موسم تھا بے قرار تمھیں سوچتے رہے
کل رات بار بار تمھیں سوچتے رہے
بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم
چپ چاپ سوگوار تمھیں سوچتے رہے
03/02/2026
بِچھڑا ہے جو اِک بار تو، مِلتے نہیں دیکھا _!
اِس زخم کو ہم نے کبھی، سِلتے نہیں دیکھا
اِک بار جسے چاٹ گئی ___ دُھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اُس پھول کو کِھلتے نہیں دیکھا _!
یک لخت گِرا ہے تو __ جڑیں تک نِکل آئیں _!
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا
کِس طرح مِری رُوح ___ ہری کر گیا آخر __!
وہ زہر جسے جسم میں __ کِھلتے نہیں دیکھا
پروین شاکر
27/01/2026
27/01/2026
موسم تھا بے قرار تمھیں سوچتے رہے
کل رات بار بار تمھیں سوچتے رہے
بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم
چپ چاپ سوگوار تمھیں سوچتے رہے
27/01/2026
خود کو ترتیب دیا آخرِ کار از سرِ نو
زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا
ظفر اقبال
Be the first to know and let us send you an email when Adab Khana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.