13/12/2023
آئیےتاریخ کا صرف ایک ورق پڑھتے ہیں۔
بادشاہ کا اعلان ہوا "جس نے آج کے بعد قران کو الله کا کلام کہا یا لکھا گردن اڑا دی جائے گی"
بڑے بڑے محدثین علماء شہید کر دیئے گئے
تو ساٹھ سال کے بوڑھے امام احمد بن حنبل امت کی رہنمائی کو بڑھے۔
فرمایا "جاؤ جا کر بتاؤ حاکم کو احمد کہتا ہے
قرآن مخلوق نہیں....الله کا کلام ہے"
فوری دربار میں پیشی ہوئی بہت ڈرایا گیا امام احمد بن حنبل کا استقلال نہ ٹوٹا
جب مامون الرشید مر گیا تو اسکا بھائی معتصم حاکم بنا،
امام کو ساٹھ کوڑوں کی سزا سنا دی گئی
دن مقرر ہوا امام کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا ﮔﯿﺎ بغداد میں سر ہی سر تھے
ایک شخص شور مچاتا صفیں چیرتا پاس آﯾﺎ " احمد احمد !مجھے جانتے ہو ؟
فرمایا۔۔۔۔ نہیں
میں ابو الحیثم ہوں بغداد کا سب سے بڑا چور
احمد
میں نے آج تک انکے بارہ سو کوڑے کھائے ہیں لیکن یہ مجھ سے چوریاں نہیں چھڑا سکے کہیں
تم ان کے کوڑوں کے ڈر سے حق مت چھوڑ دیناامام میں نے اگر چوریاں چھوڑیں تو صرف میرے بچے بھوک سے تڑپیں گے
لیکن اگر تم نے حق چھپایا تو امت برباد ہو جائے گی
امام غش کھا کہ گر پڑے ہوش آیا تو دربار میں تھے
حبشی کوڑے برسا رہا تھا تیس کوڑے ہوئے
معتصم نے کہا امام کہیئے؟
آپ نے فرمایا میں مر سکتا ہوں لیکن
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں رتی برابر تبدیلی برداشت نہیں کر سکتا
۔پھر سے کوڑے برسنے لگے
ایک وزیر کوترس آیا : کہنے لگا
" امام ایک مرتبہ میرے کان میں چپکے سے کہہ دیجئے قرآن اللہ کا کلام نہیں مخلوق ہے میں بادشاہ سے سفارش کرونگا "
امام نے فرمایا
" تو میرے کان میں کہہ دے قرآن مخلوق نہیں الله کا کلام ہے قیامت میں رب سے میں تیری سفارش کرونگا " ۲۸ ماہ کے قریب قید و بند اور کوڑوں کی سختیاں جھیلیں۔
آخر تنگ آکر حکومت نے آپ کو رہا کردیا۔
اس آزمائش کے بعد اکیس سال تک زندہ رہے
یہ بس ایک واقعہ ہے ایک ورق تھا
ہماری تاریخ بھری پڑی ہے ایسے لوگوں سے جنہوں نے سر کٹوانا بہتر سمجھا بجائے اس کے کے کہ باطل کے سامنے سرنگوں ہو جائیں۔۔
اپنے بچوں کو بیہودہ ڈیلی سوپ اور کارٹون نہیں ایسے واقعات سنایا کریں تاکہ انہیں یاد رہے انکے اجداد بہت عظیم تھے ۔