11/14/2025
شادی کرکے پھنس گئے یار !!
زندگی کے سب سے اہم فیصلے وہ ہوتے ہیں جو دل کی گہرائیوں سے کیے جائیں۔ شادی کا رشتہ کوئی معاہدہ نہیں بلکہ دو دلوں کا ملاپ ہے، دو روحوں کا ایک سفر ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی معروف سوشل میڈیا انفلوئینسر ڈاکٹر نبیہہ علی خان اور ان کے دیرینہ دوست حارث کھوکھر کی شادی نے سماجی حلقوں میں گرمجوشی سے پذیرائی پائی ہے، مگر ساتھ ہی کچھ حلقوں کی طرف سے غیر ضروری تنقید کا نشانہ بھی بنا ہے۔
محبت کا رشتہ وہ نایاب ہیرا ہے جو تمام تر دنیوی پیمانوں سے ماورا ہوتا ہے۔ یہ نہ کسی کی تعلیم دیکھتی ہے، نہ خاندان، نہ مالی حالت، نہ ہی کوئی اور ظاہری شرط۔ محبت تو وہ آسمانی تحفہ ہے جو دو دلوں کو اس وقت جوڑ دیتی ہے جب کائنات کا نظام ہی کچھ ایسا ہو۔ ڈاکٹر نبیہہ علی خان اور حارث کھوکھر کی کہانی درحقیقت اسی سچی محبت کی عکاس ہے جو سالوں کی دوستی کے بعد ایک پائیدار رشتے میں ڈھل گئی۔
کہتے ہیں کہ دوستی محبت کا سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ جو رشتہ سالوں کی آزمائشوں، ہنسی خوشی، غم اور زندگی کے اتار چڑھاؤ سے گزر کر پروان چڑھے، وہ کسی بھی طوفان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ نبیہہ اور حارث کی کہانی بھی اسی قسم کا ایک خوبصورت سفر ہے جہاں دوستی کے مقدس رشتے نے محبت کی شکل اختیار کر لی۔ یہ وہ بنیاد ہے جو ان کے رشتے کو نہ صرف مضبوط بناتی ہے بلکہ اسے ہر قسم کی منفی تنقید سے بالاتر ثابت کرتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اکثر انفرادی خوشیوں کو برداشت نہیں کر پاتا۔ خصوصاً جب کوئی معروف شخصیت اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرتی ہے، تو ایسے میں ناانصافی پر مبنی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر نبیہہ علی خان اور حارث کھوکھر کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ ان کی شادی کو نشانہ بنانے والوں نے نہ صرف حارث کھوکھر کی ذات پر حملے کیے بلکہ ڈاکٹر نبیہہ کے پیشہ ورانہ کیریئر کو بھی مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کی۔
حارث کھوکھر کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ "شادی کے قابل نہیں" نہ صرف ان کی شحصیت کے خلاف ایک سنگین حملہ ہے بلکہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے۔ کسی انسان کی "قابلیت" کا فیصلہ کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ کیا شادی کی قابلیت کا کوئی معیاری پیمانہ ہے؟ یہ تو محبت کرنے والے دل ہی جانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے کیسے موزوں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ محبت نے ہمیشہ معیارات اور پیمانوں کو توڑا ہے۔ شیکسپئر کے روميو اور جولیٹ ہوں یا ہمارے مشرقی قصے ہیر رانجھا اور سسی پنوں کے، محبت نے ہمیشہ سماجی پابندیوں کو چیلنج کیا ہے۔ حارث کھوکھر کی شخصیت، ان کی صلاحیتیں، ان کی خوبیاں وہ ہیں جو ڈاکٹر نبیہہ بہتر جانتی ہیں۔ انہوں نے سالوں کی دوستی کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے، تو یقیناً ان کی اس فیصلے کی کوئی نہ کوئی وجہ ہے۔ ڈاکٹر نبیہہ علی خان کے خلاف یہ الزام کہ وہ "جعلی ڈاکٹر" ہیں، درحقیقت ایک طرح کا پیشہ ورانہ حسد ہے۔ ڈاکٹر نبیہہ نے اپنی محنت، لگن اور قابلیت سے اپنا مقام بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت سے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی ہے۔ کسی کی ساکھ کو مجروح کرنے کے لیے اس طرح کے الزامات لگانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ یہ سماجی برائیوں کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔
ہمارے معاشرے میں خواتین جب کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی ہیں تو انہیں اس قسم کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر نبیہہ کا کیریئر ان کی صلاحیتوں کی واضع عکاسی ہے۔ انہوں نے اپنے علم اور ہنر سے معاشرے کی خدمت کی ہے اور ان کی شہرت ان کی محنت کا ثمر ہے۔ ڈاکٹر نبیہہ کے لباس اور زیورات پر تنقید درحقیقت ہمارے معاشرے کی سطحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ہر فرد کو اپنے ذوق کے مطابق لباس پہننے اور زیورات پہننے کا حق حاصل ہے۔ یہ ان کی ذاتی پسند ہے جس پر تنقید کرنا غیر ضروری مداخلت ہے۔ شادی اسلام میں انتہائی مقدس رشتہ ہے۔ یہ دو انسانوں کے درمیان باہمی محبت، احترام اور تفہیم کا بندھن ہے۔ اس مقدس رشتے کو تنقید کا نشانہ بنانا درحقیقت اس کی sanctity کو مجروح کرنا ہے۔
محبت درحقیقت دل کی وہ زبان ہے جو عقل کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے۔ جب محبت ہو جاتی ہے تو انسان دوسرے شخص کی ظاہری حالت، مالی حالات یا سماجی مقام سے بالاتر ہو کر اس کے دل کو دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت کی کہانیاں ہمیشہ سے سنی اور سنائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر نبیہہ اور حارث کی محبت درحقیقت اس بات کی عکاس ہے کہ جب دو لوگ ایک دوسرے کو سچے دل سے چاہتے ہیں تو وہ تمام تر سماجی رکاوٹوں کو پار کر جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دل کی آواز سنی اور ایک دوسرے کے لیے اپنی زندگی کا سفر منتخب کیا۔ یہ فیصلہ ان کا ذاتی حق ہے جس پر کسی دوسرے کو تنقید کرنے کا اختیار نہیں۔
یہاں پر میں ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحبہ اور حارث کو یہ کہنا چاہوں گا کہ زندگی کے ہر شعبے میں تنقید کا سامنا رہتا ہے، خاص طور پر جب آپ معروف شخصیت ہوں۔ تنقید کو اپنے دل پر نہ لیں۔ یاد رکھیں، جو لوگ تنقید کر رہے ہیں وہ آپ کی خوشی کے لمحات میں موجود نہ تھے، نہ ہی وہ آپ کے دکھوں میں آپ کے ساتھ تھے۔ اس لیے ان کی رائے کو اہمیت دینا ضروری نہیں۔
ڈاکٹر نبیہہ علی خان اور حارث کھوکھر کی شادی پر ہونے والی تنقید درحقیقت ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ دوسروں کی خوشیوں کا احترام کریں، دوسروں کے ذاتی فیصلوں کو قبول کریں اور دوسروں کی انفرادیت کو برداشت کریں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں کے فیصلوں کا احترام کریں، چاہے وہ ہمارے اپنے فیصلوں سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔
ڈاکٹر نبیہہ علی خان اور حارث کھوکھر کی شادی درحقیقت محبت کی فتح ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب دو دل سچی محبت سے جڑ جاتے ہیں تو وہ تمام تر سماجی رکاوٹوں، تنقیدوں اور منفی تبصروں سے بالاتر ہو کر اپنی راہ بنا لیتے ہیں۔ یہ جوڑا درحقیقت نوجوان نسل کے لیے ایک مثال ہے کہ وہ اپنے دل کی آواز سنیں، اپنے فیصلے خود کریں اور سماجی دباؤ میں آئے بغیر اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کریں۔
میری درخواست ہے کہ سماج کے وہ افراد جو دوسروں کی خوشیوں پر تنقید کرتے ہیں، وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کریں۔ شادی ایک مقدس رشتہ ہے، نہ کہ کوئی جرم۔ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ تعمیر کریں جہاں ہر انسان دوسرے کی خوشیوں کا احترام کرے، جہاں محبت کو سراہا جائے، اور جہاں ہر رشتے کو اس کی sanctity کے ساتھ قبول کیا جائے۔
ڈاکٹر نبیہہ اور حارث کی محبت کی یہ کہانی ہمیشہ قائم رہے،
اور یہ جوڑا زندگی بھر خوش و خرم رہے۔ آمین۔
゚viralfbreelsfypシ゚viral ゚viralシ