21/07/2026
🚨🇮🇷 🇮🇱 اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران نے پِک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) کے اندر ہزاروں جوہری سینٹری فیوجز چھپا رکھے ہیں، جسے ٹرمپ نے بمباری کے ممکنہ ہدف کے طور پر بیان کیا تھا۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے گزشتہ موسم خزاں میں یورینیم افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے ہزاروں سینٹری فیوجز ان زیرِ زمین سرنگوں میں منتقل کیے، جب جون 2025 کی جنگ میں ایران کے تین بڑے جوہری مراکز کو نقصان پہنچا تھا۔ اسرائیل نے یہ معلومات واشنگٹن کو فراہم کیں۔
یہ کمپلیکس، جسے ماؤنٹ کولنگ (Mount Kolang) کہا جاتا ہے، اندازاً 300 سے 450 فٹ ٹھوس چٹان کے نیچے واقع ہے۔ اس کی گہرائی ایسی ہے کہ عام فضائی حملوں سے اسے نشانہ بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔ گزشتہ 15 ماہ کے دوران وہاں ٹرکوں کی مسلسل آمدورفت اور سرنگوں کو مضبوط بنانے کے کام کے مشاہدات کیے گئے ہیں۔
ایران نے اس مقام کے بارے میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو کوئی رسائی یا معلومات فراہم نہیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے تقریباً 1,000 پاؤنڈ 60 فیصد افزودہ یورینیم تیار کیا ہے، جو ہتھیاروں کے درجے (Weapons-grade) کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ وضاحت بھی شامل ہے کہ پہاڑ کے اندر سینٹری فیوجز کا ذخیرہ ہونا لازمی طور پر یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہاں افزودگی کا مرکز قائم ہے۔ ممکن ہے کہ تہران 2025 کے حملوں سے بچ جانے والے سامان یا افراد کو محفوظ کر رہا ہو۔
ٹرمپ نے پِک ایکس کو "ایک اچھے بڑے حملے کا ممکنہ ہدف" قرار دیا تھا، لیکن چند دن بعد اپنا مؤقف نرم کرتے ہوئے کہا:
"کسی کو معلوم نہیں کہ وہ وہاں کچھ کر بھی رہے ہیں یا نہیں... وہاں بہت کم سرگرمی ہے۔"
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کا مؤقف ہے کہ جنگ کے دوران کیے گئے حملے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کافی نہیں تھے، اور "ابھی مزید کارروائی باقی ہے، جس میں پِک ایکس ماؤنٹین بھی شامل ہے۔"
یہ انٹیلی جنس رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنگ کے دو بڑے مقاصد آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔
نیتن یاہو دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کرنے اور پِک ایکس کو نشانہ بنانے کے حامی ہیں، جبکہ واشنگٹن نے 7 جولائی کے بعد جان بوجھ کر جوہری اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے۔ اسرائیلی معلومات پر مبنی یہ جائزہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اسرائیل کے ممکنہ ساتھ دینے کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔
ایک ایسا پہاڑ جس کا کوئی معائنہ نہیں کر سکتا اور جس کے اندر موجود سینٹری فیوجز کی تعداد کسی کو معلوم نہیں، یا تو جنگ کا اگلا ہدف بن سکتا ہے یا مذاکرات میں سب سے بڑا پتا (Bargaining Chip) ثابت ہو سکتا ہے۔
فیصلہ جو بھی پہلے کرے گا، وہی طے کرے گا کہ آگے کیا ہوگا۔
ماخذ: وال اسٹریٹ جرنل (Wall Street Journal) / مصنف: ڈینیئل