فاتح قدس صلاح الدین ایوبی

فاتح قدس صلاح الدین ایوبی Salah ud-Din Ayubi, also known as Saladin (1137–1193), was a Kurdish Muslim military leader and the first Sultan of Egypt and Syria.

He founded the Ayyubid dynasty and is best known for uniting Muslim forces to recapture Jerusalem from the Crusaders in 11

06/08/2026

Es Ke bache bare Hokar sawal karenge, k Ap ne hamare Liye kia kiaa he.

آپ کا فوکس کمزور نہیں ایک غلطی اسے ختم کر رہی ہے۔کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی کام پر توجہ لگانے بیٹھتے ہیں ...
04/08/2026

آپ کا فوکس کمزور نہیں ایک غلطی اسے ختم کر رہی ہے۔

کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی کام پر توجہ لگانے بیٹھتے ہیں لیکن چند ہی لمحوں بعد ذہن اِدھر اُدھر بھٹکنے لگتا ہے؟

میں بھی پہلے یہی سمجھتا تھا کہ شاید میرا فوکس کمزور ہے لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ مسئلہ فوکس کی کمی نہیں بلکہ ذہن میں ہر وقت چلنے والا غیر ضروری شور ہے۔

🚗 ایک آسان مثال سے سمجھیں...
اگر گاڑی کے شیشے کھلے ہوں تو AC چاہے پوری رفتار سے چل رہا ہو ٹھنڈک پھر بھی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ٹھنڈی ہوا مسلسل باہر نکل رہی ہوتی ہے۔

ہمارا دماغ بھی بالکل اسی طرح کام کرتا ہے۔

آپ فوکس کرنا چاہتے ہیں نئی مہارت سیکھنا چاہتے ہیں یا ٹیلی پیتھی ایکسرسائز کے ذریعے اپنی ذہنی صلاحیت بہتر بنانا چاہتے ہیں لیکن اگر ذہن میں ہر وقت منفی سوچیں خوف بے چینی اور فضول خیالات چلتے رہیں تو آپ کی ذہنی توانائی آہستہ آہستہ ضائع ہوتی رہتی ہے۔

اسی لیے صرف فوکس بڑھانے کی کوشش کافی نہیں پہلے ذہنی شور کو کم کرنا ضروری ہے۔

ذہنی شور ختم کرنے کے 4 مؤثر طریقے
1️⃣ اپنے دماغ کو "اسٹاپ" کا سگنل دیں۔

جیسے ہی کوئی منفی سوچ آئے فوراً دل میں یا آہستہ سے کہیں
بس... رک جاؤ!
اس کے فوراً بعد اپنا دھیان کسی مثبت کام گہری سانس یا اپنے مقصد کی طرف منتقل کریں۔
یہ چھوٹی سی عادت بار بار دہرانے سے دماغ آہستہ آہستہ غیر ضروری خیالات پر کم وقت ضائع کرتا ہے اور آپ کا فوکس پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے لگتا ہے۔

2️⃣ اپنے دماغ کو واضح مقصد دیں۔
خالی دماغ بے مقصد سوچوں میں زیادہ الجھتا ہے۔
اپنے دن کا صرف ایک بڑا اور واضح ہدف طے کریں۔ جب دماغ کے پاس مقصد ہوتا ہے تو وہ غیر ضروری خیالات میں کم بھٹکتا ہے۔

3️⃣ روزانہ صرف 5 منٹ ذہنی سکون کی مشق کریں۔
آرام سے بیٹھ جائیں، آنکھیں بند کریں اور صرف اپنی سانس کو اندر آتے اور باہر جاتے ہوئے محسوس کریں۔
یہ سادہ سی مشق دماغ کو پرسکون کرنے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور فوکس بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔

4️⃣ اوورتھنکنگ روکنے کی 3-3-3 تکنیک
جب بھی ذہن میں خیالات کا طوفان آئے، فوراً یہ کریں:
✅ اپنے آس پاس موجود 3 چیزوں کو غور سے دیکھیں۔
✅ 3 آوازوں پر توجہ دیں۔
✅ اپنے جسم کے 3 حصوں کو آہستہ سے حرکت دیں۔
یہ ایک مؤثر گراؤنڈنگ تکنیک ہے جو آپ کی توجہ کو خیالات سے نکال کر موجودہ لمحے میں واپس لے آتی ہے، جس سے ذہن پرسکون اور فوکس دوبارہ بحال ہونے لگتا ہے۔
یاد رکھیں...
طاقتور فوکس زیادہ زور لگانے سے نہیں بنتا، بلکہ غیر ضروری ذہنی شور کم کرنے سے بنتا ہے۔
جب ذہن پرسکون ہوتا ہے تو سیکھنا آسان ہو جاتا ہے فیصلے بہتر ہوتے ہیں اور آپ کی ذہنی صلاحیت اپنی بہترین کارکردگی دکھانے لگتی ہے۔

آپ کے فوکس کا سب سے بڑا دشمن کیا ہے؟
📱 موبائل
🤯 اوورتھنکنگ
😟 منفی خیالات
😴 سستی

مارٹن کوپر نے دنیا کو موبائل فون کا تحفہ دیا۔ 16 فروری 1973ء کو انہوں نے موٹورولا کے ذریعے پہلی موبائل فون کال کی، جس نے...
22/07/2026

مارٹن کوپر نے دنیا کو موبائل فون کا تحفہ دیا۔ 16 فروری 1973ء کو انہوں نے موٹورولا کے ذریعے پہلی موبائل فون کال کی، جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا بدل دی۔ وہ نیویارک کی سڑک پر کھڑے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک بڑا اور بھاری فون تھا، جس کی لمبائی تقریباً 9 انچ تھی۔ اس فون کی بیٹری صرف 35 منٹ تک چلتی تھی اور اسے چارج ہونے میں 10 گھنٹے لگتے تھے۔ مارٹن کوپر نے پہلی کال اپنی مقابل کمپنی کے انجینئر جوئیل اینگل کو کی اور کہا، “میں تمہیں اس وقت ایک ذاتی موبائل فون سے کال کر رہا ہوں۔” اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ریڈیو اور ٹی وی چلا لو، کیونکہ وہ اس فون کو دنیا کے سامنے پیش کرنے جا رہے ہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی کال تھی، مگر اس نے انسانوں کو تاروں والے فون سے آزاد کر کے جدید موبائل دور کی بنیاد رکھ دی۔

ٹرک کی بیٹری نے 49 انسانوں کو تپتے صحرا کے نیچے ہمیشہ کے لیے سلا دیا، وہ عید کی خوشیاں منا کر گھر لوٹ رہے تھے — لیکن صحر...
09/06/2026

ٹرک کی بیٹری نے 49 انسانوں کو تپتے صحرا کے نیچے ہمیشہ کے لیے سلا دیا، وہ عید کی خوشیاں منا کر گھر لوٹ رہے تھے — لیکن صحرا نے انہیں گھر نہیں پہنچنے دیا۔49 لوگ، ایک ٹوٹا ہوا ٹرک، ایک قطرہ پانی نہیں — اور کئی دن کی وہ اذیت جس کا تصور بھی روح کو کپکپا دیتا

عید الاضحیٰ کا تہوار ختم ہوا تھا۔ مالی کے شہر تلہندک میں کئی دن گزار کر یہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے — نائجر میں ان کے خاندان ان کا انتظار کر رہے تھے۔ خوشیاں دل میں تھیں، قربانی کی یادیں تازہ تھیں، اور ایک بھرا پرا ٹرک صحرائے صحارا کی بے رحم ریت پر رواں دواں تھا۔ تقریباً سو افراد اس ٹرک میں سوار تھے — مرد، خواتین، بچے — سب گھر کی راہ پر۔ لیکن پھر وہ ہوا جو کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ٹرک رک گیا۔ انجن نے جواب دے دیا۔ اور اسمکہ سے تقریباً 80 کلومیٹر مغرب میں، نائجر اور الجزائر کی سرحد کے قریب اس بے آب و گیاہ صحرا کے قلب میں، یہ تمام لوگ پھنس گئے — جہاں دور دور تک نہ کوئی انسانی بستی تھی، نہ پانی کا ایک چشمہ، نہ مدد کی کوئی امید۔ ڈرائیور نے کوشش کی، مسافروں نے ہاتھ لگائے، لیکن ٹرک نہ چلا۔ اور اس کے ساتھ ہی شروع ہوئی انسانی تاریخ کی ایک انتہائی دردناک، خاموش، اور ہولناک موت کی داستان۔

صحرائے صحارا میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ سورج پتھر کی طرح گرم ریت پر آگ برساتا ہے۔ جب پانی ختم ہوا، تو پہلے پیاس نے آنکھیں جلائیں، پھر ہونٹ پھٹے، پھر گلے نے جواب دیا۔ ڈیہائیڈریشن انسانی جسم کو آہستہ آہستہ اندر سے توڑتی ہے — پہلے کمزوری، پھر بے ہوشی، پھر خاموشی۔ حکام نے بعد میں بتایا کہ جب بچاؤ ٹیم وہاں پہنچی تو منظر انتہائی دل دہلانے والا تھا — درجنوں بے جان جسم اسی رکے ہوئے ٹرک کے نیچے اور اس کے اردگرد پڑے تھے۔ وہ ٹرک کے سائے میں آخری وقت تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ شاید انہوں نے ایک دوسرے کو دلاسا دیا ہو، شاید کوئی دعا پڑھی ہو، شاید کسی نے کسی کا ہاتھ تھاما ہو — لیکن صحرا نے انہیں رحم نہ دیا۔ 49 افراد کو اسی مقام پر اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا — ان کے گھر والے آج بھی انتظار میں ہیں، اور انتظار کی یہ آگ پانی کی پیاس سے کم نہیں۔

اس پوری داستان میں امید کی ایک باریک سی لکیر ہے — اور وہ لکیر دو انسانوں کے قدموں سے بنی ہے۔ جب ہر طرف موت کا سایہ گہرا ہو رہا تھا، دو افراد نے وہ فیصلہ کیا جو شاید سب سے مشکل فیصلہ تھا — چلتے رہو، رکنا موت ہے۔ وہ اٹھے اور صحرا میں قدم رکھ دیا۔ 50 کلومیٹر سے زیادہ کا پیدل سفر — جلتی ریت پر، بے پانی، بے سایہ، بے امید — لیکن وہ چلتے رہے۔ شاید انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے 49 ساتھیوں کو یاد کیا ہو، شاید آگے گھر میں بیٹھے بچوں کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا ہو — لیکن قدم نہیں رکے۔ بالآخر وہ اسمکہ پہنچے اور حکام کو اطلاع دی۔ انہی دو لوگوں کی وجہ سے بچاؤ ٹیم وہاں پہنچی۔ انہی دو لوگوں کی وجہ سے دنیا کو پتہ چلا۔ اور واپسی کے راستے میں، بچاؤ ٹیم نے ایک اور ٹرک کو دیکھا جس میں 60 سے زیادہ افراد تین دن سے بیٹری فیل ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے — انہیں فوری پانی اور مدد دے کر ایک اور المیے کو ٹال دیا گیا۔

دنیا کو یہ جان کر جھٹکا لگتا ہے — لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحرائے صحارا ہر سال ایسی ہی بے شمار قبریں اپنے اندر سموتا ہے۔ نائجر کے علاقے اگادیز میں کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کے ذمہ دار نے کہا کہ یہ واقعہ کوئی نیا نہیں — ہم سالوں سے ڈرائیوروں، مسافروں اور ہجرت سے وابستہ لوگوں کو صحرا عبور کرنے کے خطرات کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔ نائجر دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں کے نوجوان مالی کی سونے کی کانوں میں کام کرنے جاتے ہیں — دہشتگردی کا خطرہ ہو، صحرا کا عذاب ہو، یا ٹوٹی پھوٹی سواریاں — غربت انہیں مجبور کرتی ہے۔ عالمی برادری، بین الاقوامی ادارے، اور امیر ممالک ایسے المیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں — لیکن وہ نظامی غربت جو ان لوگوں کو ایسے خطرناک سفر پر مجبور کرتی ہے، اس پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ ہر مرنے والے کا ایک نام تھا، ایک گھر تھا، ایک خواب تھا۔

6 جون 2026 — جب دنیا اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف تھی — صحرائے صحارا کی ایک گمنام پٹی پر 49 انسانی روحیں پانی کی ایک بوند کو ترستے ہوئے خاموش ہو گئیں۔ وہ کوئی مہاجر نہیں تھے، کوئی سیاسی پناہ کے طلبگار نہیں تھے — وہ بس عید منا کر گھر لوٹنے والے لوگ تھے۔ آج 21ویں صدی میں، جب انسان مریخ پر بستیاں بسانے کی بات کرتا ہے، جب مصنوعی ذہانت ہر سوال کا جواب دیتی ہے، جب ایک کلک پر دنیا کی ہر معلومات ہاتھ میں آ جاتی ہے — اس دور میں 49 انسان پانی کے بغیر صحرا میں مر گئے۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں — یہ انسانیت کی اجتماعی ناکامی ہے۔ ان کی اجتماعی قبروں کے پاس ریت ابھی تک گرم ہے۔ ان کے گھروں میں انتظار کی لو ابھی تک جل رہی ہے۔ اور ہم سب کو خود سے پوچھنا ہے — کیا ہم نے اتنی بڑی دنیا بنائی، اور پھر بھی اتنے چھوٹے رہ گئے کہ 49 انسانوں کو پانی نہ دے سکے؟ اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ٹرک کی بیٹری نے 49 انسانوں کو تپتے صحرا کے نیچے ہمیشہ کے لیے سلا دیا، وہ عید کی خوشیاں منا کر گھر لوٹ رہے تھے — لیکن صحرا نے انہیں گھر نہیں پہنچنے دیا۔49 لوگ، ایک ٹوٹا ہوا ٹرک، ایک قطرہ پانی نہیں — اور کئی دن کی وہ اذیت جس کا تصور بھی روح کو کپکپا دیتا

عید الاضحیٰ کا تہوار ختم ہوا تھا۔ مالی کے شہر تلہندک میں کئی دن گزار کر یہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے — نائجر میں ان کے خاندان ان کا انتظار کر رہے تھے۔ خوشیاں دل میں تھیں، قربانی کی یادیں تازہ تھیں، اور ایک بھرا پرا ٹرک صحرائے صحارا کی بے رحم ریت پر رواں دواں تھا۔ تقریباً سو افراد اس ٹرک میں سوار تھے — مرد، خواتین، بچے — سب گھر کی راہ پر۔ لیکن پھر وہ ہوا جو کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ٹرک رک گیا۔ انجن نے جواب دے دیا۔ اور اسمکہ سے تقریباً 80 کلومیٹر مغرب میں، نائجر اور الجزائر کی سرحد کے قریب اس بے آب و گیاہ صحرا کے قلب میں، یہ تمام لوگ پھنس گئے — جہاں دور دور تک نہ کوئی انسانی بستی تھی، نہ پانی کا ایک چشمہ، نہ مدد کی کوئی امید۔ ڈرائیور نے کوشش کی، مسافروں نے ہاتھ لگائے، لیکن ٹرک نہ چلا۔ اور اس کے ساتھ ہی شروع ہوئی انسانی تاریخ کی ایک انتہائی دردناک، خاموش، اور ہولناک موت کی داستان۔

صحرائے صحارا میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ سورج پتھر کی طرح گرم ریت پر آگ برساتا ہے۔ جب پانی ختم ہوا، تو پہلے پیاس نے آنکھیں جلائیں، پھر ہونٹ پھٹے، پھر گلے نے جواب دیا۔ ڈیہائیڈریشن انسانی جسم کو آہستہ آہستہ اندر سے توڑتی ہے — پہلے کمزوری، پھر بے ہوشی، پھر خاموشی۔ حکام نے بعد میں بتایا کہ جب بچاؤ ٹیم وہاں پہنچی تو منظر انتہائی دل دہلانے والا تھا — درجنوں بے جان جسم اسی رکے ہوئے ٹرک کے نیچے اور اس کے اردگرد پڑے تھے۔ وہ ٹرک کے سائے میں آخری وقت تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ شاید انہوں نے ایک دوسرے کو دلاسا دیا ہو، شاید کوئی دعا پڑھی ہو، شاید کسی نے کسی کا ہاتھ تھاما ہو — لیکن صحرا نے انہیں رحم نہ دیا۔ 49 افراد کو اسی مقام پر اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا — ان کے گھر والے آج بھی انتظار میں ہیں، اور انتظار کی یہ آگ پانی کی پیاس سے کم نہیں۔

اس پوری داستان میں امید کی ایک باریک سی لکیر ہے — اور وہ لکیر دو انسانوں کے قدموں سے بنی ہے۔ جب ہر طرف موت کا سایہ گہرا ہو رہا تھا، دو افراد نے وہ فیصلہ کیا جو شاید سب سے مشکل فیصلہ تھا — چلتے رہو، رکنا موت ہے۔ وہ اٹھے اور صحرا میں قدم رکھ دیا۔ 50 کلومیٹر سے زیادہ کا پیدل سفر — جلتی ریت پر، بے پانی، بے سایہ، بے امید — لیکن وہ چلتے رہے۔ شاید انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے 49 ساتھیوں کو یاد کیا ہو، شاید آگے گھر میں بیٹھے بچوں کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا ہو — لیکن قدم نہیں رکے۔ بالآخر وہ اسمکہ پہنچے اور حکام کو اطلاع دی۔ انہی دو لوگوں کی وجہ سے بچاؤ ٹیم وہاں پہنچی۔ انہی دو لوگوں کی وجہ سے دنیا کو پتہ چلا۔ اور واپسی کے راستے میں، بچاؤ ٹیم نے ایک اور ٹرک کو دیکھا جس میں 60 سے زیادہ افراد تین دن سے بیٹری فیل ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے — انہیں فوری پانی اور مدد دے کر ایک اور المیے کو ٹال دیا گیا۔

دنیا کو یہ جان کر جھٹکا لگتا ہے — لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحرائے صحارا ہر سال ایسی ہی بے شمار قبریں اپنے اندر سموتا ہے۔ نائجر کے علاقے اگادیز میں کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کے ذمہ دار نے کہا کہ یہ واقعہ کوئی نیا نہیں — ہم سالوں سے ڈرائیوروں، مسافروں اور ہجرت سے وابستہ لوگوں کو صحرا عبور کرنے کے خطرات کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔ نائجر دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں کے نوجوان مالی کی سونے کی کانوں میں کام کرنے جاتے ہیں — دہشتگردی کا خطرہ ہو، صحرا کا عذاب ہو، یا ٹوٹی پھوٹی سواریاں — غربت انہیں مجبور کرتی ہے۔ عالمی برادری، بین الاقوامی ادارے، اور امیر ممالک ایسے المیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں — لیکن وہ نظامی غربت جو ان لوگوں کو ایسے خطرناک سفر پر مجبور کرتی ہے، اس پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ ہر مرنے والے کا ایک نام تھا، ایک گھر تھا، ایک خواب تھا۔

6 جون 2026 — جب دنیا اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف تھی — صحرائے صحارا کی ایک گمنام پٹی پر 49 انسانی روحیں پانی کی ایک بوند کو ترستے ہوئے خاموش ہو گئیں۔ وہ کوئی مہاجر نہیں تھے، کوئی سیاسی پناہ کے طلبگار نہیں تھے — وہ بس عید منا کر گھر لوٹنے والے لوگ تھے۔ آج 21ویں صدی میں، جب انسان مریخ پر بستیاں بسانے کی بات کرتا ہے، جب مصنوعی ذہانت ہر سوال کا جواب دیتی ہے، جب ایک کلک پر دنیا کی ہر معلومات ہاتھ میں آ جاتی ہے — اس دور میں 49 انسان پانی کے بغیر صحرا میں مر گئے۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں — یہ انسانیت کی اجتماعی ناکامی ہے۔ ان کی اجتماعی قبروں کے پاس ریت ابھی تک گرم ہے۔ ان کے گھروں میں انتظار کی لو ابھی تک جل رہی ہے۔ اور ہم سب کو خود سے پوچھنا ہے — کیا ہم نے اتنی بڑی دنیا بنائی، اور پھر بھی اتنے چھوٹے رہ گئے کہ 49 انسانوں کو پانی نہ دے سکے؟ اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

میرا الیکٹرک بائیک چلانے کا دو سال کا تجربہ کیسا رہا ۔۔۔ جب سے الیکٹرک بائیک لی ہے تب سے ہی بہت دوست جاننے والے بلکہ راس...
02/06/2026

میرا الیکٹرک بائیک چلانے کا دو سال کا تجربہ کیسا رہا ۔۔۔

جب سے الیکٹرک بائیک لی ہے تب سے ہی بہت دوست جاننے والے بلکہ راستے چلتے لوگ بھی روک کر کافی سوالات کرتے ہیں ۔۔
شروع میں یہ شرح بہت زیادہ تھی لیکن اب کچھ بائیکس زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھ سے سوالات کم ہوگئے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اب بھی بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں خاص طور پر پیٹرول کے ریٹ بڑھنے کے بعد جو لوگ الیکٹرک لینا چاہ رہے وہ ضرور پوچھتے ہیں ۔۔

اگر آپ یہ پوسٹ پڑھ لیں گے تو میرے دو سال کے تجربے کا نچوڑ آپ کو مل جائے گا ۔ پھر بھی کوئی سوال رہ جائے تو آپ کمنٹ میں پوچھ سکتے ہیں ۔

الیکٹرک بائیک میں کچھ چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں ان میں سب سے پہلے آتی ہے بیٹری کی قسم ۔۔ شروع میں زیادہ تر کمپنیوں نے جیل اور گریفین بیٹریاں استعمال کیں جو کہ دیر پا نہیں اور اتنے پیٹرول سے نہیں بچتے ایک دو سال میں جتنے کی دوبارا بیٹری لینی پڑتی تھی ۔۔ اس لیے جب بھی بائیک لیں ہمیشہ لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹری والی لیں اور اس میں بھی دیکھیں جو کمپنی زیادہ سائیکل یعنی 4 ہزار یا اس سے زیادہ سائیکل والی بیٹری استعمال کر رہی ہے وہ لیں ۔ اس کے ساتھ کمپنی بیٹری کی کتنے سال کی وارنٹی دے رہی ہے یہ بھی ضرور معلوم کریں اور زیادہ گارنٹی والی لیں۔

الیکٹرک بائیک کے لیے دوسری اہم چیز ہوتی ہے اس کی رینج کہ ایک چارج پر کتنے کلومیٹر چلے گی ۔ اس میں ایک بات یاد رکھیں کہ کمپنی جو کلیم کررہی ہوتی ہے وہ صرف سلو موڈ یا پہلے گئیر پر کلیم کر رہی ہوتی ہے اور وہ بھی 15 سے 20 کلومیٹر کم آتی ہے ۔ مثال کے طور پر میرے پاس جو بائیک ہے وہ 100 کلومیٹر کلیم کرتے ہیں لیکن لو موڈ پر وہ 80 کی رینج دیتی ہے اور فل یا مڈ سپیڈ پر ایک ہی رینج آتی ہے یا تھوڑا بہت فرق آ جاتا ہے اور میری بائیک ٹاپ سپیڈ پر 50 کلومیٹر کرتی ہے ۔
دراصل رینج جو ہے وہ بیٹری اور موٹر کی پاور پر انحصار کرتی ہے میری بائیک میں بیٹری 66 وولٹ اور 35 ایمپئیر کی ہے جو کہ 1500 واٹ کی موٹر کے ساتھ درج بالا رینج دے رہی ہے اگر آپ رینج بڑھانا چاہتے ہیں تو موٹر کے واٹ کم کر لیں یعنی ایک ہزار واٹ کی اور بیٹری کے ایمپئیر زیادہ کر لیں تو اسی حساب سے رینج بڑھ جائے گی ۔۔

اس کے ساتھ کچھ لوگ بائیک کی سپیڈ کے بارے میں بہت پوچھتے ہیں تو اس بارے میں میں یہی کہوں گا کہ سپیڈ تو 60 ، 70 یا 80 کمپنی جتنی کلیم کرتی یے وہ آپ کو مل جاتی ہے لیکن سپیڈ بڑھانے سے آپ کی رینج بہت کم ہو جاتی ہے اور دوسری سب سے اہم بات الیکٹرک بائیک شاید وزن میں ہلکی ہونے کی وجہ سے زیادہ سپیڈ پر اس کی روڈ گرپ نہ ہونے کے برابر ہے اگر آپ سلو موڈ پر ہیں تو ٹھیک لیکن اگر آپ تھوڑا سا بھی اور سپیڈ ہیں تو اسے بریک لگانے پر بہت محتاط رہنا پڑتا ہے کیونکہ یہ بہت زیادہ ببل کرنے لگ جاتی ہے۔ اس لیے سٹی میں سلو سپیڈ ہی بہتر ہے ہاں تھوڑے لمبے سفر پر رسک لے سکتے ہیں۔ وہ بھی اپنی ذمے داری پر۔۔۔۔

اس کے بعد آتی ہے پارٹس اور مینٹیننس کی بات تو اس کی بیٹری اور موٹر کے علاوہ تمام پارٹس اگر آپ بائیک لیتے ہیں تو آسانی سے مل جاتے ہیں کیونکہ پیٹرول اور الیکٹرانک بائیک کے پارٹس ایک جیسے ہیں اور بیٹری اور موٹر دونوں پہلے ہی بتائیں اگر وارنٹی میں ہوں تو جلدی سے ضرورت بھی نہیں پڑتی ۔ باقی جہاں تک بات ہے سکوٹی کی تو وہ میں لینے کا مشورہ ہی نہیں دوں گا خواتین کیلئے بھی نہیں وجہ آگے تفصیل سے بتا دوں گا ۔ باقی رہی بات مینٹیننس کی تو اکثر اوقات کاریگر اس کو ہاتھ نہیں لگاتے اور شروع میں تو بہت مسئلہ ہوتا تھا اب کچھ الیکٹریشن جو کہ بائیکس کا کام کرتے ہیں ان پر بھی ہاتھ سیدھا کررہے ہیں ۔ آتے چھوٹے موٹے الیکٹرک فالٹ ہیں اگر آپ کا تھوڑا بہت بجلی اور الیکٹرک کے کام کا تجربہ یا واسطہ ہے تو آپ خود سیٹ کر لیں گے لیکن اگر سمجھ نہ آئے تو لمبے سفر تک یا تو لفٹ لینی پڑ سکتی یا پھر پیدل واک اور دل ایسے کرتا کہ آج ہی کباڑ میں بیچ کر چھولے بھٹورے کھا لیں بس بہت ہوگئی اور میں اس کیفیت سے ایک دو بار گزرا ہوں لیکن پیٹرول کی قیمتوں کے بعد دل نہیں کرتا اس کے چھولے کھانے کا۔

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ سکوٹی کیوں نہیں لینی چاہیے ۔ تو سب سے اہم بات تقریباً تمام سکوٹی پلاسٹک کی بنی ہوئی ہیں اور وہ بہت جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں اور ہلکے سے ایکسیڈنٹ پر بھی ساری بریک ہو جاتی ہے اور آپ کا سارا پیسے برباد ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ سکوٹی میں ٹائر ٹیوب لیس یا چھوٹے ٹائر آتے ہیں جن کو پنکچر لگانا مشکل بھی ہے اور مہنگا بھی اس لئیے ایک پنکچر آپ کے کئی دن کے پیٹرول کے پیسے کھا جاتا ہے ۔ اسی لیے خواتین کیلئے بھی کبھی سکوٹی نہ لیں۔ بائیک اور سکوٹی چلانا ایک جیسا یے جو سکوٹی چلانا سیکھ لے گی وہ بائیک بھی چلا لے گی۔

اب آتے ہیں سب سے اہم سوال کی طرف کہ ویلیو ٹو منی ہے یا نہیں ۔۔

اگر دیکھا جائے تو آج سے دو سال پہلے کے پیٹرول ریٹ پر بھی میرے ماہانہ پیٹرول کی کھپت کے مطابق یہ بائیک دو سال اور چھ ماہ میں اپنے پیسے پورے کر لے گی اور موجودہ پیٹرول کی قیمت کو سامنے رکھیں تو یہ اب تک اپنے پیسے پورے کر چکی ہے ۔ لیکن اگر پاکستان میں دیکھا جائے جس طرح کمپنیاں لوٹ رہی ہیں اور یہ بائیکس جتنے میں مل رہی ہیں اتنے میں آپ چاہیں تو کسی اچھے بندے سے اتنے پیسوں میں زیادہ رینج کی بائیک سیٹ کروا سکتے ہیں شرط وہی ہے کہ بندہ اچھا ہو۔ مثال کے طور پر میں نے یہ بائیک دو لاکھ پچاس ہزار میں لی تھی اور یہ 80 کلومیٹر کی رینج دے رہی ہے ۔ اگر میں آج ہزار واٹ اور 100 ایمپئیر کی لیتھیم بیٹری کے ساتھ خود بنواوں تو مجھے وہ انہی پیسوں میں تقریباً 300 کلومیٹر کی رینج دے گی جو کہ بہت زیادہ ہے ۔

اس کے علاؤہ بھی اگر آپ کا کوئی سوال ہو تو آپ کمنٹ کر کے پوچھ سکتے ہیں ۔ اس کے علاؤہ جو لوگ الیکٹرک بائیک استعمال کر رہے ان کا اس سے کچھ مختلف تجربہ ہے کوئی تو کمنٹ کرسکتے ہیں تاکہ باقی لوگوں کو بھی رہنمائی ملے اور ان کا بھی بھلا ہوجائے۔

👈کہتے ہیں کہ 🗡️♦️"دجال مشرق سے اپنے آپ کو ظاہر کرے گا، اس کا تعلق یہودی خاندان سے ہو گا، اسے عام طور پر ایک آنکھ کا اندھ...
12/05/2026

👈کہتے ہیں کہ 🗡️
♦️"دجال مشرق سے اپنے آپ کو ظاہر کرے گا، اس کا تعلق یہودی خاندان سے ہو گا، اسے عام طور پر ایک آنکھ کا اندھا بتایا جاتا ہے، اور اس کی پیشانی پر لفظ "کافر" لکھا ہو گا، وہ یروشلم کو فتح کر کے پوری دنیا کا سفر کرے گا۔ مکہ اور مدینہ کے علاوہ ہر شہر میں داخل ہو گا ۔
یا رہے یہودیوں نے اسکے ظہور کی نشانیاں جعلی طور پر پوری کرنے کی کوششیں تیز کی ہوئی ہیں ۔ 🍁
♦️یہاں ایک بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ سورت الکہف جس کو یاد ہو گی وہ ہی اسکے فتنے سے بچ سکے گا ۔ اور جو متواتر جمعہ کے روز اسکو پڑھتا ہے اسکے لئے اسکے رہنے کے مقام سے لیکر مکہ مکرمہ تک ایک نور روشن کیا جاتا ہے ۔ جس سے اس انسان کو ھدایت پر قائم رہنے میں مدد دی جاتی ہے ۔ 🗡️

♦️ ایک جھوٹے مسیحا کے طور پر، بہت سے لوگ اس سے دھوکہ کھا کر اس کی صفوں میں شامل ہو جائیں گے۔ بعض احادیث میں ذکر ہے کہ زیادہ تر عورتوں کی تعداد اسکے ساتھ شمولیت اختیار کر لے گی ۔ نعوذباللہ من ذالک
اس کی مدد شیاطین (جنات) کی فوج کرے گی۔ اسکے سامنے مردوں کو ذندہ کرنے میں مدد کرنے کے لئے وہ انسانی جسم میں گھس کر باتیں کریں گے جس سے لوگوں کا ایمان خطرے میں پڑ جائے گا ۔ 🍁
♦️ اس کی مرضی کے سب سے زیادہ قابل اعتماد حمایتی یہودی ہوں گے، کبالہ جادو کے ذریعے اسکے مدد گار شیطانی طاقتوں کے قرب کے لئے رات دن سر توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
گریٹر اسرائیل کو سمجھنے کے لیے ہم زمانہِ بنی اسرائیل میں چلتے ہیں. جناب حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کا تعلق عراق سے تھا لیکن آپ ہجرت کرکے فلسطین تشریف لے گئے، یہاں آپ اپنی بیگم سارہ اور بیٹے حضرت اسحاق کے ساتھ مقیم رہے جبکہ حضرت بی بی ہاجرہ اور جناب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے مکہ چھوڑ آئے، اسرائیل کا لفظ اصل میں ابراہیم علیہ السلام کے پوتے اور حضرتِ اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا عبرانی لقب تھا آپکی نسلیں اسی علاقے میں آباد ہوئیں جو بعد میں بنی اسرائیل کہلائیں.🍁

♦️حضرت اسحاق علیہ السلام کے پھر بارہ بیٹے ہوئے جن میں سے ہر ایک کا اپنا قبیلہ وجود میں آیا اور یہ بارہ قبیلے مختلف علاقوں میں پھیل گئے. ان بارہ قبیلوں کے نام یہ تھے. "رئبون، شمعون، یہوداہ، نفتالی،دان، لاوی، جاد، آشیر، ماناسہ، یساکار، زبولون، بنیامین، افرایم" یوں سمجھیں یہ بارہ قبیلے نہیں بلکہ 12 ممالک تھے یہی تمام قبیلے پھر جنگوں میں فتح ہوتے مخلتف نام بدلتے بدلتے آج ملکوں میں بدل چکے ہیں اور کچھ ضم ہوچکے ہیں.🍁

♦️ان میں پہلے سے موجود فسلطین پہ اسرائیل پہلے ہی قابض ہے جبکہ باقی ممالک میں ترکی، عراق، شام، لبنان، اردن، سعودی عرب، مصر اور کویت شامل ہیں جو بنی اسرائیل کا حصہ تھے اسی وجہ سے ہی یہ تمام ممالک صلیبیوں اور یہودیوں کے عتاب میں آئے ہوئے ہیں یہودی چاہتے ہیں کہ جیسے زمانہِ بنی اسرائیل میں جو علاقے ان کے پاس تھے ایک مرتبہ پھر ان علاقوں کو اسی انداز میں حاصل کرکے پھر سے ویسی ہی ایک مضبوط اور وسیع یہودی ریاست قائم کیجائے جسے یروشلم سے بیٹھ کر کنٹرول کیا جاسکے🍁
♦️خدا کی قسم میرا جی چاہتا ہے میں آپ سے انکی ساری منصوبہ بندیوں کا ذکر کروں انہوں نے کیا کیا، کیسے کیا؟ انہوں نے دنیا کی سرحدیں کیسے تقسیم کیں، انہوں نے 1700 صدی سے اب تک کیسے کیسے مکروفریب کے جال بچھائے، اقوامِ متحدہ کے کا نام پہ، اقوامِ متحدہ کے قوانین و قراردادوں کے نام پہ، سفارتی پروٹوکولز کے نام پہ. یہودی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے جو اصل میں سب ایک دوسرے سے ملے ہیں کیسے کیسے ہمیں لوٹا ہمیں نچوڑ رھے ھیں🥲
جن کے لیے وہ خدا کی مانند ہوگا۔ اس کی واپسی پر بہت سے کمزور ایمان والے لوگ اس کی زد میں آئیں گے۔ اس کے آنے کے بعد ہماری بیٹیوں اور بیویوں کو گھر میں رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ (یہ قیامت کی نشانیاں ہیں)۔🍁

♦️ سورہ کہف کی پہلی 10 اور آخری 10 آیات ہمیں دجال کے فتنے سے بچا سکتی ہیں۔ سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اسے روزانہ پڑھنے کی کوشش کریں۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ اس حوالے سے آگاہی بڑھانے کی کوشش کریں۔ یہ ہماری امت کا سب سے بڑا، سخت اور مشکل فتنہ ہے اور میں بہت سے لوگوں کو اس سے ناواقف دیکھتا ہوں۔ براہ کرم اس کے بارے میں جانیں اور اپنا ایمان بنانے کی کوشش کریں🍁
باقی واللہ اعلم

یہ تصویر واقعی ایک پرانی اور خوبصورت یاد تازہ کر رہی ہے۔ 2010 کا سیلاب سوات، بالخصوص کالام کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ تھا ...
07/05/2026

یہ تصویر واقعی ایک پرانی اور خوبصورت یاد تازہ کر رہی ہے۔ 2010 کا سیلاب سوات، بالخصوص کالام کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس نے نہ صرف یہاں کے جغرافیے بلکہ اس کی روایتی رونقوں کو بھی بدل کر رکھ دیا۔
دریائے سوات کے ٹھنڈے پانی کے عین اوپر یا کنارے لگی وہ چارپائیاں جہاں سیاح گھنٹوں بیٹھ کر دریا کی لہروں کا شور سنتے تھے، اب صرف یادوں اور ایسی ہی تصویروں میں محفوظ رہ گئی ہیں۔
# # # کالام کی اس تصویر کی چند نمایاں خصوصیات:
* **پرانی طرز کا پل:** تصویر میں نظر آنے والا لکڑی کا یہ پل اس دور کی سادہ مگر مضبوط تعمیرات کی عکاسی کر رہا ہے جو مقامی لوگوں اور سیاحوں کی آمد و رفت کا واحد ذریعہ تھا۔
* **قدیم تعمیرات:** پس منظر میں بنے ہوئے کچے اور لکڑی کے مکانات اس علاقے کے خالص ثقافتی رنگ کو ظاہر کر رہے ہیں، جو اب جدید ہوٹلوں کی نذر ہو چکے ہیں۔
* **سادگی اور سکون:** اس تصویر کو دیکھ کر اس دور کے سکون اور سادگی کا احساس ہوتا ہے جو آج کے ہجوم والے کالام میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔
> "سیلاب تو گزر گیا اور تعمیرِ نو بھی ہو گئی، لیکن وہ جو ایک خاص اپنائیت اور روایتی منظر تھا، وہ وقت کے ساتھ کہیں پیچھے رہ گیا۔ یہ تصویر محض ایک منظر نہیں بلکہ کالام کی تاریخ کا ایک اہم ورق ہے۔"

کیا ہوگا اگر ایک دن زمین پر زندگی مکمل طور پر ختم ہو جائے؟ اگر کوئی عالمی جنگ، مہلک وائرس، یا ماحولیاتی تباہی انسانیت کو...
29/04/2026

کیا ہوگا اگر ایک دن زمین پر زندگی مکمل طور پر ختم ہو جائے؟ اگر کوئی عالمی جنگ، مہلک وائرس، یا ماحولیاتی تباہی انسانیت کو مٹا دے تو کیا کوئی ایسا طریقہ موجود ہے جس کے ذریعے انسان دوبارہ زندہ ہو سکیں؟ یہ سوال صدیوں سے انسان کے ذہن کو پریشان کرتا آیا ہے۔ جدید دور میں ایک ایسا تصور سامنے آیا ہے جس نے اس خیال کو مزید تقویت دی ہے کہ شاید انسان کو “محفوظ” کیا جا سکتا ہے — منجمد کر کے۔

یہ تصور سادہ نہیں بلکہ حیران کن حد تک پیچیدہ ہے۔ اسے “کرایونکس” کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت کسی انسان کے مرنے کے فوراً بعد اس کے جسم یا دماغ کو انتہائی کم درجہ حرارت پر محفوظ کر دیا جاتا ہے، اس امید کے ساتھ کہ مستقبل میں سائنس اتنی ترقی کر جائے گی کہ اسے دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔

یہ خیال سننے میں کسی سائنسی فلم کی کہانی لگتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایسے ادارے موجود ہیں جو یہ خدمات فراہم کرتے ہیں۔ کئی لوگ لاکھوں ڈالر خرچ کر کے اپنے جسم کو مستقبل کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آج اگر موت ایک حتمی حقیقت ہے تو کل شاید یہ صرف ایک عارضی حالت ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک دنیا بھر میں تقریباً 500 کے قریب افراد ایسے ہیں جنہیں کرایونکس کے ذریعے منجمد کر کے محفوظ کیا جا چکا ہے۔ یہ لوگ مختلف اداروں میں مخصوص ٹینکوں میں انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھے گئے ہیں، جہاں ان کے جسم کو وقت کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی موت کے بعد اسی عمل سے گزرنے کے لیے رجسٹریشن کروا رکھی ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ واقعی ممکن ہے؟ کیا انسان کو منجمد کر کے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے؟

سائنس ابھی تک اس سوال کا واضح جواب دینے سے قاصر ہے۔ اب تک کوئی بھی ایسا کیس سامنے نہیں آیا جس میں کسی منجمد انسان کو دوبارہ زندہ کیا گیا ہو۔ اصل مسئلہ صرف جسم کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ خلیات، دماغ، اور یادداشت کو صحیح حالت میں برقرار رکھنا ہے۔ جب جسم کو منجمد کیا جاتا ہے تو خلیات کے اندر برف کے ذرات بنتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگرچہ جدید تکنیکیں اس نقصان کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن مکمل تحفظ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔

یہاں ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے کسی خفیہ مقام پر انسانوں کو بڑی تعداد میں منجمد کر کے رکھا جا رہا ہے تاکہ اگر کبھی زمین پر زندگی ختم ہو جائے تو انہیں دوبارہ زندہ کر کے انسانیت کو بحال کیا جا سکے۔ یہ خیال سننے میں دلچسپ ضرور ہے، مگر اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کرایونکس کا مقصد پوری انسانیت کو بچانا نہیں بلکہ انفرادی سطح پر زندگی کو طول دینا ہے۔ یعنی یہ ایک طرح کی “ذاتی امید” ہے، نہ کہ اجتماعی منصوبہ۔

اس کے برعکس، کچھ حقیقی سائنسی کوششیں ایسی ضرور ہیں جن کا مقصد زندگی کو محفوظ رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں بیجوں، ڈی این اے، اور دیگر حیاتیاتی مواد کو محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ اگر کوئی بڑی آفت آئے تو کم از کم زندگی کی بنیادی شکلیں دوبارہ پیدا کی جا سکیں۔

لیکن یہاں بھی ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انسانیت صرف جسموں سے نہیں بنتی، بلکہ علم، تجربے، معاشرت، اور تہذیب سے بنتی ہے۔ اگر چند منجمد انسان یا محفوظ ڈی این اے موجود بھی ہو، تب بھی ایک مکمل معاشرہ دوبارہ قائم کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر چند سو یا ہزار انسان کسی تباہی کے بعد زندہ بھی ہو جائیں، تو کیا وہ ایک نئی دنیا بنا سکیں گے؟ کیا ان کے پاس وہ علم، وسائل، اور نظام ہوگا جس کی بنیاد پر ایک نئی تہذیب کھڑی کی جا سکے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبیں صدیوں میں بنتی ہیں، لمحوں میں نہیں۔

کرایونکس کے حامیوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، نینو ٹیکنالوجی، اور بایو انجینئرنگ اس قدر ترقی کر جائیں گی کہ نہ صرف منجمد انسانوں کو زندہ کیا جا سکے گا بلکہ انہیں بیماریوں سے مکمل طور پر پاک بھی کیا جا سکے گا۔ کچھ لوگ تو یہ بھی تصور کرتے ہیں کہ انسانی شعور کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر کے نئے جسم میں منتقل کیا جا سکے گا۔

لیکن ناقدین اس خیال کو محض ایک خواب قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسی امید ہے جس کی بنیاد موجودہ سائنس پر نہیں بلکہ مستقبل کی غیر یقینی ٹیکنالوجی پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ موت کو دھوکہ دینا اتنا آسان نہیں جتنا کہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بحث صرف سائنسی نہیں بلکہ فلسفیانہ بھی ہے۔ اگر کسی انسان کو سو سال بعد زندہ کیا جائے تو کیا وہ واقعی وہی شخص ہوگا؟ کیا اس کی یادیں، احساسات، اور شخصیت ویسی ہی رہے گی؟ یا وہ صرف ایک جسم ہوگا جس میں ماضی کی کچھ جھلکیاں باقی ہوں گی؟

مزید یہ کہ اگر ہم موت کو شکست دے دیں تو کیا اس کے معاشرتی اثرات ہوں گے؟ کیا دنیا میں وسائل کی کمی نہیں ہوگی؟ کیا ہر انسان کو یہ سہولت حاصل ہوگی یا یہ صرف امیر طبقے تک محدود رہے گی؟

یہ تمام سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کرایونکس صرف ایک سائنسی تجربہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نظریہ ہے جو انسان کی بنیادی فطرت کو چیلنج کرتا ہے۔

آخر میں، حقیقت یہ ہے کہ انسان کو منجمد کر کے مستقبل میں زندہ کرنے کا تصور ابھی تک ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔ اس میں امید ضرور ہے، لیکن یقین نہیں۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جو سائنس، فلسفہ، اور انسان کی فطری خواہش — یعنی ہمیشہ زندہ رہنے کی آرزو — کا امتزاج ہے۔

شاید مستقبل میں یہ ممکن ہو جائے، یا شاید یہ ہمیشہ ایک خیال ہی رہے۔ لیکن ایک بات یقینی ہے: انسان ہمیشہ اپنی بقا کے لیے نئے راستے تلاش کرتا رہے گا، چاہے وہ کتنے ہی عجیب کیوں نہ ہوں۔

وقت کا انکشاف، سولر بمقابلہ لونر کیلنڈر کی فزکس، اور مزارات کی نفسیات: سورہ الکہف کی آیات 21 تا 30 کا سائنسی، عمرانی اور...
26/02/2026

وقت کا انکشاف، سولر بمقابلہ لونر کیلنڈر کی فزکس، اور مزارات کی نفسیات: سورہ الکہف کی آیات 21 تا 30 کا سائنسی، عمرانی اور الہیاتی مطالعہ (سورہ کہف حصہ سوم) - بلال شوکت آزاد

انسانی تاریخ، عمرانیات (Sociology) اور نفسیات کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی اس کائنات کا احد و واحد خالق طبعی قوانین (Physical Laws) کو چیر کر کوئی عظیم الشان معجزہ انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے، تو فکری افلاس کا شکار ہجوم (Mob) اس معجزے کی ”روح“ اور اس کے ”پیغام“ کو سمجھنے کے بجائے، اس کی ظاہری خ*ل کی پوجا شروع کر دیتا ہے (یا سرے سے رد کر دیتا ہے)۔

پچھلے منظر میں وہ نوجوان جب تین سو سال پرانا سکہ لے کر شہر کے بازار میں داخل ہوا اور اس نے روٹی خریدنے کے لیے وہ سکہ پیش کیا، تو مارکیٹ کی معاشیات اور تاریخ دونوں ٹکرا گئیں۔

دکانداروں نے سمجھا کہ شاید اسے کوئی پرانا خزانہ مل گیا ہے۔ جب تفتیش ہوئی اور وہ نوجوان ریاست کے اعلیٰ حکام تک پہنچا، تو ایک ایسا کائناتی اور ٹائم ٹریول (Time Travel) کا راز فاش ہوا جس نے اس دور کی پوری تہذیب کو ہلا کر رکھ دیا۔

ظالم بادشاہ دقیانوس مر کر مٹی ہو چکا تھا، اور اب شہر میں جس بادشاہ کی حکومت تھی وہ اور اس کی رعایا خدا کو ماننے والے بن چکے تھے، لیکن ان کے معاشرے میں ایک بہت بڑا فلسفیانہ اور سائنسی اختلاف پیدا ہو چکا تھا کہ کیا انسان مرنے کے بعد، مٹی میں مل جانے کے بعد واقعی جسمانی طور پر دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟

اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کو اس ”ایگزسٹینشل کرائسس“ (Existential Crisis) کے عین عروج پر غار سے نکال کر شہر میں بھیجا تاکہ موت کے بعد زندگی کا ایک چلتا پھرتا، سانس لیتا اور زندہ بائیولوجیکل ثبوت (Biological Proof) پوری ریاست کے سامنے پیش کر دیا جائے،

فرمایا:

”وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا ۖ رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا ۝“
(ترجمہ: اور اس طرح ہم نے (شہر والوں کو) ان کے حال پر مطلع کر دیا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ بالکل سچا ہے، اور یہ کہ قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جب وہ آپس میں ان کے معاملے پر جھگڑنے لگے، تو کچھ لوگوں نے کہا: ان (غار والوں) پر ایک عمارت بنا دو، ان کا رب ان کے حال کو بہتر جانتا ہے۔ لیکن جو لوگ ان کے معاملات پر غالب آئے (جو اقتدار اور اثر و رسوخ والے تھے)، انہوں نے کہا: ہم تو ان (کے غار) پر ضرور ایک مسجد (عبادت گاہ) بنائیں گے [الکہف: 21])۔

اس آیت میں انسانی نفسیات اور اندھی عقیدت کا وہ بھیانک اور شرمناک پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے جو آج تک ہمارے معاشروں کا کینسر ہے۔

جب شہر والوں نے اس زندہ معجزے کو دیکھا، ان نوجوانوں سے ملے، اور پھر کائنات کے رب نے ان نوجوانوں کو دوبارہ موت کی آغوش (یا نیند) میں سلا دیا، تو شہر والوں کو چاہیے تھا کہ وہ اس عظیم واقعے سے توحید کا سبق لیتے، اپنے عقائد درست کرتے اور آخرت کی تیاری کرتے۔

لیکن ہوا کیا؟

ان کے اندر کی وہ ”مزار پرست“ (Shrine-Worshipping) جبلت جاگ اٹھی جو نظریے کے بجائے پتھروں کو پوجنا چاہتی ہے۔

کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ ان کے غار کو ایک یادگار (Monument) بنا کر بند کر دو، لیکن جو لوگ سوسائٹی کے مقتدر، طاقتور اور ایلیٹ کلاس کے نمائندے تھے (الذین غلبوا علی امرہم)، انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم ان کے غار کے اوپر ایک عالیشان مسجد (عبادت گاہ) تعمیر کریں گے۔

یہ دراصل حق پرستی کو ”کلٹ“ (Cult) اور کمرشل ازم (Commercialism) میں بدلنے کی وہ سازش تھی جو آج بھی ہم صوفیاء اور اللہ کے ولیوں کی قبروں پر دیکھتے ہیں، جہاں ان کے انقلابی افکار کو دفن کر کے ان کی قبروں پر غلاف چڑھا کر کاروبار کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس مزار کلچر کی شدید مذمت اور نشاندہی کی ہے کہ کیسے ظاہری عقیدت اصل دین کو کھا جاتی ہے۔

اس کے فوراً بعد، اللہ تعالیٰ ان نام نہاد سکالرز، محققین اور تاریخ دانوں کے اس غیر ضروری، سطحی اور فضول اکیڈمک رویے (Superficial Academic Behavior) پر کڑی ضرب لگاتا ہے جو اصل مقاصد کو چھوڑ کر بال کی کھال نکالنے کو ”تحقیق“ کا نام دیتے ہیں،

فرمایا:

”سَيَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ ۖ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ ۚ قُل رَّبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ ۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِم مِّنْهُمْ أَحَدًا ۝“
(ترجمہ: کچھ لوگ (اٹکل پچو لگاتے ہوئے) کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا، یہ سب اندھیرے میں تیر چلانا (غیب کی ہانکنا) ہے۔ اور کچھ کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے، انہیں بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ پس آپ ان کے بارے میں سرسری اور ظاہری بات کے سوا کوئی بحث نہ کریں، اور نہ ہی ان کے بارے میں ان (اہلِ کتاب) میں سے کسی سے کچھ پوچھیں [الکہف: 22])۔

یہ آیت ریسرچ میتھڈولوجی (Research Methodology) اور علمِ حقائق کا ایک زبردست اصول طے کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ یہودیوں، عیسائیوں اور مکہ کے ان مشرکین کی ذہنیت کا تمسخر اڑا رہا ہے جو یہ بحث کر رہے تھے کہ وہ نوجوان کتنے تھے؟

تین تھے، پانچ تھے، یا سات تھے؟

قرآن فرماتا ہے کہ یہ

”رَجْمًا بِالْغَيْبِ“ (اندھیرے میں پتھر مارنا یا محض قیاس آرائی) ہے۔

اس پورے کائناتی معجزے میں اصل نقطہ ان نوجوانوں کی ”تعداد“ نہیں تھا، بلکہ ان کا ”توحید پر کھڑا ہونا“ اور ریاستی جبر کے سامنے ”بغاوت“ تھا۔

آج بھی ہمارے معاشرے کا المیہ یہی ہے کہ ہم دین کی اصل انقلابی روح کو چھوڑ کر فرقہ وارانہ جزئیات، داڑھی کی لمبائی اور لباس کے رنگ پر خونی بحثیں کرتے ہیں۔

اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو سختی سے منع کر دیا کہ

آپ ان جاہلوں سے اس غیر ضروری ڈیٹا (Data) پر کوئی بحث مت کریں اور نہ ہی ان نام نہاد علمائے یہود سے کوئی فتویٰ یا رائے طلب کریں (ولا تستفت فیہم منہم احدا)، کیونکہ کائنات کی اصل اور حتمی انفارمیشن صرف کائنات کے رب کے سرور (Server) میں محفوظ ہے۔

یہ انفارمیشن کا وہ فلٹر ہے جو بتاتا ہے کہ فضول ڈیٹا پر وقت ضائع مت کرو، فوکس (Focus) اصل نظریے پر رکھو۔

اس کائناتی بحث کے بیچ میں، اللہ تعالیٰ اچانک ایک انتہائی اہم نفسیاتی، مابعد الطبیعاتی اور کوانٹم لیول کی وارننگ دیتا ہے جو انسان کے اس غرور کو پاش پاش کر دیتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کو مکمل طور پر کنٹرول کر سکتا ہے،

فرمایا:

”وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا ۝ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ۚ وَاذْكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَىٰ أَن يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَٰذَا رَشَدًا ۝“
(ترجمہ: اور آپ کسی بھی کام کے بارے میں ہرگز یہ نہ کہیں کہ میں اسے کل ضرور کر دوں گا۔ مگر یہ کہ ساتھ یوں کہیں: اگر اللہ نے چاہا (ان شاء اللہ)۔ اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کر لیا کریں، اور کہہ دیں: مجھے امید ہے کہ میرا رب اس (بات) سے بھی زیادہ قریب تر بھلائی اور سیدھے راستے کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا [الکہف: 23-24])۔

یہ دو آیات جدید کوانٹم فزکس کے اس اصول، جسے ”ہائزن برگ کا اصولِ عدم تیقن“ (Heisenberg's Uncertainty Principle) کہا جاتا ہے، کی الہیاتی تشریح ہیں۔

انسان سمجھتا ہے کہ اس کا کل کا شیڈول، اس کی میٹنگز، اس کا بزنس اور اس کی زندگی اس کے اپنے کنٹرول میں ہے۔

اللہ فرما رہا ہے کہ اس کائنات میں ایک ایٹم کا الیکٹران بھی اس وقت تک اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر سکتا جب تک کہ اس پوری کائنات کے احد و واحد ”آبزرور“ (خالق) کی مرضی یا منظوری اس میں شامل نہ ہو۔

جب انسان کہتا ہے کہ ”میں کل یہ کروں گا“، تو وہ دراصل خدائی کے دائرے میں قدم رکھ کر خود کو کائنات کا ڈائریکٹر سمجھنے لگتا ہے۔ ”إِن شَاءَ اللَّهُ“ (اگر اللہ نے چاہا) محض کوئی تکیہ کلام یا لسانی عادت نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے مادی غرور اور اس کی بے بسی کا وہ کائناتی اعتراف (Cosmic Surrender) ہے جو اس کی روح کو حقیقت سے جوڑتا ہے۔

انسان مستقبل کا کوئی حتمی دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ کل (Tomorrow) نام کی کوئی چیز ایگزسٹ (Exist) ہی نہیں کرتی جب تک کہ خدا اسے خلق نہ کر دے۔

اور اگر انسان بھول جائے، تو اسے فوری طور پر اپنے دماغ کو دوبارہ اس کائناتی سرور سے کنیکٹ (Connect) کرنا چاہیے تاکہ اس کے راستے کا تعین درست ہو سکے۔

اب ہم قرآن کے اس سب سے بڑے، دھماکہ خیز اور ایسٹرو فزکس (Astrophysics) کے اس کائناتی شاہکار کی طرف آتے ہیں جس نے چودہ سو سال پہلے ایک ہی مساوات میں سولر (Solar) اور لونر (Lunar) کیلنڈر کو وہ اعشاریائی (Decimal) درستی فراہم کی جس پر آج کی سپیس ایجنسیاں بھی حیران ہوجائیں،

فرمایا:

”وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا ۝ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا ۖ لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا ۝“
(ترجمہ: اور وہ اپنے غار میں تین سو سال تک ٹھہرے رہے، اور (کچھ لوگوں نے) ان میں نو سال کا اور اضافہ کر دیا۔ آپ فرما دیجیے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے جتنا عرصہ وہ ٹھہرے رہے، آسمانوں اور زمین کے تمام غیب اسی کے پاس ہیں۔ وہ کیا ہی کمال دیکھنے والا اور کمال سننے والا ہے! اس (اللہ) کے سوا ان کا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے، اور وہ اپنے حکم اور حکمرانی میں کسی کو ہرگز شریک نہیں کرتا [الکہف: 25-26])۔

ان دو آیات میں جو علمِ فلکیات اور ریاضیات (Mathematics) کا معجزہ چھپا ہے، وہ قرآن کے کلامِ الہی ہونے کا سب سے بڑا سائنسی ثبوت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ غار میں ”ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ“ (300 سال) سوئے رہے، اور پھر خود ہی فرماتا ہے ”وَازْدَادُوا تِسْعًا“ (اور 9 کا اضافہ کر دیا)۔

یہ 300 اور 309 کا کیا چکر ہے؟

دراصل زمین کے سورج کے گرد چکر لگانے (Solar Calendar) اور چاند کے زمین کے گرد چکر لگانے (Lunar Calendar) کی فزکس میں فرق ہے۔

ایک شمسی سال تقریباً 365.2425 دن کا ہوتا ہے، جبکہ ایک قمری (چاند کا) سال تقریباً 354.367 دن کا ہوتا ہے۔ ان دونوں کیلنڈرز کے درمیان ہر سال تقریباً 10.87 دن کا فرق پڑتا ہے۔ جب آپ اس فرق کو 300 شمسی سالوں پر ضرب دیتے ہیں (10.87 × 300 = 3261 دن)، اور پھر ان 3261 دنوں کو قمری سال (354 دن) پر تقسیم کرتے ہیں، تو جواب بالکل اور ٹھیک ٹھیک ”9 سال“ آتا ہے۔

یعنی جو مدت عیسائیوں کے شمسی کیلنڈر کے حساب سے بالکل 300 سال بنتی تھی، وہی مدت مسلمانوں کے قمری کیلنڈر کے حساب سے بالکل 309 سال بنتی ہے۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے ایک ہی جملے میں ان دونوں کائناتی مداروں (Orbits) کو سنکرونائز (Synchronize) کر کے رکھ دیا اور کائنات کے خالق ہونے پر حتمی مہر ثبت کر دی۔

پھر فرمایا کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی حکمرانی مطلق ہے، کائنات کا سارا ڈیٹا اسی کی ہارڈ ڈسک میں محفوظ ہے۔

اس سائنسی اور ریاضیاتی دھماکے کے بعد، اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور قیامت تک آنے والے ہر نظریاتی لیڈر کو ایک اٹل عمرانیاتی اور سیاسی قانون (Socio-political Law) دیتا ہے کہ حق کی اس تحریک میں تمہیں کس قسم کے لوگوں کا ساتھ چاہیے اور کن لوگوں کو دھکے مار کر باہر نکالنا ہے،

فرمایا:

”وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا ۝ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا ۝“
(ترجمہ: اور آپ کے رب کی کتاب میں سے جو کچھ آپ پر وحی کیا گیا ہے اسے پڑھ کر سناتے رہیں۔ اس کی باتوں (کلمات) کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے، اور آپ اس کے سوا ہرگز کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں روکے (باندھے) رکھیں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، محض اس کی رضا چاہتے ہیں، اور آپ کی نگاہیں دنیا کی زندگی کی رونق چاہنے کے لیے ان (غریب مگر مخلص لوگوں) سے ہرگز نہ ہٹیں۔ اور آپ ہرگز اس شخص کی اطاعت نہ کریں جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے، اور وہ اپنی نفسانی خواہش کے پیچھے چل پڑا ہے اور اس کا کام حد سے گزرا ہوا ہے [الکہف: 27-28])۔

یہ دو آیات دراصل کیپیٹلزم (Capitalism)، ایلیٹزم (Elitism) اور کارپوریٹ کلچر کے منہ پر ایک زوردار تمانچہ ہیں اور اسلامی ریاست اور تحریک کا وہ کائناتی منشور پیش کرتی ہیں جسے ہم بھول چکے ہیں۔

مکہ کے رؤسا، سرمایہ دار، اور چوہدری (ابوجہل، ولید بن مغیرہ وغیرہ) نبی ﷺ سے ڈیمانڈ کرتے تھے کہ ہم آپ کی بات سننے کو تیار ہیں مگر شرط یہ ہے کہ بلالؓ، عمارؓ، خبابؓ اور صہیبؓ جیسے غریب اور نچلے طبقے کے لوگوں کو اپنی مجلس سے نکالیں، ہمیں ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنے نبی ﷺ کو سختی سے حکم دیا کہ ”وَاصْبِرْ نَفْسَكَ“ (اپنے آپ کو ان غریبوں اور مخلصوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ کر رکھیں) جو دن رات اللہ کی رضا کے لیے جی رہے ہیں۔

اللہ فرما رہا ہے کہ کسی تحریک اور نظریے کی اصل طاقت یہ مخلص، بے لوث اور کمزور طبقہ ہوتا ہے جس کا کوئی دنیاوی ایجنڈا نہیں ہوتا۔

وہ ایلیٹ کلاس، وہ سرمایہ دار اور وہ جاگیردار جن کے دل مادہ پرستی اور نفسانی خواہشات میں غرق ہیں (جنہیں اللہ نے غافل کر دیا ہے)، ان کی چمک دمک اور ان کی دولت (زینۃ الحیوۃ الدنیا) سے مرعوب ہو کر ہرگز ان غریبوں کو مت چھوڑنا اور نہ ہی ان امیروں کی کوئی بات ماننا (ولا تطع من اغفلنا)، کیونکہ ان سرمایہ داروں کا ہر کام حد سے گزرا ہوا اور مفاد پرستانہ ہوتا ہے۔

یہ آیت دنیا کی ہر نظریاتی تحریک کو متنبہ کرتی ہے کہ جس دن تم نے پروٹوکول اور سرمائے کی خاطر مخلص اور غریب نظریاتی ورکرز کو پیچھے کر دیا، اسی دن تمہاری تحریک کی روحانی موت واقع ہو جائے گی۔

اور اس حصے کے اختتام پر، اللہ تعالیٰ انسانی ارادے کی آزادی (Free Will) کا وہ خوفناک، آخری اور حتمی اعلان (Ultimate Declaration) کرتا ہے، جس میں فیصلہ انسان کے ہاتھ میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس فیصلے کا وہ بھیانک تھرمو ڈائنامک نتیجہ (جہنم) بیان کیا جاتا ہے جو روح کو پگھلا دینے کے لیے کافی ہے،

فرمایا:

”وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ۚ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۚ وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا ۝ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا ۝“
(ترجمہ: اور کہہ دیجیے کہ یہ حق تمہارے رب کی طرف سے آ چکا ہے۔ اب جس کا جی چاہے وہ ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرے۔ بے شک ہم نے ظالموں کے لیے ایک ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتوں (دیواروں) نے انہیں گھیرے میں لے لیا ہے۔ اور اگر وہ (پیاس کے مارے) فریاد کریں گے، تو ان کی فریاد رسی ایسے کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے (یا پگھلی ہوئی دھات) جیسا ہوگا جو ان کے چہروں کی کھال بھون کر رکھ دے گا۔ کیا ہی برا مشروب ہے، اور کیا ہی بری آرام گاہ ہے! (اس کے برعکس) بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے، تو ہم ہرگز اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جو بہترین عمل کرے [الکہف: 29-30])۔

یہاں اللہ نے کائنات کا سب سے بڑا ”ریڈ پِل اور بلیو پِل“ (Red Pill vs Blue Pill) والا آپشن رکھ دیا ہے۔

”فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ“
(جس کا دل کرے مانے، جس کا دل کرے انکار کر دے)۔

اسلام میں عقیدے کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خالص شعوری انتخاب ہے۔ لیکن اس انتخاب کا نتیجہ کوئی کھیل نہیں ہے۔ اللہ نے جہنم کی جو سائنسی اور ہولناک منظر کشی کی ہے، وہ رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔

”نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا“
(ایسی آگ جس کی خیمہ نما دیواروں نے انہیں کینسر کے سیلز کی طرح چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے، کوئی ایگزٹ (Exit) نہیں ہے)۔

اور پھر پیاس کی شدت میں انہیں جو پینے کو دیا جائے گا وہ پانی نہیں ہوگا، بلکہ ”كَالْمُهْلِ“ (پگھلے ہوئے تانبے، سیسے یا شدید گرم پلازما) جیسا ہوگا۔ یہ تھرمو ڈائنامکس کی وہ خطرناک ترین حالت ہے کہ جب وہ پیالہ ان کے چہروں کے قریب کیا جائے گا، تو اس کی انتہائی شدید اور مہلک ریڈی ایشن (Thermal Radiation) اور حدت سے ان کے چہروں کا گوشت اور کھال پگھل کر اس پیالے میں گر جائے گا (یشوی الوجوہ)۔ یہ ان مادہ پرست ظالموں کا انجام ہوگا جنہوں نے اس دنیا میں دولت کے نشے میں غریبوں کا خون چوسا تھا۔

اس ابدی خوف کے متوازی، اللہ تعالیٰ قانونِ بقائے توانائی (Law of Conservation of Energy) کا روحانی ورژن پیش کرتا ہے کہ جو لوگ اس دنیا کی سختیوں میں حق پر ڈٹے رہے (انا لا نضیع اجر من احسن عملا)، ان کی کوئی چھوٹی سی نیکی، ان کا کوئی قطرہ پسینہ اور ان کا کوئی درد اس کائنات کے سرور میں ضائع نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک ابدی اور شاندار انرجی میں تبدیل ہو کر انہیں جنت کے محلات کی شکل میں واپس مل جائے گا۔

(جاری ہے... حصہ چہارم میں ہم ان دو باغوں کے غرور، معیشت کے زوال اور سرمائے کی موت کا وہ کائناتی منظر دیکھیں گے جو آج کے کیپیٹلزم (Capitalism) کا اصل اور برہنہ چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔)

Address

Saidu Medical College Swat
Swat
19130

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فاتح قدس صلاح الدین ایوبی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share