09/07/2026
اسماعیلی امامت کے قرآن سے دلائیل
وَاِنۡ نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُوۡا فِىۡ دِيۡنِكُمۡ فَقٰتِلُوۡۤا اَٮِٕمَّةَ الۡـكُفۡرِۙ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنۡتَهُوۡنَ۔ ترجمہ، "اگر انھوں نے اپنے عہد و پیمان کے بعد قسمیں توڑ دیں اور تمھارے دین میں طعنہ زنی کی تو تم (بھی) کفر کے سرداروں کے خلاف جنگ کرو تاکہ وہ باز آجائیں، بے شک وہ ایسے ہیں کہ ان کی قسم کچھ چیز نہیں۔ "
اس آیت سے واضح ہے کہ لفظ امام کے ایک معنی قرآن میں سردار کے ہیں۔ اس کے علاؤہ مندرجہ بالا آیت سے واضح ہے کہ دنیا میں کفر کے سردار ہیں اور ان سرداروں کے ذریعے سے کفر پھیلتا ہے۔ تو دنیا میں ایمان کے بھی سردار ہونگے اور ایمان انھی سرداروں سے پھیل سکتا ہے۔اور ان سے جنگ کرنے کا حکم اس بات کو جنم دیتا ہے کہ ایمان والوں کابھی سردار ہونا چاہئے۔ظاہری جہاد نہ سہی علمی جہاد سہی۔ اور اس سردار کے بغیر مومنیں کی صف بندی نہیں ہوسکتی۔ دنیا میں آج مسلمان ہر لحاظ سے کمزوری اور مغلوب کا شکار ہیں اور اسکی وجہ ان کے پاس ایک سردار کی موجودگی کا نہ ہونا ہے۔ اسلئے نہیں کہ وہ سردار زمین پر نہیں ہے بلکہ اسلئے کہ مسلمان خود اس سردار کو پہچان نہیں رہیں ہیں۔وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪۔ ترجمہ، " تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔" اللہ کی رسی خود لوگوں کو یہ نہیں بتاتی کہ اسے تھاما جائے بلکہ یہ لوگوں پر ہے کہ لوگ خود اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ اب یہ رسی ہی وہ انسان ہے جو لوگوں کا امام اور سردار ہے وگرنہ دنیا میں کوئی ایسی ظاہری رسی وجود نہیں رکھتی کہ جس کو تھامنے سے انسان متحد ہوسکتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:
اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗۚ-فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُۗ-اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ
ترجمہ, "تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے اسی سے ایک گواہ ہو اور اس کے قبل موسیٰ کی کتاب (توریت) جو (لوگوں کے لئے) امام اور رحمت تھی ( اس کی تصدیق کرتی ہو وہ شخص بہتر ہے یا کوئی دوسرا)۔"
اب یہاں پر یہ سوال بنتا ہے کہ توریت (کتاب) کو کن معنوں میں امام کہا گیا ہے۔ قرآن میں ذکر کا لفظ خود قرآن کے لئے آیا ہے لیکن ایک آیت میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ذکر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًا۔ ترجمہ: "خدا نے تم پر ایک نصیحت (رسول) نازل کی ہے۔" یہاں ذکر سے مراد رسول ہی ہے اس بات کی تصدیق اس سے اگلی آیت میں ہوتی ہے ۔ ارشاد ربانی ہے۔ رَّسُوۡلاً يَّتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ لِّيُخۡرِجَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوۡا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِؕ ۔ ترجمہ: " وہ رسول، کہ تم پر اللہ کی روشن آیتیں پڑھتا ہے تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اندھیریوں سے اجالے کی طرف لے جائے".
عربی زبان میں بعض اوقات کسی چیز کو دوسری ایسی چیز کے نام سے پکارا جاتا ہے جو اکثر اس کے ساتھ ہو۔ مثلاً اس اونٹ کو جو پانی کی مشکیں لادنے کے لئے مقرر ہو مشک یا مشکیزہ کہا جاتا ہے۔ کتاب کو بھی امام کی ذات اقدس کے ساتھ اٹوٹ انگ ہونے کی وجہ سے امام کہا گیا ہے۔جیسا کہ اوپر کی مبارک آیت میں رسول کو ذکر کہا گیا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن میں روحانی پیشوا (امام) کو کتاب الٰہی اور کتاب سماوی (ذکر) کو امام کہا گیا ہے۔ اوپر بیان کردہ آیت سے واضح ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روشن دلیل ہیں اور ان کے پیچھے علی علیہ السلام ان پر گواہ ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی تفاسیر میں کتاب (توریت ) کو امام کہنے سے یہ مراد لیتے ہیں کہ قرآن میں درج لفظ امام کے معنی کتاب ہے اور اس سے بڑھ کر اس کا کچھ بھی دوسرا معنی نہیں۔ لیکن اس کا جواب قرآن سے ہی تلاش کرتے ہیں۔ ہر آسمانی کتاب قراطیس یعنی کاغذی کتاب کی شکل میں وجود رکھنے سے پہلے ایک زندہ نور یعنی علم و حکمت کی روح کی حیثیت سے ہوتی ہے۔اور وہ بحقیقت امام ہی کی روح ہوتی ہے۔ یعنی توریت کاغذی شکل میں آنے سے پہلے حضرت ہارون علیہ السلام کی نورانیت اور روحانیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی کی گئی تھی۔ انھی روحانی واقعات اور حالات کی ترجمانی کرکے توریت کتاب کاغذ کی شکل میں لکھی گئی۔ حقیقی توریت امام ہارون علیہ السلام کی صفات سے جدا نہ تھی۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔
-قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًاۚ۔ ترجمہ: "آپ کہ دیجئے کہ وہ کتاب جسے موسیٰ لیکر آئے تھے کس نے نازل کی تھی جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی۔ جسے تم لوگوں نے کاغذات کی (تحریری) صورت دی ہے۔ جس میں کچھ تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر چھپاتے ہو۔" اس آئیہ مبارکہ سے واضح ہے کہ توریت دو صورتوں میں موجود تھی چنانچہ پہلی صورت میں توریت علم و حکمت کے معجزاتی نور اور روح کی حیثیت سے حضرت ہارون علیہ السلام و حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل و دماغ میں موجود تھی اور دوسری صورت میں یہ کاغذی کتاب کی شکل میں لکھی گئی ۔ اس بات کی سچائی مزید کھل کر تب سامنے آجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک قرآن کے کاغذی شکل میں محفوظ کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے وقت قرآن مکہ اور مدینہ کے درمیان چمڑے کے ٹکڑوں پر, پتھر ٫ لکڑی اور دوسری چیزوں پر بکھرا پڑا تھا اور قوی امکان تھا کہ یہ نسخے ضائع ہوجاتیں۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہِ وآلہ وسلّم نے اس کو کاغذی شکل میں محفوظ کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ اور لوگوں نے خود اس کو کاغذات کی شکل دی اور اس میں بھی اکثر چھپاتے ہیں اور کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ اور مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں واضح ہے کہ قرآن روحانی اور نورانی شکل میں امام اقدس علیہ السلام کے ظاہر اور باطن میں محفوظ ہے۔ ان تمام قرآنی دلائل سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ توریت اپنی نورانی کیفیت میں امام تھی جس سے حضرت ہارون علیہ السلام کا پاک نور مراد ہے۔
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَاؕ-مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰـكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَاؕ-وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
ارشاد ربانی ہے ۔ ترجمہ: "اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف ( یہ کتاب بصورت) ایک روح نازل کی ہے ،آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان(کا انتہائی کمال )کیا چیز ہے۔لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا جس کے ذریعے سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں۔" اس مبارک آیت سے یہ حقیقت واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی بھی ایک روحانی اور نورانی اصلیت موجود ہے جس کو امام اور پیغمبر کا نور کہا جاتا ہے۔ قرآن کا نور جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ذات اقدس میں طلوع ہوا تھا وہ قرآن کو کتابی شکل میں کاغذ پر لکھنے سے کبھی کم نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسے کہ ایک بندہ اپنے ارادے اور تجربات اور خیالات کو ایک خط کی صورت میں کاغذ پر لکھے تو ایسا کرنے سے وہ خیالات اور باتیں ذہنی اور قلبی کیفیت میں ختم نہیں ہوجاتیں۔ اب سوال یہ ہو سکتا ہے کہ یہ بات مان لیا جائے کہ قرآن کا اصل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ذات اقدس میں تھی تو حضرت علی علیہ السلام میں یہ روح کیسے آئی؟ قرآن میں ارشاد ہے کہ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ اور ہم نے ہر چیز کا احاطہ امام ظاہر میں کر رکھا ہے۔ اول بات یہ ہے کہ اگر لوح محفوظ ایک بڑی تختی ہے جس میں ہر چیز کا بیان درج ہے ( جیسا کہ اس آیت کا ترجمہ اہل ظاہر کرتے ہیں) تو سوال بنتا ہے کہ دنیا میں بہت سے مظاہر ایسے ہیں کہ جن کا کوئی مادی وجود نہیں مثلآ غم خوشی، جزبات اور بہت سی دوسری چیزیں جن کا کتاب میں لفظی شکل میں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ تو بس پتا چلا کہ تمام چیزیں "كُلَّ شَیْءٍ " کا احاطہ امام کے نور نے کیا ہوا ہے بشمول روح قرآن۔
امام کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کفر اور گمراہی بھی سردار کے بغیر نہیں پھیل سکتا۔ دنیا میں گمراہی کو پھیلانے اور پھل پھولنے کے لئے صرف یہ بات ضروری نہیں ہے کہ دنیا میں لوگ ہدایت کا راستہ چھوڑ دیں اور برائی کریں بلکہ سردار کے بغیر گمراہی مضبوط جڑیں نہیں پکڑ سکتا۔ ارشاد ربّانی ہے۔
وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ
ترجمہ: "اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا ۔جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کو کوئی مدد نہ دی جائے گی۔"
اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رہنمائی اور ہدایت کے لئے سردار کی کیا اہمیت ہے۔ ہدایت کے کام کو صرف اس بات پر نہیں چھوڑا جاسکتا کہ لوگ اپنے عقل سے قرآن کو سمجھ کر اس سے ہدایت حاصل کر سکیں کیونکہ یہ بہت مشکل کام ہے اور ایسا کرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بےشمار گروہ بن چکے ہیں اور ہر گروہ نے اپنی سمجھ بوجھ کے حساب سے ہر دوسرے گروہ کو گمراہ اور کافر قرار دیا ہے۔ تو ذات باری تعالٰی جب کفر اور گمراہی کو پھیلانے کے لئے بھی رہنماؤں کا چناؤ کرتا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ ہدایت کا کام بغیر امام کے خود بخود ہوسکے۔ یہ ناممکن ہے۔
قرآن میں آنے والے لفظ امام کے بارے میں بہت سے اہل ظاہر یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد سردار ہے, یعنی ایک انسان کسی دوسرے انسان کی رہنمائی کرے تو وہ اس کا امام (رہنما)ہے اور امام کے معنی اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ یہ ایک گمراہ کن بات ہے اور اس کی حقیقت قرآن سے جانتے ہیں۔ ارشاد ربّانی ہے۔
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ترجمہ:"اور ہم نے ان میں سے امام بنائے جبکہ انہوں نے صبر کیا جو ہمارے امر سے ہدایت کیا کرتے تھے اور وہ لوگ ہماری آیتوں کا یقین رکھتے تھے۔"
اس آیت سے واضح ہے کہ امام کا انتخاب خود اللہ تعالیٰ کرتے ہیں سو اس سے مراد کوئی عام بندہ نہیں ہے, دوسری بات یہ ہے کہ امام کی ہدایت کا ذریعہ براہ راست حق باری تعالیٰ خود ہیں اور اس ضمن میں بھی کسی اہل ظاہر نےخود کو امام کہہ کر (آج تک) یہ کہنے کی ہمت نہیں کی ہے کہ اس کو ملنے والی ہدایت کا ذریعہ براہ راست حق باری تعالیٰ ہے۔ سو ان آیتوں کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن میں آنے والے لفظ "امام" سے مراد کوئی بھی دنیاوی یا لوگوں کا چن ہوا رہنما نہیں بلکہ یہ ایک خدائی انتخاب ہے اور اس سے مراد ہر دور میں آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم
فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْۘ-وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ ترجمہ۔ "اور ہم نے ان سے بدلہ لیا اور یقیناً وہ دونوں (اجڑی ہوئی بستیاں ) کھلی شاہراہ پر ہیں"
یہاں پر لفظ امام مبین، *راستہ* (کھلی شاہراہ) کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ایک *راستہ* کو امام مبین کہنے میں بہت حکمت پوشیدہ ہے۔ بظاہر یہاں پر چلنے والے راستے کو امام ایک نسبت کے سبب سے کہا گیا ہے اور وہ نسبت راہنمائی سے متعلق ہے۔ کیونکہ جیسے ایک *واضح شاہراہ* انسان کو اسکے *منزل* تک پہنچاتا ہے اسی طرح *امام مبین* ہی وہ ہستی ہے جو انسان کی راہنمائی ایک *سیدھی راہ* کے مصداق کر کے اسے اسکے *منزل* یعنی حق باری تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ". ترجمہ: "یقیناً میرا پروردگار سیدھی راہ پر ہے". سو اب یہ واضح ہے کہ * *کھلی راہ** کیلئے امام مبین کا لفظ امام کے ایک زندہ راہنما کی حیثیت سے موجود ہونے پر واضح دلیل ہے۔ مندرجہ بالا آیت کے لفظی معنی میں امام مبین کا لفظ کھلی شاہراہ کے لئے آیا ہے, کیونکہ قوم شعیب کی بستی مدین اور قوم لوط کی بستی سدوم کے تباہ و برباد ہو جانے کے آثار و نشانات عرب سے شام کو جاتے ہوئے اب بھی *کھلی شاہراہ* سے نظر آتے ہیں۔ یہاں پر امام مبین کے لفظ کو راستے کے لئے استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عربی میں *شاہراہ* کو امام مبین کہتے ہیں بلکہ یہ قرآنی آیات (نشانیوں) کی حکمت ہی کی بدولت ہے۔ نیز *"انھما"* کا لفظ مزکورہ آیت میں *دو* بستیوں کے لئے آیا ہے۔ اسکی تاویل یہ ہے کہ *انھما* کا لفظ ان عظیم چیزوں کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جن پر *دو* کے عدد کا بحقیقت اطلاق ہوتا ہے۔یہ *دو* بڑی جوڑیوں کو ظاہر کرتا ہے یعنی عرش و کرسی، قلم و لوح، ربوبیت و عبودیت، قرآن و حدیث، ناطق و اساس ( محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور علی علیہ السلام),روحانیت و جسمانیت، اور مجمع البحرین ( دو ملے ہوئے سمندر)۔ اور یہ تمام حقیقتیں *امام مبین* (کھلی شاہراہ) کے ذات اقدس میں پنہان ہیں۔
لفظ *امام مبین* کا ذکر بطور *کھلی شاہراہ* کے امام کے ایک زندہ راہنما کی حیثیت سے موجود ہونے پر واضح دلیل ہے. مزید اس آیت کا روحانی پہلو یہ بھی ہے کہ نور امامت ہی وہ راستہ ہے کہ جس پر چل کر ایک مومن دیدہ دل سے سابقہ امتوں کی بشمار مثالوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔اور اس سلسلے میں قوم لوط اور قوم شعیب اور ان کی بستیوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ امام مبین یعنی واضح شاہراہ پر واقع ہیں۔
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ۔ ترجمہ: " جس دن ہم تمام (زمانوں کے) لوگوں کو اپنے اپنے امام کے ساتھ بلائیں گے۔"
یہاں سب سے پہلے لفظ *اناسی* کا مطلب سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جس سے پورے آیت کا مطلب کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ *اناس* , انس کی جمع ہے اور اس کی دوسری صورت *اناسی* ہے۔ قرآن کریم میں اناسی کا لفظ لوگوں کی چھوٹی تقسیم کیلئے آیا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سب لوگوں کو "امت موسیٰ" یا کہ "قوم موسیٰ" کہا جاتا ہے اس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لوگوں کو بھی کل ملا کر امت کہا جاتا ہے۔ لیکن سب لوگوں کو ملا کر *اناس* نہیں کہا جاتا۔ *اناس* قرآن میں لوگوں کی *چھوٹی* تقسیم کے لئے استعمال ہوا ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے بارہ (12) قبیلوں میں سے ہر قبیلے کو *اناس* کہا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے
۔قَدْ عَلِمَ كُلُّ *اُنَاسٍ* مَّشْرَبَهُمْؕ ترجمہ: "سب قبیلوں نے اپنا اپنا گھاٹ(پانی کا جگہ) جان لیا۔" تو اوپر بیان کردہ آیت میں *اناس* سے مراد مختلف ادوار کے لوگ ہیں جن کو اس وقت کے امام کی نسبت سے *اناس* کہا گیا ہے۔ جس طرح ہر پیغمبر کی نسبت سے اس کے ماننے والے تمام لوگوں کو امت (بڑا گروہ، جس میں ایک ہی پیغمبر کی نسبت سے ہر دور کے لوگ شامل ہیں )کہا جاتا ہے اسی طرح ہر پیغمبر کے دور میں کئی امام ہوا کرتے ہیں اور دور نبوت کے بعد بھی امام ہر دور میں ہوتے ہیں، تو ہر دور کے لوگوں کو اس دور کے امام کی نسبت سے *اناس*( چھوٹے گروہ) کہا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ایک ہی دور کے مختلف گروہوں کے مختلف امام ہوں گے اور انھیں بلایا جائے گا ( جیسا کہ اہل ظاہر اس کا مطلب بیان کرتے ہیں کہ ہر کسی کو اسکے قوم کے سردار کے ساتھ بلایا جائے گا) بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰیٰ مختلف ادوار کے لوگوں (اناس)کو ان کے زمانے کے امام کے ساتھ بلائے گا۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام ہر دور میں لوگوں *(اناس)* کے درمیان موجود ہوتا ہے ورنہ *اناس* کی جگہ *امت* کا لفظ ہوتا اور اس کے یہ معنی ہوتے کہ کسی ایک دور کے کسی *ایک* امام کا ذکر ہے جو کہ تمام *امت* کے ساتھ بلایا جائے گا۔ کیونکہ ہر عہد کا امام ہی اس عہد کے لوگوں کے اعمال پر گواہ ہے ۔ ارشاد ربانی ہے، وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ" ترجمہ: "اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی اور کتاب رکھی جائے گی اور انبیاء اور *گواہی دینے والے* لائے جائیں گے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرما دیا جائے گااور ان پر ظلم نہ ہوگا۔"
وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا۔ ترجمہ:
"اور وہ لوگ جو( ہم سے )عرض کیا کرتے ہیں کہ پروردگار ہمیں *ہماری بیبیوں* سے اور ہماری *ذریت* سے *آنکھوں کی ٹھنڈک* عطا فرما اور ہم کو *پرہیز گاروں کا امام* بنادے۔"
اس مبارک آیت میں لفظ " _آنکھوں کی ٹھنڈک_ " سے مراد اولاد ہیں۔لیکن آنکھوں کی ٹھنڈک کا لفظ *بیبیوں* کے ساتھ اور *ذریت* کے ساتھ الگ الگ دفعہ استعمال ہوا ہے۔ پہلے _آنکھوں کی ٹھنڈک_ (اولاد) کو *بیبیوں* کے تعلق میں سمجھتے ہیں۔
اس ارشاد کے مطابق امام ہر دور میں اپنے پروردگار سے یہی درخواست کرے گا کہ وہ اپنی شخصیت کے علاوہ اپنے (جسمانی اولاد) بیٹوں, پوتوں اور آئندہ نسل کی حیثیت میں بھی پرہیز گاروں کا امام بنتا رہے۔یعنی امامت کا سلسلہ جسمانی اعتبار سے ایک ہی نسل سے آگے بڑھتا ہے جو کہ دور قیامت میں صرف اور صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اہل بیت علیہم السلام ہیں۔ یعنی مولا علی علیہ السلام ، نور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام کے جامئہ بشریت میں حاضر و موجود ہیں۔ اس مبارک آیت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امامت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنے والا ہے۔اس آیت مبارکہ سے ظاہر ہے کہ امام نہ صرف اپنی ذات بابرکات میں اپنے زمانے کا امام ہوتا ہے بلکہ ہر آنے والے زمانے میں لباس بشریت میں موجود تمام امام ایک ہی سلسلہ نور سے وابسطہ ہیں۔ اس مبارک آیت میں موجود لفظ " *امام المتقین* " سے یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی بھی پرہیزگار امام کی رہنمائی کے بغیر پرہیزگاری حاصل نہیں کرسکتا اور پرہیز گاروں کا رہنما ہر دور میں امام ہوتا ہے۔
اب لفظ _آنکھوں کی ٹھنڈک_( اولاد) کو *ذریت* کے تعلق میں سمجھتے ہیں۔مزکورہ آیت میں لفظ " *ذریت* " میں بےشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ "ذریت" اور " ذرہ" ایک ہی مادّہ کے الفاظ ہیں۔ اہل ظاہر کے نزدیک اس لفظ کے معنی "اولاد" کے ہیں۔ لیکن ذریت اور اولاد کے درمیان بڑا فرق ہے۔ذریت سے مراد وہ ذرہ روح ہے جو انسان کے اندر خون و خلیات میں ہے اور ابھی تولید کے مراحل سے نہیں گزرا ہے (یعنی کسی انسان کی صورت میں پیدائش نہیں ہوئی ہے) اور اولاد ایسے ذرات کو اس وقت کہا جاتا ہے جب یہ تولید کے مراحل سے آگے گزر چکے ہوں۔ اس بات کی دلیل قرآن میں تلاش کرتے ہیں کہ قرآن میں موجود لفظ *ذریت* سے مراد جسم انسانی کے خون و خلیات کے اندر موجود زندگی یا روح حیوانی کے بے شمار ذرات ہی مراد ہیں۔ ارشاد ربانی ہے۔
وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ۔ ترجمہ:
"اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں میں سے ان کی *ذریت* کو لیا۔" اس سے ظاہر ہے کہ اولاد آدم کی پشتوں سے جو روحیں لی گئیں تھیں ان میں دنیا بھر کے لوگوں کی روحیں شامل تھیں کیونکہ خواب غفلت میں سوئی ہوئی روحوں کو جس مقصد کے لئے جگایا گیا تھا اس کا تعلق چند روحوں سے نہیں تھا بلکہ تمام روحوں سے تھا۔ اسی لئے ذریت کا لفظ یہاں پر تمام روحوں کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے مراد *اولاد* ہر گز نہیں ہوسکتا۔انھی بے شمار روحوں میں سے صرف چند روحیں قانون فطرت کے مطابق اولاد کی صورت میں نمودار ہوتیں ہیں اور باقی ویسے ہی خیال، محبت تعلیم ، دعائے خیر و غیرہ کی روحانی لہروں سے اپنوں اور بیگانوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ یعنی حقیقی مومنین ہی امام کے روحانی فرزند ہیں اور *درجہ امامت* میں شامل ہیں۔
چنانچہ اب یہ بات واضح ہے کہ آنکھوں کی ٹھنڈک دو صورتوں میں ممکن ہے ایک جسمانی صورت ہے، جس کے لئے *من ازواجنا* (ہماری بیبیوں سے) کا لفظ آیا ہے، جس سے مراد امام اقدس کی نسل میں آنے والی جسمانی اولاد مراد ہیں۔ اور *ومن ذریتنا* ( اور ہماری ذریت میں سے) سے مراد جسمانی اولاد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد روحانی فرزند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذریت سے منسوب _آنکھوں کی ٹھنڈک_ کے ساتھ *بیبیوں* کے لفظ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولا پاک ہر فرمان کے آغاز میں میرے روحانی بچو کا جملہ استعمال کرتے ہیں.
ارشاد ربانی ہے۔
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَىٕمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَ۔ ترجمہ
"اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ روئے زمین پر کمزور کردئے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور انہی کو (لوگوں) کے آئمہ بنائیں اور انہی کو اس (سرزمین ) کا وارث بنائیں۔" یہ آیت ظاہراً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام اور ان کے فرمانبردار مؤمنین کے بارے میں ہے اور باطنی معنوں میں یہ تمام آئمہ علیہ السلام اور ان کے روحانی فرزندوں کے بارے میں ہے۔ دنیا کی طاغوتی طاقتیں امام علیہ السلام اور ان کے روحانی فرزندوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی ہے لیکن خداوند ایسے منکرین کی سازشوں کو خاک میں ملاتا ہے اور امام اور اس کے روحانی اولاد پر احسان کرتا ہے۔اور امام اور اس کے روحانی اولاد کو دین و دنیا کی سرداری عطا کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے، یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ۔ ترجمہ: "وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونہوں سے بجھادیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو." اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہے کہ اللہ کا نور زمین کے اوپر موجود ہے اسی لئے لوگ اسے بجھانا چاہتے ہیں اور ان کی اس کوشش کو پروردگار ناکام کرتا ہے اور اپنے اماموں کو مومنیں کی رہنمائی پر معمور کرتا ہے۔
القرآن۔١٣:٧
ہر قوم کیلئے ایک ہادی ہے