"لفظوں کے سمندر سے، جذبوں کے موتی۔ جہاں ہر حرف کہانی سناتا ہے اور ہر لفظ دل کو چھوتا ہے۔ ��"
31/05/2026
:ساری دنیا کے چراغوں سے ہے پیاری انکھیں میری منزل کا نشاں ہیں یہ تمہاری انکھیں تیرے معصوم سے چہرے کی زیارت کے لیے میں نے مانگی ہے فرشتوں سے ادھاریاں کیوں چھین لیتے ہو جو یہ دید کی دولت ہم سے ہم کو بے نور سے لگتی ہیں ہماری انکھیں مجھ کو دنیا کا کوئی حسن دکھائی نہ دیا میرے اعصاب پہ رہتی ہیں یہ تاریں انکھیں ایک لمحے کو بچھڑنے کا جو سوچا دل میں رات بھر کرتی رہی زخم شماری انکھیں میری قسمت کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے عرش سے میرے لیے رب نے یہ اتاریں انکھیں وہ بھی یوسف کی طرح ائے جو کبھی محفل میں اگر کہ حیرت ہو وہاں ساری کی ساری آنکھیں
29/05/2026
#مدینہ
28/05/2026
اگر سب کچھ ٹھیک ہونے میں نہ گیا تو؟
شاید پھر کسی کو اندازہ ہو کہ میں ہر دن کتنی ہمت سے ٹوٹی
ہوئی سانسیں لیتا رہا۔ میں نے ہر درد کو "بس ٹھیک ہو جائے گا"
کہہ کر ٹال دیا، ہر آنسو کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیا، اور ہر
رات خود کو یقین دلاتا رہا کہ کل بہتر ہو گا۔ مگر کل آتے آتے میں
تھک گیا۔ میں نے انتظار میں اپنی خوشی، اپنی نیند، اپنی آواز سب
کھو دی۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہونے سے پہلے ہی میں بکھر گیا تو کیا
کوئی یہ سمجھے گا کہ میں کمزور نہیں تھا، بس بہت دیر تک
مضبوط رہنے کی کوشش کرتا رہا۔ شاید تب کسی کو احساس ہو کہ
کچھ زخم وقت نہیں مانگتے، بس کسی ایک کے سمجھ لینے کی
ضرورت ہوتی ہے
27/05/2026
دستور ہے دنیا کا مگر یہ تو بتاؤ
ہم کس سے ملیں کس کو کہیں عید مبارک
اپنا تو کسی طرح گزر جائے گا یہ دن
تم جن سے ملو آج انہیں عید مبارک
#عیدمبارک #عید
26/05/2026
کون پھر مڑ کے آئے گا تیرے شہر کی طرف
رویے ٹھیک نہ ہوں تو پرندے بھی بسیرا نہیں کرتے
25/05/2026
لفظ تاثیر سے بنتے ہیں تلفظ سے نہیں
اہل دل آج بھی ہیں اہل زباں سے آگے
12/05/2026
آپ کا اخلاق ہی آپ کا حسن ہے
کیا برائی ہے کہ اگر بحث ہار کر سامنے والی کی ہنسی جیت لی جائے
10/05/2026
تو بات کرنا
تمہاری خاطر میں اپنی ہستی
فنا نہ کردوں تو بات کرنا
میں خود سے زیادہ، میں حد سے زیادہ
تمہیں نہ چاہوں تو بات کرنا
میں جی نہ پاؤں گا بن تمہارے
اگر نہیں ہے یقین تم کو
ذرا مجھے چھوڑ کر تو دیکھو
میں مر نہ جاؤں تو بات کرنا
تمہاری چاہت ہے میری چاہت
تمہاری مرضی ہے میری مرضی
جو تم کہو گے وہی کروں گا
سوال پوچھوں تو بات کرنا
میں جانتا ہوں کہ لوٹ لو گے
مگر مجھے آزما کے دیکھو
اگر خوشی سے تمہاری باتوں میں
آ نہ جاؤں تو بات کرنا
جو کھیل تم کھیلنے چلے ہو
میں اس میں ماہر ہوں یاد رکھنا
اگر میں چاہوں تو جیت جاؤں
مگر میں جیتوں تو بات کرنا
میری محبت کے بدلے تم نے
جو زخم مجھ کو دیئے ہیں جاناں
کبھی میں ان پر ذرا سا مرہم
اگر لگاؤں تو بات کرنا
وہ حشر برپا ہوا ہے مذنب
کہ دل لگانا تو دل لگانا
میں بھول کر بھی اگر محبت
کا نام لے لوں تو بات کرنا
03/05/2026
اگر مجھے میری میت کا آخری دیدار نصیب ہوا، تو میں اپنا ماتھا چوم کر خود کو مبارکباد دوں گا اور کہوں گا:
مبارک ہو! آج کے بعد تم اس منافق بستی اور نام نہاد رشتوں کے ہاتھوں دی گئی اذیتوں سے نجات پا گئے ہو۔ آج کے بعد تم سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، آج کے بعد تمہیں رات کو سونے کے لیے نیند کی گولیاں نہیں لینی پڑیں گی۔ آج کے بعد کوئی تمہارا دل نہیں دکھائے گا، آج کے بعد تمہیں کوئی درد محسوس نہیں ہو گا۔
آج سے تم آزاد ہو، آج سے تمہارا دل آزاد ہے۔
وہ جیسے رؤف امیر کا ایک شعر تھا کہ:
میں اپنے آپ گلے لگ کے بین کرتا ہوں
رؤف امیر، میرے ویر، میرے سارے خواب!
Be the first to know and let us send you an email when لفظ شناس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.