01/08/2026
کس کس کے لیے آواز اٹھائیں؟
کراچی کے لیے؟
کوئٹہ کے لیے؟
کشمیر کے لیے؟
بلوچستان کے لیے؟
خیبرپختونخوا کے لیے؟
یا پھر۔
پاکستان کے لیے؟
آواز آپ اٹھانے نہیں دیتے۔
قلم آپ اٹھانے نہیں دیتے۔
ہـتـھیـــار بھی آپ اٹھانے نہیں دیتے۔
آپ چاہتے کیا ہیں؟
صرف قوم کو غلام بنائے رکھنا؟
جو آپ کی خاطر بس پستی جائے؟
ٹیکس کے نام پہ بھتہ دے کر آپ کو پالتی جائے؟
اپنے بچے آپ کی خوشنودی کے لیے بلی چڑھاتی جائے؟
جن کی غربت اور کسمپرسی دکھا کر آپ بھیک مانگ سکیں اور پھر اس بھیک پہ اپنی تجوریاں بھر سکیں، خود کو اور اپنی آل اولاد کو پال سکیں؟
اسلام کے نام پہ بنے اس ملک کو جہنم بنا دیا ہے۔
نہ یہاں رہنے لائق چھوڑا ہے
نہ یہاں سے نکلنے لائق۔
کیا یہ ملک صرف چند مخصوص قومیت کے لوگوں کا ہے؟ یا پھر کسی مخصوص شعبے سے تعلق رکھنے والوں کا؟
نہ یہاں بچے محفوظ ہیں، نہ نوجوان، نہ مایئں، نہ بہنیں، نہ بیٹیاں۔
اس ملک کے مکینوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئے ہیں ارباب اختیار۔
اس ملک کو سنبھالنے میں بھی بری طرح ناکام ہوچکے ہیں آپ سب۔
اس ملک کے ٹکڑے کر چکے ہیں آپ لوگ۔
ریاست کے نام پر
قومیت کے نام پر
مذہب کے نام پر
عقیدے کے نام پر
سیاست کے نام پر
جمہوریت کے نام پر
لوٹ کر کھا چکے ہیں آپ۔
برباد کر چکے ہیں۔
تباہ کر چکے ہیں۔
بخش دیں اب ہم سب کو۔
چھوڑ دیں ہمیں ہمارے حال پہ۔
ہمیں کوئی ولی نہیں چاہیے۔
ہمیں کوئی خلیفہ نہیں چاہیے۔
ہمیں کوئی نجات دہندہ نہیں چاہیے۔
ہمیں کوئی بادشاہ، کوئی آقا، کوئی مسیحا نہیں چاہیے۔
ہم یتیم نہیں ہیں۔
اور اگر آپ نے ہمیں یتیم بنا ہی دیا ہے، تو یقین رکھیں.
ہم ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں گے۔
ہم ایک دوسرے کے کندھے بن جائیں گے۔
ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔
ایک دوسرے کے بچوں کو اپنا بچہ سمجھیں گے۔
ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ جانیں گے۔
کیونکہ اس قوم کے دل آج بھی ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہیں۔
ہم ایک دوسرے کا درد سمجھتے ہیں۔
ہماری رگوں میں ایک ہی مٹی کی محبت دوڑتی ہے۔
ہمیں تقسیم کرنے والے ہم نہیں۔
ہمیں تقسیم کرنے والے وہ سیاست دان، طاقت کے پجاری اور مفاد پرست ہیں جو اپنے اقتدار، اپنی کرسی اور اپنے فائدے کے لیے ہمیں کبھی قومیت، کبھی مذہب، کبھی زبان، کبھی مسلک اور کبھی صوبوں کے نام پر ٹکڑوں میں بانٹ دیتے ہیں۔
ہمیں آپ کی سرپرستی نہیں چاہیے۔
صرف انصاف چاہیے۔
امن چاہیے۔
اور اتنی آزادی چاہیے کہ ہم اپنے وطن کو خود سنبھال سکیں۔
بس، اب ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیجیے۔
ہم اس ملک کو آپ سے زیادہ محبت کرتے ہیں، اور شاید اسی لیے اسے آپ سے بہتر سنبھال بھی لیں۔
حنا ظفر بھٹی