Daily Latest Stories For Prmotion & Queries Contact us on Email : [email protected]
(1)
31/07/2026
Media Now a Days 😂😂😂
31/07/2026
آئینہ
14/07/2026
پھوپھو کا غصہ اور دولہے کی انٹری: پاکستانی شادیوں کے 20 فنی لمحات
13/07/2026
چھوٹے میاں صاحب کے فنی مناظر 😂😂
14/06/2026
یہ 70، 80 اور 90 سال کے بابے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر چکے ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان چند خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جہاں کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جسے دنیا کا سب سے متحرک اور طاقتور ملک ہونا چاہیے تھا، لیکن المیہ دیکھیے کہ اس جوان ملک کے فیصلے کرنے والے، پالیسیاں بنانے والے اور مستقبل کا تعین کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کی اپنی عمریں 70، 80 اور 90 سال کو پہنچ چکی ہیں۔
یہ محض عمر کا فرق نہیں ہے، بلکہ یہ دو مختلف صدیوں کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طرف وہ بوڑھی اشرافیہ ہے جو 19ویں اور 20ویں صدی کے فرسودہ نظام میں جی رہی ہے، اور دوسری طرف وہ نوجوان نسل ہے جو 21ویں صدی کی ڈیجیٹل دوڑ میں دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ نتیجہ؟ ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو چکی ہیں اور نوجوانوں کا مستقبل اندھیرے میں ڈوب رہا ہے۔
1. معاشی قتلِ عام: غریب اور نوجوان تنخواہ دار طبقے پر سارا بوجھ
کسی بھی نوجوان کے لیے عملی زندگی کا آغاز ایک خواب کی طرح ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ آغاز ایک بھیانک خواب بن چکا ہے۔
اشرافیہ کے لیے مراعات، نوجوانوں پر ٹیکس: ملک کے بجٹ اٹھا کر دیکھ لیں۔ بڑے بڑے جاگیرداروں، رئیل اسٹیٹ مافیا اور مراعات یافتہ طبقے کو اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے، جبکہ ایک نوجوان جو اپنی پہلی نوکری شروع کرتا ہے، اس کی تنخواہ پر بھاری انکم ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔
مہنگائی کا طوفان: بجلی کے کمر توڑ بل، پٹرول کی قیمتیں اور روزمرہ کی اشیاء پر سیلز ٹیکس نے نوجوانوں سے شادی، اپنا گھر یا گاڑی لینے کا خواب تک چھین لیا ہے۔ وہ اپنے حق کے لیے لڑنے کے بجائے صرف "اگلے مہینے کا بل کیسے دینا ہے" کی فکر میں بوڑھا ہو رہا ہے۔
2. انٹرنیٹ پر پابندیاں اور ڈیجیٹل مستقبل کا جنازہ
آج کی دنیا میں معیشت کا دارومدار آئی ٹی (IT)، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل دنیا پر ہے۔ پاکستانی نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دنیا بھر میں فری لانسنگ میں چوتھا بڑا مقام حاصل کیا، لیکن بوڑھے حکمرانوں کی سوچ نے یہاں بھی کلہاڑی چلا دی۔
فائر والز اور انٹرنیٹ کی سست رفتاری: سیکورٹی اور کنٹرول کے نام پر انٹرنیٹ کو بار بار بند کرنا یا اس کی رفتار کو سست کر دینا، آئی ٹی سیکٹر کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔
روح کانپا دینے والی حقیقت: بین الاقوامی کلائنٹس پاکستانی ڈویلپرز اور فری لانسز کو کام دینا بند کر رہے ہیں کیونکہ یہاں انٹرنیٹ کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ وہ نوجوان جو لاکھوں ڈالر ملک میں لا سکتے تھے، اب چند ہزار روپے کی نوکری کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔ بوڑھی قیادت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ انٹرنیٹ بند کرنے سے صرف ٹویٹر یا فیس بک بند نہیں ہوتا، بلکہ نوجوانوں کا چولہا بند ہو جاتا ہے۔
3. برین ڈرین (Brain Drain): پاکستان کے بہترین دماغوں کا فرار
یہ اس آرٹیکل کا سب سے دردناک پہلو ہے جو کسی بھی محبِ وطن کی روح کو کانپا دینے کے لیے کافی ہے۔ جب ملک میں میرٹ کا جنازہ نکل جائے اور صرف سفارش یا خاندانی اثر و رسوخ ہی ترقی کا معیار بن جائے، تو نوجوانوں کے پاس ملک چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔
ریکارڈ ہجرت: پچھلے چند برسوں میں لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان—جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور سائنسدان شامل ہیں—پاکستان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ جو نوجوان ملک کا اثاثہ تھے، وہ اب دوسرے ممالک کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں۔ پاکستان میں صرف وہ لوگ رہ رہے ہیں جن کے پاس باہر جانے کے پیسے نہیں ہیں یا جو اس نظام کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں کا ہر دوسرا نوجوان ملک سے بھاگنا چاہتا ہو، اس کے مستقبل کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔
4. قرضوں کا پہاڑ: آنے والی نسلیں پیدائشی مقروض
ان 70، 80 اور 90 سال کے بابوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور عیاشیوں کے لیے دنیا بھر سے وہ قرضے لیے جن کا فائدہ عوام کو کبھی نہیں ملا۔
آج پاکستان کا بچہ بچہ لاکھوں روپے کا مقروض ہے۔ یہ قرضے ان بوڑھے سیاستدانوں نے نہیں اتارنے، بلکہ آج کے نوجوانوں اور ان کی آنے والی نسلوں نے ٹیکس کی صورت میں چکانے ہیں۔
ملکی بجٹ کا نصف سے زیادہ حصہ صرف قرضوں کی قسطیں دینے میں چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم اور صحت کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ جب تعلیم کے لیے فنڈز نہیں ہوں گے، تو یونیورسٹیوں کی فیسیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی، جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔
حاصلِ کلام: اب نہیں تو کب؟
یہ ستر، اسی اور نوے سال کے بوڑھے حکمران اپنی زندگی جی چکے ہیں۔ ان کے بچے، ان کے اثاثے اور ان کے بینک اکاؤنٹس باہر کے ملکوں میں محفوظ ہیں۔ ملک میں اگر کسی کا داؤ پر لگا ہے، تو وہ اس ملک کے نوجوان کا مستقبل ہے۔
اگر اب بھی نوجوان نسل نے اپنے حقوق کے لیے شعور حاصل نہ کیا، اگر اب بھی انہوں نے روٹی، کپڑا اور مکان کے لالی پاپ سے نکل کر حقیقی آئینی، معاشی اور ڈیجیٹل آزادی کی بات نہ کی، تو یہ بوڑھا نظام اس جوان ملک کو مکمل طور پر نگل جائے گا۔ یہ وقت مایوس ہو کر بیٹھنے کا نہیں، بلکہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور اس فرسودہ نظام کے خلاف متبادل قیادت سامنے لانے کا ہے۔
14/06/2026
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اشرافیہ کو ٹیکس فری کر دیا جائے اور غریب پر سارے ٹیکس لگاتے جاؤ؟
14/06/2026
بجٹ اجلاس کے دورن ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے
14/06/2026
پاکستان میں اس طرح کا ماحول بنایا گیا ہے کہ لوگ اپنے حق کے بجائے بس 2 وقت کی روٹی کا سوچیں۔"
14/06/2026
دنیا کا پہلا کرکٹر عثمان شینواری جو پاکستان کی جانب سے کھیلنے کے بعد عالم دین بن گیا پاکستان کے لیفٹ آرم فاسٹ بولر عثمان شینواری کا کہنا ہے کہ میں نے مولانا طارق جمیل کے مدرسے میں2017میں داخلا لیا تھا مجھے کرکٹ سے زیادہ عالم دین بننے کاشوق تھا میں نے آخری مرتبہ 2019میں پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے خلاف آخری مرتبہ کرکٹ کھیلی اور پھر میں نے اپنی پوری توجہ اپنے علم حاصل کرنے کی طرف کی کردی اللہ تعالیٰ نے میری خواہش پوری کرکے مجھے عالم بنایا ہے مجھے بہت آفر آئی پی ایس ایل سے بنگلہ دیش لیگ سے بھی دبئی سے لیکن میری توجہ صرف اپنی کتابوں پر تھی اب میں خود اپنا کاروبار بھی کررہا ہوں اور ساتھ میں ایک مدرسے میں فی سبیل اللہ پڑھاتا ہوں مجھے بہت خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھےاپنے راستے کیلئے منتخب کیا ہے میں اپنی زندگی سے بالکل مطمئن ہوں
یادرہے عثمان شینواری نے پاکستان کی جانب سے17ون ڈے 16ٹی20 اور ایک ٹیسٹ میچ کھیل رکھا ہےاور پی ایس ایل میں لاہور قلندر کیلئے کھیلا ہے
14/06/2026
جس ملک میں تعلیم کے لئے 2 ارب اور بے نظیر انکم سپورٹ کے لئے 850 ارب رکھے جائیں وہاں ڈاکٹر قدیر خان نہیں فقیر ہی پیدا ہونگے 🤔💔😢
Be the first to know and let us send you an email when TOP X TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.