن شیخ کا دل کا سکون ختم ہو گیا تھا۔ کچھ دن بعد شیخ پھر گھر سے غائب ہوا تو بیٹے کو معلوم تھا کہ کہاں ملے گا۔

وہ چکوال پہنچا تو دیکھا باپ زمین پر بیٹھا سر میں راکھ ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا سلطان تم کہاں ہو، سلطان تم کہاں ہو۔ بیٹا خود روتا ہوا باپ کو واپس لے آئا۔ چند دن کے بعد شیخ کا انتقال ہو گیا۔

کالم نگار نے لکھا، میں نے اپنے دوست کو یہ پوری کہانی سنائی اور اسے کہا، چپڑاسی کو نہ نکالو، اسکا رزق تمہارے رزق سے جُڑا ہے، اسے تو رب کہیں اور سے بھی دے دے گا کہ اس کے پاس وسیلہ بنانے کے لیے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس معاوضے والی نعمت سے محروم ہو جاوؐ۔

مجھے یہ واقعہ پڑھے ہوئے تیرہ سال گزر گئے ہیں۔ آپ یقین کریں اس نے میری زندگی بدل دی۔ میں مالی معاملات میں بہت زیادہ محتاط ہو گیا۔ اگر کسی کے پاس دس بارہ رہ گئے تو نہیں مانگے کہ کہیں اوپر والے سے ملنے والا معاوضہ کم نہ ہو جائے۔

میں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اور نیک نیتی سے وسیلہ بننے کی کوششیں بھی کیں
،میں جو بھی مستحق ہیں انکا خیال رکنے کی کوشش کی۔ میں ان تیرہ سالوں میں کبھی تنگ دست نہیں ہوا۔ ایک سے بڑھ کر ایک وسیلہ ملتا گیا اور میں آگے بڑھتا رہا۔

سبحان اللّہ

17/07/2023

*100 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارف کا بل 1836روپے آئیگا*
آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجلی کا بنیادی ٹیرف 24 روپے 82 سےبڑھا کر29 روپے78 پیسے مقرر کردیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکس اور سلیبس کے ساتھ اوسطاً فی یونٹ قیمت 50 روپے تک پہنچ جائے گی۔
نیپرا، بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 96 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری
ماہانہ 100 یونٹ کا ٹیرف 13.4 سے بڑھ کر 18.36 فی یونٹ ہو جائے گا ، 100 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارف کا بل 1836روپے ہو جائے گا۔
تیكسز کے ساتھ 3750 روپے
ماہانہ 200 یونٹ کا ٹیرف 23.91روپے فی یونٹ، بل 3700 سےبڑھ 4700 روپےہوجائےگا ۔
تیكسز کے ساتھ 7000 روپے
ماہانہ 300 یونٹ کے استعمال پر بل 6 ہزار سے بڑھ کر 8 ہزار روپےتک پہنچ جائے گا ۔
تیكسز کے ساتھ 11500
400 یونٹ استعمال کرنیوالے صارف کا بل 10 ہزار سے بڑھ کر 12300 روپے ہو جائے گا۔
تیكسز کے ساتھ 20000
500 یونٹ کے استعمال پر بجلی کا بل 13 ہزار سے بڑھ کر 16 ہزار تک جا پہنچے گا۔
مع ٹیکس 29000
بجلی صارفین پر 3.23 روپے فی یونٹ ایف سی سرچارج عائد
ماہانہ 700 یونٹ استعمال کرنے والے کا بل 24 ہزار سے بڑھ کر 28 ہزار ہو جائےگا۔
مع ٹیکس 42000 روپے
ٹیکسز، سرچارجز ، کیپسٹی پیمنٹ اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ بل میں الگ شامل ہوں گے۔

16/07/2023

میں اور میری بیوی سنار کی دوکان پر گئے سونے کی انگوٹھی خریدنے کیلئے ۔کچھ انگوٹھیاں دیکھنے کے بعد میری بیوی کو ایک انگوٹھی پسند آگئی ۔قیمت ادا کر کے جیسے ھی میں باہر نکلنے کیلئے مڑا تو ایک بارعب شخص سے ملاقات ھوئی جو کہ مجھے جانتے تھے لیکن میں انکو بھول چکاتھا بس اتنا یاد تھا کہ ماضی میں کبھی ان سے ملاقات ھوئی تھی ۔۔
یہ صاحب بڑی گرم جوشی سے میرے گلے ملے اور سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگے "بیٹا لگتا ھے پہچاننے کی کوشش کر رھے ھیں آپ "
میں نے کہا معزرت کیساتھ آپ کا چہرہ جانا پہچانا لگ رہا ھے لیکن یاد نہی آرہا کہ آپ سے کب ملاقات ھوئی تھی ۔۔
وہ تھوڑا سا مسکراے اور کہنے لگے میرا نام اقبال ھے ویسے لوگ مجھے بڑا بھائی کہتے ھیں ۔آج سے چند سال قبل آپ اپنی فیملی کیساتھ ھمارے گھر آے تھے گلبرگ میں ھمارا گھر ھے شاید آپ کو یاد آگیا ھو ۔۔
انکی بات سن کر میرا تو سر ھی چکڑا گیا ۔اور میرا رویہ بالکل مودبانہ ھو گیا اور میں بے اختیار بول پڑا سب یاد آگیا بڑے بھائی سب یاد آگیا ۔۔۔
میں نے سوال کیا آپ اکیلے ھی ھیں یا آنٹی بھی آئیں ھے ۔
بڑے بھائی نے جواب دیا جی آنٹی بھی آئیں ھیں اور دوسرے بھائی بھی آئیں ھیں وہ بیٹھے ھیں آپ ان سے مل سکتے ھیں ۔۔۔
ایک سائید پر دیکھا تو آنٹی برقعہ پہنے بیٹھی تھی اور ساتھ میں ھی دوسرے بھائی بھی کھڑے چہرے پر مسکراہٹ سجاے میری طرف دیکھ رھے تھے ۔۔
میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ انٹی کو سلام کرو اور بعد میں انکا تعارف کرواتا ھوں ۔۔
میری بیگم گئی آنٹی کو سلام کیا آنٹی نے بہت ھی اچھے طریقے سے میری بیوی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر بہت ھی پیارے انداز میں میری بیوی کو دعائیں دیں ۔
میں نے آنٹی کو بتلایا کہ یہ میری بیوی ھے اور یہ میرا 3سال کا بیٹا ھے ۔آنٹی بہت خوش ھوئیں اور اپنے بیٹے کیطرف آنکھوں ھی آنکھوں میں اشارہ کیا جس نے میری بیٹے کی جیب میں 1000 کا نوٹ ڈال دیا ۔میں نے بہت اسرار کیا کہ یہ غلط ھے لیکن آنٹی نہ مانیں ۔
کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں آنٹی سے آنے کا مقصد پوچھا تو آنٹی کہنے لگیں کہ اللہ نے میری بیٹی کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ھے اسلئے بیٹی کیلئے اور انکے اہل خانہ کیلئے کچھ تحائف خریدنے آئیں ھیں ۔۔
میں نے پوچھا آنٹی کونسی بیٹی آپکی تو تمام بیٹیاں شادی شدہ تھیں صرف ایک۔کنواری تھی جسکے رشتہ کیلئے ھم لوگ آے تھے اور آپ لوگوں نے کہا تھا کہ ابھی 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی ھے ۔۔حالانکہ مجھے حیرانگی ھوئی تھی کہ گھر پر رشتے کیلئے بلوا کر پھر کہہ دینا کہ 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی کتنی غلط بات ھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔آنٹی کو جیسے ایک جھٹکا لگا ۔۔لیکن وہ ایک سمجھدار خاتون تھیں فورا ھی سمجھ گئیں کہ بات کچھ اور ھے پوچھنے لگی کہ یہ بات آپکو کس نے کہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا والد صاحب نے کہا تھا ۔۔تو وہ کہنے لگی نہی ۔۔بات دراصل کچھ اور تھی لیکن آپ کے والد صاحب نے آپ کا پردہ رکھا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔میرے اندر ایک تجسس پیدا ھو گیا کہ میرے والد صاحب ھم سے کیسے غلط بیانی کر سکتے ھیں اور میرے والد صاحب نے کبھی بھی جھوٹ نہی بولا تھا ۔۔
آنٹی نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ مجھے میرے بیٹے کیساتھ اکیلا چھوڑ دیں اور میں نے بھی اپنی بیگم کو کہا کہ تم تھوڑا سا وقت مجھے دو بچے کو کچھ کھلاو پلاو۔۔

آنٹی کہنے لگی بیٹا جس دن تم اور تمہارے اہل خانہ ھمارے گھر ھماری بیٹی کا رشتہ لینے آے تھے میں نے اسی دن تمھارے رشتہ سے انکار کر دیا تھا جو کہ شاید تمھارے والدین نے تمہیں نہی بتلایا ۔۔۔
تم ایک پڑھے لکھے اور معاشرے میں ایک کامیاب شخص ثابت ھو سکتے ھو مجھے پہلے ھی علم تھا ۔۔
اور مجھے مکمل یقین تھا کہ میری بیٹی کو بھی تم خوش رکھو گے ۔۔
لیکن نئے لوگوں سے رشتہ جوڑنے کیلئے صرف لڑکے کو ھی نہی دیکھا جاتا بلکہ۔اسکے مکمل خاندان کو دیکھا جاتا ھے ۔کیونکہ ھم نے مستقبل میں آپس میں میل جول رکھنا ھوتا ھے اسلئے لڑکے یا لڑکی کے گھرانے والوں کو دیکھ کر مستبقل کا تعین کیا جاتا ھے کہ یہ گھرانہ مستقبل میں کتنا کامیاب رشتہ نبھا سکتا ھے کیونکہ۔زندگی میں اتار چڑھاو آتے رھتے ھیں اور ان حالات میں ھمکو کسی اپنے کی ضرورت ھوتی ھے اسلئے ھم کسی ایسے سے رشتہ نہی جوڑتے جو خوشیوں میں ھمارے ساتھ ھو لیکن حالات کے خراب ھوتے ھی وہ ھم سے جدا ھو جاے ۔۔
اسلئے میں نے اس دن آپکے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو صاف صاف انکار کر دیا تھا ۔۔ھو سکتا ھے کہ انہوں نے آپ کو درست بات نہ بتلائی ھو۔۔

۔۔۔۔۔آنٹی کی باتیں سن کر میں مزید پریشان ھو گیا اور میں نے کہا کہ آنٹی ھم بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑکتیں ھیں خوشی اور غم میں برابر کے شریک ھوتے ھیں کبھی ایسا نہی ھوا کہ ھم میں سے کسی کو ایک۔دوسرے سے کوئی۔شکایت ھو ۔۔۔اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو میں 100فیصد درست ھوں کہ آپکو ھمارے خاندان کو پرکھنے میں غلطی ھوئی ھے ۔۔

آنٹی نے ایک سرد آہ لی اور کہا بیٹے ابھی تم بہت چھوٹے ھو جو چیزیں میں دیکھ سکتی ھوں تم انکیطرف کبھی سوچ بھی نہی سکتے ۔۔۔
میرے استفسار پر آنٹی نے کہا کہ میرا اندازہ کبھی غلط نہی ھوتا ۔۔
چلو میں تمکو بتلاتی ھوں ۔۔۔

میں نے اپنی بیٹی کیلئے جتنے بھی رشتے دیکھے ھیں ان سے کچھ شرائط رکھی ھیں جو بھی میری بیٹی کو دیکھنے آے ۔
وہ اپنے تمام بیٹوں اور انکی بیگمات کو ساتھ لائیں ۔۔
جو سب سے اچھے کپڑے ھوں وہ زیب تن کر کے آئیں ۔
گھر کی عورتیں اپنے مکمل زیورات سے سج کر آئیں ۔
اگر گھر میں ھر فرد کی اپنی اپنی گاڑی ھے تو وہ اپنی اپنی گاڑی میں آئیں ۔۔۔

یہ شرائط بہت عجیب تھیں ۔۔لیکن بعض لوگوں نے اسکا یہ۔مطلب لیا کہ شاید ھم لڑکے والوں کی مالی حالت دیکھنا چاھتے ھیں ۔۔لیکن ایسی بات نہی ھے ۔۔۔

اب جب آپ کے اہل خانہ ھمارے گھر تشریف لاے تھے تو میں نے سب سے پہلے تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیاں دیکھیں جو کہ قدر مہنگی تھی جبکہ تمھارے والد صاحب کی گاڑی کی مالیت اتنی نہی تھی جتنی تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیوں کی قیمت تھی ۔۔
اسیطرح پھر میں نے تمھارے والد صاحب کے کپڑوں کا جائزہ لیا تو مجھے محسوس ھوا کہ تمھارے بھائیوں کے جسموں پر سجے ھوے کپڑے زیادہ مہنگے ھیں اور یہی حال تمھارے والد صاحب کے جوتوں کا تھا ۔۔
جب میں نے تمھاری ماں کے زیورات دیکھے تو انکی مقدار بہت ھی کم۔تھی جبکہ تمھاری دونوں بھابھیوں کے ہاتھ بازو اور گلے زیورات سے سجے ھوے تھے ۔۔۔
پھر میں نے جب تمھاری بھابھیوں سے پوچھا کہ گھر کا کھانا کون پکاتا ھے تو تمھاری بھابھئوں نے کہا کہ ھم سب علیحیدہ علیحیدہ پکاتے ھیں اور تمھارے والدین کا کھانا تمھاری بہن پکاتی ھے ۔۔
اسی طرح میں نے جب پوچھا کہ بچوں کو سکول کون چھوڑتا ھے تو مجھے پتہ چلا کہ تمھارے دونوں بھائی اپنے بچوں کو خود چھوڑتے ھیں جبکہ تمھاری بہن کو تمھارے والد صاحب کالج لے کر جاتے ھیں۔
جب میں نے یہ حالات دیکھے اور سنے تو مجھے افسوس ھوا ان بیٹوں پر جنکو پڑھانے کیلئے باپ نے اپنی ساری زندگی گنوا دی اور اس اولاد کو معاشرے کا کامیاب فرد بنایا لیکن جب اولاد کی باری آئی تو اولاد والد کا سہارا ببنے کی بجاے اپنی زندگی گزارنے پر رضامند ھو گئی ۔۔
تمھارے باپ نے تمھارے لئے بھوک افلاس بھی دیکھا ھو گا ۔
پیدل سفر بھی کیا ھو گا ۔
تمھارے منہ میں نوالہ ڈالنے کیلئے بھوک بھی برداشت کی ھو گی۔
تمہیں اچھا پہنانے کیلئے خود دو تین سال ایک ھی جوڑے میں بھی گزارے ھو نگیں ۔۔
لیکن جب اولاد کی باری آئی تو اولاد باپ کو بھول گئی اور اپنی دنیا کی رنگ رلیوں میں مگن ھو گئی ۔۔
تمھارے بھائیوں نے خود تو نئی گاڑی لے لی لیکن انکو خیال نہ آیا کہ ھمارا باپ آج بھی اسی پرانی گاڑی میں سفر کیوں کرتا ھے کیونکہ اس پر ابھی بھی تمھاری بہن کی اور تمھاری زمہ داری ھے ۔۔
اسکا بھی دل کرتا ھو گا نئے جوتے اور نئے کپڑے پہننے کو لیکن ھو سکتا ھے اسکی جیب اس چیز کی اجازت نہ دیتی ھو ۔۔لیکن تمھارے بھائیوں کی جیب تو اجازت دیتی تھی کہ اپنے باپ کیلئے اچھا لباس اچھا جوتا پہلے خریدتے اور اپنے لئے بعد میں کیونکہ یہ رویہ تمھارے باپ کا تھا جب بھی اس نے کوئی چیز خریدنا چاھی پہلے اپنی اولاد کا خیال کیا بعد میں اپنا سوچا ۔۔
اسی لئے میں نے یہ ساری باتیں اسی دن تمھارے والد سے کر دیں تھیں ۔ھمیں دنیا کی مال و دولت نہی چاھئیے ھمیں تو ایسے رشتہ۔دار چاھئیں جو اپنے سے بڑھ کر اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دیں تاکہ کل کو جب ھم نیچے گریں تو ھمکو مزید نیچے دبانے کی بجاے اوپر کو اٹھائیں تاکہ کل کو جب وہ نیچے گریں تو ھم انکو بھی سہارا دیں سکیں ۔۔۔
مال و دولت اعلی عہدہ یا مرتبہ تو ھمیشہ نہی رھتا ۔۔
ھمیشہ جو ساتھ چلتے ھیں وہ سچے رشتے چلتے ھیں اور اگر رشتے بنانے میں ھم سے تھوڑی سی بھی غلطی ھو جاے تو ساری زندگی بھی تباہ ھو سکتی ھے اور نسلیں بھی تباہ ھو جایا کرتی ھیں ۔۔۔

مجھے فخر ھے آپ کے والد صاحب پر کہ انھوں نے آپ کو حقیقت سے آگاہ نہی کیا اور پھر بھی آپ لوگوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالتے رھے لیکن دیکھنا یہ ھے کہ اولاد اپنے والدین کا کتنا خیال رکھتی ھے والدین تو ھمیشہ سے ھی اولاد کیلئے قربانیاں دیتے آئے ھیں ۔۔
ابھی اولاد کی باری ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد پر کہ آج کچھ بھی ھو جاے میری اولاد مجھے ھمیشہ ترجیح دیتی ھے میرے لئے پہلے خریدتی ھے بعد میں اپنے بیوی بچوں کیلئے کچھ خریدا جاتا ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد کی اولاد پر کہ وہ بھی اپنے والدین کو اپنی زندگیوں سے زیادہ ترجیح دیتی ھے اور ھمارا پورا خاندان ایک جان کی مانند ھے اگر کسی کو کسی بھی چیز کی۔ضرورت پڑ جاے تو پیٹھ دیکھا کر نہی بھاگتے بلکہ ضرورت سے زیادہ لے کر آتا ھے ۔۔۔۔

اس لئے میرے بیٹے رشتے بنانا بہت آسان ھے لیکن کامیاب رشتے چننا اور انکو نبھانا بہت مشکل ھے ۔۔کہیں ایک نا اہل رشتہ آپ کو اتنا بڑا نقصان دے سکتا ھے کہ ساری عمر کی۔خوشیاں غموں میں تبدیل ھو سکتی ھیں اور کامیاب رشتہ آپکو ایسا سہارا دے سکتا ھے کہ تمام زندگی کے غم خوشیوں میں تبدیل ھو سکتے ھیں۔۔۔

اتنی بات کرنے کے بعد آنٹی اٹھ کر چلی گئیں ۔۔اور میری آنکھوں کے سامنے میرے والدین کا چہرہ گھومنے لگا ۔میری گاڑی میرے والد کی گاڑی سے بہتر تھی ۔میرا لباس میرے والد کے لباس سے بہتر تھا ۔میرے گھر کی زیب و زینت کا سامان میرے والد کے گھر سے بہتر تھا ۔میری بیوی ہاتھ میں سونے کی چوڑیاں اور کنگن تھے جو میں نے خرید کر دئیے تھے لیکن میری ماں کا سارا زیور بک چکا تھا میں آج بھی گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر لیکن میرا باپ آج بھی اولاد کی زمہ داریاں نبھا رہا تھا ۔۔
میں نے آج بھی اپنی بیوی کیلئے سونے کی انگھوٹھی خریدی لیکن میرے ذھن میں میری ماں کا خیال کیوں نہ آیا جس نے میری شادی کیلئے اپنا زیور بیچ دیا ۔۔

مجھے افسوس ھوا اپنے آپ پر کہ میں نے اپنے والدین سے زیادہ اپنی ذات کو ترجیح دی ھے میرے والدین جنہوں نے مجھے سب کچھ دیا اور میں نے ان سے سب کچھ لے کر انکو خالی کر دیا لیکن کبھی انہوں نے مجج سے کوئی گلہ یا شکوہ نہی کیا ۔۔۔
میرے والدین کل بھی عظیم تھے اور آج بھی عظیم ھیں اور میں کل بھی ناکام تھا اور آج بھی ناکام ھوں ۔۔۔۔

16/07/2023

شریف خاندان کی پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلی دولت اثاثوں جائیدادوں کی تفصیل۔

مختلف اداروں نے دن رات ایک کرکے بالاخر پتہ چلا لیا کہ شریف فیملی کے ہر فرد کے نام پر دنیا کے کس کس ملک میں کتنی مالیت کی کس قسم کی جائیداد ہے ، تفصیلات آپ بھی ملاحظہ کریں ۔

✔️لندن پارک لین کے 4 فلیٹس جن کی ملکیت سے 25 سال تک انکار کرتے رہے اور آج اقرار کر رہے ہیں۔
✔️ان کے علاوہ لندن میں الفورڈ میں واقع 33 اور 25 منزلہ پوائنیر پوائنٹ کے نام سے دو ٹاورز جنکی مالیت کئی سو ملین پاؤنڈ بتائی جاتی ہے۔

✔️ہائیڈ پارک لندن میں دنیا کے مہنگے ترین فلیٹس میں سے دو فلیٹ جنکی مجموعی مالیت 150 ملین پاؤنڈ کے قریب ہے۔
✔️لندن کے مشرقی علاقے میں 340 مختلف پراپرٹیز بشمول

✔️تین فلیٹس 17 ایون فیلڈ ہاؤس
✔️پارک لین جسکی مالیت 12 ملین پاؤنڈ ہے
✔️فلیٹ نمبر 8 بور ووڈ پلیس لندن ڈبلیو 2 مالیت 7 لاکھ پاؤنڈ
✔️فلیٹ نمبر 9 بور ووڈ پلیس لندن ڈبلیو 2 مالیت 9 لاکھ پاؤنڈ
✔️10 ڈیوک مینش، ڈیوک سٹریٹ لندن ڈبلیو 1, مالیت 1.5 ملین پاؤنڈ
✔️فلیٹ نمبر 12 اے، 118 پارک لین میفیر، لندن ایس ڈبلیو 1 مالیت 5 لاکھ پاؤنڈ
✔️فلیٹ نمبر 2، 36 گرین سٹریٹ، لندن ڈبلیو 1 مالیت 8 لاکھ پاؤنڈ
✔️11 گلوسٹر پلیس، لندن ڈبلیو ون، مالیت انمول
✔️ان کے علاوہ عین بکنگھم پیلس کے قریب جائداد جسکی مالیت 4.5 ملین پاؤنڈ ہے۔
✔️148 نیل گوین ہاؤس سلون ایونیو میں فلیگ شپ کمپنی کے سیکٹری مسٹر وقار احمد رہائش پزیر ہیں وہ بھی انہی کی ملکیت ہے۔*
✔️سنٹرل لندن کے آس پاس 80 ملین پاؤنڈ کی جائدادیں۔
✔️کچھ عرصہ پہلے حسین نواز نے لندن رئیل اسٹیٹ میں ایک ہی وقت میں 1.2 ارب ڈالر یا 1200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ اسکا چرچا پاکستانی میڈیا پر بھی ہوا تھا جو آپ کو باآسانی گوگل پر مل جائیگا۔

▪️▪️▪️▪️پاکستان میں ▪️▪️▪️▪️

✔️نواز شریف لاہور میں جس گھر میں رہائش پزیر ہیں اس کو رائیوننڈ محل کہا جاتا ہے ۔ اسکا احاطہ 25000 ہزار کنال پر محیط ہے ۔ اسکی مارکیٹ ویلیو اربوں روپے میں بنتی ہے۔

✔️مری میں ایک عالی شان محل نما گھر۔
✔️چھانگا گلی ایبٹ آباد میں زمین اور ایک مکان
✔️مال روڈ مری پر ایک شاندار قیمتی بنگلہ
✔️شیخوپورہ میں 88 کنال کی ایک زمین
✔️لاہور اپر مال میں ایک مکان
✔️1700 کنال کی مختلف جائدادیں
✔️ان تمام گھروں کا سالانہ بجٹ 27 کروڑ روپے ہے.ان گھروں میں کام کرنے والے ملازمین اور آفیسرز کی کل تعداد 1766 ہے جن کا ماہانہ خرچ 6 کروڑ روپے ہے۔ بحوالہ سی این بی سی

✔️صرف نواز شریف کے ہاتھ پر بندھی ہوئی گھڑی کی قیمت 4.6 ملین ڈالر ہے ،جو عمران خان کے کل اثاثوں سے زیادہ ہ *(اب شائد بنی گالہ گھر کی مارکیٹ ویلیو بڑھ گئی ہے)
✔️ان کے علاوہ نواز شریف کی سعودی عرب، دبئی، سپین اور استنبول میں بھی رہائش گاہیں ہیں۔
✔️نواز شریف کا کاروبار پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ جو زیادہ تر رئیل اسٹیٹ، سٹیل، شوگرملز ، پیپر ملز اور فارمنگ پر مشتمل ہے۔
✔️پاکستان میں نواز شریف اتفاق گروپ اور شریف گروپ نامی دو دیو ہیکل گروپ آف کمپنیز کے مالک ہیں ۔ جنکی ذیلی کمپنیوں میں کم از کم 11 شوگر ملز اور 15 انڈسٹریل اسٹیٹس شامل ہیں ۔

ان کاروباری اداروں کے ماتحت کام کرنے والی کچھ کمپنیوں کے نام یہ ہیں ۔
حوالہ سی این بی سی*

✔️رمضان شوگر ملز غالباً پاکستان کی سب سے بڑی شوگر مل ہے۔
✔️رمضان انرجی لمیٹڈ
✔️شریف ایگری فارمز
✔️شریف پولٹری فارمز
✔️شریف ڈیری فارمز
✔️شریف فیڈ ملز
✔️رمضان شوگر کین ڈیویلپمنٹ فارم
✔️مہران رمضان ٹیکسٹائلز
✔️رمضان ٹرانسپورٹ
✔️رمضان بخش ٹیکسٹائل ملز
✔️محمد بخش ٹیکسٹائل ملز
✔️حمضی سپننگ ملز
✔️چودھری شوگر ملز
✔️اتفاق فاونڈری پرائویٹ لمٹڈ
✔️حدیبیہ انجنیرنگز
✔️خالد سراج انڈسٹریز
✔️علی ہارون ٹیکسٹائل ملز
✔️حنیف سراج ٹیکسٹائل ملز
✔️فاروق برکت پرائویٹ لمیٹد
✔️عبدالعزیز ٹیکسٹائل ملز
✔️برکت ٹیکسٹائل ملز
✔️صندل بار ٹیکسٹائل ملز
✔️حسیب وقاص رائس ملز
✔️سردار بورڈ اینڈ پیپر ملز
✔️ماڈل ٹریڈنگ ھاوس پرائویٹ لمیٹڈ
✔️حسیب وقاص گروپ
✔️حسیب وقاص شوگر ملز
✔️حسیب وقاص انجنیرنگ
✔️حسیب وقاص فارمز لمٹڈ
✔️حسیب وقاس رائس ملز
✔️حمظی بورڈملز
✔️اتفاق برادرزپرائویٹ لمیٹڈ
✔️الیاس انٹرپرائسز
✔️حدیبیہ پیپر ملز
✔️اتفاق شوگر ملز
✔️برادرز سٹیل ملز
✔️برادر ٹیکسٹائل ملز
✔️اتفاق ٹیکسٹائل یونٹس
✔️خالد سراج ٹیکسٹائل ملز
✔️یو اے ای میں ایک سٹیل مل
✔️سعودی عرب اور جدہ کی سٹیل ملز سے آپ واقف ہیں۔ دبئی میں وہ اپنے ہی بیٹے کی کمپنی میں ملازم ہیں۔
✔️انکی ایک شوگر مل کینیا میں ہے۔
✔️نیوزی لینڈ کی سرکاری سٹیل کمپنی کے 49 فیصد شیرز نواز شریف کے نام ہیں۔
✔️کچھ عرصہ پہلے مشہور پاکستانی ٹی وی اینکر مبشر لقمان نے اپنے ایک پروگرام میں انکشاف کیا کہ محمد منشاء کی ملیکت کئی کمپنیاں دراصل نواز شریف کی ہیں اور محمد منشاء انکے فرنٹ مین ہیں۔ یہ کمپنیاں نجکاری کے ذریعے خریدی گئیں۔ ان میں پاکستان میں تیل سے بجلی بنانے والی آئی پی پیز جن کو نواز شریف نے آتے ہی 400 ارب روپے یا 4000 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔

✔️ایم سی بی بینک
✔️ملت ٹریکٹرز
✔️ڈی جی خان سمینٹ نمایاں ھیں
یہ سب تو انکی جائدادیں اور فیکٹریوں کی تفصیل ھے .اس کے علاوہ نقد رقم جو پوری دنیا کے مختلف بڑے بڑے بنکوں جن میں سوئس بنکس ، سٹی بنکس ، سعودی بنکس اماراتی بنکس الراجھی بنکس نمایاں ھیں۔ جن میں بلین ، ٹریلین کے حساب سے یعنی اربوں کھربوں ڈالرز پڑے ہوۓ ھیں جو کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 800کھرب کے لگ بھگ ھیں۔ ..اور پھر کہتا ہے کہ مجھے کیوں نکالا۔۔۔

14/07/2023

(فتح ثمرقند اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ جسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے…)

حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ رحمة

ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کے حکمران “عمر بن عبد العزیز” سے ملنا چاہتا تھا۔
اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔

پادری نے لکھا !
“ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں. مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور ہم پر راتوں رات اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔”
یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے سلطنت اسلامیہ کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔

دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔

جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔

لوگوں نے کہا، “ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے۔”

قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔

قاصد نے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبد العزیز کو دے دیا۔

عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام: ” ایک قاضی کا تقرر کرو، جو پادری کی شکایت سنے۔” مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔

سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ، تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا .. کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے ۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔

قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟

پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟

قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔

سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔

قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟

قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔

اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جا چکا تھا۔
‏ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔

ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں ۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کر دے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔

دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔ اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پھر سے ایسا دور دیکھنا نصیب فرمائے آمین

======🌴======*حلال، حلال، حلال!*بچے نے ٹورٹیلا چپس دیکھے اور بے اختیار اس کی طرف لپک گیا۔ بابا! یہ چپس میری فیورٹ ہے، می...
01/03/2023

======🌴======

*حلال، حلال، حلال!*

بچے نے ٹورٹیلا چپس دیکھے اور بے اختیار اس کی طرف لپک گیا۔
بابا! یہ چپس میری فیورٹ ہے، میں اسے لے لوں؟
بچوں کی ضد کے آگے تو ہر کسی کو ہتھیار ڈالنا ہی پڑتے ہیں۔ چپس لیے اور خوشی خوشی گھر واپس آگئے۔ بچے نے کھانے سے پہلے سمجھداری دکھائی اور اس کے اجزاء ترکیبی Ingredienst کو پڑھنے لگا۔ اچانک ان اجزائے ترکیبی میں Pig لکھا دکھائی دیا۔ بچے کے کان کھڑے ہوگئے۔ اس نے اپنے بابا سے سنا تھا کہ ہم ایسی کوئی چیز نہیں کھاتے جس میں Pig شامل ہو۔ وہ دوڑتا ہوا اپنے بابا کے کمرے میں گیا اور انہیں چپس کا پیک دکھانے لگا۔ والد نے دیکھا تو فیصلہ کیا کہ یہ تو شہر کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک بہت بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور سے خریدا تھا۔ وہاں تو نجانے کتنے ہی لوگ اسے خرید کر کھارہے ہوں گے۔ اس نے گاڑی نکالی اور اسٹور انتظامیہ سے بات کرنے پہنچ گیا۔ انہیں دکھایا تو وہ بھی ششدر رہ گئے۔ فوری طور پر تمام اسٹاک اٹھالیا گیا اور آئندہ کے لیے اس چپس کو امپورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

آپ کسی بھی شخص کو یہ کہیں کہ حلال لوگو دیکھ کر چیز خریدیں تو وہ آپ کے ذہنی توازن پر شک کرنے لگتا ہے۔ بھئی! اسلامی ملک ہے، یہاں سارے مسلمان ہیں، یہاں کہاں سے حرام آگیا۔ اسی غلط فہمی کی وجہ سے نجانے کتنی حرام چیزیں ہماری خوراک میں شامل ہورہی ہیں۔ کوئی بھی شخص حلال کا لوگو دیکھ کر خریداری نہیں کرتا، حالانکہ دنیا بھر میں 83 فیصد حلال مصنوعات صرف اپنے لوگو کی وجہ سے بکتی ہیں۔ آپ ایک پینسل کی مثال لے لیں۔ ہر پینسل میں سکہ ہوتا ہے، اسے Pensil Lead کہا جاتا ہے۔ اس سکے کا رنگ ایک جیسا بنانے، اس کی رفتار اور فلو بہتر کرنے کے لیے اسے آئل میں ڈبویا جاتا ہے۔ یہ آئل عموما چین سے درآمد کیا جاتا ہے۔ چین اس میں اس وقت سور کی فارمنگ عروج پر ہے۔ کیا خدانخواستہ ہماری پینسلز اسی حرام تیل سے بنتی ہیں؟ اگر ہم یونہی آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے اور پینسل پر حلال لوگو نہ دیکھا اور یہ مطالبہ نہ کیا کہ کیا اس پینسل کے سکے پر لگنے والا تیل حلال ہے؟ تو یہ پینسلیں اسی طرح حرام سے بنتی رہیں گی اور ہمارے بچے اسی طرح حرام پر مشتمل پینسلز کو منہ ڈال کر چباتے اور ان سے لکھتے رہیں گے!!! خصوصاً کلرپنسلز تو اس آئل میں گوندھ کر بنائی جاتی ہیں۔ کلر پنسلز کا سکہ اس آئل میں گوندھا جاتا ہے، پھر اسے سکے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ گھر میں آنے والے پھل کو دیکھیے۔ ہمارے ہاں پھل کو چمکانے اور خوبصورت بناکر پیش کرنے کا رجحان ہے۔ پھل کو چمکانے کے لیے اس پر Wax سے پالش کی جاتی ہے۔ یہ Wax کہاں سے حاصل کی گئی ہے؟ اس کا ماخذ اور سورس کیا ہے؟ کہیں چمکتے دمکتے سیب اور امرود کے ساتھ یہ حرام ویکس تو ہمارے پیٹ میں نہیں جارہی؟ ہمارے ہاں ادویات میں استعمال ہونے والے کیپسول اس وقت چین سے منگوائے جارہے ہیں۔ سب سے زیادہ وہیں سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ یہ کپسول کہیں سور سے تو نہیں تیار کیے جارہے؟ کیونکہ چین دنیا بھر میں سور فارمنگ میں سب سے آگے ہے۔
بات بہت ہی سادہ سی ہے۔ آپ اگلی بار جب دکان پر جائیں تو قیمت ضرور دیکھیں، اس کے ساتھ ساتھ حلال لوگو بھی دیکھیں۔ صرف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم اور ہمارے بچے کہیں حرام تو نہیں کھارہے؟


==================

*👈 حرام تو حرام ہی ہوتا ہے __!!* کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی شادی کو عرصہ ہوگیا مگر گھر میں ولی عہد کی کمی ہی رہی تو اس نے...
01/03/2023

*👈 حرام تو حرام ہی ہوتا ہے __!!*

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی شادی کو عرصہ ہوگیا مگر گھر میں ولی عہد کی کمی ہی رہی تو اس نے سلطنت کے کونے کونے سے اپنے اور اپنی ملکہ کے علاج معالجے کیلئے حکیم بلوائے۔ مقدر میں لکھا تھا اور اللہ نے ملکہ کی گود ہری کر دی ۔
بیٹا پیدا ہوا مگر ایک پیدائشی معذوری کے ساتھ یعنی وہ ایک کان کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا کہ اتنی بڑی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالنے کیلئے پیدا ہونے والا یہ ولی عہد جب اپنے آپ کو یوں معذور پائے گا تو احساس محرومی کا شکار ہو جائیگا۔ کس طرح اس کی اس خامی پر قابو پایا جائے؟

وزیروں نے مشورہ دیا بادشاہ سلامت، یہ تو کوئی بات ہی نہیں، اعلان کرا دیجیئے کہ آج سے جو بھی بچہ پیدا ہو اس کا ایک کان کاٹ لیا جائے۔ شہزادے کے سارے ہمجولی اور اس کے سامنے پلنے والی ساری نسل جب ایک کان والی ہوگی تو شہزادے کے دل میں کسی قسم کی محرومی کا احساس ہی نہیں پیدا ہوگا۔ حکم نافذ کر کے عملدرآمد شروع کرا دیا گیا، اگلے دسیوں سالوں میں مملکت میں ایک کان والی نسل دیکھنے کو ملی اور لوگ اس عادت اور تقلید میں رچ بس گئے۔

ایک بار کہیں سے گھومتا پھرتا بھولا بھٹکا ایک نوجوان اس مملکت میں آن ٹپکا۔ لوگ دو کانوں والے لڑکے کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے، بچے اس عجیب الخلقت نوجوان کے پیچھے پڑ گئے اور دو کانوں دو کانوں والا کہہ کر چھیڑتے۔ اس نوجوان کو بھی اپنا آپ ایک عجوبہ لگنا شروع ہو گیا، تاکہ وہ ان لوگوں میں تماشہ بن کر نا رہے اُس نے اپنا ایک کان ہی کٹوا لیا۔

فقہ میں ایک بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ: سب لوگوں کا کسی ایک بات پر متفق ہوجانا اسے حلال نہیں بنا دیا کرتا۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی پوری قوم شرک کی معذوری کا شکار تھی، ایک اکیلا ابراہیم (علیہ السلام) ان میں اور ان کو بہت ہی عجیب دکھائی دیتا تھا۔

سیدنا لوط علیہ السلام کی پوری کی پوری قوم فطرت کی مخالف سمت میں چلنے والی تھی، ایک اکیلا لوط (علیہ السلام) ان میں عجیب دکھائی دیتا تھا کیونکہ وہ ان جیسا کام نہیں کرتا تھا۔
سیدنا شعیب علیہ السلام کی پوری کی پوری قوم سود اور چور بازاری میں ایسی مبتلاء تھی کہ ان میں اکیلا شعیب (علیہ السلام) بہت ہی انوکھا نظر آتا تھا۔
اس لیے حرام پہ جمع ہو جانا اس کو حلال نہیں کر سکتا ...درست راہ پہ گامزن رہیں یہ ہی کامیابی ہے...
خوش رہیں💞💞💞

Address

Dubai

Telephone

+971557432832

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hum Bhi HEn posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Hum Bhi HEn:

Share