غیرت کے نام پر قتل — ایک ایسا زخم جو صرف جسم پر نہیں، روح پر لگتا ہے۔
یہ صرف ایک ویڈیو نہیں، یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ اس پوری امتِ مسلمہ کے منہ پر طمانچہ ہے، جو دن رات "عزتِ نسواں" کے گن گاتے نہیں تھکتی، مگر جب کوئی بیٹی اپنی زندگی کے فیصلے میں اپنی مرضی کی بات کرے، تو یہی معاشرہ اس کے خلاف سنگین فتویٰ صادر کر دیتا ہے — بغیر تحقیق، بغیر گواہی، بغیر رحم۔
شیتل اور زرک — دو نوجوان، دو دل، دو انسان۔
شیتل ایک سادہ سی بلوچ لڑکی تھی۔ اُس کے خواب عام تھے: عزت سے جینا، محبت سے شادی کرنا، اپنے گھر بسانا۔ وہ لڑکی جو بچپن میں گڑیوں سے گھر بناتی تھی، آج جب اپنی زندگی کا گھر بنانا چاہا — تو قبیلے کے "غیرت مند" مردوں نے فیصلہ سنا دیا: موت۔
زرک — وہ لڑکا جو اُسے چاہتا تھا، جو اُس کا ساتھی تھا۔ اُس نے بھی کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ وہ بھاگا نہیں، چھپا نہیں۔ نکاح کیا، اسلامی طریقے سے۔
لیکن یہ کافی نہیں تھا۔
ان کا جرم "پسند" تھی۔
ان کا جرم "محبت" تھی۔
اور اس معاشرے میں محبت ایک ایسا گناہ ہے، جس کی سزا صرف خون ہے۔
انہوں نے دونوں کو قبیلے کے سامنے لا کر کھڑا کیا۔
زمین خشک تھی، فضا خاموش، اور نگاہیں سنگدل۔
نہ کوئی عدالت، نہ کوئی قاضی، نہ کوئی گواہی — بس مرد بیٹھے تھے، اور فیصلہ کر چکے تھے۔
شیتل نے قرآن اٹھایا —
ہاتھوں میں تھاما، جیسے اپنی بے گناہی کا ثبوت دے رہی ہو۔
اس نے کچھ نہیں کہا، کچھ نہیں مانگا، صرف آنکھوں میں سوال تھے:
"کیا محبت جرم ہے؟ کیا میری زندگی میری نہیں؟ کیا میری مرضی پر فیصلہ تم کرو گے؟ کیا میں اپنی زندگی کے فیصلے میں کچھ بھی نہیں؟"
وہ جانتی تھی کہ اب رحم کی کوئی امید نہیں۔
پھر بھی، اس نے قرآن اٹھایا۔ شاید اس امید پر کہ کسی ایک کا دل کانپ جائے، کسی ایک کی غیرت جاگ جائے، کسی ایک مرد کا ایمان چمک جائے۔
مگر نہیں...
وہ ہاتھ جو پتھر اٹھاتے تھے، وہ انگلیاں جو گن پر رکھی تھیں، وہ دل جو اللہ کا نام لیتے تھے — سب سن ہو چکے تھے۔
زرک کو پہلے مارا گیا۔
نوجوان خون مٹی میں گر گیا، ایک چیخ بھی نہ سنی گئی۔
اور پھر شیتل...
جسے قرآن کے سائے میں، درجنوں مردوں نے گولیوں سے چھلنی کیا۔
نہ اس کے آنچل کا احترام ہوا، نہ اس کے ہاتھ میں تھامے قرآن کا۔
وہ گر گئی —
خاموش، لیکن سر بلند۔
قبر کھود دی گئی،
اور زمین نے ایک اور بیٹی کو اپنے اندر دفن کر لیا۔
نہ جنازہ، نہ دعا، نہ کفن —
کیونکہ "غیرت" کی آگ میں انسانیت پہلے ہی جل چکی تھی۔
اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے،
کسی نے تسبیح گھمائی،
کسی نے چائے پی،
کسی نے فخر سے کہا:
"ہم نے قبیلے کی عزت بچا لی!"
مگر سچ یہ ہے —
تم نے صرف ایک بیٹی کو نہیں مارا،
تم نے ایک خواب کو قتل کیا،
تم نے اسلام کے چہرے پر سیاہی ملی،
تم نے مردانگی کو حیوانیت بنا دیا،
اور تم نے یہ ثابت کیا کہ تم میں انسانیت مر چکی ہے۔
اور تم، جو ویڈیو دیکھ رہے ہو،
جو اس منظر پر خاموش ہو،
جو صرف آنکھیں بند کر کے اگلا کلپ چلا دیتے ہو —
یاد رکھو، کل کو یہی آگ تمہارے دروازے پر بھی آ سکتی ہے۔
تمہاری بیٹی، تمہاری بہن، تمہاری ماں بھی…
اگر ایک لفظ اپنی زندگی کے لیے بولے،
تو تم بھی اسی صف میں کھڑے ہوگے —
جہاں شیتل کے قاتل کھڑے تھے۔
اسلام نے عورت کو بولنے کا حق دیا،
پسند کا حق دیا،
زندگی جینے کا حق دیا۔
تو ہم کون ہوتے ہیں اُس کی زبان کاٹنے والے؟
ہم کون ہوتے ہیں فیصلے صادر کرنے والے؟
یہ صرف ایک تحریر نہیں —
یہ ایک نوحہ ہے، ایک دہکتا ہوا سوال ہے:
کیا ہم نے انسانیت دفن کر دی ہے؟
خدارا، ہوش کرو!
تم جنہیں غیرت کے نام پر قتل کرتے ہو،
وہی لوگ قیامت کے دن تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔
اور اُس دن نہ قبیلہ بچے گا،
نہ رسمیں،
نہ تمہاری مردانگی —
بس تم ہوگے،
اور تمہارے ہاتھوں پر بیٹی کے خون کا داغ۔
ابھی بھی وقت ہے۔
بول پڑو، سمجھا دو، روک لو —
ورنہ ہر بیٹی کے جنازے کے ساتھ تمہارے ایمان کا بھی جنازہ اٹھے گا۔
Be the first to know and let us send you an email when Bed Sheet Bazaar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.