12/22/2025
ہماری انڈر نائنٹین ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا، وہ بھی انڈیا جیسی بڑی ٹیم کے خلاف—یہ معمولی بات نہیں۔ قوم کو خوشی ہوئی، ہمیں بھی فخر ہوا۔ سرفراز احمد کی قیادت اور رہنمائی واقعی قابلِ تعریف ہے، اس پر ہم نے مبارک باد بھی دی، دل کھول کر دی۔
یہ جیت پاکستان کے لیے ایک خوشی کا لمحہ تھی، اور ایسے لمحات قوم کو جوڑتے ہیں۔
لیکن خوشی کے ساتھ ایک سوال بھی دل میں چبھتا ہے…
اور وہ سوال غصے سے نہیں، درد سے پیدا ہوتا ہے۔
جب ہمارے ملک کی بڑی آبادی بے روزگار ہے،
جب غریب روٹی کے ایک نوالے کو ترس رہا ہے،
جب ہم ایک ایک ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں،
تو پھر جیت کے بعد ہر کھلاڑی کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا پیغام دیتا ہے؟
یہ بچے نالائق نہیں، یہ کھلاڑی حق دار ہیں،
لیکن کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ
ان کی تنخواہیں ہیں،
میچ فیس ہے،
سہولیات ہیں،
اور سب سے بڑھ کر ورلڈ کپ جیتنے کی انعامی رقم بھی موجود ہوتی ہے؟
سوال یہ نہیں کہ انعام دیا جائے یا نہیں،
سوال یہ ہے کہ ترجیح کیا ہے؟
ایک کروڑ روپے اگر
کسی غریب بستی میں لگ جائیں،
کسی ہسپتال میں آکسیجن بن جائیں،
کسی بے روزگار نوجوان کے لیے روزگار بن جائیں،
تو شاید وہ ایک کروڑ
ایک میچ کی خوشی سے بڑھ کر
ایک قوم کی امید بن سکتا ہے۔
ہم کھیل کے خلاف نہیں،
ہم کھلاڑیوں کے دشمن نہیں،
ہم خوشی کے لمحات کے قاتل نہیں۔
ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ
جب ملک مشکل میں ہو
تو فیصلے بھی حساس ہونے چاہئیں۔
ہمیں فخر ہے اپنی ٹیم پر،
ہمیں خوشی ہے اس جیت پر،
ہم سرفراز احمد کو سلام کرتے ہیں
کہ اس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ ایک اچھا مینٹور ہے۔
لیکن ساتھ ہی یہ بھی گزارش ہے
کہ انعامات کی برسات سے پہلے
ذرا غریب کے آنسو بھی گن لیے جائیں۔
کیونکہ قوم
صرف ٹرافیوں سے نہیں،
انصاف سے جیتی جاتی ہے۔