22/09/2026
ٹانک: پیسکو کی مبینہ من مانیاں، محسودان اور برکی آباد کے ٹرانسفارمرز کے جمپرز کاٹ دیے گئے، شہری بے یار و مددگار
ٹانک: مین سٹی کے محلہ محسودان، برکی آباد اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے حوالے سے شہریوں کی مشکلات سنگین صورت اختیار کرگئیں۔ شہریوں کے مطابق پیسکو ٹانک کے متعلقہ اہلکاروں کی جانب سے متعدد ٹرانسفارمرز کے جمپرز کاٹ دیے گئے، جس کے باعث مختلف آبادیوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہے، جبکہ مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات تاحال نظر نہیں آ رہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش اور جمپرز کاٹنے کے معاملے پر متعلقہ حکام سے رابطوں کے باوجود انہیں واضح جواب یا بجلی کی بحالی کے حوالے سے حتمی ٹائم لائن نہیں دی جا رہی۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ بجلی کے بعض اہلکار عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اپنی مرضی سے اقدامات کر رہے ہیں، جس سے صارفین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرانسفارمرز کے جمپرز کاٹنے کی کارروائی کسی تکنیکی، حفاظتی یا انتظامی ضرورت کے تحت کی گئی ہے تو پیسکو حکام اس کی وجوہات اور قانونی و محکمانہ بنیاد واضح کریں، جبکہ اگر کارروائی قواعد و ضوابط کے برخلاف ہوئی ہے تو ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرکے کارروائی عمل میں لائی جائے۔
صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ متاثرہ علاقوں کے مکین بجلی جیسے بنیادی عوامی مسئلے کے حل کے لیے منتخب عوامی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ اگر متعلقہ حکام کو صورتحال کا علم ہے تو عملی مداخلت کیوں نہیں کی جا رہی؟
عوام نے پیسکو کے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ محلہ محسودان، برکی آباد اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ٹرانسفارمرز کے جمپرز کاٹنے کے معاملے کی فوری انکوائری، بجلی کی فوری بحالی اور ذمہ دار اہلکاروں کے کردار کا تعین کیا جائے۔
شہریوں نے واضح کیا کہ بجلی کی فراہمی کسی افسر یا اہلکار کی صوابدید نہیں بلکہ عوام کی بنیادی ضرورت اور صارفین کا حق ہے؛ اس لیے کسی بھی کارروائی کو شفاف طریقۂ کار، واضح وجوہات اور جواب دہی کے اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔
متاثرہ شہریوں نے پیسکو ٹانک کے متعلقہ افسران سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا مؤقف سامنے لائیں اور واضح کریں کہ مذکورہ علاقوں کے ٹرانسفارمرز کے جمپرز کس بنیاد پر کاٹے گئے، اس کارروائی کے احکامات کس سطح سے جاری ہوئے اور بجلی کی بحالی کب تک ممکن ہوگی۔