Aleeza Talk

Aleeza Talk https://youtube.com/

📲 Contact us on WhatsApp for Paid Promotion.

If you want to promote your:
• Business / Brand
• Product or Service
we can help you reach a large audience through our platform

10/06/2026

برائے مہربانی میری پہچان زہر نہ کریے گا
ایک لڑکی تھی جو میرے ساتھ سکول میں پڑھتی تھی اور بہت ہی زیادہ پیاری تھی خیر بچپن تھا ان کاموں میں انٹرسٹ نہیں تھا تو کوئی ایسا ویسا سین نہیں ہوا کافی عرصے بعد میں نے دیکھا وہ اپنی بھائی کے ساتھ جا رہی تھی اور وہ پہلے سے بھی اتنی زیادہ خوبصورت ہو چکی تھی کہ ہر کوئی اسے دیکھتا ہی رہ جاتا خیر جہاں وہ اکیڈمی میں جاتی تھی وہاں سے میں نے اس کا نمبر نکلوا لیا اور اس کو میسج کیا اس کا جواب بھی اگیا ہماری بات سٹارٹ ہو گئی دو مہینے بعد ہم نے ملاقات کی اور پھر ہم ایک ساتھ لانگ ڈرائیو بہت ہی گھومتے پھرتے رہے شاپنگ کرتے اور میں نے اس کو بہت مہنگی مہنگی گفٹ بھی دیے مری میں بھی ایک رات گزاری اور بہت زیادہ فزیکل ہو گئے میں نے اس کے گھر رشتہ بھجوایا اس کا ایک کزن بھی اس کے پیچھے تھا کیونکہ وہ بہت خوبصورت تھی مختصر یہ کہ اس کی ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے اس کے کزن کے ساتھ میں ڈپریشن میں چلا جاتا ہوں اور میں نے اس کے ساتھ رابطہ چھوڑ دیا اس نے میرے ساتھ رابطہ کیا کہ ہم ملتے ہیں میں نے کہا تمہاری اب شادی ہو چکی ہے میں نہیں ملنا چاہتا کیونکہ اس کی شادی بھی ہمارے ہی محلے میں ہوئی تھی اس کا ہسبینڈ دبئی میں ہوتا ہے اور اپ اس لڑکی نے میرا ہی ایک دوست اپنے ساتھ اٹیچ کر لیا ہے اس سے باتیں کرتی ہے اور ائی تھنک ایک دو دفعہ اس ملی بھی ہے میرے دوست نے مجھے اس کی پکچر دکھائی اس کے ساتھ بیٹھی تھی اب یہ سب دیکھ کہ مجھے پتہ نہیں کیا کچھ ہو رہا ہے مجھے باتیں یاد نہیں رہتی میں کوئی تھوڑی دیر پہلے کی بات بھول جاتا ہوں ڈپریشن میں چلا جاتا ہوں اور اب کچھ دن سے ہارٹ میں بھی درد ہونا سٹارٹ ہو گئی ہے مجھ سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہو رہا ابھی عید کے دنوں میں میں ناردن ایریے میں چھ سے سات دن گزار کے ائے ہوں کہ میرا مائنڈ فریش ہو جاؤ لیکن نہیں ہو پا رہا میں ایسا کچھ کیا کروں کہ میں بھول جاؤں گا

10/06/2026

میں 21 سال کی لڑکی ہوں اور میری شادی آنے والے دسمبر میں ہے۔ یہ مکمل طور پر ارینج میرج ہے۔
مجھے شک ہے کہ میرا منگیتر کہیں لالچی (Greedy) تو نہیں۔ اگرچہ اس نے ایسا کوئی واضح رویہ نہیں دکھایا، لیکن بعض اوقات اس کی باتوں سے تھوڑا سا اندازہ ہوتا ہے۔ اس نے شروع میں جہیز لینے سے منع کر دیا تھا، لیکن میرے والد نے کہا کہ ہم اپنی خوشی سے دیں گے۔ اب وہ کہتا ہے کہ جہیز کی چیزیں لینے میں بھی میرے ساتھ چلے گا تاکہ مل کر پسند کر لیں۔
میرے خیال میں ایک مرد میں اتنی خودداری تو ہونی چاہیے کہ اگر کوئی جہیز دے بھی رہا ہو تو کم از کم ایسی بات نہ کرے کہ وہ خود بھی چیزیں پسند کرے گا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا اسے یہ بات عجیب نہیں لگتی؟
دوسری بات یہ ہے کہ شادی کے تمام اخراجات میرے والد صاحب اٹھا رہے ہیں، حتیٰ کہ برائیڈل ڈریس، ولیمے کی ڈریس، لوکیشن اور تقریباً ہر چیز کا خرچ بھی وہی کر رہے ہیں۔
مجھے ڈر ہے کہ کہیں میری شادی کسی لالچی شخص سے نہ ہو جائے اور بعد میں پوری زندگی پچھتانا پڑے۔ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے میں جان سکوں کہ سامنے والا واقعی لالچی ہے یا نہیں؟ کوئی ایسی ترکیب یا سوال جس سے باتوں باتوں میں اس کی سوچ کا اندازہ ہو جائے؟ میں صرف اپنے دل کی تسلی چاہتی ہوں۔
مجموعی طور پر وہ ایک اچھا انسان لگتا ہے، بس اسی معاملے میں مجھے تھوڑا سا شک اور پریشانی ہے۔

10/06/2026

میں 33 سالہ خاتون ہوں۔ میرے گھر والوں نے میری ابتدائی بیس سال کی عمر میں میرے رشتے کے معاملے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ خیر، 30 سال کی عمر کے بعد اب تک کافی رشتے دیکھے جا چکے ہیں لیکن کہیں بات نہیں بن پاتی۔

حال ہی میں ایک رشتے کی بات چلی اور کافی آگے تک بڑھ گئی، لیکن حق مہر طے نہیں ہوا تھا اور نہ ہی لڑکے کی طرف سے یہ بات واضح کی گئی تھی کہ وہ کتنا حق مہر مقرر کرے گا۔ رمضان میں عید سے پہلے اچانک اس لڑکے نے رشتہ پکا کرنے کی نیت سے اپنی رشتہ دار خواتین کو ہمارے گھر بھیج دیا۔ ساتھ میں مٹھائی، عیدی اور سوٹ وغیرہ بھی بھجوائے، لیکن وہ خود نہیں آیا تاکہ اہم معاملات طے کرتا۔ اگرچہ اس کے والدین حیات نہیں ہیں، لیکن اصولاً اسے خود آ کر بات کرنی چاہیے تھی۔

جب اس کے رشتہ دار آئے تو میری فیملی نے 20 تولہ سونا اور ماہانہ اخراجات کے حوالے سے تقریباً 25 ہزار روپے کی بات کی۔ یہ سن کر لڑکے نے فوراً رشتہ ختم کر دیا اور پیغام بھیج دیا کہ وہ یہ رشتہ مزید جاری نہیں رکھنا چاہتا۔

میرا سوال یہ ہے کہ آخر لوگ بات کو اتنا آگے کیوں لے جاتے ہیں کہ لڑکی جذباتی طور پر متاثر ہو جائے؟ لڑکوں کی عمر کو تو عموماً مسئلہ نہیں سمجھا جاتا، لیکن نقصان اکثر لڑکی کا ہی ہوتا ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

لڑکا پولیس میں ASI کی ملازمت کرتا ہے۔ اس کے مطابق وہ رشوت یا کرپشن نہیں کرتا، اس لیے اس کی آمدنی تقریباً 60 ہزار روپے ہے اور وہ ان مطالبات کو پورا نہیں کر سکتا تھا۔ اگر ایسی صورتحال تھی تو پھر رشتے کو اتنا آگے کیوں بڑھایا گیا؟

10/06/2026

السلام علیکم،

میں 30 سالہ مرد ہوں اور ایک کارپوریٹ ادارے میں ملازمت کرتا ہوں۔

مجھے اپنی باس بہت پسند ہیں، لیکن ہمت نہیں ہو رہی کہ انہیں کیسے بتاؤں کہ میں انہیں بہت زیادہ پسند کرتا ہوں، کیونکہ وہ ہمیشہ کافی سخت مزاج اور روکھے انداز کی ہوتی ہیں۔
ان کی عمر تقریباً 33 سال ہے، لیکن اب مجھے انہیں "میڈم" کہنا عادت بن چکا ہے اور سچ کہوں تو مجھے یہ اچھا بھی لگتا ہے۔ میں ان کے تقریباً تمام کام کرتا ہوں۔ دفتر کے کاموں کے علاوہ بھی وہ اکثر مجھ سے مختلف کام کرواتی ہیں، اور میں خوشی سے کر دیتا ہوں۔ کبھی کبھی تو میں ان کا ڈرائیور بھی بن جاتا ہوں اور مجھے ان کے لیے یہ سب کرنا اچھا لگتا ہے۔

میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟ مجھے یہ سب اتنا پسند کیوں آتا ہے؟ اور میں اپنی کیفیت اور جذبات ان تک کس طرح پہنچا سکتا ہوں؟

10/06/2026

السلام علیکم،

میں 31 سالہ مرد ہوں اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہوں۔
مجھے یہاں موجود شادی شدہ افراد سے مخلصانہ مشورے کی ضرورت ہے۔

میری اور میری اہلیہ کی شادی گزشتہ سال دسمبر میں ہوئی تھی۔ یہ محبت کی شادی تھی۔ لیکن میں سچائی سے اعتراف کرتا ہوں کہ شادی سے پہلے میری دیگر لڑکیوں سے بھی بات چیت رہتی تھی۔

شادی کے ابتدائی دنوں میں میں اپنے موبائل پر پاس ورڈ لگاتا تھا تاکہ میری بیوی کچھ چیزیں نہ دیکھ سکے۔ میں نے اسے یہ بھی بتایا تھا کہ مجھے گوگل ڈرائیو سے کچھ پرانا مواد حذف کرنا ہے۔ اس نے کہا کہ جو بھی پرانی چیزیں ہیں، انہیں ڈیلیٹ کر دیں۔ چنانچہ میں نے پاس ورڈ ہٹا دیے اور فون بھی اسے دے دیا۔ لیکن اسے ڈیلیٹڈ فولڈر میں کچھ پرانی چیٹس اور اسکرین شاٹس مل گئے، جس سے وہ بہت زیادہ دکھی ہوئی۔ مجھے بھی اپنی اس غلطی پر شدید شرمندگی اور پچھتاوا ہوا۔

اس کا کہنا تھا کہ شادی سے پہلے میری توجہ مختلف جگہوں پر تھی اور شاید اسی وجہ سے میں اسے وقت نہیں دیتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرا ان چیزوں کو اپنی ازدواجی زندگی میں لانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ شاید اس وقت مجھ میں اللہ کا خوف کم تھا اور میں غلط راستوں پر چل پڑا تھا۔ میں نے ہر ممکن طریقے سے اس سے معافی مانگی اور اس نے کہا کہ وہ مجھے معاف کرتی ہے۔

لیکن بعد میں ہماری شادی کے دوران اس نے ایک دوسرے شخص کے ساتھ تعلق رکھا۔ جب میں نے اس سے اس بارے میں بات کی تو اس نے کہا کہ اس نے یہ سب بدلہ لینے کے لیے کیا۔ معاملات بہت خراب ہو گئے اور ایک موقع پر میں نے غصے میں آ کر اسے تھپڑ بھی مار دیا، جس پر مجھے آج بھی افسوس ہے۔ تاہم میں نے کبھی اسے گھر چھوڑنے یا رشتہ ختم کرنے کے لیے نہیں کہا۔ کچھ دنوں بعد حالات وقتی طور پر معمول پر آ گئے۔

مگر اس سب کے بعد ہماری زندگی واقعی معمول پر نہ آ سکی۔ ہمارے درمیان ایک عجیب سا فاصلہ پیدا ہو گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ مجھ سے جذباتی طور پر الگ ہو چکی ہے۔

یہ مسائل چلتے رہے اور اب اس نے خلع لے لی ہے۔ میں شدید ذہنی اذیت میں ہوں۔ وہ میری کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ میں اس سے محبت کرتا ہوں، ہمیشہ کرتا آیا ہوں، اور اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

میں خود کو بدل رہا ہوں، اللہ کے قریب ہو گیا ہوں، اپنی تمام بری عادتیں چھوڑ دی ہیں، لیکن وہ کہتی ہے کہ اسے مجھ پر اعتماد نہیں رہا اور وہ میرے ساتھ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک مرد ایسی جدائی اور صدمے کے بعد بدل سکتا ہے؟ کیا کسی نے ایسی صورتحال کا سامنا کیا ہے اور بعد میں صلح ہو گئی ہو اور زندگی دوبارہ بہتر ہو گئی ہو؟

براہِ کرم میری رہنمائی کریں۔ میں ہر بری عادت چھوڑ سکتا ہوں، لیکن اپنی بیوی کو نہیں بھلا سکتا۔ میں اس سے بے حد محبت کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں نے اس کا دل دکھایا ہے اور میں صرف اس کی معافی چاہتا ہوں۔ کاش مجھے ایک اور موقع مل جائے۔

اگر کسی کے پاس کوئی وظیفہ ہو یا کسی اچھے میرج کونسلر کے بارے میں معلومات ہوں تو براہِ کرم آگاہ کریں۔ یہ میرے لیے بہت مددگار ہوگا۔میں اپنی غلطیوں کا اعتراف پوری دنیا کے سامنے کر سکتا ہوں، اس کے لیے دنیا کے سامنے جھک سکتا ہوں، لیکن اس کے بغیر زندگی گزارنا میرے لیے انتہائی مشکل ہے۔

10/06/2026

السلام علیکم،
میں 28 سالہ خاتون ہوں اور میرا ایک 4 سال کا بیٹا ہے۔ میرے شوہر بیرونِ ملک رہتے ہیں اور انہوں نے وہاں دوسری شادی کر رکھی ہے۔ جب سے انہوں نے دوسری شادی کی ہے، ہم سے بہت کم رابطہ رکھتے ہیں۔ خرچہ وقت پر بھیج دیتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شروع سے ہی ہمارا رشتہ اچھا نہیں تھا۔ میرے شوہر نہ سمجھنے والے ہیں اور نہ ہی معاونت کرتے ہیں۔
میں اپنے سسرال والوں کے ساتھ رہتی ہوں، لیکن ان کا رویہ میرے ساتھ بالکل اچھا نہیں ہے۔ وہ مجھے گھر کا فرد نہیں سمجھتے بلکہ ایک نوکرانی کی طرح رکھتے ہیں۔ جب بھی میں اپنے کمرے میں جا کر تھوڑا سا ذاتی وقت گزارنا چاہتی ہوں تو میری ساس آوازیں دے کر فوراً بلا لیتی ہیں۔ میرے شوہر کی طرف سے بھی مجھے کسی قسم کی جذباتی سپورٹ حاصل نہیں ہے۔
ابھی کل بچوں کی وجہ سے ایک معاملہ ہوا تو میرے سسر نے کہا: "اپنا سارا سامان لے کر میرے گھر سے نکل جاؤ۔" انہوں نے میرے شوہر کو بھی فون کر کے کہا کہ "میں اسے گھر میں نہیں رکھنا چاہتا، اسے نکالو۔" میرے شوہر نے میری بات سننے کی بجائے مجھے گالیاں دیں اور کہا: "میرے گھر سے نکل جاؤ۔" لیکن میں نہیں نکلی۔ میں نے کہا کہ اگر نکالنا ہے تو کسی قانونی طریقے سے نکالو۔
پھر وہ کہنے لگے: "چلی جاؤ، بچہ بھی ساتھ لے جاؤ، عدالت جو خرچہ مقرر کرے گی میں دے دوں گا۔"
براہِ کرم مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟ میرے بھائی کہتے ہیں کہ خود گھر سے نہ نکلو، اگر وہ طلاق دینا چاہتا ہے تو پہلے خود دے، پھر فیصلہ کرنا۔ میں بہت تھک چکی ہوں، مجھے شدید بے چینی اور ڈپریشن رہتا ہے۔
مہربانی کر کے مخلصانہ مشورہ دیں کہ مجھے اب کیا کرنا

10/06/2026

السلام علیکم،

میری شادی دو ماہ پہلے اپنے کزن سے ہوئی ہے۔ وہ پہلے کسی اور جگہ رہتے تھے، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر ہماری شادی ہو گئی۔ میرے کزن اس شادی کے لیے راضی بھی تھے۔ شروع کے چند دن سب کچھ ٹھیک رہا، ان کا رویہ، مزاج اور بات چیت سب نارمل تھی، لیکن پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔ وہ بالکل ہی مختلف انسان بن گئے۔

نہ وہ مجھ سے بات کرتے ہیں، نہ میرے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ جب میں کمرے میں آتی ہوں تو وہ کمرے سے باہر چلے جاتے ہیں۔ میرے میسجز کا جواب نہیں دیتے اور نہ ہی میری کالز اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً ہر چیز سے خود کو مجھ سے الگ کر لیا ہے۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بس علیحدگی اختیار کر لوں، لیکن پھر سوچتی ہوں کہ شاید وقت کے ساتھ حالات بہتر ہو جائیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، یعنی سسرال والوں کی طرف سے مجھے کوئی شکایت نہیں۔ لیکن اب میری برداشت جواب دیتی جا رہی ہے۔

میں پہلے بہت خوش مزاج اور زندگی سے بھرپور لڑکی تھی، مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اندر ہی اندر ختم ہوتی جا رہی ہوں۔ لگتا ہے جیسے میرے لیے سارے راستے اور دروازے بند ہو گئے ہوں۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس صورتحال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا کسی نے ایسی صورتحال کا سامنا کیا ہے؟ کیا وقت کے ساتھ ایسے رویے بہتر ہو جاتے ہیں یا مجھے سنجیدگی سے کوئی فیصلہ کرنا چاہیے؟ میں اپنے شوہر سے اس بارے میں کیسے بات کروں اور معاملہ کیسے ہینڈل کروں؟ آپ سب کے مخلصانہ مشوروں کی ضرورت ہے۔

10/06/2026

کیا واقعی اس دنیا میں سچے اور باکردار مرد اب بھی موجود ہیں؟

میں ایک طلاق یافتہ عورت ہوں اور میرے ساتھ ایک بچہ بھی ہے۔ میری طلاق کے بعد ایک شخص میری زندگی میں آیا۔ کسی بھی تعلق کے آغاز سے پہلے میں نے اسے اپنے ماضی کے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا۔ میں نے کچھ نہیں چھپایا۔ اس نے مجھے، میرے بچے کو اور میرے ماضی کو قبول کیا۔ دو سال تک اس نے مجھ سے محبت کی، میرا ساتھ دیا، شادی کی باتیں کیں، اور مجھ سے ملنے کے لیے دوسرے ملک سے بھی آیا۔

اس پر اعتماد کرنے سے پہلے میں نے اسے واضح طور پر بتایا تھا کہ میں ایک بار پہلے ہی ٹوٹ چکی ہوں اور دوسری بار کسی ٹوٹے ہوئے وعدے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ میں نے اس سے کہا تھا کہ اگر وہ جانتا ہے کہ اس کا خاندان مجھے کبھی قبول نہیں کرے گا تو وہ اس رشتے کی شروعات نہ کرے۔ اس نے مجھے یقین دلایا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

لیکن جب ہمارے تعلق کو نکاح کے ذریعے حلال بنانے کا وقت آیا تو اچانک خاندان ایک مسئلہ بن گیا۔ اس کے والد نے اس کی منگنی اس کی کزن سے طے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے باوجود وہ آج بھی کہتا ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، روتا ہے، کہتا ہے کہ وہ مجھے بھلا نہیں سکتا اور اس کے جذبات سچے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ جب وہ میرا اعتماد جیت رہا تھا، وعدے کر رہا تھا، مجھے مستقبل کے خواب دکھا رہا تھا، تب خاندان کی یہ مجبوری کہاں تھی؟ کچھ لوگ ذمہ داری اٹھانے کے وقت ہی اپنے خاندان کو کیوں یاد کرتے ہیں؟

میں اپنے ماضی کی وجہ سے دوبارہ کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن اللہ کی خاطر میں نے یقین کیا کہ دنیا میں اب بھی مخلص لوگ موجود ہیں۔ میں نے یقین کیا کہ محبت، سچائی اور وفاداری ابھی بھی زندہ ہیں۔
سب سے زیادہ تکلیف مسترد کیے جانے کی نہیں ہوتی، بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ کسی کو امید دی جائے، وعدے کیے جائیں، ایک ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دکھائے جائیں، اور پھر یہ کہہ دیا جائے کہ حالات بدل گئے ہیں۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ لوگ کسی کی زندگی میں کیوں آتے ہیں، اس کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، اسے دوبارہ محبت پر یقین دلاتے ہیں، اور پھر اسے پہلے سے بھی زیادہ گہرے زخم دے کر چلے جاتے ہیں۔

میں یہ سب ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نہیں لکھ رہی۔ میں یہ اس لیے لکھ رہی ہوں کیونکہ میرا دل ایک سوال پوچھتے پوچھتے تھک چکا ہے:

اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہ سکیں گے، تو پھر کسی کو ان وعدوں پر یقین دلانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
اور اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ اب بھی اس صفحے پر موجود ہیں، تو یہ میری آپ سے آخری درخواست ہے۔

براہِ کرم معاشرے یا لوگوں کی توقعات کی خاطر اپنی زندگی، میری زندگی اور ایک دوسری لڑکی کی زندگی برباد نہ کریں۔ ایسا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے جو تین زندگیاں متاثر کرے گا، خود سے ایمانداری کے ساتھ یہ سوال ضرور کریں: کیا آپ یہ فیصلہ اپنی حقیقی خواہش کی وجہ سے کر رہے ہیں، یا صرف اس لیے کہ دوسرے لوگ آپ سے یہی توقع رکھتے ہیں؟

دل کی گہرائیوں میں میں جانتی ہوں کہ آپ میرے لیے کیا محسوس کرتے ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کے آنسو، وعدے اور جذبات حقیقی تھے۔ شاید اسی لیے یہ صورتحال اتنی زیادہ تکلیف دہ ہے۔
زندگی آپ نے گزارنی ہے۔ معاشرہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہتا رہے گا، لیکن وہ آپ کے فیصلوں کے نتائج کے ساتھ نہیں جیے گا۔ آپ کو جینا ہوگا۔

میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ اپنے والدین کی نافرمانی کریں۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ اچھی طرح سوچیں، اپنے آپ سے سچے رہیں، اور اس بات پر غور کریں کہ اللہ نے کیا جائز قرار دیا ہے اور آپ کا دل حقیقت میں کیا چاہتا ہے۔ شادی پوری زندگی کا عہد ہوتی ہے اور اس میں شامل ہر شخص سچائی کا حق دار ہے۔

میں نے آپ سے خلوص کے ساتھ محبت کی، خلوص کے ساتھ آپ پر اعتماد کیا، اور خلوص کے ساتھ ہمارے لیے دعائیں کیں۔ میں نے کبھی آپ سے کچھ نہیں مانگا، سوائے سچائی، وفاداری اور ایک حلال مستقبل کے۔

10/06/2026

السلام علیکم سب کو۔

میں ایک مرد ہوں، عمر تقریباً اواخر 20 سال ہے، اور میری منگنی/نکاح ایک ایسی لڑکی سے ہوا ہے جس کی عمر ابتدائی 20 سال میں ہے۔ میں بیرونِ ملک رہتا ہوں جبکہ وہ اس وقت اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہے۔ ابھی ہماری رخصتی نہیں ہوئی، لیکن ہم کچھ وقت ایک ساتھ گزار چکے ہیں، اور وہ وقت بہت خوبصورت تھا۔ نہ کوئی مسئلہ تھا اور نہ ہی کوئی لڑائی۔

وہ میرے گھر والوں کے لیے ایک بہترین بہو ہے اور میں بھی اس کے گھر والوں کے لیے ایک بہترین داماد ہوں۔ لیکن نہ میں اس کی نظر میں ایک اچھا شوہر بن پایا ہوں اور نہ وہ میرے لیے ایک اچھی بیوی بن سکی ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی لڑنا نہیں چاہتا، لیکن اس کے باوجود ہمارے اختلافات ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔

ہم دونوں ایک دوسرے کو خوش رکھنے کی بہت کوشش کرتے ہیں، مگر پھر بھی کسی نہ کسی بات پر بلاوجہ بحث یا لڑائی ہو جاتی ہے۔ میں خود بھی بہت سی غلطیاں کر جاتا ہوں۔ جن باتوں کو شاید نظر انداز کر دینا چاہیے، میں انہیں صاف کرنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ دل میں کوئی بات نہ رہے اور کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ دوسری طرف وہ بھی کبھی کبھار ایسی باتیں کر جاتی ہے جو مجھے بری لگتی ہیں، تو میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں اور ساتھ یہ بھی پوچھتا ہوں کہ اگر میری کسی بات سے اسے مسئلہ ہے تو وہ مجھے بتائے تاکہ میں خود کو بہتر کر سکوں۔

لیکن اسی بات پر اکثر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ میں اس پر تنقید یا حملہ کر رہا ہوں، جبکہ میری نیت صرف مسئلہ حل کرنے کی ہوتی ہے۔ وہ یہ بات قبول نہیں کر پاتی کہ غلطی دونوں طرف سے ہو سکتی ہے۔ میری کوشش ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ دل میں کوئی بات نہ آئے کیونکہ یہی باتیں بعد میں دلوں میں دوریاں پیدا کرتی ہیں۔ مگر وہ میری اس سوچ کو سمجھ نہیں پا رہی اور نتیجتاً لڑائی ہو جاتی ہے۔

میں محبت کے اظہار میں بہت زیادہ جذباتی اور ایکسپریسیو ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی اپنے جذبات کا اظہار کرے۔ اگرچہ وہ کوشش کرتی ہے اور اپنی طرف سے محنت بھی کرتی ہے، لیکن یہ چیز اس کی فطرت میں اتنی زیادہ نہیں ہے۔

اب ہمارے تعلقات کافی حد تک سرد ہو چکے ہیں اور دل میں بہت سی باتیں جمع ہو گئی ہیں۔ ہم دونوں کا ایک دوسرے سے یہی شکوہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو صحیح طرح سمجھ نہیں سکے۔

میں ہر قیمت پر سب کچھ پہلے جیسا کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے کھل کر بات کرے، اپنی باتیں بتائے، میری بات سنے اور ہم مل کر تمام مسائل حل کر لیں۔ لیکن اس وقت وہ صرف رسمی سی بات کرتی ہے، حال چال پوچھ لیتی ہے اور بس۔

آپ لوگوں کے خیال میں مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟ میں کس طرح اس رشتے کو دوبارہ پہلے جیسا بنا سکتا ہوں اور اپنی بیوی کو یہ احساس دلا سکتا ہوں کہ میرا مقصد لڑائی نہیں بلکہ تعلق کو بہتر بنانا ہے؟

10/06/2026

میں 29 سال کا ہوں اور شادی شدہ ہوں۔ ایک اور بھائی میرے ساتھ رہتا ہے وہ بھی شادی شدہ ہے۔ زندگی ایک ایسے موڑ پر آ گئی ہے کہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
میرے والدین کی 13 سال پہلے طلاق ہوئی تھی، اس کے بعد والد الگ ہو گئے تھے اور ہم اپنی والدہ کے ساتھ رہے اور آج تک اپنی والدہ ہی کے ساتھ ہیں۔ والد اس دوران ملتے رہتے تھے، ہماری شادیوں کے فیصلے بھی انہوں نے کیے لیکن مالی حالات میں کہیں بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا، وہ سب ہماری والدہ نے ہی کیا۔
آج میں اس صورتحال پر آ گیا ہوں کہ والد گھر پر آ کر رہتے ہیں کیونکہ ان کی طبعیت صحیح نہیں رہتی؛ کبھی گردے کا درد تو کبھی گھٹنوں کا درد۔ یہ سب میری والدہ سے برداشت نہیں ہوتا جس کی وجہ سے گھر کا ماحول بہت خراب ہو گیا ہے۔ میری والدہ کہتی ہیں کہ بس یہ یہاں نہ آئیں، جہاں کہیں بھی رہیں ۔ میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ چھوٹا بھائی الگ ہو جائے اور وہ پاپا کو رکھ لے اور میں الگ ہو کر والدہ کو رکھ لوں، تو اس پر بھی والدہ راضی نہیں ہوتیں اور کہتی ہیں کہ جب میں مر جاؤں تو یہ فیصلہ کر لینا لیکن میری اولاد الگ نہیں ہوگی۔ وہ کہتی ہیں کہ "تم لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا انہوں نے، تو اب کیوں جان دے رہے ہو؟"

ان سب معاملات کی وجہ سے میں بہت زیادہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں رہنے لگا ہوں، سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں اور کیا فیصلہ کروں۔ اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ کسی اولاد کو یہ ماں باپ کا دکھ نہ دیکھنا پڑے کیونکہ یہ سب ہم 13 سال سے برداشت کر رہے ہیں جو کہ بہت ہی مشکل ہے۔

Address

Deira
Dubai
25314

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aleeza Talk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share