Swad wow

Swad wow .....

11/17/2025


✨ A Journey into the Heart of Sufism ✨This music video is inspired by the mystical world of Sufism, where love transcends the self and every breath becomes a...

https://youtu.be/SZ-57JAcSu4
10/31/2025

https://youtu.be/SZ-57JAcSu4

شب میں دیکھے ہی کہاں چاند ستارے میں نے دن کی دیکھی نہیں رونق نہ اجالے میں نے کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے باہم خواب توڑے ہیں میرے تم نے تمہارے میں نے اب تو و...

02/25/2022

باتیں بناتا ہے وہ مرے دل کو توڑ کے
لفظوں کے مونھ چھپاتا ہے کاغذ مروڑ کے
اک ملتفت نگاہ کے دھوکے میں لٹ گئی
رکھّی تھی ہم نے دل میں خوشی جوڑ جوڑ کے
اک بے زباں خلش کوئی چونکی ہے اس طرح
جیسے اٹھا دے نیند سے کوئی جھنجھوڑ کے
اے مشتِ خاک دیکھ یہ راہِ درِ نجات
لے آئی پھر وہیں پہ ڈگر موڑ موڑ کے
بعد از شکستِ ضبطِ نظر، بامِ دل تجھے
دربان جا رہے ہیں لٹیروں پہ چھوڑ کے
لوٹے تو اتنی دیر میں نقشہ بدل گیا
آئے تھے کس یقین سے ہم نقش چھوڑ کے
مسند پہ تم بلا سے رہو ہم زمین پہ
ہم کوڑیوں کے دام سہی تم کروڑ کے
خیرہ نظر صبا سے تب و تابِ انجمن
داد ہنر نہ مانگ، دو آنکھیں نچوڑ کے

سید صبا واسطی

01/22/2021

سمندر کو نتھارا جا رہا ہے
مگر دریا تو مارا جا رہا ہے

محبت سے پکارا جا رہا ہے
محبت سے گزارا جا رہا ہے

مسافر کو اشارہ جا رہا ہے
سمندر میں کنارہ جا رہا ہے

جو پانی میں اتارا جا رہا ہے
وہ باہر سے سنوارا جا رہا ہے

نظر میں جو نظارہ جا رہا ہے
وہی منظر نکھارا جا رہا ہے

لو جھرمٹ سے ستارا جا رہا ہے
کسی گنتی میں تارا جا رہا ہے

جو شیشے میں اتارا جارہا ہے
وہ شیشے میں دوبارہ جا رہا ہے

تلافی کا سہارا جا رہا ہے
تمہیں دکھ ہے ہمارا جا رہا ہے

خزاں کا استعارہ جا رہا ہے
لو یہ شاعر تمہارا جا رہا ہے

ہوائیں طے کرینگی سمت اس کی
ابھی اوپر غبارا جا رہا ہے

کھڑی ہے خیر کی پہچان جس پہ
اسے کنکر سے مارا جا رہا ہے

صبا منزل کی جلتی آرزو میں
سفر کا ہر خسارہ جا رہا ہے

صبا واسطی

08/26/2020

ایک نئی غزل۔

جو موجِ درد مجھے دینے مات نکلی تھی
حیات ہی کی طرح بے ثبات نکلی تھی
نہ شہ ملے نہ ستمگر ہو بے دلی کا شکار
سو آہ دل سے بصد احتیاط نکلی تھی
کمالِ نور جتانے کو سحر پھوٹی ہے
جمال نور دکھانے کو رات نکلی تھی
میں لوٹ آیا وہ سورج کی لو میں ڈوب گئی
جو سحر, صبح مرے ساتھ ساتھ نکلی تھی
وہ اتنی رنگ برنگی قبا میں تھا ملفوف
تمام رنگ اتارے تو ذات نکلی تھی
کیا ہے شاہ سلامت نے حشر کا ساماں
کسی کے مونہہ سے قیامت کی بات نکلی تھی
خدا ہی جانے صبا اور کیا سخن میں ہو
دو حرفِ کُن سے نری کائنات نکلی تھی

کہیں بھی اے دلِ بیزار آنا جانا نہیںٹھکانے ایسے لگے ہیں کوئی ٹھکانا نہیںیہ کیا کہ ہاتھ جھٹک کر چلے گئے تم بھی وہ پہلے جیس...
08/20/2020

کہیں بھی اے دلِ بیزار آنا جانا نہیں
ٹھکانے ایسے لگے ہیں کوئی ٹھکانا نہیں

یہ کیا کہ ہاتھ جھٹک کر چلے گئے تم بھی
وہ پہلے جیسی مروت نہیں، بہانا نہیں

سفید پوشی میں اکثر گماں یہ رہتا ہے
کہ پارسائی میں ہم سا کوئی گھرانا نہیں

کرو قبول مری ارتقا کے ساتھ مجھے
گزر رہا ہوں میں، گزرا ہوا زمانہ نہیں

یہ تیرا طرزِ مساوات ماورائے دلیل
اے ناخدا یہ تساہل ہے کارنامہ نہیں

گرا جو پیڑ صبا سب زمیں پہ آئیں گے
بلندیوں میں بھی محفوظ آشیانہ نہیں

۔۔۔۔۔۔ صبا واسطی ۔۔۔۔۔۔

ایک نئی غزل۔۔لاگ میں اب نہ میرا جی لاگےکون خود کو لئے لئے بھاگےسوئی چبھتی رہی تسلی میںزخم سِلتے رہے بنا دھاگےدیکھی جو ای...
08/18/2020

ایک نئی غزل۔۔

لاگ میں اب نہ میرا جی لاگے
کون خود کو لئے لئے بھاگے
سوئی چبھتی رہی تسلی میں
زخم سِلتے رہے بنا دھاگے
دیکھی جو ایسی بے دلی میری
راستے راہ سے نکل بھاگے
کیا رفوگر یہ چیرہ دستی ہے
زخم سوئے نہ بے خبر جاگے
ہو چکا آخرش جو ہونا تھا
زندگی سے گلہ نہیں آگے

08/13/2020

آئینے میں عجب تماشا ہے
ہر تماشائی دیکھتا ہے اُسے
صبا واسطی

07/14/2020

ایک نئی غزل۔۔۔۔

پھر رہے ہو اٹھائے کنکر کیا
بت ہے کوئی تمہارے اندر کیا
حرف محرومِ لمسِ دید ہو ے
ہوگئی ہے کتاب ازبر کیا
پوچھنا آ گیا تو پوچھیں گے
کب کہاں کون کیسے کیوںکر کیا
راز و معنی سے پر تھے بابِ حیات
پڑھ گئے ہم کتاب فرفر کیا
مل رہے ہو چرائے بھی ہو نظر
ہاتھ میں ہو چھپائے خنجر کیا
نیند آئے گی اپنی مٹی میں
چار دن کا یہ گھر یہ بستر کیا
خود کو ڈھونڈو خدا کے ملنے تک
داخلِ ذات سب ہے باہر کیا
زندگی مفت ہی پڑا تجھ کو
کم تر و کم دلا کی چادر کیا
کوئی باطن کسی کا کیا جانے
کوئی ظاہر ہوا ہے خود پر کیا
اُس کو دیکھوں نہیں تو کیا دیکھوں
کُل ہی کُل کُن ہے کوئی منظر کیا
اجنبی چاپ ہے صبا دل میں
آگئے لو عدم کے افسر کیا

-----سید صبا واسطی------

03/27/2020

"امیدیں کتنی" سے ایک غزل

Address

Houston, TX

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Swad wow posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Swad wow:

Share

Category