Sana Jahan The Writer

Sana Jahan The Writer ناول نگر

🎉 Facebook recognized me as a top rising creator this week!
07/10/2024

🎉 Facebook recognized me as a top rising creator this week!

دامِ عشقمقسط:09از قلم:ثناء جہانعدن کو ملتان أئے ایک ہفتہ گزر چکا  تھا وہ اپنی ٹیم کیساتھ مل کہ عورتوں کی سمگلنگ کرنے وال...
06/10/2024

دامِ عشقم
قسط:09
از قلم:ثناء جہان

عدن کو ملتان أئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا وہ اپنی ٹیم کیساتھ مل کہ عورتوں کی سمگلنگ کرنے والے گروہ کو پکڑنے میں سر توڑ مصروف تھا مگر انکا کویی سراغ ہاتھ نہ لگ رہا تھا مگر عدن اسکی ٹیم اور ہاشم جگہ جگہ سرچ کر رہے تھے ۔۔۔

اس مشن میں عدن اور ہاشم اپنی دشمنی بھلائے ایک ایک چیز ڈسکس کر رہے تھے راتون کی نیند اور دن کا آرام سب بھلائے بس اپنے دشمن تک پہنچنا چاہتے تھے اور اپنے دشمن کا پتہ انہیں دو ہفتوں کی محنت کے بعد آخر کار أج مل ہی گیا تھا ۔۔۔

مائیکل جو عورتوں کی سمگلنگ اور اسلحہ وغیرہ دوسرے ممالک سے خرید و فروخت کرتا تھا آج اسکی لوکیشن مل چکی تھی اور اب عدن اور اسکی ٹیم جن میں ہاشم ،ولید اور ارحم شامل تھے اپنے اپنے بیگز اٹھائے جنرل مکرم کے ساتھ میٹنگ ہال میں موجود ان سے بریفنگ ڈسکس کر رہے تھے ۔۔۔

مجھے تم لوگوں پہ بہت بھروسہ ہے انشااللّٰہ تم لوگ ضرور کامیاب لوٹو گے اور اس ادارے کو ایک دفعہ پھر اپنی کامیابی سے روشن کرو گے میری دعائیں ہمیشہ تم لوگوں کے ساتھ ہیں جاؤ اللّٰہ نگہبان ۔۔۔۔
جنرل مکرم سب کو مصافحہ کرتے گلے سے لگاتے اب میٹنگ روم سے نکل چکے تھے ۔۔۔

سب نے ایک دوسرے کو دیکھا اور سمائل پاس کرتے سب اپنی منزل کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔

ان لوگوں کو ملتان سے کراچی جانا تھا اوروہاں کے ایک سنسان علاقے مین مائیکل کی موجودگی یقینی تھی ۔۔۔

وہ سب ایک جیپ میں سوار اپنے سفر کیلیۓ روانہ ہو چکے تھے اب نجانے اس سفر مین کون غازی تھا اور کون شہید یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔۔۔۔۔
♥♥♥♥♥♥♥♥♥
دو ہفتے گزر چکے تھے عدن کو گئے مگر اس نے ان دو ہفتوں میں صرف ایک دفعہ ہی فون کیا تھا ۔۔۔۔
عدن نے ملتان جاتے ہی ہیر کو ایک جدید ماڈل کا ٹچ موبائل بھجوا دیا تھا مگر ہیر کو کال کرنے کا ٹائم ہی نہین مل رہا تھا اور ہیر سارا دن بولائی سی کبھی کچن میں جاتی تو کبھی اماں کے کمرے میں کبھی کبھی دل گھبراتا تو لان میں ٹہلنے نکل جاتی اور اس ستمگر کی یاد تو چوبیس گھنٹے ساتھ تھی جو روز فون کرنے کا کہہ کہ اب ایکدم بدل گیا تھا ناں کوئی کال اور نہ کوئی پیغام وہ کرتی بھی تو کیا ۔۔ُ
دن یونہی پر لگا کہ اڑتے چلے گئے تھے مگر اسے نہیں أنا تھا وہ نہیں أیا اور ہیر فون کو گھنٹوں گھورتی أج پھر کمرے میں بیٹھی بیٹھی سو گئی تھی ۔۔۔۔

سکینہ بیگم دیکھ رہی تھین ہیر کی کیفیت جو پہلے عدن کے نام سے ڈرتی تھی اب اسی کا انتظار رہتا تھا اسے ہر أہٹ پہ پلٹ کر دیکھتی کہ شاید وہ ہو مگر اسکی أنکھین بے أس ہی لوٹ جاتی تھیں ۔۔۔

سکینہ بیگم نے بھی عدن کو کئی مرتبہ کالز کرنے کی کوشش کی تھی مگر فون بند تھا اور وہ جانتی تھین کہ انکا بیٹا ایک دفعہ پھر کسی مشن پہ نکل چکا ہے ۔۔۔
سکینہ بیگم اور چوہدری فاروق دونوں ہی یہ بات جانتے تھے کہ انکا بیٹا ایک سیکرٹ ایجنٹ ہے مگر یہ راز انہوں نے ہیر سے بھی بیان نہیں کیا تھا

اب تو چوہدری فاروق بھی ہیر کو دیکھ کہ بنا کچھ بولے ہی گزر جاتے تھے کیونکہ اب انکے کان بھرنے کیلیۓ فائزہ جو نہیں تھی جو ہر وقت انہیں ہیر کے خلاف بھڑکاتی رہتی تھی۔۔۔
♥♥♥♥♥♥♥♥
فائزہ کو معلوم تھا عدن کسی کام سے اسلامأباد گیا ہے جبھی وہ اب تک اپنے گھر ٹکی تھی مگر نبیل کو اس دن کے بعد سے سکون نہین مل رہا تھا ۔۔۔

اسکی آنکھوں کے سامنے بار بار ہیر کی غصیلی صورت گھوم جاتی اور وہ گھنٹوں اسکے بارے میں بیٹھا سوچتا رہتا تھا ۔۔۔

نبیل ایک عیاش قسم کا لڑکا تھا گھر سے بنا کوئی روک ٹوک وہ کافی بگڑ چکا تھا ۔۔
پیسوں کی کمی نہیں تھی کیونکہ باپ ایک بڑا بزنس مین تھا ۔۔
بنگلہ گاڑی ہر چیز مہیا تھی ۔۔

کپڑوں کی طرح گرلفرینڈز بدلنا اسکے لیۓ عام بات تھی مگر اس دفعہ اسکی سوئی ہیر پہ اٹک کہ رہ گئی تھی ۔ُ۔۔
معصوم اور سادہ سی ہیر میں نبیل کو الگ ہی کشش محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
اسکے آگے پیچھے گھومنے والی لڑکیوں میں سے ایک بھی ہیر جیسی ناں تھی
میک اپ سے اٹی چھوٹے کپڑے جو انہین پورا ڈھانپنے کیلیۓ ناکافی ہوتے تھے ہاتھوں میں قیمتی موبائل اور اپنے اشاروں پہ نچاتی ہوئی لڑکے نبیل کا دل اب ان سب سے اوب چکا تھا وہ کسی نئی تتلی کے شکار میں تھاجب فائزہ نے ذبردستی اسے خود کو۔لینے بلایا اور وہاں اسکی نظر ہیر پہ پڑ گئی اور وہ ایک ہینظر میں نبیل کو بھا گئی تھی ۔۔۔

وہ جانتا ھا کہ وہ ایک ونی میں أئی لڑکی ہے اور ونی کیساتھ کبھی بھی بیویوں والا سلوک نہیں رکھا جاتا وہ اسے ابھی تک ان چھوئی سمجھ رہا تھا اور اسی لیۓ اسکا دل ہیر کو پانے کیلیۓ بیقرار تھا مگر اسے ایک خاص موقع کا انتظار کرنا تھا ۔۔۔۔۔۔

♥♥♥♥♥♥♥♥
عدن اور اسکی ٹیم ماییکل کے خفیہ ٹھکانے تک پہنچ چکے تھے رات کے تین بج رہے تھے ہر طرف ہو کا عالم تھا سمندر کے قریب ایک چھوٹی سی بستی میں ایک کچے گھر میں مائیکل موجود تھا اور وہ چاروں اشارے کنائیوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہتے اپنے چہروں کو ماسک کے پیچھے چھپاتے اس گھر کی دیوار پھلانگ کہ اندر گھسے تھے ۔۔۔
اندر ایک زیرو بلب کی پیلی سی روشنی اندھیرے میں عجیب سا ماحول پیدا کر رہی تھی ہاشم نے سامنے موجود اکلوتے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا پسٹل پہ اپنی گرفت مضبوط کی اور آہستہ قدموں سے دروازے کی جانب بڑھا اور ایک ہی ٹھوکر میں دروازہ توڑ کہ اندر داخل۔ہوامگر کمرہ خالی تھی وہ تینوں ہاشم کے پیچھے آتے چونکے تھے کیونکہ دروازہ اندر سے لاک تھا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اندر کوئی ناں ہوتا ۔۔۔۔

ان چاروں نے کمرے کی ہر چیز کو بکھیر کہ رکھ دیا تھا مگر مائیکل کا کوئی سراغ ناں تھا ۔۔۔

ان چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور نفی میں سر ہلاتے بیڈ سے اٹھے تھے مگر دو قدم چلنے کے بعد عدن کے دماغ میں کچھ کلک ہوا جب وہ فورا پلٹا اور بیڈ کا میٹرس اٹھا کہ پرے پھینکا سامنے ہی اسے اپنا شک یقین میں بدلتا ہوا نظر آیا کیونکہ میٹرس کے نیچے ایک کھڑکی نما دروازہ تھا عدن نے فورا پیچھے اشارہ کیا اور ذور سے کھڑکی بنے دروازے کو کھینچ کھینچ کہ کھولا تھا ۔۔۔
اور وہ چاروں ایک دوسرے کو دیکھ کہ رہ گئے تھے کیونکہ وہاں تہہ خانے کو جاتی سیڑھیاں تھیں ۔۔۔۔
وہ احتیاط سے ایک دوسرے کے پیچھے آہستہ قدم اٹھاتے بڑھ رہے تھے ۔۔۔
سیڑھیوں سے اتر کہ انہین ایک چھوٹا سا ہال نما کمرہ نظر آیا جہاں ایک کونے میں ایک چھوٹا سنگل بیڈ رکھا تھا جس پہ کوئی سر تک چادر اوڑھے سو رہا تھاہاشم نے فورا آگے بڑھتے اسکے سر سے چادر کھینچ کہ اسے گریبان سے پکڑ کہ کھڑا کیا تھا اور ماییکل جو اس وقت مکمل نیند مین ڈوبا تھا اپنے سامنے چار سایے دیکھ کہ خوف زدہ ہوا تھا

مائیکل ایک چوڑی جسامت کا ہٹا کٹا مرد تھا چالیس کے قریب عمر تھی ،گورا رنگ اور کالے بال اسکی أنکھ کے قریب ایک سرخ نشان تھا جو اسے تھوڑا ڈراؤنا بناتا تھا ۔۔۔
ہاشم نے ایک ذور دار تھپڑ اسکے منہ پہ جڑ دیا تھا اور اسکے بعد مکوں اور ٹھڈوں سے اسے ادھ مرا کر دیا تھا عدن اور ارحم پیچھے ہی کھڑے تھے جبکہ ولید کمرے کی تلاشی لینے میں مصروف تھا ۔۔

مائیکل ایک دم نیچے بیٹھ گیا تھا اور اگلے ہی لمحے اس نے اپنی پشت سے ایک چھوٹی سی پسٹل نکالی تھی ابھی وہ ہاشم پہ فائر کرتاکہ عدن نے اسے دیکھ گیا اور دو قدموں میں اس تک پہنچ کہ اس کے۔ہاتھ سے پسٹل چھیننی چاہی تھی مگر مائیکل کی گرفت مضبوط تھی ہاشم نے بھی اسکی گن دیکھ کہ اس سے پسٹل چھیننی چاہی مگر اسی چھینا جھپٹی میں گولی چل گئی تھی اور ایک شور کیساتھ ایک دم خاموشی چھائی تھی ۔۔۔

گولی عدن کے سینے پہ لگی تھی اور وہ وہیں بیٹھتا چلا گیا تھا جبکہ اسے گرتا دیکھ ہاشم کے ہاتھ پاؤں پھولے تھے اور اس نے مائیکل کے ہاتھ میں گولی ماری تھی جس سے پسٹل اس سے دور جا گری تھی وہ ہاتھ پکڑ کہ وہیں بیٹھ گیا تھا بور ہاشم عدن کا سر اپنی گود میں رکھے اسے ہوش۔میں روہنے کا کہہ رہا تھا مگر خون بہت تیزی سے نکل رہا تھا ۔۔۔
ولید اور ارحم نے مائیکل کے سر پہ کالا کپڑا پہنا کہ اسکے ہاتھ باندھ دیئے تھے اور فورا ہی بیک اپ پہ موجود گاڑی کو فورا گھر کے قریب لانے کو کہا ساتھ ہی ہیڈ کوارٹر کال کر کہ وہاں بھی عدن کے زخمی ہونے کی اطلاع پہنچا دی تھی اور وہاںایک بھگدڑ سی مچ گئی تھی ۔۔۔
پرائیویٹ ہاسپٹل کال کر کہ انہوں نے فورا ایمرجنسی کا کہہ کہ تیاری کروا دی تھی ۔۔۔
ہاشم کسی طرح عدن کو کندھوں پہ اٹھائے تہہ خانے سے باہر آیا تھا اور گھر کے سامنے کھڑی گاڑی میں پچھلی سیٹ پہ لیٹاتا خود ساتھ بیٹھا تھااور گاڑی تیزی سے ہاسپٹل کی جانب بڑھ گئی تھی ۔۔۔
ارحم اور ولید مائیکل کو لیۓدوسری گاڑی میں ہیڈ کوارٹر کی طرف روانہ ہوئے تھے ۔۔۔

ہیر نماز کیلیۓ اٹھی تھی مگر ایک دم چکر آنے سے وہ گرتے گرتے بیڈ کا کونا تھام گئی تھی اسکا دل بہت ذیادہ گھبرا رہا تھا مگر کیوں وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔

ہیر جلدی سے نماز کیلیۓ وضو کرتی نماز ادا کرنے کھڑی ہو گئی تھی مگر اسکا دل بہت بیچینی محسوس کر رہا تھا جلدی سے نماز پڑھ کے ہیر نے عدن کا نمبر ملایا تھا بیل جا رہی تھی مگر کوئی اٹھا نہیں رہا تھا یہ پہلی کال تھی جو ہیر نے اپنی طرف سے عدن کو کی تھی ۔۔
تین چار دفعہ کال کرنے پہ بھی کسی نے کال نہیں اٹھائی تھی ۔۔۔
ہیر سر پہ دوپٹہ اوڑھتی کمرے سے نکل کہ باہر لان میں نکل آئی تھی ۔۔۔
ٹھنڈی ہوا نے اسکے زہن پہ اچھااثر کیا تھا وہ تھوڑی ریلیکس ہوئی تھی
شاید طبیعت خراب ہوگئی تھی میں بھی ایسے ہی پریشان ہو گئی اور چوہدری جی کو بھی خواہ مخواہ میں فون کرتی رہی شاید وہ آرام کر رہے ہوں اور میں یونہی ہیر تو بھی ناں کب سدھرے گی بڑی ہو جا اب جھلی۔۔۔ہیر اپنے سر پہ ہلکی سی چپت لگاتی مسکرائی تھی اور دور کھڑی تقدیر بھی ۔۔۔۔۔
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
جاری ہے ۔۔۔۔

دامِ عشقمقسط:08از قلم:ثناء جہانہیر ناشتہ تیار کرتی حاجرہ کے ساتھ کمرے میں جانے لگی تھی جب کوئی اسکے راستے میں أ کھڑا ہوا...
30/09/2024

دامِ عشقم
قسط:08
از قلم:ثناء جہان

ہیر ناشتہ تیار کرتی حاجرہ کے ساتھ کمرے میں جانے لگی تھی جب کوئی اسکے راستے میں أ کھڑا ہوا ۔۔
ہیر نے ایک دم اپنے قدم روکے تھے ورنہ اسکے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے زمین بوس ہو ج. اتی ۔۔۔۔
ہیر نے غصے سے سر اٹھا کہ دیکھا تھا جہاں چوبیس پچیس سال کا لڑکا جو شکل سے ہی أوارہ لگ رہا تھا اسے دیکھ کہ دانت نکوس رہا تھا ہیر نظرانداز کرتی آگے بڑھنے لگی مگر نبیل نے اسکے دوپٹے کا کونہ پکڑ کہ اسے جانے سے روکا ۔۔۔

ہیر جی تھوڑی نظرِ کرم ہم پہ بھی ویسے میں نے سنا تھا کہ کوئی عام سی لڑکی ونی میں أئی ہے مگر أپ کو دیکھ کہ تو ہیر سیال کے حسن کے قصے یاد أگئے ۔۔۔۔

فیروزی سوٹ میں سر پہ شفون کا دوپٹہ جو بار بار سر سے ڈھلک رہا تھا ہلکے نم بال جو پشت پہ پھیلے تھے اور سانولی رنگت لمبی گھنیری پلکیں بھوری آنکھین جن میں اس وقت ہلکا ہلکا غصہ نمایاں تھا اور گلابی بھری بھری گلاب سی پنکھڑیاں نبیل اسے مستقل دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

ہیر نے سختی سے ٹرے شیلف پہ پٹخی اور اپنا دوپٹہ نبیل کے ہاتھ سے چھڑایا تھا ۔
أج کے بعد اگر دوبارہ یہ حرکت کی تو میں تمہارا منہ نوچ لون گی ونی میں أئی ہوں خرید کے نہیں لائے تم مجھے اور جس کے نام پہ آئی ہون اگر اسے اس بات کی بھنک بھی لگ گئی ناں تو تمہارے گھر والوں کو تمہاری ہڈیاں تک نہیں ملیں گی ۔۔۔۔
ہیر میں نجانے اتنی ہمت کہاں سے أئی تھی کہ وہ اس گھر کے مہمان سے بدتمیزی کر گئی تھی یا شاید یہ گزری ہوئی رات میں عدن کا دیا ہوا پیار تھا کہ وہ عدن کے علاوہ کسی کی نظر تک برداشت نہیں کر پائی تھی ۔۔۔
رات عدن کی سرگوشیوں میں ہیر کیلیۓ چاہت اوور مان دونوں محسوس کیا تھا ہیر نے جو عدن ہر تھوڑی دیر بعد اسکے کانوں میں رس گھولتا اسے سناتا رہا تھا ۔۔۔۔

ہیر ایک نظر نبیل پہ ڈالتی شیلف سے ناشتے کی ٹرے اٹھاتی کچن سے نکل گیی تھی اسکے ساتھ حاجرہ بھی جس کے چہرے پہ دبی دبی ہنسی دیکھ کہ نبیل کے سر پہ لگی تھی ۔۔۔۔۔
اب یہ دو ٹکے کی لڑکی مجھے دھمکی دے گی مجھے اس تیکھی مرچی کا تو میں ایسا اچار ڈالوں گا کہ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہے گی ۔۔۔۔
نبیل غصے سے کچن سے باہر نکل کہ لاؤنج میں أ بیٹھا تھا جہاں فائزہ موبائل میں گھسی نجانے کیا کر رہی تھی ۔۔۔
شام کے وقت انہیں ملتان کیلیۓ نکلنا تھا جبکہ ابھیدوپہر ہونے والی تھی ۔۔۔۔
♥♥♥♥♥♥♥♥
نیلم اور صائقہ کو أج شہر جانا تھا خریداری کرنے جبکہ انکے ساتھ ماریہ بیگم بھی تیار ہوئی تھیں مگر پھر اپنا ارادہ ملتوی کرتی نیلم اور صائقہ کو ڈرائیور کے ساتھ بھیج دیا تھا۔۔۔
اڈھائی گھنٹے کے سفر کے بعد وہ دونوں ملتان کے بڑے سے شاپنگ مال میں موجود تھیں ۔۔۔۔
صائقہ مجھے ہیر بھابھی کیلیۓ بھی کچھ سامان لینا ہے تائی جی نے لسٹ دی تھی تم اپنی چیزیں لو تب تک میں انکے لیۓ اس سٹور سے کپڑے وغیرہ دیکھتی ہون اور ہاں ادھر ادھر مت چلی جانا ورنہ بابا۔کا پتا ہے ناں وہ بہت برا حشر کریں گے۔۔۔۔۔
نیلم اپنی چادر سمبھالتی صائقہ کو تاکید کرتی سامنے بنے بوتیک میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔

ایک گھنٹے میں وہ ہیر کے لیۓ دس بارہ سوٹ لے چکی تھی جو سکینہ بیگم نے اسے لازمی لانے کو کہا تھا سردیوں کا موسم شروع ہونے ولا تھا جبکہ ہیر کے پاس چند گنے چنے ہی سوٹ تھے مگر وہ ان میں بھی خوش تھی ۔۔۔

نیلم نے اور بھی ضروری استعمال کی چیزیں خرید کہ پیک کروائیں اور پیمنٹ کرتی بوتیک سے باہر نکلی جب کوئی تیزی سے اندر آتے ہوئے اس سے ٹکرایا تھا ۔۔۔

اہوووووہ شٹ أپ کو لگی تو نہیں میں مدد کر دیتا ہوں ۔۔۔

نیلم کے ہاتھ سے سارے شاپنگ بیگز گر گئے تھے جبکہ ان میں موجود کچھ ایسی چیزین جو نہیں نکلنی چاہیۓ تھین وہ بھی سامنے والے کے پاؤں میں سلامی پیش کر رہی تھیں ۔۔۔۔

ہاشم ایک دم بوکھلایا اور نیلم نے اپنی بوکھلاہٹ میں ہاشم کو غصے بھری نظرون سے دیکھا ۔۔۔

بھورا کرتا ٹراوزر پہنے نازک سے پاں میں کھسہ اور سر پہ کالی شیشوں کی چادر کیے جس میں چہرے کے ہالے سے زلفیں نکل کہ اسکے چہرے کو چھو رہی تھیں
بنا میک اپ کے شفاف رنگت ہیزل گرے آنکھیں اور گلابی ہونٹ اور ہونٹ کے اوپر کالا چوٹا سا تل جو ہاشم کو متوجہ کر رہا تھا مگر اس سے بھی پہلے اسکی ناک میں پہنی وہ چھوٹی سی نتھلی جسے ہاشم یک ٹک دیکھتا رہ گیا
اسکے نتھنوں سے نیلم کے پرفیوم کی میٹھی سی خوشبو ٹکرائی تھی ۔۔

اندھے ہو گئے ہیں أپ نظر نہین أتا کیا أنکھیں گھر چھوڑ کے أئے ہیں اگر اللّٰہ تعالٰی نے یہ بٹن دیئے ہین تو انکا استعمال بھی کر لیا کریں اب منہ کیا دیکھ رہے ہین ہٹیں یہاں سے فالتو میں ٹائم ضائع کروا دیا ۔۔۔۔۔

نیلم جلدی سے ساری چیزیں واپس سے شاپنگ بیگز میں ٹھونستی اپنی چادر سمبھالتی اسے غصے سے دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی مگر ہاشم سٹل وہیں کھڑا رہ گیا تھا
پاگل لڑکی ہاشم نجانے کس کام سے وہاں أیا تھا مگر اب واپس باہر کی طرف مڑتا یہاں وہاں نظر گھماتا اسی پاگل لڑکی کو ڈھونڈنے لگا و کچھ ہی دیر بعد اسے ایک اور لڑکی کے ساتھ دوسرے سٹور میں جاتے دکھائی دی تھی ۔۔۔۔

ہاشم یہاں وہاں دیکھتا انکے پیچھے چل دیا تھا اور سٹور میں اپنے أپ کو ریک کے پیچھے چھپاتا نیلم کو دیکھنے لگا جو صائقہ کی کسی بات پہ مسکرائی تھی ۔۔۔

ہاشم کو اسکی ناک میں پہنی نتھلی نےایک بار پھر سے اپنی طرف متوجہ کیا تھا اور اب وہ ایک ٹین ایج لڑکوں کی طرح اپنی جیب سے موبائل نکال کہ نیلم کی تین چار تصویریں لے چکا تھا اور پھر اپنی بے اختیاری پہ خود ہی مسکرا دیا تھا ۔۔۔

نیوی بلیو جینز پہ اف وائٹ شرٹ اور ساتھ مین وائٹ سنیکرز ہاتھ میں براؤن پلین واچ بھورے بال جو ماتھے پہ لاپرواہی سے بکھرے تھے ،سانولی رنگت مگر پر کشش سنجیدہ بھوری آنکھیں جن میں اس کی ہر وقت رہنے والی سرد مہری سے کوئی اور لڑکی تو کیا اسکی ٹیم میں بھی کوئی لڑکی نہ رہتی تھی کہ وہ کام کے معاملے مین کافی سخت مزاج تھا مگر اس وقت اگر اسکے کولیگز اسکو یوں ہنستے دیکھ لیتے تو حیرت سے بیہوش ھو جاتے مگر اس وقت وہ خود ہوش میں کہاں تھا وہ تو کسی حسینہ کی نتھلی پہ دل ہار بیٹھا تھا جو اسکی بہن کی نند تھی مگر وہ کہاں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔

ہاشم کے نمبر پہ بار بار کالز أ رہی تھیں جنہیں وہ نظر انداز کر رہا تھا مگر مسلسل ہوتی بیل سے اب آس پاس کے لوگ بھی متوجہ ہو رہے تھے اور ہاشم اپنی بے اختیاریوں پہ ققابو پاتا سٹور سے باہر نکل أیا تھا اور اب جنرل مکرم کی سخت باتیں سننے کو مل۔رہی تھیں انہوں نے ہاشم کو ایک أدمی کو پکڑنے کا کہا تھا جو اس مال میں چھپا تھا مگر ہاشمکی لاپرواہی کی وجہ سے وہ انکے ہاتھ سے أج بھی نکل چکا تھا اور ہاشم سخت شرمندہ ہوتا فورا ہیڈ کوارٹر پہنچا تھا جہاں سب ہی ٹیم میمبرز موجود تھے
جنرل مکرم نے عدن کو کال کر کہ فورا بلایا تھا اور دو گھنٹے میں اسے پہنچنے کا کہا تھا ۔۔۔۔
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
عصر کا وقٹ تھا عدن ڈیرے پہ چوہدری فاروق کے سامنے بیٹھا ان سے زمینوں کے معاملات دیکھ رہاتھا جب اسے ہیڈ کوارٹر سے کال أئی تھی اور اسے فورا پہنچنے کا کہا تھا اور عدن اوکے کا سگنل دیتا چوہدری فاروق سے بہانہ بناتا وہاں سے تیزی سے نکلا تھا ۔۔۔۔
اپنی جیپ میں بیٹھ کہ وہ پندرہ منٹ میں حویلی پہنچاتھا ہیر اس وقت شام کی چائے بنا رہی تھی جب عدن کی أواز سنتی باہر أئی جہاں وہ حاجرہ سے ہیر کا پوچھ رہا تھا عدن کو اتنی جلدی مچاتے دیکھ ہیر جلدی سے اسکے قریب أئی اور ہیر کو دیکھتے ہی عدن نے اسکے بازو سے پکڑ. کہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں لایا تھا ہیر اس افتاد پہ ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کمرے میں أتے ہی عدن نے اسکا ہاتھ چھوڑا ۔۔
ہیر مجھے تھوڑی دیر میں شہر کیلیۓ نکلنا ہے نجانے کتنے دن لگ جائیں میرے بیگ میں سامان رکھ دو میں فریش ہونے جا رہا ہوں اور زرا جلدی کرنا پلیز ۔۔۔۔۔
عدن کی جلدی پہ ہیر بھی تیزی سے آگے بڑھی اور اسکا سامان پیک کرنے لگی ۔۔۔

پندرہ منٹ میں عدن باہر نکلا تو ہیر بیڈ پہ بیگ رکھے تقریباً سارا کام کر چکی تھی عدن بالوں میں تولیہ رگڑتا اسکے پاس أیا اوراسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے قریب کیا ہیر ایک دم ٹھٹھکی ۔۔۔۔

اسکی عدن کی طرف پشت تھی جبھی وہ اسے دیکھ نہ سکی تھی ۔۔

عدن اسکی گردن میں منہ چھپائے اسکی گردن پہ لمس چھوڑتا اسے کانپنے پہ مجبور کر گیا۔۔

أپ أپکو دیر ہو رہی ہے میں نے سب سامان رکھ دیا ہے پ دیکھ لیں ایک دفعہ ۔۔۔
ہیر کی لڑکھڑاتی زبان سے عدن نے مسکرا کہ اسکا رخ اپنی طرف کیا اور اسکی گال پہ اپنا ہاتھ رب کیا اور بنا ایک پل کی مہلت دیۓ وہ ہیر کے لبوں پہ جھکا تھا۔۔۔۔
ہیر اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتی اسے پیچھے دھکیلنے لگی مگر عدن کے لمس میں شدت أئی تھی ہیر کاسانس اسکے گلے میں ہی اٹک رہا تھا جب عدن نے محسوس کرتے اسے. چھوڑا اور واپس شیشے میں آن کھڑا ہوا شیشے سے ہیر کو دیکھا جو اپنا سانس بحال کرتی خفگی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

أپ بہت برے ہیں پہلے رات کو اتنا ۔۔ابھی وہ کچھ کہتی کہ عدن کی مسکراہٹ دیکھ کہ چپ ہوئی ۔۔۔

بولو ناں کہ رات بھی اتنا رومینس کیا اور اب بھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔۔۔عدن نے جسم پہ پرفیوم چھڑکتے اسکی جانب قدم بڑھائے جبکہ اسے واپس اپنی طرف بڑھتا دکھ وہ بدک کہ پیچھی ہوئی ۔۔۔۔

أپ أپ دور رہ کہ بھی بات کر سکتے ہیں أپ بار بار قریب کیوں آتےہیں ؟؟
ہیر دو قدم پیچھے ہٹتی دیوار کے ساتھ جا لگی تھی ۔۔۔
عدن مسکرا کہ بیڈ سے اپنا بیگ اٹھاتا اسکی طرف ہاتھ بڑھایا تو ہیر جھجک کہ اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتی اسکے قریب ہوئی ۔۔۔

پہلی بات یہ کہ تم بیوی ہو میری دور نہیں رہ سکتا دوسری بات اگر میں قریب آتا ہوں تو اس میں ڈرنے کی بات نہیں ہے أفٹرآل کل رات ہی میں أپکا سارا ڈر نکال چکا ہوں اور أخری بات جب جب میں پاس آؤں تم مجھے دور نہیں کر سکتیں کیونکہ اب پاس رہتے ہوئے مجھ میں اتنا صبر نہیں ہے کہ اپنی معصوم اور حسین بیوی سے دور رہ سکوں امید ہے کہ تم سمجھ چکی ہوگی اور ایک بات دوبارہ اگر اس گھر میں کوئی تمہاری تذلیل کرے گا اسکو منہ توڑ جواب دینا ہے کسی سے ڈرنا نہیں ہے میں شوہر ہوں تمہارا ہر حق دیا ہے تمہیں تو اپنے حق کو استعمال کرنا سیکھو ۔۔۔
میری بیوی میری عژت ہو اگر کچھ بھی ایسا ہو جو تمہیں لگے غلط ہے مجھے یا اماں کو بتا سکتی ہو میں کبھی تم سے غافل نہین رہوں گا کحھ دن لگیں گے مجھے مگر میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا اور ایک دو دن میں موبائل بھیج دوں گا اور ہر رات سونے سے پہلے تم سے بات کروں گا اور کسی دنناں کر سکوں تو پریشان مت ہونا بس دعا کر دینا۔۔۔۔
ہیر کے ہاتھ کی پشت پہ بوسہ دیتے عدن نے اسے سائیڈ ہگ کیا تھا اور اسکے سر پہ بوسہ دیتا اسکا گال تھپتھپاتا ہوا باہر نکل گیا تھا ابھی اسے اپنی اماں سائیں سے بھی ملنا تھا ۔۔۔۔
ڈرائیور اسکا سامان گاڑی میں رکھوا چکا تھا مگر ہیر تو اسکے آخری بوسے پہ ہی ساکت و۔سامد کھڑی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی مگر اسکا دل گھبرا رہا تھا نجانے کیوں مگر ہیر اسے جھٹک ناں سکی اور کمرے کی کھڑکی تک آئی جہاں عدن گاڑی پورچ سے نکال کہ اب گیٹ سے باہر نکل رہا تھا مگر وہ گاڑی سے نکلا تھا اور کھڑکی کی طرف نگاہ اٹھائی تھی جہاں اسکی توقع کے عین متابق ہیر کھڑی تھی عدن نے ہاتھ ہلا کہ اسے بائےکہا تھا اور واپس گاڑی میں بیٹھتا اپنی منزل کی جانب زن سے گاڑی نکال لے گیا اور ہیر تھکے تھکے قدموں سے واپس بیڈ پہ آ بیٹھی تھی کچھ دیر قبل جو کمرا خوشبوؤں سے بھرا ہوا مخسوس ہو رہا تھااس وقت اسے یہ کمرہ ویران اور اجڑا سا محسوس ہوا اور ہیر کمرے سے گھبرا کہ سکینہ بیگم کے پاس چل دی تھی کہ انکے پاس سکون ہی سکون میسر تھا ۔۔۔۔
♥♥♥♥♥♥♥♥
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

دامِ عشقم قسط :7از قلم  : ثناء جہان ♥♥♥♥♥♥♥♥♥شام کے سات بج رہے تھے عدن فریش ہونے کے بعد  واپس نیچے آیا تھا۔مگر۔روم لاک ک...
27/09/2024

دامِ عشقم
قسط :7
از قلم : ثناء جہان
♥♥♥♥♥♥♥♥♥
شام کے سات بج رہے تھے عدن فریش ہونے کے بعد واپس نیچے آیا تھا۔مگر۔روم لاک کر کہ وہ جانتا تھا اگر۔ہیر اٹھی تو وہ روم میں نہیں رکے گی اور سب کے پوچھنے پہ اس۔نے بہانہ کیا تھا کہ ہیر نے اسکی شرٹ جلا دی جس کی سزا کے طور پہ اسے بغیر کھانا کھائے روم۔میں لاک کر دیا تھا فائزہ تو یہ سن کہ خوش ہوئی تھی جبکہ باقی سب بھی ایسے ہی اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہوئے تھے انکو بھلا کہاں فکر تھی ہیر کی چاہے مرتی یا جیتی کیونکہ وہ ایک ونی میں آئی لڑکی تھی اور اسکی اوقات گھر کے نوکر سے بھی بدتر تھی۔۔۔۔

سب کھانا کھانے کے بعد لاؤنج میں بیٹھے قہوہ پی رہے تھے جب عدن نے اپنے موبائل میں اپنے بیڈروم کی سی سی ٹی وی نکالی جو کسی کے علم میں نہیں تھی عدن جب گھر سے باہر ہوتا پو امپورٹنٹ فائلز روم میں ہونے کی وجہ سے چیک کرتا رہتا اور آج ہیر کو دیکھنے کیلئے اس نے آن کی تھی جس میں ہیر کمرے میں چکر کاٹتی نظر آئی تھی ۔۔۔

آدھے گھنٹے سے وہ ہوش میں آچکی پھی مگر کمرے کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے وہ راہ فرار نہ ڈھونڈ پا رہی تھی جبھی ہاتھوں کے ناخن چباتی ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔

عدن کی دن والی حرکت کے بار بار خیال آ رہے تھے جن کی وجہ سے وہ شرم سے زمین میں گڑھی جا رہی تھی ۔۔۔

عدن پانچ منٹ اسے یونہی دیکھتا لاؤنج سے اٹھ کہ باہر لان میں آگیا تھا جب فائزہ بھی سب کو باتوں میں مگن دیکھ کہ چپکے سے اسکے پیچھے آئی تھی اور اسکے پشت سے آ لگی تھی عدن ایکدم چونکا اور فوراً مڑ کہ پیچھے دیکھا جہاں فائزہ بے شرمی سے مسکراتی اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔

فائزہ یہ کیا طریقہ ہے لحاظ کیا کرو۔نحرم نہیں ہوں میں تمہارا اور یوں حویلی کے لان میں اگر کسی نوکر نے دیکھ لیا ہوتا تو جانتی ہو کتنی باتیں بنتی آج کے بعد اس طرح کی بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا۔میں سُن لو ۔۔۔۔۔

عدن غصے سے اسے کہتا واپس اپنے روم کی جانب بڑھ گیا جبکہ کھڑگی سے یہ منظر دیکھتی ہیر وہیں ساکت و سامد کھڑی تھی ۔۔۔
وہ جانتی تھی فائزہ اور عدن منگیتر ہیں مگر وہ عدن کی بیوی تھی۔۔۔

بیوی؟؟
کیا عدن نے اسکو کبھی بیوی سمجھا تھا ؟ اگر نہیں تو وہ سب کیا تھا جو آج دن کو عدن نے اسے اپنی قربت دی تھی وہ سچ تھا یا پھر یہ جو فائزہ عدن کی پشت سے لگی۔اس سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔
ایک آنسو ٹوٹ کہ اسکی گال پہ پھسلا اور تبھی عدن دھاڑ سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا اور۔اسے کھڑکی کے پاس کھڑے روتا دیکھ وہ ٹھٹھکا کیونکہ کھڑکی سے لان صاف نظر آتا تھا ۔۔۔۔۔

عدن کو دیکھتی ہیر جلدی سے سر پہ دوپٹہ اوڑھتی آنسو صاف کرنے لگی عدن اسے نظر انداز کرتا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔۔۔

اسے فائزہ کی حرکت پہ غصہ آ رہا تھا کیسے وہ ایک لڑکی ہو کہ ایسی حرکت کر سکتی تھی ابھی وہ اپنے ہاتھ سے گھڑی اتار کہ رکھتا کہ ہیر کو دروازہ کھول کہ باہر جاتے دیکھا تو فوراً اسکی جانب لپکا اور دروازے سے ہی اسے بازو سے پکڑ کہ اندر کھنچتا دروازہ لاک کر گیا ۔۔۔۔۔۔

ہیر اس اچانک حملے پہ ڈرتی پیچھے ہوئی ۔۔۔
کہاں جا رہی تھیں ہاں بولو جواب دو ؟؟؟عدن اسے اپنے قریب کرتا اسکے جبڑے کو سختی سے پکڑ کہ غرایا ۔۔۔۔فائزہ کا غصہ وہ ہیر پہ نکال رہا تھا۔۔۔

وہ وہ مین وہ باہر ۔۔۔۔ہیر اسکی سختی سے ڈرتی ہوئی بولی ۔۔۔

کہیں نہیں جاؤ گی تم سنا تم نے اگر غلطی سے بھی ایسی غلطی کی تو مجھ سے برا کوئی نہین ہوگا۔۔۔۔

اپنا منہ اسکے منہ کے قریب کرتا بھاری آواز میں بولا اسکی گرم سانسیں ہیر کے منہ پہ پڑتی اسے خوف ذدہ کر رہی تھیں ۔۔۔۔

آپ آپ دور دور ہوں مجھے ڈر ڈر لگ رہا ہے آپ سے ۔۔ہیر ہکلاتی آنکھیں سختی سے میچے بولی کیونکہ عدن کی سرخ ہوتی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت اس میں ابھی نہیں تھی ۔۔۔۔

عدن گہرا مسکرایا مگر سنجیدہ ہوتا اسے دیکھنے لگا اور اگلے ہی لمحے اسے بازوں میں اٹھا لیا ۔۔۔

ہیر اس حملے کیلیۓ تیار نہ تھی تبھی گرنے کے ڈر سے عدن کے گلے میں بازو ڈال کہ اسی کے سینے میں منہ چھپا لیا ۔۔۔۔۔

کک کیا کر رہے ہیں میں میں گر جاؤں گی ۔۔۔ ہیر لڑکھڑائی آواز میں بولی مگر عدن اسے بیڈ کی ایک طرف لٹاتا اس پہ جھکا اور اسکے کانپتے وجود کو دلچسپی سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔

آنکھیں کھولو ہیر۔ عدن کی گھمبیر آواز پہ ہیر نے۔ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھیں کھولیں جن میں خوف اور دہشت تھی ۔۔۔۔۔

مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے شوہر ہوں تمہارا اور آج کے بعد مجھ سے دور بھاگنے کی کوشش مت کرنا ورنہ ٹانگیں توڑ کہ بیڈ پہ بٹھا دوں گا ۔۔۔۔۔۔

عدن اسے ڈرانے کو بس بول رہا تھا وگرنہ اسکا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا ۔۔
ہیر نے اثبات میں سر ہلایا

عدن اپنی قمیض کے بٹن کھولتا ہیر کے قریب ہوا جب ہیر نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کہ اسے روکا ۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ کوئی آ جائے گا چھوڑیں مجھے ۔۔ہیر سہمی سی دروازے کو دیکھتی بولی جب عدن نے اسکے ہونٹوں پہ انگلی رکھی۔۔

ششش کوئی نہیں آئے گا اور اب تمہاری أواز بھی نہ أئے ورنہ میں بہت برا حشر کروں گا۔۔۔
عدن اسے گھورتا اسکے ہونٹوں پہ انگوٹھا رب کرتا جھکا تھا اور اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیا ۔۔
ہیر کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا مگر عدن کی گرفت سخت تھی ۔۔۔۔
ہیر کے ہاتھ عدن کے سینے پہ دھرے اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے مگر عدن کے سامنے ہیر کی جان آدھی بھی نہ تھی۔۔۔

عدن اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اسکے بند بالوں کو اذاد کرتا اسے مزید قریب کر گیا

ہیر کی سسکی سے عدن ہوش میں آیا اور فورا پیچھے ہوا کیونکہ ہیر کی سانی بند ہو رہی تھی مگر عدن نے ایک منٹ کی مہلت کے بعد دوبارہ اسکے ہونٹوں کی قید میں لیا ہیر کو یونہی خود میں الجھائے وہ ایک دم سے اسکی شرٹ کی ذپ کھولتا اسکے جسم سے۔الگ کر گیا۔۔۔
ہیر کے دونوں ہاتھ عدن نے اپنے ایک ہاتھ سےبیڈ کے کراؤن سے پن کرتے اسکی گردن میں منہ چھپایا تھا اور عدن کی سانسوں کی گرمی سے ہیر سر سے پیر تک کانپی ۔۔۔
چوہدری جی یہ مت کریں پلیز ۔۔ہیر کی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کہ بکھرے ۔۔۔
عدن نے خمار بھری نظروں سے اسے دیکھا اور اپنے ایک ہاتھ سے اسکے أنسو پونچھے ۔۔۔۔
ابھی رونے کی ضرورت نہیں ہے أگے بہت سے موقع دوں گا رونے کے اب چپ بس۔۔۔۔
ہیر کی گردن سے نیچے ہاتھ لیجاتے عدن نے ہیر کو دیکھا جس نے اپنی سانس تک روک رکھی تھی ۔۔۔

عدن سیدھا ہوتا اپنی قمیض اتار کہ دور اچھالتا اس پہ ہاوی ہوا اور سائیڈ ٹیبل پہ جلتا مدھم لیمپ مزید مدھم کر گیا ۔۔۔

ہیر اور عدن کی گہری ہوتی تیز سانسوں کی آواز کمرے میں پھیلی ماحول کو خوابناک بنا رہی تھیں ۔۔۔۔
ہیر کی چیخ اسکے گلے میں ہی روکتے عدن اسکے ہونٹوں پہ اپنے جلتے لمس چھوڑتا اسے مزید اپنے قریب کر گیا ۔۔۔۔

أہستہ أہستہ رات ڈھلتی جا رہی تھی مگر رات کے ساتھ عدن کی شدتوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا جبکہ ہیر اسکی شدتوں کو سہتی اسکی بانہوں میں اسی سے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی مگر أج عدن اسکو کوئی رہائی دینے کے موڈ میں نہ تھا۔۔۔۔

♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
صبح کے دس بج رہے تھے اور فائزہ صبح آٹھ بجے سے جلے پیر کی بلی بنی عدن اور ہیر کے کمرے کے باہر چکر کاٹ رہی تھی مگر ان دونوں میں سے ایک بھی باہر نہ آیا تھا ابھی ۔۔۔
أج ہی فائزہ کی امی نے اسکے بھائی کو فایزہ کو لینے حویلی بھیجا تھا مگر فائزہ بنا عدن سے ملے جانا نہیں چاہتی تھی مگر وہ تو نجانے کونسے نشے کر کہ سویا تھا کہ ابھی تک اٹھا نہیں تھا اور ہیر بھی ابھی تک کمرے سے باہر نہ نکلی تھی یہی بات فائزہ کو سکون نہ لینے دے رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ ہیر کو عدن نے اپنی گرفت میں سے نکلنے کہاں دیا تھا اور ہیر جو پوری رات عدن کی سختیاں برداشت کرتی رہی تھی وہ بھی عدن کے سینے سے لگی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔
عدن کی آنکھ موبائل پہ بجتے بار بار الارم سے جھنجلا کہ اٹھا تھا مگر ہیر کو اپنی گرفت میں دیکھ کہ ہلکی مسکان اسکے لبوں پہ بکھر گئی
ساری رات عدن نے اسکی جان کو ایک پل نہ سکون دیا تھا دو مہینے کی شدتیں ایک ہی رات میں اس پہ نچھاور کرتا اسے اپنا بنا گیا تھا ۔۔۔۔۔
عدن نے اسکے چہرے پہ آئے بال کان کے پیچھے اڑھسے اور اسکے ماتھے پہ ہلکا سا بوسہ دیا تبھی ہیر کسمسائی اور اپنی آنکھیں کھول کہ اسے اپنے اتنا قریب دیکھ کہ ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوئی عدن نے دلچسپی سے اسکی بوکھلاہٹ دیکھی جو اپنے کپڑے درست کرتی ادھر ادھر دوپٹہ ڈھونڈ رہی تھی جو عدن کے نیچے دبا تھا ہیر نے اسکی طرف دیکھا جب عدن نے آنکھ ونک کرتے اسکا دوپٹہ اپنے ہاتھ پہ لپیٹتے اسے اپنے پاس بلایا مگر ہیر سر جھٹکتی الماری کی جانب بڑھی اور اپنے کپڑے نکالنے لگی مگر عدن کو اپنا اگنور ہونا پسند نہیں أیا تھا جبھی اگلے پل اسکے پیچھے کھڑا الماری کے پٹ پہ اپنے دونوں بازو رکھتا اسے اپنی قید میں لیا تھا اور ہیر صبح ہی صبح اسکے بدلتے انداز دیکھ کہ وہیں ساکت ہوئی تھی ۔۔۔

مجھے نظر انداز کیوں کیا ہیر؟؟؟ عدن ہیر کے کندھے پہ تھوڑی ٹکاتا بولا ۔۔
نہیں نہیں وہ وہ دیر دیر ہو رہی تھی سب کیا سوچیں گے مجھے نیچے جانا ہےمیں آپکے لیۓ ناشتہ بناتی ہوں ہیر کانپتی ٹانگوں سے کپکپاتی أواز میں بولی ۔۔۔

پر مجھے تو تمہیں کھانا ہے ۔۔۔عدن اسے اپنی طرف گھماتا اسکے لبوں پہ جھکا تھا ہیر دوبارہ اسے رات والے موڈ میں آتا دیکھ کہ گھبرائی تھی ۔۔۔۔
ہیر نے لرزتے ہاتھ اسکے کندھے پہ رکھتے اسے دور کرنا چاہا تھا مگر عدن کی گرفت ایک دم سے بڑھی تھی ۔
ہیر کو اپنی سانس بند ہوتی محسس ہو رہی تھی عدن نے اسکے سر کے پیچھے ہاتھ رکھتے اسکی گردن پہ جھکا تھا اور اپنی سانسون کے گرم لمس ہیر کے گردن پہ جا بجا بکھیرنے لگا ابھی وہ مزید آگے بڑھتا کہ دروازہ ناک ہوا تھا اور عدن اکدم اس سے دور ہوا اور ہیر کو دیکھا جو پھولی سانسوں سے کھڑی تھی عدن نے اسکی گردن پہ اپنے دیۓ نشان دیکھے اور ایک مسکراہٹ اچھالتا دروازے کی جانب بڑھ گیا تبھی ہیر فورا اپنے کپڑے لیتی واشروم میں گھسی تھی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
عدن نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی فائزہ کو کھڑے دیکھا ۔۔۔۔
کیا بات ہے اتنی بے صبری سے دروازہ بجانے کا مطلب پوچھ سکتا ہوں ؟ فائزہ اسکے پیچھے جھانکتی عدن کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔۔۔
وہ میں ملتان جا رہی ہوں نبیل آیا ہے لینے اسکے لیۓ ناشتہ بنوانا ہے کہاں ہے وہ لڑکی کل شام سے ؟؟؟فائزہ أہستہ مگر کھردرے لہجے میں بولی تو عدن کو غصہ أیا ۔۔۔

پہلی بات تو یہ کہ اس لڑکی کا نام ہیر ہے دوسری بات وہ اس گھر کی نوکرانی نہیں ہے کہ تمہارے گھر سے جو بھی أئے اسکے لیۓ. ناشتہ بنائے حاجرہ سے کہو وہ بنا دے گی اور دوبارہ اگر تم نے اپنا کوئی کام اس پہ تھوپا تو مثھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اپنے ہاتھ سلامت ہیں کیا کرو خود اب جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔
عدن فائزہ کے منہ پہ دروازہ بند کرتا واپس مڑا اور اپنا موبائل چیک کرنے لگا کچھ ضروری میلز چیک کرنے کے بعد صوفہ پہ جا بیٹھا ۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد ہیر شاور لے کے باہر نکلی تو عدن کو صوفے پہ أنکھوں پہ ہاتھ رکھے بیٹھے دیکھا۔۔۔
ہیر چپ چاپ بال ٹاول میں لپیٹ کہ الماری سے عدن کیلیۓ کپڑے نکالنے لگی۔۔
چوہدری جی اٹھ کہ نہا لیں میں ناشتہ بناتی ہوں أپکے لیۓ ۔۔ہیر جلدی۔سے بال سکھا کہ عدن سے کہتی دوپٹہ سر پہ اوڑھتی کمرے سے نکلنے لگی جب عدن کی آواز پہ مڑی ۔۔۔
میں ناشتہ روم میں کروں گا اپنا اور میرا ناشتہ یہیں لاؤ ۔۔۔عدن اسے کہتا فریش ہونے چل دیا جبکہ ہیر سر ہلاتی کچن کی جانب چل دی۔۔۔۔

ابھی اسے ناشتہ بناتے تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب حاجرہ کچن میں داخل ہوئی مگر ہیر کو دیکھتی ایک پل کو ٹھٹھکی ۔۔۔

نکھری نکھری سی ہیر چہرے پہ ہلکی سی شرمگیں مسکان اور کمر پہ دوپٹے سے جھانکتے بھورے بالوں کی نمی۔۔۔۔۔

اوووووہ ہو بی بی جی أج تو روپ ہی الگ چڑھا ہے آپ پہ کیاہوا تھا کل رات ہاں ۔۔۔حاجرہ اسے ٹہوکا مارتی بولی جب ہیر نے اسکے کندھے پہ ایک مکہ جڑ دیا ساتھ ہی حاجرہ اور ہیر کا قہقہہ کچن میں گونج اٹھا تھا جسے باہر سے گزرتی فائزہ نے نفرت سے سنتے سر جھٹکا ۔۔۔۔

♥♥♥♥♥♥♥♥♥
جاری ہے۔۔۔۔

دامِ عشقم😍قسط:: 06ثناء جہانہیر کے نکاح کو دو ماہ گزر چکےتھے مگر ابھی تک جیسے اسکے ماں باپ کا  کہیں دل ناں لگتا  تھا جوان...
24/09/2024

دامِ عشقم😍
قسط:: 06
ثناء جہان

ہیر کے نکاح کو دو ماہ گزر چکےتھے مگر ابھی تک جیسے اسکے ماں باپ کا کہیں دل ناں لگتا تھا جوان بیٹی کا غم انہیں اندر ہی اندر کھا رہا تھا ہاشم اس سب کا قصوروار خود کو سمجھتا تھا بیشک وہ شرمندہ تھا مگر اب گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا تھا کہ وہ اپنی غلطی کو سدھار سکے۔۔۔۔۔

رات کے بارہ بج رہے تھے گاؤں کے لوگ اپنی آدھی نیند پوری کر چکے تھے جب ایک گھر کے چھوٹے سے کمرے میں روشنی ہوئی تھی اور کسی نے آرام سے دروازہ بند کر کی کپڑوں کے صندوق سے ایک بیگ نکالا ۔۔۔۔

اس بیگ کی شکل منی لیپ ٹاپ کے کور جیسی تھی اور اگلے سیکنڈ اس میں سے ایک چھوٹا سا لیپ ٹاپ نکلا جس پہ کچھ پاسورڈ داخل کرنے کے بعداب سکرین پہ کوئی مناظر چل رہے تھے یہ ایک خفیہ کمرے کی ویڈیو تھی جس میں کثیر تعداد میں نو عمر لڑکے نشہ آور دوا کے زیر اثر کبھی ادھر جھول رہے تھے تو کبھی ادھر انکے قریب ہی ایک بڑے سے میز کے گرد چار ہٹے کٹے آدمی میز پہ رکھا سفید پاؤڈر چھوٹے چھوٹے پیکٹ میں بھر کہ ایک طرف کو رکھتے جا رہے تھے ۔۔۔۔
منظر ایک دفعہ پھر بدلہ اب جس کمرے کا منظر سامنے تھا اس میں چھ سات لڑکیاں نیم بیہوشی میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھی تھیں انکے بکھرے بال اور پھٹے کپڑے ان پہ تشدد کی نشاندہی کر رہے تھے ۔۔۔
اس نے زور سے لیپ ٹاپ کی سکرین بند کی اور سر ہاتھوں میں گرائے کچھ سوچنے لگا جب اسکے موبائل پر کال آنی شروع ہوئی ۔۔۔۔

اس نے ایک نظر موبائل سکرین کو دیکھا اور کال اٹینڈ کی ۔۔۔۔

اسلام و علیکم سر کیسے ہیں آپ؟ اس نے اپنا لہجہ نارمل کرنا چاہا ۔۔۔۔۔
الحمدللہ ٹھیک ۔۔تمہیں کچھ ویڈیوز بھیجی تھیں یقیناً تم نے دیکھ لی ہوں گی ۔۔۔۔
لیفٹننٹ جنرل مکرم حمید نے سلام کے فورا بعد مدعے کی بات کی تھی ۔۔۔

یہ ویڈیو ہمارے مخبر ولی نے بھیجی تھیں جو کل رات کے بعد سے غائب ہے اسکا نمبر بند جا رہا ہے اور کوئی خبر نہیں کہ اس وقت وہ زندہ بھی ہے یا نہیں مگر ہمیں اسے ڈھونڈنا ہے کیونکہ اگر وہ دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو تم جانتے ہو کیا مشکلات پیش آ سکتیں ہیں مجھے شک ہے کہ وہ تمہارے آس پاس ہی کہیں ہے کیونکہ جگہ کی لوکیشن تمہارے گاؤں کے ساتھ ہی جو دوسرا گاؤں ہے وہاں کی ہےتم تیاری کرو کل تک تمہیں دوسرے آفیسرز کیساتھ آپریشن کرنا ہے جس کی لیڈ تم کرو گے اور مجھے پورا بھروسہ ہے کہ تم اس دفعہ بھی کامیاب ہی لوٹو گے۔۔۔۔


اپنے چیف کی بات سنتا وہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔

مگر سر اس سب کے لیے پہلے ساری پلاننگ کرنی پڑے گی جگہ کا تعین اور حفاظتی اقدامات وہاں قید بچے اور بچیوں کی حفاظت کے انتظامات کرنے کے بعد ہی ہم کوئی قدم اٹھا سکیں گے ورنہ یوں ایکدم اچانک اٹھ کہ جانا سرا سر بیوقوفی ہوگی ۔۔۔

ہاشم ہم نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں صبح سات بجے کے قریب تمہیں ساری ڈیٹیلز دے دی جائیں گی تمام کیپٹنز جو تمہارے ساتھ ہوں گے سب کا بائیؤ ڈیٹا مل جائے گا اس وقت تم صرف اپنے مقصد کی طرف توجہ دو باقی ہم دیکھ لیں گے اپنا خیال رکھنا اللّٰہ نگہبان ۔۔۔۔

جنرل مکرم نے اسکی سنے بغیر ہی کال کاٹ دی تھی اور وہ ایک دفعہ پھر سر ہاتھوں میں تھام کہ رہ گیا تھا۔۔۔۔

گھڑی پہ وقت دیکھا جو صبح کے چار بج کر تیس منٹ بجا رہی تھی وہ آہستہ سے تمام چیزیں واپس اپنی جگہ پہ رکھتا کمرے سے باہر نکلا اور نماز کی غرض سے نلکے کے یخ بستہ پانی سے وضو کرنے بیٹھا ۔۔۔۔۔

دور کہیں سے فجر کی پہلی آزان کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

تین سال سے وہ آئی ایس آئی میں شامل تھا جس کے بارے میں صرف اسکے باپ محمد یوسف کو پتا تھا بچپن سے ہی اسے آرمی میں جانے کا شوق تھا اور عمر کے ساتھ اسکا شوق بھی بڑھتا گیا اور جنون بن گیا ۔۔۔۔

گاؤں والوں کی نظر میں وہ ایک عام دیہاتی تھا جو اپنی چھوٹی سی زمین پہ کاشتکاری کرتا تھا مگر اصل میں وہ ایک ایجنٹ تھا ۔۔۔۔۔

اب اسے صبح کا انتظار تھا آنے والا سورج کس کیلیے کیا لے کہ آنے والا ہے یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا ۔۔۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
عدن کمرے میں داخل ہوا تو کمرے میں صرف ایک لیمپ کی روشنی جل رہی تھی ۔۔۔
عدن دبے قدموں سے بیڈ کی دائیں جانب آیا ہیر کو نیند میں دیکھ کہ اسکا دل بغاوت کرنے لگا تھا ۔۔ اپنے کندھے سے شال اتار کہ ہیر کے قریب پھینکی نیند میں اپنے قریب ہلچل محسوس کرتی وہ ایکدم ہڑبڑا کہ اٹھی تھی ۔۔۔۔
مگر اپنے سامنے ایک سائے کو دیکھ ابھی اسکے منہ سے چیخ نکلتی عدن نے جلدی سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھتے اسے واپس تکیے پہ گرایا تھا ۔۔۔۔
ہیر جو اس افتاد پہ آنکھیں پھاڑے ہوئے تھی عدن کی مخصوص پرفیوم کی خوشبو محسوس کرتی ڈھیلی پڑی تھی اور عدن نے بھی اسکے منہ سے ہاتھ ہٹا کہ اسکے برابر جگہ بنائی تھی لیٹنے کیلیے اور اسے اپنے قریب لیٹتا دیکھ ہیر جلدی سے اٹھی مگر عدن نے دوبارہ اسکا بازو پکڑ کہ اسے اسکی جگہ پہ لایا ۔۔۔۔۔

آدھی رات کو کوئی ہنگامہ مت کرنا چپ چاپ لیٹی رہو یہیں ورنہ پوری رات سو نہیں پاؤ گی ۔۔۔۔عدن اسکے کان میں سرگوشی کرتا اسکے چہرے سے بال پیچھے کرنے لگا جو خوف سے آنکھیں بند کیئے چت لیٹی تھی ۔۔۔۔

عدن نے لیمپ کی روشنی تھوڑی تیز کی اور ہیر کی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔

بکھری زلفیں اور دوپٹے سے بے نیاز چہرے پہ خوف اور معصومیت لیئے اور اس پہ محرم ہونے کا حق آدھی رات کو اسکا ایمان لوٹ رہی تھی عدن نے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑا اور اسکے گالوں پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھتا اسکے ماتھے پہ ہلکا سا بوسہ دیتا اسے دیکھنے لگا جو عدن کی اتنی سی قربت میں کانپنے لگی تھی ۔۔۔۔

عدن نے ہولے سے اسے اپنے قریب کیا اور لیمپ کی مدھم سی روشنی بھی بجھا گیا۔۔۔۔۔۔

چوہدری جی یہ آپ کیا ۔۔۔۔ہیر کو اپنے کندھے سے قمیض کھسکتی محسوس ہوئی تو عدن کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتی مگر عدن نے اسکا ہاتھ تھام اسے چپ کروایا تھا ۔۔۔۔۔

مجھے روکنے کی کوشش بلکل مت کرنا ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گا اور تم برداشت نہیں کر پاؤ گی اس لیے کچھ مت بولنا ۔۔۔۔
عدن نے اسکے کانوں میں سرگوشی نما دھمکی دی تو وہ دم سادھے چپ ہوئی ۔۔۔عدن کے لبوں پہ مسکراہٹ در ائی اور اسے اپنے سینےسےلگا گیا

سو جاؤ کچھ نہیں کہہ رہا بس یہیں پہ رہو اگر یہاں سے اٹھنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا،،،، عدن نے اسے سونے دیا تھا مگر اپنی بانہوں میں ہی اور وہ اپنی جان بخشی پہ جلدی سے آنکھیں موند گئی تھی جبکہ عدن اسکے سونے کے کافی دیر بعد بھی جاگتا رہا تھا ۔۔۔۔۔
عدن اسکی طرف مڑا تھا جو اسکی بانہوں میں اسکے سینے پہ سر رکھے نیند میں بھی بیچینی محسوس کر رہی تھی عدن نے اسے اپنے مزید قریب کیا اور آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔

♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
ہاشم کے پاس ساری ڈیٹیلز آچکی تھیں وہ کب سے ایک ہی پوزیشن میں گھر کر قریب اپنی زمینوں کے ایک طرف تھوڑی سی جگہ کو صاف کر کہ وہاں تین چارپائیاں بچھائی گئی تھیں بیٹھاآنے والے وقت کو سوچ رہا تھا جب محمد یوسف کندھے پہ اپنی چادر دھرے اسکے پاس آئے ۔۔۔۔

کیا بات ہے ہاشم پتر تو کچھ پریشان لگ رہا ہے مجھے بتا کیا پتا کوئی حل نکل آئے ؟؟؟ محمد یوسف ہاشم کو یوں پریشان دیکھ کہ خود بھی پریشان ہوئے تھے ۔۔۔۔

نہیں بابا کوئی بات نہیں ہے بس آج رات ایک کام کیلیے جانا ہے شاید کل گھر ناں آ سکوں سب سمچھال لیجیۓ گا اور اماں کا اور اپنا بہت خیال رکھیے گا آپ دونوں ہی سب کچھ ہیں میرا۔۔۔
ہاشم نے اپنے باپ کے ہاتھوں کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھاما تو وہ مسکرائے۔۔۔۔

فکر مت کر پتر بس اپنا خیال رکھنا ہماری دعائیں تیرے ساتھ ہیں ۔۔۔۔
محمد یوسف نے اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہاشم ایک نظر انہیں دیکھتا گھر سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔

کل کا سورج اب ان سب کیلیے کون سی خبر لانے والا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔

♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
عدن کو ایک ضروری کام کیلیے کہیں جانا تھا اس لیے ہی وہ صبح سویرے ہی اٹھ کر تیار ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
ایک نظر شیشے میں خود کو دیکھا بلیک جینز کے ساتھ بلیک ہی شرٹ پہنے ہاتھوں میں براؤن بیلٹ والی گھڑی پہنتا ایک نظر۔ شیشے سے بیڈ کی طرف دیکھا جہاں وہ سمٹی سی کمبل میں سو رہی تھی ۔۔۔۔۔

رات ساری وہ سوئی نہ تھی اسی لیے ابھی تک اٹھی ناں تھی ورنہ وہ فجر کی نماز پڑھ کہ ہی کمرے سے نکل جایا کرتی تھی اور آج سات بجے بھی وہ ناں اٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

عدن نے ایک مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی اور اپنے نم بالوں میں برش کرتا صوفے پہ بیٹھ کہ شوز پہننے لگا ۔۔۔۔۔۔

ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب بیڈ پہ ہیر نے کروٹ لی اور زرا سی آنکھیں وا کر کہ اسے دیکھا تھا وہ جو اسی کی طرف متوجہ تھا اسے خود کو دیکھتا مسکرایا تو وہ بھی مسکرتی آنکھیں بند کر گئی مگر اگلے ہی پل وہ ایک جھٹے سے اٹھی تھی اور نظر گھڑی کی طرف دوڑائی جہاں سات بج کہ تیس منٹ ہو رہے تھے وہ کمبل اتارتی کہ
عدن دلچسپی سے اسکی حرکتیں دیکھتا اب ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے اسکے اٹھنے کا انتظار کرنے لگا مگر ہیر کنفیوز سی وہیں بیٹھی رہی تو عدن آہستہ سے اٹھ کہ اسکے قریب آیا ۔۔۔۔۔

اٹھ جاؤ جلدی سے ساری رات مجھے سونے نہیں دیا اور اب خود سو رہی ہو یہ تو زیادتی ہے ناں۔ وہ اسکے چہرے سے بال پیچھے کو کرتا اسکے قریب ہوتا ہوا بولا تو ہیر کی آنکھیں پھیل گئیں اسکے جھوٹ پہ ۔۔۔

میں نے کب نہیں سونے دیا ساری رات آپ نے مجھے تنگ کیۓ رکھا اور سونے بھی نہیں دیا ٹھیک سے۔۔۔۔۔۔

ہیر اسے کہتی دوسری طرف کو ہوتی بیڈ سے نیچے اترنے لگی مگرعدن نےارام سے اسکا ہاتھ تھام کہ اپنی طرف کھینچا اور چہرہ اسکے چہرے سے قریب کرتا اسکی بھوری آنکھوں میں دیکھنے لگا جو بار بار اپنی پلکیں جھپکاتی اسے بہت کیوٹ لگی تھی عدن نے ااسکا گھبرانا محسوس کیا تھاتبھی اسے آرام سے چھوڑتا کمرے سے باہر نکل گیا اور ہیر اسے جاتا دیکھ بیڈ سے اتری اور فوراً الماری سے اپنے کپڑے نکالتی باتھ لینے دوڑی کیونکہ ان دو مہینوں میں آج پہلی دفع وہ اتنی دیر تک سوتی رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
ہاشم اپنی ٹیم کا انتظار کر رہا تھا جب کچھ فاصلے پہ اسے ایک گاڑی رکتی ہوئی دکھی اور اس میں سے اپنے ساتھیوں کو آتا دیکھ وہ انکی طرف بڑھا اور سب کو سلام کرتا اگلا پلان بتانے لگا جب ایک سپاہی نے اسے روکا ۔۔۔۔۔

سر ابھی ایک کیپٹن کا آنا باقی ہے وہ کچھ ہی دیر میں پہنچے گے ۔۔۔۔احمر کی بات سنتا ہاشم نے ایک آئبرو اچکائی اور گھڑی کی جانب دیکھا رات کے ایک بج رہے تھے اور انکے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ مزید انتظار کرتے۔۔۔۔

ہاشم کے مطابق ٹیم میں صرف آٹھ لوگ تھے تو یہ کون تھا جس کا انا ابھی باقی تھا ۔۔۔

لیکن میری انفارمیشن کے مطابق صرف آٹھ لوگ تھے ٹیم میں ؟؟؟ ہاشم نے سب کو گھورا ۔۔۔

سر ہمیں بھی آج ہی پتہ چلا ہے اور جنرل صاحب نے ہی ہمیں کہا تھا کہ جب تک سب لوگ پورے نہیں ہوں گے ہم کوئی بھی چیز ڈسکس نہیں کر سکتے اس لیے آپکو انتظار کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔

احمر کی بات سنتا ہاشم ماتھے پہ انگلیاں مسلنے لگا پہلے وقت تھوڑا تھا اور اب یہ ایک اور پتہ نہیں کون تھا جو آنے کا نام ناں لے رہا تھا تقریباً ایک گھنٹے بعد انہیں ایک بلیک جیپ آتی دیکھائی دی سب لوگ الرٹ ہوئے ۔۔۔۔

جیپ انکے قریب آ کہ رکی اور اس میں سے ایک شخص باہر نکلتا انکی طرف ایا ۔۔۔۔۔۔

چاروں طرف اندھیرا تھا اسی لئے آنے والے کی طرف ہاشم نے ٹارچ کی روشنی ڈالی تھی اور اسکو دیکھ کہ ہاشم کو حیرت کا مزید جھٹکا لگا تھا کیونکہ وہ کوئی اور نہیں عدن چوہدری تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ٹارچ کی روشنی ایکدم ہشم کی طرف پڑی اور اب چونکنے کی باری عدن کی تھی ۔۔۔۔۔

کیا وہ دشمن ایک ٹیم میں کام کرنے والے تھے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔

اسلام و علیکم میں کیپٹن عدن چوہدری ہوں آپ سب بھی حیران ہوں گے کہ ایک دم ہی ٹیم میں مجھے کیوں شامل کیا گیا کیونکہ ٹیم میں پہلے ہی لوگ پورے تھے مگر جنرل صاحب کا کہنا ہے کہ مجھے بھی اس کیس پہ کام کرنا چاہیے تو آج سے اس کیس میں اپ کیساتھ میں بھی کام کروں گا ۔۔۔۔۔
عدن سب کی طرف دیکھتا ہوا بولا تو سب نے سر ہلایا مگر ہاشم نفرت سے اسے دیکھتا اپنا پلان ڈسکس کرنے لگا سب توجہ سے اسے سن رہے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ ہی ٹیم لیڈر رہا تھا اور ہر کیس سولو کیا تھا یہاں بھی انہیں امید تھی کہ وہ یہ مشن جیت کہ ہی لوٹے گے ۔۔۔۔۔

ہاشم کی پلاننگ پہ سب ہی متاثر ہوئے تھے سوائے عدن کے وہ تو اپنے بھائی کے قاتل کو ہی دیکھ رہا تھا اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔

دو گھنٹے بعد وہ اپنی مطلوبہ جگہ پہ موجود تھے ۔۔۔۔

یہ ایک گاؤں سے دور جنگل کے قریب ایک سنسان ویران سا گھر تھا جس کے اندر چھوٹی چھوٹی روشنیاں جل رہی تھیں ۔۔۔۔۔

سب لوگ اپنی اپنی گنز لوڈ کرتے بہت آہستہ سے آگے بڑھ رہے تھے وہ گھر اتنا بڑا ناں تھا جبھی سارے لوگ گھر کے چاروں طرف پھیل گئے تھے ۔۔۔۔۔۔

ہاشم مین گیٹ کے قریب کھڑا تھا جبکہ اسکے سامنے ہی عدن بھی تھا دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہاشم نے دیوار پہ چڑھ کہ یہاں وہاں دیکھا اور آرام سے دیوار سے کود گیا ۔۔۔۔۔۔
وہاں چوکیدار نیند میں جھول رہا تھا ہاشم نے اپنی جیب سے کلوروفارم لگا رومال اسکے منہ پہ رکھا اور بنا آواز کے ہی وہ بیوش ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
ہاشم نے اسکی گن اٹھا کہ اپنے قبضے میں کی اور آرام سے اسکی جیب سے چابی نکال کہ دروازہ کھولا بنا آواز کے ۔۔۔۔۔
سب سے پہلے عدن اندر داخل ہوا اور پھر آہستہ آہستہ سب آتے گئے اور مدھم چال چلتے اندر کی طرف بڑھے جہان ایک چھوٹی سی راہداری بنی ہوئی تھی اور اسکے سامنے ہی دو کمرے تھے جن میں سے ہلکی ہلکی باتوں کی آوازیں ا رہی تھیں عدن نے سب کو الرٹ کیا اور آرام سے ایک دروازے کے پاس جا کھڑا ہوا ایسے ہی ہاشم دوسرے دروازے کی طرف بڑھا اور سب نے ایک دوسرے کو دیکھا اور آنکھ سے اشارہ دیا اور اشارہ ملتے ہی سب نے ایک ساتھ دونوں دروازے دھاڑ سے کھول دیئے تھے اندر موجود وہ تین لوگ اچانک ہوتے اس حملے سے چونکے اور اپنی اپنی بندوقیں اٹھانے والے تھے کی عدن کے ایک فائر اوپر کی طرف کیا تھا اور سب وہیں رک گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

یہاں سے ہلنا بھی مت ورنہ دوسرا سانس لینے کے قابل نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔۔۔عدن کی دھاڑ سے سب ساکت و سامد وہیں رک گئے ۔۔۔۔۔

عدن کے اشارے پہ دو سپاہی آگے بڑھے اور ان تینوں کی بندوقیں اپنے قبضے میں کر کہ انہیں ایک طرف کر کہ دیوار کی طرف موڑ کہ گھٹنوں کے بل بٹھا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

اور کمرے کا جائزہ لینے لگے وہاں صرف دو ٹیبل تھے اور ان پہ سفید پاؤڈر جو کچھ پیکٹس میں بند تھا اور کچھ جونہی پڑا تھا عدن نے ایک چٹکی بھر کہ اپنی ناک کہ قریب کیا تو فوراً پھینک دیا۔۔۔۔۔۔
وہ ہیروئین تھی نشہ آور پاؤڈر عدن نے وہ سب سمیٹنے کا اشارہ کیا اور دوسرے کمرے کی جانب قدم بڑھائے جہاں ہاشم ولی کو جو تشدد اور نشہ آور ادویات سے بیہوش تھا اور لڑکیوں کو جو پھٹے کپڑوں کیساتھ وہاں موجود تھیں چادر سے ڈھکتا انہیں کمرے سے باہر نکالنے لگا تھا عدن نے بھی یہی کیا اور ان سب کو باہر صحن میں بٹھایا اور ولی کو گاڑی میں بٹھایا تھا خود ان آدمیوں کی طرف بڑھا جو اپنی موت سامنے دیکھ رہے تھے ہاشم نے عادل کو اشارہ کیا اور جیب سے کلوروفارم نکالا اور سب کو وہیں بیہوش کیا اور سب کے ہاتھ باندھ کہ انہیں اٹھایا اور احمد سے گاڑی لانے کا کہا اور خود ساتھ لایا پٹرول پورے گھر کی چاروں طرف چھڑکنے لگا ۔۔۔۔۔۔عدن اسے غور سے دیکھ رہا تھا جو بہت غصے میں تھا عدن سر جھٹکتا دوسری طرف مڑا اور سبکے ساتھ احمر کی لائی گاڑی میں چاروں آدمیوں کو پھینکنے والے انداز میں ڈالا اور ہاشم کی طرف بڑھا۔ ۔۔۔۔

لڑکیوں کو یوں لے کہ جانا ٹھیک نہیں ہوگا ہمیں ایک اور گاڑی چاہیے ہوگی اور اسکی بات پہ ہاشم اسکی طرف مڑا اور ایک نظر اسکے پیچھے لڑکیوں پہ ڈالتا عادل کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔۔۔

یہاں سے پانچ منٹ دور ایک درخت کے قریب ایک گاڑی موجود ہے ڈرائیور بھی وہیں ہے جاؤ اسے لے کہ آؤ ۔۔۔۔

ہاشم کے کہنے پہ عادل وہاں سے نکلا تو عدن نے اسکی طرف حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔۔۔

مگر تم نے تو یہ سب نہیں بتایا تھا کہ یہ بھی پلان ہے یا تم ہم سب سے چھپا کہ خود کو سب کے سامنے قابل کہلوانا چاہ رہے ہو ۔۔۔۔۔عدن کی ایک آئبرو اٹھا کہ کہنے پہ ہاشم نے ایک طنزیہ مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی ۔۔۔۔۔

مجھے ضرورت نہیں قابل بننے کی کیونکہ میں جو ہوں وہ ہوں اور یہ پلان میں نہیں تھا مگر یہ سب بیک اپ کیلیے جنرل صاحب نے انتظام کیا تھا ۔۔۔۔۔
اور کوشش کرنا کہ میرے سامنے مت آؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔ہاشم کی بات پہ عدن نے غصے سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔۔

اپنے بھائی کے قاتل کو میں اپنے سامنے دیکھنا بھی نہیں چاہتا تو تم بھی کوشش کرنا کہ میرے سامنے نا اؤ ورنہ۔۔۔۔۔۔عدن نے اسے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو ہاشم کا پارہ ہائی ہوا ۔۔۔۔۔

ورنہ کیا کرو گے ہاں بولو ؟؟؟ ہاشم نے اسے گھورتے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔۔

ورنہ میں کیا کر سکتا ہوں تم نہیں جان سکتے اور اپنی آواز آہستہ رکھ کہ بات کیا کرو ۔۔۔۔۔ عدن ابھی کچھ اور کہتا جب عادل کی آواز آئی تو وہ ایک دوسرے کو گھورتے باہر نکل گئے ۔۔۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں سب گاڑیوں میں سوار شہر کی جانب روانہ تھے مگر نکلنے سے پہلے ہاشم نے پورے گھر کو آگ لگا دی تھی اور اب وہ گھر اور س میں موجود تمام نشہ بھی جل کہ خاک ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
ہاشم اور عدن اس وقت اپنی ٹیم کے ساتھ جنرل راحیل کیساتھ میٹنگ روم میں موجود تھے ۔۔۔۔۔۔
انکا مشن تو کمپلیٹ ہوا تھا مگر ان آدمیوں نے مار کھانے کے بعد بھی اپنی زبان نا کھولی تھی ۔۔۔۔۔

ہاشم آپ لوگوں کا اگلا مشن بھی ایک ساتھ ہی ہوگا اب عدن تمہاری ٹیم میں ہے تو کوشش کرنا کہ اپنی پرسنل لڑائیاں کام کے بیچ ناں لاؤ کام اور پرسنلز کو الگ ہی رکھنا ۔۔۔۔

جنرل صاحب کی بات پہ دونوں نے ایک دوسرے کو گھورا اور اثبات میں سر ہلاتے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ان سے مصافحہ کرتے باہر نکل گئے تھے ۔۔۔۔۔۔

♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
آج پھر فائزہ کی توپوں کا رخ ہیر کی جانب تھا کیونکہ اس نے اپنی دوست کی طرف جانا تھا اور اسکے کپڑے اس نے ہیر کو استری کرنے کو دیئے تھے مگر وہ کھانا بنانے میں مصروف تھی اور بھول چکی تھی اور اب فائزہ نے اپنی باتوں سے اسکا جینا حرام کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

ہیر نے جلدی سے سالن کے نیچے آگ دھیمی کی اور جلدی سے کپڑے استری کرنے لگی اور دس منٹ میں کپڑے استری ہو چکے تھے اور اب وہ کچن میں چلی آئی تھی اور روٹیاں بنانے کیلیے چیزیں رکھنے لگی تھی جب باہر اسے عدن کی گاڑی کی آواز سنائی دی تھی اور اسکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا

دو دن سے وہ گھر سے غائب تھا اور اب دو دن بعد آیا تھا ہیر جلدی سے فریج سے ٹھنڈا پانی نکال کہ گلاس میں ڈالتی ٹرے میں رکھ کہ حاجرہ کو عدن کو دینے کا کہتی پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب کوئی کچن میں داخل ہوا ہیر کو لگا حاجرہ ہے تبھی اس سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔

حاجرہ باجی آپ روٹیاں بنائیں میں چوہدری جی کے کپڑے نکال کہ آتی ہوں دو دن بعد آئے ہیں فریش ہوگے تب تک کھانا بھی تیار ہو جائے گا اور ۔،،،،،ابھی ہیر کچھ اور کہتی کہ اپنے کندھے پہ کسی کے ہاتھ محسوس کر کہ پلٹی مگر عدن کو دیکھ کہ ایکدم چپ ہوئی تھی مگر عدن شاید کسی اور ہی موڈ میں تھا کہ بغیر ایک پل کا انتظار کیئے ہیر کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھتا اسکے ہونٹوں پہ جھکا تھا اس اچانک افتاد پہ ہیر مچل کہ اسے پیچھے کو دھکا دے رہی تھی مگر عدن کی پکڑ مضبوط تھی اس نے اپنے سینے پہ رکھے ہیر کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ سے قابو کر کہ اسکی سانسیں حلق میں روکی تھیں عدن کی پکڑ میں شدت تھی کہ ہیر چاہ کہ بھی اسے روک نہیں پا رہی تھی مگر اسکی سانسیں بند ہونے سے اسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے جن کو عدن محسوس کرتے ہوئے بھی انجان بنا رہا ،،،،کچھ لمحوں بعد ہی ہیر اسکی سختی برداشت نہ کرتے ہوئے اسکی بانہوں میں ہی جھول گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

اووووف اتنی سی قربت تو برداشت نہیں ہوتی اس لڑکی سے میری شختیاں کیسے جھیلے گی ؟؟؟؟؟چل عدن ابکوئی اس طرف آئے اسے کمرے میں لے جانا چاہیۓ۔۔
عدن ہیر کو اپنے بازوؤں میں اٹھائے اپنے کمرے میں آیا تھا کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ پاؤں سے اپنے۔پیچھے بند کرتا اسے بیڈ پہ لا کہ لٹا دیا اور اسکی حالت دیکھی جس کے چہرے پہ پسینے کی وجہ سے کچھ زلفیں چپکی ہوئیں تھیں جبکہ ہونٹ کچھ دیر قبل ہوئی حرکت سے نیلے پڑ چکے تھے۔۔۔۔
دوپٹہ جو ہر وقت سر پہ ٹکا ہوتا تھا اس وقت ادھا اسکے گلے میں جبکہ ادھا بیڈ سے نیچے جھول رہا تھا
عدن اسکی حالت دیکھتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا الماری سے کپڑے نکال کہ فریش ہونے چلا گیا جبکہ ہیر ویسے ہی نیم بیہوشی میں پڑی تھی۔۔۔۔۔
♥♥♥♥♥♥♥♥♥
جاری ہے۔۔۔۔

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sana Jahan The Writer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Sana Jahan The Writer:

Share

Category