18/11/2023
اچھرہ کے ذیلدار روڈ پر پرانے مکان میں کھڑی 1942 کی مرسیڈیز رینالٹ اور اس کے برابر دو قبریں کس کی ہیں؟ علامہ مشرقی نوبل پرائز کے لئے نامزد ایک جینئیس جس کو ہماری قوم اور تاریخ دانوں نے فراموش کردیا۔
ساتھ لاہور کے اچھرہ کی تنگ گلیوں سے گزر کر جب آپ ذیلدار روڈ پر پہنچیں گے تو ایک الگ تھلگ سیمنٹ کے پلاسٹر والا پرانا مکان نظر آئے گا ۔ زنگ آلود گیٹ کھول کر اندر جائیں تو اب بھی ایک لکڑے کے بوسیدہ شوکیس میں آپ کو 1942 کی رینالٹ بینز کا ڈھانچہ نظر آئے گا۔ اس زنگ آلود گلتی سڑتی کار کے بالکل ہی دو قبریں بھی ہیں۔ ایک علامہ عنایت اللہ مشرقی کی اور دوسری ان کی شریک حیات کی۔ یہ کار ایڈولف ہٹلر نے علامہ صاحب کو بطور تحفہ پیش کی تھی۔ ب1942 ماڈل کی رینالٹ بینز کے بارے میں بتاتا چلوں کہ جب نازی فوجوں نے فرانس پر قبضہ کیا تھا تو انہوں نے بہت محدود تعداد میں مرسیڈیز بینز کا اسپیشل ایڈیشن تیار کیا تھا۔ کیونکہ اس کو رینالٹ کی فیکٹری میں تیار کیا گیا تھا اس لئے اس کو رینالٹ بینز کا نام دیا گیا ۔ اس لہز سے اس کار کی تاریخی اہمیت اور قدرو قیمت کا اندازہ لگا لیجئے جس کا ہماری کسی حکومت نے قدر نہیں کی اور نہ اس نایاب ورثے کی حفاظت کا کوئ انتظام کیا گیا ۔ تصاویر میں آپ نئی رینالٹ اور اس کی موجودہ حالت زار دیکھ سکتے ہیں۔ علامہ مشرقی ایک ایسا جینئس تھا کہ جس کے نام اور کام کو ہماری درسی کتب میں ہونا چاہئے لیکن ہمارے اصل ہیروز کو کوئ نہیں جانتا کہ سچ مچ بھینس کو بھلا بین کی کیا سمجھ۔
خود ہٹلر کے پاس چھ رینالٹ بینز موجود تھیں جبکہ اس نے جنرل
رومیل سمیت ڈیڑھ سو افراد کو یہ کاریں بطور تحفہ پیش کی خود ہٹلر کے پاس چھ رینالٹ بینز موجود تھیں جبکہ اس نے جنرل رومیل سمیت ڈیڑھ سو افراد کو یہ کاریں بطور تحفہ پیش کی تھیں جن میں سے ایک علامہ مشرقی بھی تھے ۔ علامہ کی سائنسی سوجھ بوجھ اور ماہر ریاضیات کی حیثیت سے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ کار
پیش کی گئی۔ ان کو انڈیا کے بہترین دماغ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ 1970 میں بینز کمپنی نے علامہ کی فیملی کو اس کار کے بدلے پانچ لاکھ
ڈالر کی پیشکش کی تھی جو علامہ صاحب کی فیملی نے رد کردی۔
جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کار علامہ مشرقی نے خود خریدی تھی۔ لیکن یہ بات اس لئے سمجھ نہیں آتی کہ علامہ انتہائ سادہ اور جفا کش زندگی گزارنے کے عادی تھے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے لئے اتنی قیمتی گاڑی خود خریدتے ؟ ان کی ھٹلر سے باقاعدہ ملاقات بھی ہوئ جس کا ہٹلر نے بھی ذکر کیا ہے ۔ اب نئی نسل کو اس بیش قیمت ورثہ کے باعے میں کچھ خبر نہیں کہ یہ کیا حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ کار آج بھی اپنی اور اپنے مالک کی بے توقیری پر نوحہ کناں ہے ۔ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کا فرض بنتا ہے کہ اس کار کو قومی و تاریخی ورثہ قرار دے کر اس کی مرمت و رنگ و روغن کروا کر اس کو کسی میوزیم میں محفوظ کیا جائے ورنہ کچھ عرصہ بعد یہ صرف ایک کاٹھ کباڑ کا ڈھیر رہ جائے گی۔ صحافی حضرات اس کی طرف توجہ دیں اور حکومت کی توجہ اس کی جانب مبذول کروائیں۔
اسی لاہور میں وہ عظیم المرتبت شخص علامہ مشرقی رہتا تھا جسکے بارے میں آئن سٹائن نے کہا کہ یہ ایک جینئس ہے ...کہا جاتا ہے کہ علامہ مشرقی نے حساب کا ایک سوال جو آئن سٹائن کو بھی پریشان کرتا تھا۔
ایک ڈبیہ پر حل کر دیا تھا ... اڈولف ہٹلر بھی اس کی شخصیت اتنا متاثر ہواکہ اسے ذاتی طور پر ایک سیاہ ڈیملر لموزین تحفے میں دی اور یہ کار ابھی تک اچھرے میں ایک چھت سے معلق ہے ... علامہ مشرقى كى جدوجہد آزادی کی کہانی ہمارے کسی نصاب میں شامل نہیں... تین سو تیره خاکسار... جنگ بدرکی یادگار... جب لاہور کے اندربٹی گلی میں پورے انگریز سامراج سے ٹکرائے تھے اس کا ہمارے نصابوں میں کتابوں میں کوئی تذکرہ نہیں' صرف تحریک گور کنان کے قصے ہیں' ہماری آج كي نسل نہ بھگت سنگھ کی قربانیوں سے واقف ہے اور نہ ہی علامہ مشرقی کی جرأت اور ولولے اور جینئس آگاہ ہے ... اس لئے کہ ... جو کچھ بھی ظہور پذیر ہو جائے اس کا ریکارڈ آئندہ نسلوں تک منتقل نہ کیاجائے تو گویا کچھ بھی ظہور پذیر نہ ہوا تھا۔ فورڈ کے کہنے کے مطابق تاریخ واقعی ایک بینک ہے ۔ سے
عالم اسلام کے فرزند.... جنہوں نے دنیا کی قوموں کو اجتماعی موت و حیات کے متعلق پیغام اخیر اور تسخیر کائنات کا پروگرام اپنی شہرہ آفاق کتاب "تذکره" (1924) کے ذریعے دیاتو دنیا بھر کے
عالم دنگ رہ گئے ۔ جس پر 1925ء میں مشروط طور پر ادب کا "
نوبل پرائز پیش ہوا کہ اردو ہماری تسلیم شدہ زبان نہیں، کسی یورپی زبان میں اس کا ترجمہ کیا جائے مگر شہرت و دولت سے بے نیاز مصنف نے لینے سے انکار کر دیا۔
بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ برسوں پہلے 1924ءمیں علامہ عنایت اللہ مشرقی صاحب کو 36 سال کی عمر میں اپنی کتاب تذکره " پر نوبل پرائز کے لئے نامزد کیا گیا تھا – لیکن نوبل
کمیٹی نے شرط یہ رکھی تھی کہ علامہ صاحب اس کتاب کا کسی یورپی زبان میں ترجمہ کروائیں ۔ مگر علامہ مشرقی نے اس شرط کو قبول نہیں کی۔